Articles مضامین

بیاضِ نقوشِ حرم :

” إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما ومن تطوع خيرا فإن الله شاكر عليم”
عرب کے ساز میں سوز عجم ہے
حرم کا راز توحید امم ہے
تہی وحدت سے ہے اندیشۂ غرب
کہ تہذیب فرنگی بے حرم ہے
سب سے پہلے میں معذرت خواہ ہوں ،ان مخلصین احباب کی خدمت میں جنہوں نے بہت پہلے ہی سفر نامے کی فرمائش کی تھی ۔تو ان کی خدمت میں با ادب عرض ہے کہ سفرنامہ لکھنا تومیرے بس کی بات نہیں ہے البتہ روداد سفر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔
یوں تو زندگی میں بہت سے سفر بلکہ اسفار ہوا کرتے ہیں, یوں کہا جاۓ انسانی حیات اسفار کا مجموعہ ہے ۔ایک طرح سے انسان کی پوری زندگی ہی سفر ہے۔
عکس ہے آب کا ظاہر کے سوا کچھ بھی نہیں
ہر نفس لمحۂ آخر کے سوا کچھ بھی نہیں
کھو نہ جانا کہیں دنیا کے حسیں باغوں میں
اس جہاں میں تو مسافر کے سوا کچھ بھی نہیں
تاہم اس میں بھی کچھ خاص بلکہ اخص الخاص اور یادگار سفر ہوتے ہیں، جو دل پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں ، جس کا ہر لمحہ زندگی کے لئے انمول اور یادگار ہوتا ہے جس کا تصور ہی تمام اسفار سے ممتاز اور نمایاں حیثیت کا حامل ہو ،ایک ایسا سفر جس کی تمنّا اور آرزو بچپن ہی سے سن شعور کو پہنچتے ہی بیدار ہوجاتی ہو ۔ ایک ایسا سفر جس کی امنگ اور تڑپ رہ رہ کر ذہن و شعور میں کروٹیں لیتی رہتی ہو ۔
ایک ایسا مقدس سفر جس کی خوشبو ابھی بھی یعنی واپسی کے ہفتہ، عشرہ بعد بھی ذہن و دل میں تازہ ہے، بلکہ دل ودماغ کو معطر کئے ہوئے ہے ۔
عالم اسلام کا روحانی مرکز ،مسلمانان عالم کے دلوں کی دھڑکن۔۔۔۔جلوہ گاہ رب العالمین۔ مولد و مسکن رحمة للعالمين.مہبط وحی الہٰی ۔وہ شہر امن وسلامتی جس کی خاک کو بھی مسلمان سُرمۂ چشم تصور کرتے ہیں ۔
(عمرہ کے لئے سفر کا ارادہ جامعہ میں عید الاضحی کی تعطیل کے بعد ہی بنالیا تھا ،اور اس وقت یہ عزم تھا کہ اہلیہ اور ایک چھوٹے بیٹے کے ساتھ یہ مقدس سفر کرنا ہے، لیکن ابھی ایک مرحلہ اہلیہ اور بیٹے کے پاسپورٹ کا تھا ۔بہر کیف پاسپورٹ بنوانے کی تیاری شروع کردی گئی اور پاسپورٹ بن کر آ بھی گیا ۔اس کے بعد دھیرے دھیرے جامعہ میں موسم سرما کی تعطیل کا وقت آگیا ۔ دل نے کہاکہ اس موقع کو غنیمت سمجھو اوران ایام کااستفادہ اس سے افضل و بہتر نہیں ہوسکتا ۔اب اس کے بعد عمرہ ٹریولس کے بارے میں بڑی کشمکش رہی کہ کس ٹریول ایجنٹ کے ذریعے جانا بہتر و مناسب ہوگا ۔ اسی اثناء محترم شیخ محمد جنید صاحب مکی /حفظه الله سے ملاقات ہوگئی اور میں نے بطور مشورہ ذکر کیا(وہ میرے مخلص و محترم ہیں) انہوں نے بہت بہترین رہنمائی فرمائی ۔انہوں نے کہاکہ دیکھئے اب ڈائریکٹ ویزا وغیرہ حاصل کرنا مشکل ہے ۔لہذا آپ سعد سے بات کرلیں وہ آپ کا کام بحسن وخوبی کر دیں گے ۔اس کے بعد میں نے شیخ کے صاحب زادے شیخ سعد (العفاف ٹریول)سے رابطہ کیا،پیکیجز کی تفصیلات معلوم کیا ۔ابھی تک یہی ارادہ تھا کہ اہلیہ کے ساتھ ہی جانا ہے ۔لیکن اب اہلیہ کی طرف سے کنفرم ہوگیا کہ وہ ابھی بچوں کی نگہداشت کو لے کر مطمئن نہیں ہوپارہی ہیں علاوہ ازیں کچھ دیگر مسائل بھی ہیں ۔جب کہ میں نے انہیں کے لئے اپنا سفر مؤخر کیا ۔اور ایک مرحلہ طے کیا پاسپورٹ بنوانے کا ،ورنہ میرا پاسپورٹ تو پہلے سے تیار تھا ،بلکہ یہ دوبارہ ایکسپائر ہونے والا تھا ۔
بہرحال "العفاف ٹریول "والے سے جب میں نے اکیلے جانے کا آخری فیصلہ کرلیا تو انہوں نے خود کہا:تو پھر ویزہ لیجیے اور آمدورفت کی فلائٹ ٹکٹ لیجئے اور چلے جائیے ۔ اور پھر دوچار دن میں انہوں نے ویزا اور آمدورفت کی فلائٹ ٹکٹ فراہم کردیا ۔ادھر ہمارے دیرینہ دوست مولانا محمّد سہیل سلفی بنارسی نے لوازمات سفر یعنی ریل ٹکٹ براۓ دہلی ،احرام اورزر مبادلہ یعنی روپیے کی ریال میں تبدیلی کا کام ،اور اس مناسبت سے دیگر انتظامات کرکے میرا بوجھ بہت ہلکا کردیا ۔جس کے لئے میں ان کا تہ دل سے ممنون ومشکور ہوں ۔فجزاهم الله خيرا واحسن الجزاء
10/جنوری کو دہلی سے فلائٹ تھی ،9/کو از بنارس تادہلی ریل ٹکٹ” وندے بھارت "سے آٹھ گھنٹے میں از بنارس تادہلی (بنارس سے دہلی کے لئے فاسٹیٹ ٹرین جس کی تمام بوگیاں چئر کار ہیں ،بلکہ اندر کا لک ہو بہو فلائٹ نما ہے) گیارہ بجے رات کو پہونچنے والی ٹرین بنارس ہی میں کافی تاخیر سے آئی تو میں نے صحافت سے وابستہ عزیز القدر جناب مطیع الرحمٰن صاحب کو میسیج کردیا کہ میرے لئے زحمت نہ اٹھائیں ، جن کی محبت اور عنایت یہ رہی کہ وہ بہت مصر تھے کہ قیام انہیں کی رہائش گاہ پر ہو ۔‌تو میں نے ان سے معذرت کرنا چاہا ،اور ان سے کہدیا کہ "آپ کی فیملی وغیرہ ہے’ اور ٹرین بنارس ہی میں تین گھنٹے لیٹ ہو چکی ہے” دہلی ہنوز دور است”لہذا دلی پہونچنے میں مزید تاخیر ممکن ہے ،اس لئے آپ لوگ دیر رات مجھ ہیچمداں کا انتظار کرنے بجائے وقت سے سو جائیں۔صبح دم آپ کو آفس وغیرہ کا بھی مسئلہ رہے گا ۔میرے اور بھی ٹھکانے ہیں ،کوئی نہیں تو مسٹر مصطفیٰ علی تو ہیں ہی ۔لیکن ان کو کسی طرح منانا ممکن نہ ہوسکا اور اپنی بات پر مصر رہے ،اور تین بجے رات تک مع اہل وعیال جاگتے رہے ۔در اصل جب جذبات میں خلوص و محبّت اور اپنائیت ہوتی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔ٹرین نئی دہلی پہنچنے تک وہ اپڈیٹ لیتے رہے ۔بالآخر انہوں نے مجھے رسیو کرہی لیا ۔ان کے فلیٹ پر پہنچ کر حیرت کرتا رہ گیا کہ ابھی تک یہ لوگ نہ صرف شب بیداری کر رہے ہیں بلکہ باقاعدہ آداب ضیافت کو ملحوظِ خاطر رکھے ہوئے جاگ رہے ہیں ۔ پہلے چاۓ واۓ اور پھر گرم تازہ دسترخوان ۔فجزاهم الله خيرا واحسن الجزاء على هذه العناية
دن میں گیارہ بجے فلائٹ کے لئے نکلا تھا ،تو بذریعہ ٹیکسی ساڑھے بارہ بجے تک ایئر پورٹ پر پہونچ گیا، پہلی بار ایئر پورٹ کے اندر کی دنیا کا نظارہ کر رہا تھا ، اور نظارے کی گنجائش کہاں تھی ۔اس لئے کہ اس نرالی دنیا میں درجنوں کاؤنٹرز سے گزرنا تھا ۔ بہر کیف امیگریشن اور بورڈنگ پاس کے مراحل سے گزرتا ہوا ۔”مصلی” میں ظہر اور عصر جمع بین الصلاتین کیا ۔اور پھر احرام عمرہ میں ملبوس اسپائس جیٹ میں پرواز کرنے کے لئے پوری طرح مستعد و منتظر (waiting Area) انتظار گاہ میں بیٹھا رہا۔ فلائٹ شام چار بجکر بیس منٹ پر پرواز بھرنے والی تھی لیکن بار بار تاخیر کا اعلان ہوتا رہا بالآخر ساڑھے پانچ بجے فلائٹ دہلی سے جدہ کیلئے ٹیک آف کی، فلائٹ میں یہ حالت رہی اکثریت پیاس سے تڑپ رہی تھی، پانی مانگنے پر لٹل کاغذی کپ میں اتنا ہی پانی ملتا جتنے میں حلق تو نہیں دانت تو ضرور تر ہوجائیں گے۔ میرا یہ اوّلین بذریعہ فلائٹ سفر تھا ۔۔۔بعدہٗ! معروف صحافی محترم سہیل انجم صاحب کی ایک پوسٹ دیکھا”جب ایک برہمن خاتون ہماری ہمسفر بنی”جب اس کو پڑھا تو پتہ چلا کہ ان کا بھی یہ سفرنامہ جیٹ اسپائس کا ہی ہے،اور اس میں بھی اس خاتون کا یہی شکوہ ہے کہ”فلائٹ والوں نے پیاسا مار ڈالا "لب لباب یہ ہے کہ تشنگئ لب لئے میری پرواز کی رسائی میقات یلملم تک پہونچ ہوگئی ۔میں نے "اللهم لبيك عمرةً "کہتے ہوۓ عمرے کی نیت کی اور تلبیہ پکارنا شروع کردیا ۔۔۔۔۔۔۔لبيك اللهم لبيك ،لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك ” نعرۂ توحید بلند کرتے ہوۓ کلمۂ تلبیہ پکارتا رہا، اور اس کے معانی و مفاہیم پر غوروفکر بھی کرتا رہا ۔جس کا ترجمہ بہت واضح ہے ۔میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ۔ حاضر ہوں!!!….تیراکوئی شریک وساجھی نہیں.بیشک تمام قسم کی تعریفات اور ساری نعمتیں تیری ہی عطا کردہ ہیں’ تیری ہی دی ہوئی ہیں۔پوری کائنات میں تیری بادشاہی ہے ،تیراکوئی شریک نہیں ۔دراصل یہ نعرۂ توحید ہے یہ نہایت مختصر اور زبان پر ہلکا مگر کس قدرجامع و مانع۔ توحید سے لبریز ومعمور اس قدر کہ حرف حرف سے توحید ہویداور نمایاں ہے اور شرک سے برأت کا اظہار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گویالفظ لفظ سے عقیدۂ توحید ٹپک رہا ہے۔
سعودی وقت کے مطابق 9/ نوبجے شب میں جدہ بین الاقوامی ائیرپورٹ پر فلائٹ نے لینڈنگ کیا ۔ اس کے بعد امیگریشن اور سامان کے حصول کے لئے ایئر پورٹ کی بس سے سبھی مسافروں وہاں لے جایا گیا جہاں سب سے پہلے امیگریشن ہونا تھا ،امیگریشن کا مرحلہ بھی الحمدللہ بآسانی طے ہوگیا ،اور اب فوراً بیلٹ پر چل رہے سامان حاصل کرنے کے لئے آیا ۔سامان لے کر باہر نکلنے میں کافی تاخیر ہوگئی ۔باہر نکلے تو میرے ہم زلف شمس الضّحیٰ بھائی رسیو کرنے کے لئے موجود تھے ۔وہ اپنی لگژری گاڑی سے لیکر چلے تو ارادہ تھا کہ وہ مجھے مکہ مکرمہ کے لئے ایک ٹیکسی میں بیٹھا دیں گے،گاڑی ایک ہوٹل کے پاس روکی اور ضحیٰ بھائی کھانا وغیرہ لینے لگے ،ادھر میری طبیعت کچھ کھانے کےلئے آمادہ نہیں تھی دراصل مجھے ایسیڈٹی ہو رہی تھی، دوا کھایا،اور ضحیٰ بھائی ایک اپنے متعارف گاڑی والے کو فون کرکے بلا رہے تھے ،جبکہ میری طبیعت بگڑتی جا رہی تھی،اور بار بار سوچ رہا تھا مکہ مکرمہ پہونچ کر کچھ کرنے کے لائق رہوں گا یا نہیں۔لیکن میں ضحیٰ بھائی سے یہ ظاہر نہیں کررہا تھا کہ گاڑی والے کو منع کردیجئے اور رات بھر مجھے اپنے یہاں روک لیجئے ،اور وہ اس لئے کہ پتہ نہیں ان کے یہاں جگہ کی وسعت ہے یا نہیں ؟ اس لئے کہ گنجائش ہوتی تو وہ ضرور خود ہی مجھ سے کہتے ۔۔۔۔۔۔اسی کشمکش میں تھا کہ اسی دوران ابو عصمت فیضی میرے عزیز القدر بھائی حافظ صفی الرحمٰن جو الجبیل میں رہتے ہیں ،ان کا فون آجاتا ہے اور وہ میری کیفیت دریافت کرتے ہیں تو جو فیصلہ اب تک میں نہیں لے پا رہا تھا دراصل انہوں نے بر وقت قیمتی مشورہ یہ دیا کہ آپ وہیں جدہ میں ضحیٰ بھائی کے رات بھر قیام کرلیجئے ،اور احرام ہی میں رہیں ۔صبح وہاں سے مکہ مکرمہ کے لئے نکلیں ،حالانکہ میں یہی نہیں کرنا چاہ رہا تھا جو اب میں نے بلا تکلف ضحیٰ بھائی سے کہدیا ۔اور وہ اس کے لئے تیار ہوگئے ۔اپنی قیام گاہ پر لے گئے اور اب دوا وغیرہ کھانے کے بعد تھوڑی طبیعت بھی سنبھلنے لگی ،انہوں نے کھانا وغیرہ کھلایا اور پھر مغرب وعشاء جمع بین الصلاتین کے بعد انہیں کے یہاں سوگیا ۔صبح اٹھا تو عافیت تھی اور تھکاوٹ وغیرہ دور ہوچکی تھی،اور یہ سوچ کر خوشی محسوس ہو رہی تھی کہ اچھا کیا رات رک گیا۔ ورنہ کیا پتہ میرا کیا ہوتا کیا نہ ہوتا ۔لیکن دوسری طرف اس فکر میں دل بےچین اور بیقرار ہو رہا تھا کہ کب میں مکہ مکرمہ پہونچ جاؤں، اور جس نیت و مقصد سے آیا ہوں پہلے اس کی تعمیل وتکمیل کروں ،یہی وجہ تھی کہ ابھی تک میرا کسی اور جانب دل نہیں لگ رہا تھا ،نہ کسی سے فون پر بات کرنے کا دل کر رہا تھا۔
بس یہی فکر لاحق تھی کہ کب ٹیکسی وغیرہ کروں اور فوراً حرم پہونچ جاؤں، اور اس سفر کے اولین مقصود کو بجا لاؤں ۔ پھر ضحیٰ بھائی نے مکہ مکرمہ کے لئے اپنے ایک متعارف گاڑی والے کو بلایا ،اور مجھے بیٹھا دیا ۔شكرا فجزاهم الله خيرا.
اب گاڑی میں ڈرائیور ثاقب جمال سے گفتگو کے بعد یہ راز کھلا کہ یہ میرے چچازاد بھائی کے حقیقی سالے ہیں! ۔۔۔۔۔۔”فندق سفير المِسك”یعنی سفیر المسک ہوٹل کے داہنے سائڈ گلی میں میرے روم پر (جس کا انتظام عظیم بھائی نے کر دیا تھا ۔فجزاهم الله خيرا واحسن الجزاء.
ورنہ میں نے پہلے سے کوئی ہوٹل وغیرہ نہیں بک کیا تھا ، عظیم بھائی جو عالمی کلاک ٹاور مکہ مکرمہ میں فائر ڈپارٹمنٹ میں مؤظف ہیں ) ثاقب جمال نے مجھے اتارا ۔ کرایہ دینے لگا ،لیکن انہوں نے سرے سےکرایہ لینے سے انکار کر دیا ۔اور اصرار کے باوجود کرایہ نہیں لیا ۔ میں نے ان کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔فجزاهم الله خيرا.

Related posts

شخصیت پرستی کا بڑھتارجحان نئی نسل کے لیے خطر ناک ہے

Paigam Madre Watan

اردو کا تحفظ کیوں اور کیسے کیا جائے؟

Paigam Madre Watan

کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے!

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar