Delhi دہلی

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام دوروزہ قومی سمینار’یگانہ: شخصیت،شاعریاور تنقید“ اختتام پذیر

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام دوروزہ قومی سمینار9مئی کو اختتام پذیرہوا۔ سمینار کے د وسرے دن چار تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے۔پہلے اجلاس کی صدارت سابق صدر شعبہ ¿ فارسی، بنارس ہندو یونیورسٹی پروفیسر سید حسن عباس نے کی۔ صدارتی تقریر میں انہوں نے کہایہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس اجلاس کے مقالے تکرار سے محفوظ رہے۔ یگانہ سے متعلق جلسہ ہواور اُس میں تکرار مضامین ہوتو یہ بجائے خود یگانہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اس اجلاس میں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے یگانہ کی غالب شکنی، پروفیسر نصرت فاطمہ نے ’یگانہ اور غالب‘ اور ڈاکٹر امیرحمزہ نے ’یگانہ کی رباعی گوئی‘ کے موضوع پر مقالات پیش کےے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر انیس اشفاق نے کی۔ صدارتی تقریر کے دوران انہوں نے کہاکہ یگانہ کوئی مظلوم شخصیت نہیں ہے ان کی مخالفت میں ان کے مزاج کوبھی دخل تھا۔ یگانہ کا فن اتنا تواناتھاکہ ان کے زمانے میں اور ان کے بعدبھی ان کے مداح ہمیشہ موجود رہے۔ پروفیسر شریف حسین قاسمی نے ’کلیات یگانہ مرتبہ مشفق خواجہ ایک تحقیقی جائزہ‘، پروفیسر اخلاق احمد آہن نے ’یگانہ کی غالب شکنی‘، ڈاکٹر سبط حسن نقوی نے ’یگانہ کی پہلی کتاب‘ اورجناب فیص الرحمن نے ’یگانہ اور احساس تنہائی‘ کے موضوع پر مقالات پیش کےے۔ تیسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر ابوبکر عبادنے کی۔ صدارتی تقریر کے دوران انہوں نے کہاکہ یگانہ فہمی کی روایت ہمارے یہاں کبھی سست اور کبھی چست رہی ہے۔ یہ ان کے فن کا کمال ہے ورنہ شخصی حوالوں سے کوئی فنکار زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس سمینار کی ایک تاریخی اہمیت بھی ہے۔ اب یگانہ کے تعلق سے طاری جمودمیں شگاف ضرور آئے گا۔ اس اجلاس میں پروفیسر سید حسن عباس نے ’یگانہ کے خطوط دورکاداس شعلہ کے نام‘، پروفیسر کوثر مظہری نے ’باقر مہدی کی یگانہ شناسی‘ کے موضوع پر مقالات پیش کےے۔ چوتھے اور آخری اجلاس کی صدارت پروفیسر کوثر مظہری نے کی۔ صدارتی تقریر میں انہوں نے کہا یگانہ کی شاعری کو جب ان کے عہد میں رکھ کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ ان کی آواز اپنے عہدمیں سب سے مختلف تھی۔ نئی شاعری کی بحث میں یگانہ کا نام اس لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے کہ انہو ںنے نئی غزل کی راہ متعین کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔اس اجلاس میں پروفیسر ابوبکر عباد نے ’یگانہ پرغالب کا اثر‘، ڈاکٹر قمر عالم نے ’یگانہ کی فارسی شاعری‘، ڈاکٹر محسن رضا ضیائی نے ’یگانہ کی شاعری میں تصور عشق‘ اور ڈاکٹر عبدالسمیع نے ’یگانہ کے خطوط ایک جائزہ‘ اور ڈاکٹر فیضان الحق نے ’یگانہ اور منموہن تلخ‘ کے عنوان سے مقالات پیش کےے۔ اجلاس کے اختتام پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹرڈاکٹر ادری ساحمد نے تمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا۔

Related posts

حیدرآبادی زمین مافیائووں کے ناجائز چنگل سے ہزاروں کروڑ کی جائیداد واپسی

Paigam Madre Watan

جگرگوشۂ شیخ الاسلام حضرت مولاناسیداسجدمدنی صاحب مدظلہ العالی نائب صدرجمعیۃ علماءہندکی دفترجمعیۃ مہاراشٹرمیں تشریف آوری اور شاندار استقبال

Paigam Madre Watan

لوک سبھا انتخابات کے لیے عام آدمی پارٹی کی تیاریاں تیز، تنظیم کے جنرل سکریٹری سندیپ پاٹھک نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں اہم میٹنگ بلائی

Paigam Madre Watan