Articles مضامین

(Article-آرٹیکل-आर्टिकल) “جمہوریت، مسلمان اور سیاسی دُور اندیشی”

صرف مخالفت نہیں، بلکہ مستقبل کی تیاری بھی ضروری ہے.

محمد عرفان احمد

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے اور اس جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہاں اقتدار ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، لہذا کبھی ایک سیاسی جماعت طاقتور ہوتی ہے تو کبھی دوسری جماعت عوامی حمایت حاصل کر لیتی ہے، البت جمہوری نظام دراصل تبدیلی، تنوع اور سیاسی اتار چڑھاؤ کا دوسرا نام ہے، تاہم یہی وجہ ہے کہ یہاں کوئی بھی سیاسی پارٹی ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہ سکتی۔ آج اگر ایک جماعت مضبوط ہے توکل کوئی دوسری قوت ابھر سکتی ہے۔ یہی جمہوریت کی خوبصورتی بھی ہے اور اسکی سب سے بڑی حقیقت بھی، لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو گزشتہ کئی دہائیوں میں اس جمہوری حقیقت کے مطابق ذہنی، سماجی اور سیاسی طور پر تیار نہیں کیا گیا۔ انہیں مسلسل ایک ایسی سیاست کا عادی بنا دیا گیا جس میں انکی پوری سیاسی سوچ صرف “فلاں پارٹی کو ہرانا ہے” تک محدود ہو کر رہ گئی۔ مسلمانوں کو ہمیشہ خوف کی سیاست دکھائی گئی، انہیں یہ باور کرا یا گیا کہ اگر ایک مخصوص جماعت اقتدار میں آگئی تو سب کچھ ختم ہو جائے گا، مگر انہیں کبھی یہ نہیں سکھایا گیا کہ اگر وہی جماعت مضبوط ہوجائے، البت مسلسل حکومت بناتی رہے اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی طاقت بن جائے تو پھر مسلم سماج اپنے حقوق، اپنے تشخص اور اپنے مستقبل کی حفاظت کس طرح کرے گا۔ درحقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو بی جے پی کو ہرانے کا ٹھیکہ لینے کی ضرورت نہیں ہے، لہذا ہرسیاسی جماعت اپنے مفادات، اپنی حکمتِ عملی اور اپنی سیاست کے مطابق کام کرتی ہے۔ نہ بی جے پی ہمیشہ مسلمانوں کی دشمن ہے اور نہ دوسری جماعتیں ہمیشہ انکی مخلص دوست رہی ہیں۔ ہندوستان کی سیاست میں ہر پارٹی نے وقت اور حالات کے مطابق فیصلے کیے ہیں، لہذا ایسے میں کسی ایک جماعت سے مستقل دشمنی اور کسی دوسری جماعت سے اندھی وابستگی دانشمندی نہیں کہلا سکتی۔ دراصل یہ ہر شہری کا جمہوری حق ہے کہ وہ اپنی سوچ، اپنے ضمیر اور اپنے مفاد کے مطابق ووٹ دے۔ لیکن صرف کسی کو ہرانے یا کسی کو جتوانے کے لیے ڈھول پیٹنا، جذباتی نعرے لگانا اور پوری قوم کو خوف کی سیاست میں مبتلا رکھنا کسی بھی باشعور سماج کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا، لہذا اصل ضرورت یہ ہے کہ قوم اپنے مستقبل کی تیاری کرے، اپنے نوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنائے، اپنی معیشت کو مضبوط کرے اور اپنی اجتماعی طاقت کو بڑھائے۔ تاہم اصل مسئلہ صرف بی جے پی کا اقتدار میں آنا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلم سماج کو خود انحصاری پرمبنی سیاسی شعور نہیں دیا گیا۔ انہیں کوئی مضبوط بیک اَپ پلان نہیں دیا گیا، کوئی طویل مدتی حکمتِ عملی نہیں سکھائی گئی، کوئی متبادل قیادت تیار نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی ایسا مضبوط اجتماعی ڈھانچہ بنایا گیا، لہذا جو بدلتے سیاسی حالات میں قوم کا سہارا بن برسوں تک“سیکولر سیاست” کے نام پر مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک بنا کر استعمال کیا جاتا رہا ۔لہذا ہر الیکشن میں خوف کا ماحول بنایا گیا، جذبات بھڑکائے گئے، مذہبی اور جذباتی نعرے لگائے گئے اور یہ کہا گیا کہ“بی جے پی کو روکنا ہے۔” لیکن کبھی اس سوال پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا کہ اگر بی جے پی مسلسل مضبوط ہوتی گئی تو پھر مسلم سماج اپنے مسائل اور اپنے مستقبل کا سامنا کس طرح کرے گا؟ جمہوریت میں ہرسیاسی جماعت کبھی نہ کبھی اقتدار میں آتی ہے۔ بی جے پی کوئی اچانک آسمان سے نہیں اتری، بلکہ وہ کئی دہائیوں سے ملک کی ایک بڑی سیاسی حقیقت رہی ہے، لہذا ایسے میں دانشمندی کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمانوں کو صرف مخالفت کی سیاست نہیں، بلکہ بدلتے حالات کے مطابق خود کو تیار کرنا بھی سکھایا جاتا۔ انہیں یہ سمجھایا جاتا کہ اقتدار بدل سکتا ہے، سیاسی حالات بدل سکتے ہیں، اسلیےصرف نعروں پر نہیں بلکہ مضبوط سماجی ڈھانچے پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
آج ضرورت اس بات کی تھی کہ مسلم سماج اپنی آزاد سیاسی قیادت تیار کرتا، اپنے نوجوان دانشور پیدا کرتا، اپنے وکلا اور قانونی ماہرین کی ٹیمیں بناتا، اپنا مؤثر میڈیا نیٹ ورک قائم کرتا، تعلیمی اداروں کو مضبوط کرتا اور نئی نسل کو معیشت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور قیادت کے میدان میں آگے لاتا، تاہم ایسا سماجی وسیاسی نظام بنایا جاتا کہ حکومتیں بدلنے کے باوجود قوم خود کو بے سہارا محسوس نہ کرے بلکہ ہراقتدار کے سامنے اپنے حقوق اور مفادات کی بات مضبوطی سے رکھ سکے، مگر افسوس کہ ہوا اسکے بالکل برعکس، لہذا مسلمانوں کو ایک ایسی کشتی پر بٹھا دیا گیا جسکے بارے میں کہا گیا کہ “یہی تمہاری حفاظت ہے”، لیکن اگر وہ کشتی ڈوب جائے تو تیرنا کیسے ہے، یہ کبھی نہیں سکھایا گیا۔ حالانکہ ایک معمولی کشتی چلانے والا انسان بھی اپنی کشتی میں لائف جیکٹ رکھتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ حادثہ کسی بھی وقت پیش آسکتا ہے، لہذا وہ تیرنا بھی سیکھتا ہے تاکہ مشکل وقت میں اپنی جان بچا سکے۔ مگر مسلم سماج کو صرف دوسروں پر بھروسہ کرنا سکھایا گیا، خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا نہیں سکھایا گیا، تاہم انہیں خوف تو دکھا یا گیا، مگر راستہ نہیں دکھا یا گیا، لہذا انہیں جذبات تو دیے گئے، مگر حکمتِ عملی نہیں دی گئی۔ انہیں احتجاج تو سکھایا گیا، مگر ادارہ سازی نہیں سکھائی گئی، انہیں مخالفین کیخلاف نعرے لگانا تو سکھایا گیا، مگر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم، کاروبار، میڈیا، قانون، ٹیکنالوجی اور انتظامیہ کے میدان میں آگے بڑھانا نہیں سکھایا گیا، لہذا اگر کسی سماج کو جمہوریت میں صرف ایک جماعت کے سہارے جینا سکھایا جائے تو یہ اس سماج کیساتھ سب سے بڑا سیاسی ظلم ہوتا ہے، کیونکہ جمہوریت میں اقتدار بدلتا رہتا ہے، اتحاد بدلتے رہتے ہیں اور سیاسی ہوائیں ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں، البتہ جو قومیں صرف جذبات کے سہارے چلتی ہیں، وہ وقت کیساتھ کمزور ہو جاتی ہیں، جبکہ جو قومیں تعلیم، معیشت، تنظیم اور شعور کو اپنا ہتھیار بناتی ہیں، وہ ہر دور میں اپنا مقام برقرار رکھتی ہیں، لہذا آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان صرف ردِّعمل کی سیاست سے آگے بڑھیں۔ وہ تعلیم، تنظیم، معیشت، قانونی بیداری، میڈیا، کاروبار اور ادارہ سازی پر توجہ دیں۔ کیونکہ صرف مخالفت کسی قوم کو محفوظ نہیں بناتی، بلکہ اصل تحفظ اُسوقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی قوم تعلیمی طور پر مضبوط، معاشی طور پر خود کفیل، فکری طور پر بیدار اور تنظیمی طور پر متحد ہو۔ آج اگر مسلمان اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائیں، نئی نسل کو سول سروس، عدلیہ، میڈیا، سائنس، ٹیکنالوجی اور تجارت کے میدان میں آگے لائیں، اپنے تعلیمی ادارے مضبوط کریں، قانونی شعور پیدا کریں اور معاشی خود کفالت حاصل کریں تو کوئی بھی سیاسی تبدیلی انکے مستقبل کو غیر محفوظ نہیں بنا سکتی۔ اصل سیاست صرف یہ نہیں کہ “کسے ہرانا ہے”، بلکہ حقیقی سیاست یہ ہے کہ “ہر حال میں اپنے سماج کو کیسے محفوظ، باوقار، تعلیم یافتہ اور بااثر بنایا جائے۔” جو قوم یہ ہنر سیکھ لیتی ہے، وہ بدلتے سیاسی حالات میں بھی اپنا وجود، اپنا وقار اور اپنا مستقبل محفوظ رکھتی ہے۔
مسلمانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت میں مستقل کامیابی صرف نعروں، جذبات اور وقتی اتحادوں سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ مستقل کامیابی تعلیم، اتحاد، حکمت، صبر، تنظیم اور خود اعتمادی سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر قوم ان بنیادوں پر کھڑی ہو جائے تو پھر کوئی بھی سیاسی تبدیلی اسے کمزور نہیں کر سکتی۔

Related posts

ایک ایسا عظیم شخص جس نے 1994ء میں کنگ فیصل ایوارڈ کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرایا کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے لکھا ہے لہذا مجھ پر میرے دین کو خراب نہ کریں

Paigam Madre Watan

علامہ محمد انور شاہ کشمیری اور عربی زبان وادب 

Paigam Madre Watan

دیس راج مضطر: صحافت کا ایک ایماندار چہرہ

Paigam Madre Watan