مغربی چمپارن، بہار، 13؍مئی 2026ء مغربی چمپارن کے تاریخی، علمی اور دینی اہمیت کے حامل علاقہ برندابن، دانیال پرسونا میں منعقد عظیم الشان ’’اصلاحِ معاشرہ کانفرنس‘‘ بے مثال کامیابیوں سے ہمکنار ہوئی۔ یہ یادگار اور تاریخی کانفرنس ملک کے نامور عالمِ دین حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی، جس میں مغربی چمپارن سمیت ملک کے مختلف صوبوں اور شہروں سے جید علمائے کرام، معزز مہمانانِ عظام اور ممتاز مقررین نے شرکت فرمائی۔
اس عظیم اجتماع میں ضلع چمپارن اور اس کے قرب و جوار کے اضلاع سے عوام کا ایک غیر معمولی اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر امڈ آیا تھا۔ شرکاء کی کثیر تعداد، ان کا دینی ذوق و شوق اور اجلاس کے تئیں غیر معمولی جوش و جذبہ دیکھ کر لوگ بے ساختہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ماضیِ قریب میں چمپارن کی سرزمین نے کسی دینی و اصلاحی اجتماع میں ایسا عظیم اور تاریخی مجمع شاید ہی دیکھا ہو۔ دور دراز علاقوں سے قافلوں کی شکل میں لوگوں کی آمد اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ عوام کے دلوں میں اخوت انسانی اور امن و آشتی اور صحت و تعلیم کے فروغ اور اصلاحِ معاشرہ کی فکر آج بھی زندہ ہے۔

کانفرنس کی تین نشستیں منعقد ہوئیں، تاہم پہلی نشست نے اپنی معنویت، معصومانہ دلکشی اور روحانی تاثیر کے سبب حاضرین کے قلوب پر ایک انمٹ نقش چھوڑا۔ اس نشست میں جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ کے ننھے اور کمسن طلبۂ عزیز نے اپنے تعلیمی و تربیتی مظاہرے پیش کئے، جن کی نظامت مولانا سعیدالرحمن سنابلی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔
جامعہ کے ابتدائی درجات میں زیرِ تعلیم ان بچوں نے جس اعتماد، روانی اور پختگی کے ساتھ تلاوتِ قرآنِ کریم، حمدِ باری تعالیٰ، نعتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصلاحی تقاریر پیش کیں، وہ حاضرین کیلئے حیرت و مسرت کا باعث بن گئیں۔ جب ان معصوم لبوں سے قرآنی آیات کی تلاوت بلند ہوتی تو پورا ماحول نورانیت اور روحانیت سے معطر ہوجاتا۔ حمد و نعت کے دوران سامعین پر رقت طاری ہوجاتی اور ننھے مقررین کی شستہ زبان، پُراثر انداز اور مدلل گفتگو بار بار مجمع کو ’’سبحان اللہ‘‘ اور ’’ماشاء اللہ‘‘ کی صداؤں پر مجبور کردیتی کیونکہ اصلاح معاشرہ کی مناسبت سے طلبہ نے اپنے اپنے موضوع پر تقاریر پیش کیں۔بعض طلبہ کی زبان میں ایسی روانی، لہجے میں ایسی پختگی اور اندازِ بیان میں ایسی سنجیدگی تھی کہ بڑے بڑے مقررین بھی رشک کئے بغیر نہ رہ سکے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا گویا یہ ننھے پھول نہیں بلکہ علم و فن کے وہ نوخیز سپاہی ہیں جنہیں جامعہ کے اساتذۂ کرام نے محنت، شفقت اور اخلاص کے ساتھ مستقبل کی قیادت کیلئے تیار کیا ہے۔افسوس کہ بچیوں کاپروگرام وقت کی تنگی اور اجلاس عام ہونے کی نزاکت ہونے کی وجہ سے منعقد نہیں ہوسکی۔
یہ نشست نہ صرف جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ کے معیاری تعلیمی و تربیتی نظام کی روشن مثال ثابت ہوئی بلکہ اس بات کا واضح ثبوت بھی بنی کہ اگر بچوں کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت خلوص اور محنت کے ساتھ کی جائے تو وہ کم عمری ہی میں معاشرہ کیلئے امید کی روشن کرن بن سکتے ہیں۔
نمازِ مغرب کے فوراً بعد کانفرنس کی دوسری نشست کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس کی نظامت کے فرائض مولانا سعیدالرحمن نورالعین سنابلی نے نہایت حسنِ ترتیب اور دلنشیں انداز میں انجام دیئے۔آپ نے تمہیدی کلمات میں برندابن کی تاریخی حیثیت اور جنگ آزادی میں شیخ اصغر علی امام مہدی سلفی کے جدامجدشیخ بخشش کریم اور علاقہ کی دوسرے عظیم سوتنترا سینانی شیخ گلاب وغیرہ کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے اس بستی اور اس کے قرب و جوار کو مدنی صاحب نے تعلیم اور اصلاح عقائد و رسوم کی جو تحریک شروع کی اور اس میں جو ہمہ جہت قربانیاں دیں، اس کی طرف بھی اشارہ فرمایا۔نیزتمام لوگوں کا خوش آمدید کہا اور رضاکاران و ذمہ داران اور برندابن و اطراف و اکناف کے تمام مرد و خواتین مسلم اور غیرمسلم متعاون لوگوں کے جوش و جذبہ کو سراہتے ہوئے سب کو خوش آمدید کہا جو باضابطہ نہ سہی لیکن ایک جامع خطبہ استقبالیہ کا قائم مقام تھا۔
اس نشست کے پہلے مقرر جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ برندابن کے استاذِ محترم مولانا نجم الحق ندوی حفظہ اللہ تھے۔ آپ نے ’’فکرِ آخرت‘‘ جیسے نہایت اہم اور ایمان افروز موضوع پر ایسا مؤثر، درد بھرا اور فکر انگیز خطاب فرمایا جو اصلاح معاشرہ کے لئے سب سے اول اور موثر عنوان تھا۔ آپ نے دنیا کی بے ثباتی، آخرت کی جواب دہی اور اعمال کی فکر کو نہایت مدلل اور دلنشیں انداز میں بیان کیا، جس نے سامعین کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
مولانا ہاشم بشیر مدنی استاذ جامعہ امام ابن تیمیہ نے بھی اصلاح معاشرہ کے عنوان پر مجمع سے نہایت ہی علمی خطاب فرمایا اور اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر اہل قریہ برندابن کو مبارک باد پیش کی۔
بعد ازاں جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ برندابن کے زیرِ انتظام چلنے والے ’’کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات‘‘ کی طالبہ منتشیٰ زین الدین کو ’’استاد کا ادب‘‘ کے عنوان پر خطاب کیلئے مدعو کیا گیا۔ ایک کمسن بچی کا اتنے بڑے مجمع کے سامنے اعتماد، سلیقے اور فصاحت کے ساتھ گفتگو کرنا حاضرین کیلئے حیرت کا باعث تھا۔ اس ننھی طالبہ نے اس اخلاق باختگی کے زمانہ میں استاذ اور بڑوں کے احترام، اس کی عظمت اور اس کے حقوق پر نہایت معصوم مگر پُراثر انداز میں ایسی دلنشیں گفتگو پیش کی کہ مجمع بار بار داد و تحسین سے گونج اٹھا۔
نشست کے آخری مقرر شیخ فہیم جسیم مدنی حفظہ اللہ تھے۔ آپ نے نہایت ولولہ انگیز، پُرجوش اور علمی انداز میں ’’اصلاحِ معاشرہ‘‘ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اور حاضرین کو معاشرہ میں پھیلی برائیوں سے بچتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو اپنانے کی تلقین فرمائی۔اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور ان کے اہل قریہ اور تمام گاؤں والوں کو مبارک باد پیش کی۔
نمازِ عشاء کے بعد کانفرنس کی تیسری، آخری اور کلیدی نشست کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس اہم نشست کی نظامت مولانا محمد اظہر مدنی حفظہ اللہ نے فرمائی۔ آپ کی پرسکون آواز، شائستہ اندازِ گفتگو، رواں لب و لہجہ اور مہمانانِ کرام کے تعارف و اعلانات کا منفرد سلیقہ سامعین کیلئے نہایت دلکش ثابت ہوا۔یہ بات لائق ذکر ہے کہ آپ نے دوران نظامت مختصرطور پر کانفرنس کے عنوان و مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے امن و بھائی اور صحت و تعلیم سے متعلق گراں قدر توجیہات و تاثرات بھی بیان کرتے رہیجس سے کانفرنس کی معنویت کو چارچاند لگ رہا تھا۔
نشست کا آغاز قاری نسیم احمدبن مولانا امام الدین، ناظم مدرسہ اسلامیہ عربیہ اسلام آباد برندابن، کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ قاری صاحب مختلف قراء ات پر غیر معمولی عبور رکھتے ہیں اور ان کی دلنشیں تلاوت نے پورے مجمع پر روحانی کیفیت طاری کردی۔
اس کے بعد جامعہ امام ابن تیمیہ کے طالب علم مسفر نثار نے حمدِ باری تعالیٰ نہایت مترنم اور دلکش انداز میں پیش کی۔ ان کی شیریں آواز حاضرین کے دلوں میں اترتی چلی گئی اور پورا ماحول نورانیت و سکون سے بھر گیا۔
پھر مولانا محمد ہاشم فیضی حفظہ اللہ نے اپنا منظوم کلام جو خاص طور پر اصلاح معاشرہ اور کانفرنس کے عنوان سے تیار کیا گیا تھاخوبصورت لب و لہجے میں پیش کیا، جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔ اس کے بعد مولانا آصف تنویر مدنی نے موت و حیات اور دنیا و آخرت میں جواب دہی کی اہمیت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کرتے ہوئے ایک صالح معاشرہ کی تشکیل پر روشنی ڈال رہے تھے۔مولانا موصوف نے اس عظیم الشان اور کامیاب کانفرنس کے انعقاد پرجامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ کے بانی اور علاقہ کی معزز شخصیت حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، مولانا محمد اظہر مدنی اور ان کے جملہ اعوان و انصار کو دلی مبارک باد پیش کی اور فرمایا کہ اس طرح کی اصلاحی اور دینی بزم آرائیاں معاشرہ میں خیر، بیداری اور دینی شعور پیدا کرنے کا ایک مو?ثر ذریعہ ہیں۔
بعد ازاں ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی ڈائس پر تشریف لائے۔ آپ نے علم اور اصلاح کے مختلف پہلوؤں پر نہایت متوازن، علمی اور فکر انگیز گفتگو فرمائی اور اس تاریخی کانفرنس کے انعقاد پر اہالیانِ برندابن، خصوصاً حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، مولانا محمد اظہر مدنی اور ان کے رفقاء کو مبارک باد پیش کی۔
ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی نے اسلام میں خواتین کے مقام و مرتبہ، ان کے حقوق، ذمہ داریوں اور معاشرتی کردار پر نہایت سنجیدہ اور فکر انگیز خطاب فرمایااور آپ نے اصلاح معاشرہ میں عورت کے کردار کو واضح کیا۔ آپ نے اس تاریخی کانفرنس کو وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اس عظیم اجتماع کے ذریعے معاشرہ کی اصلاح کی ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے۔
اسی دوران جامعہ امام ابن تیمیہ چندن بارہ کے خوش الحان طالب علم محمد صابر محمد اسماعیل نے مترنم انداز میں ایک خوبصورت نظم پیش کی،جو موضوع کی مناسبت سے بے حد موزوں تھا۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظمِ عمومی مولانا محمد ہارون سنابلی حفظہ اللہ نے نہایت درد مندانہ، ایمان افروز اور تفصیلی خطاب فرمایا۔ آپ نے قرآن و سنت، سیرت و تاریخ کے روشن واقعات کے ذریعہ معاشرہ میں پھیلی مختلف برائیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سامعین کو ان سے اجتناب کی تلقین فرمائی۔آپ کی تقریر سے عوام و خواص یکساں طور پر متاثر نظر آئے اور بہتوں کو اشکبار بھی دیکھا گیا۔
اس کے بعد امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار مولانا محمد علی مدنی حفظہ اللہ نے نہایت سنجیدہ اور متوازن انداز میں خطاب فرمایا۔ آپ نے اس کامیاب اور تاریخی اجلاس کے انعقاد پر اہلِ قریہ برندابن، خصوصاً حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی حفظہ اللہ کو مبارک باد پیش کی اور حاضرین کی کثیر تعداد کو انسانی شعور اور صحت و تعلیم کے میدان میںتعلیمی و اخلاقی کی علامت قرار دیا۔
بعد ازاں نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار مولانا محمد خورشید عالم مدنی نے اپنی مخصوص سحر بیانی اور شگفتہ اندازِ خطابت سے مجمع کو مسحور کردیا۔ کبھی ان کی گفتگو حاضرین کو ہنساتی، کبھی رلاتی اور کبھی گہری فکر میں ڈبودیتی۔ آپ نے فرمایا کہ اس تاریخی کانفرنس کی اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب ہم یہاں سیکھی گئی باتوں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں گے۔
صدر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی مفتی عطاء الرحمن قاسمی حفظہ اللہ نے تاریخی حوالوں سے مزین نہایت مدلل خطاب فرمایا۔ آپ نے کہا کہ اہلِ چمپارن کا یہ جم غفیر اس کانفرنس کی عظیم کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ آپ نے کانفرنس کے انعقاد پر حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور مولانا محمد اظہر مدنی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اسی دوران مولانا محمد ہاشم فیضی نے ایک مرتبہ پھر اپنا انسانیت نوازی پر مبنی منظوم کلام پیش کیا، جسے سامعین نے بے حد سراہا۔
کانفرنس کے صدر حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی حفظہ اللہ نے اپنے صدارتی خطاب میں نہایت بصیرت افروز، پُرجوش اور اصلاحی گفتگو فرمائی۔ آپ نے امن و آشتی اور انسانی بھائی چارہ، نوجوانوں کو منشیات سے بچنے، بہنوں کو میراث میں ان کا حق دینے، حقوق العباد کی ادائیگی کا اہتمام کرنے اور باہمی اخلاق کو بہتر بنانے کی تلقین فرمائی۔ایک عورت معاشرہ کا کایہ کیسے پلٹ سکتی ہے اور سخت حالات میں بھی شوہر اور معاشرہ کو اچھے کام، انسانیت نوازی اور تعلیم و تربیت پر آمادہ کرسکتی ہے، صدر موصوف نے امہات المومنین خصوصا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے اخلاق اور واقعات کی روشنی میں رہنمائی فرمائی اور آپ نے زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر ہم واقعی اصلاحِ معاشرہ چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہوگی اور غیبت، چغلی، حسد اور دوسروں کو نیچا دکھانے جیسی بیماریوں سے بچنا ہوگا۔آپ نے سیرت طیبہ کی روشنی میں غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک،رواداری اور رحمت ومہربانی کے ذریعہ کس طرح سے دلوں کو جوڑا اور معاشرے کو تشکیل دی اسے بڑے موثر انداز میں بیان کیا۔
اس کے بعد عالمِ اسلام کی معروف علمی شخصیت ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی حفظہ اللہ نے مختصر مگر نہایت جامع خطاب فرمایا۔ آپ نے اہلِ چمپارن کے عظیم اجتماع کو ایمانی جذبے کی روشن علامت قرار دیتے ہوئے جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ کے ذمہ داران، خصوصاً مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور مولانا محمد اظہر مدنی اور ان کی ٹیم کو اس تاریخی کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔
آخر میں مقررِ خصوصی، شعلہ بیاں خطیب حضرت مولانا جرجیس انصاری اٹاوی سراجی حفظہ اللہ کو دعوتِ خطاب دی گئی۔ آپ نے ’’توحید اور اس کے تقاضے‘‘ کے عنوان پر نہایت ولولہ انگیز، علمی اور ایمان افروز خطاب فرمایا۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس خطاب میں آپ نے حاضرین کے ایمان کو تازگی بخشی اور اہلِ چمپارن کے دینی جذبے کو خوب سراہا۔ آپ نے حاضرین کو تلقین فرمائی کہ وہ جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ اور اس کے ذمہ داران کی سرپرستی و اعانت جاری رکھیں تاکہ اس طرح کی دینی و اصلاحی محافل کا سلسلہ قائم رہے۔
اس عظیم الشان اجلاس میں مختلف مسالک و مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے متعدد اہلِ علم و فضل نے شرکت فرمائی، جن میں مولانا مشتاق احمد قاسمی،مولانا محمد ثمامہ مدنی، مولانا حبیب اشرف مدنی، مولانا امیر الہدیٰ فیضی، مولانا خوش لحان فیضی، مولانا عبدالحق اثری، مولانا فضل الرحمن فیضی، مولانا سمیع اللہ تیمی، مولانا شمس الحق فیضی، مولانا رئیس احمد فیضی، مولانا عبداللہ سلفی، مولانا محمد علی عمری، مولانا ناظر انور سنابلی، ڈاکٹر تبریز عالم سنابلی، مولانا مصطفی اصلاحی، مولانا انیس الرحمن ہاشم، مولانا حبیب فاروق صفاوی، مولانا ضیاء الرحمن منصف تیمی، مولانا محفوظ عالم فیضی، مولانا عطاء اللہ سلفی،حافظ شبیرعالم، مولانا علاؤالدین فیضی، مولانا مطیع الرحمن قاسمی، مولوی توقیر عالم، مولانا مسعود عالم قاسمی،قاری اخلاق الرحمن، مولوی لعل محمد، ماسٹر مسیح اور دیگر اصحابِ علم شامل تھے۔ ان بزرگوں کی موجودگی نے اس تاریخی کانفرنس کو ایک عظیم علمی و روحانی اجتماع میں تبدیل کردیا۔
اس عظیم الشان کانفرنس کے موقع پر اصلاحِ معاشرہ اور سماجی بیداری کے فروغ کیلئے بڑے پیمانے پر اصلاحی و بیداری پمفلٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ خصوصاً ’’سوچھتا: مانو جیون کا ابھن انگ‘‘ اور ’’شراب اور نشیلے پدارتھ ایک ابھیشاپ‘‘ جیسے اہم موضوعات پر مشتمل پمفلٹس حاضرین میں بڑے اہتمام کے ساتھ تقسیم کرائے گئے۔ ان پمفلٹس کی تیاری جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ کی نگرانی میں اس کے صدرمولانا محمد اظہر مدنی کی خصوصی سرپرستی اور رہنمائی میں انجام پائی، جن کا مقصد معاشرہ میں صفائی ستھرائی، صحت مند زندگی اور منشیات سے پاک سماج کے تعلق سے عوام میں شعور و بیداری پیدا کرنا تھا۔
اس موقع پربرندابن گاؤں کے علاوہ چمپارن کے معروف علاقوں جھمکا اور بھیڑیہاری، پچموا اور بسنت پور وغیرہ کے باایمان، مخلص اور درد مند افراد نے جس ایثار، محبت اورتعاون کا عملی نمونہ پیش کیا، وہ یقینی طور پر قابلِ تقلید اور مثالی تھا۔ ان حضرات نے اپنی ذاتی نگرانی اور خرچ پر کانفرنس گاہ میں مہمانوں اور شرکائِ اجلاس کیلئے طعام کا بہترین انتظام کیا اور ہزاروں حاضرین کی مفت ضیافت کرکے اخلاص و خدمت کی ایک روشن مثال قائم کردی۔ اس کے ساتھ ساتھ کانفرنس کے تعلق سے عوامی بیداری پیدا کرنے، لوگوں تک دعوت پہنچانے اور دینی جذبہ عام کرنے میں بھی ان کی انتھک کاوشیں نہایت لائقِ تحسین رہیں۔
اسی طرح اس عظیم الشان اور تاریخی کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میںبرندابن کے خواتین و حضرات نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ خصوصاً مولانا شمس عالم سلفی، مولانا جاوید اختر فیضی، مولانا انیس الرحمن فیضی، مولانا کامران فیصل سلفی، جناب جواد حسین، جناب عبدالسلام، مولانا قمر الزماں سلفی،مولانا اقبال احمد سلفی، ماسٹر نورالعین، مولوی شبیر عالم، امان اللہ،عطاء الرحمن عرف منا، شرف عالم، مولوی توقیر عالم، نسیم الحق، عزیر ہدی، خورشیدعالم، ماسٹر اکرام الحق، شرف الدین،کامل احمد،منظور عالم،مجیب الرحمن،قیصر علی فاروق علی،محمد ہاشم،فیاض خلیل اللہ، ارشاد خلیل اللہ، صدر عالم، علی حسین، شری ترلوکی مشرا، موتی لعل شاہ،مکھیا اکھلیش یادو، وصی اختر، چاند میاں، جملہ مدرسین و مدرسات اور طلبہ و طالبات جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ اور دیگر مخلص رفقاء کی شبانہ روز محنت، حسنِ انتظام، باہمی تعاون اور خلوص پر مبنی کوششیں اس کامیاب اجتماع کی بنیاد ثابت ہوئیں۔ ان حضرات نے جس جانفشانی، اخلاص اور دینی جذبے کے ساتھ اس کانفرنس کی تیاریوں اور انتظامات کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا، وہ یقینی طور پر قابلِ ستائش اور باعثِ مبارک باد ہے۔

