Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

 افسانہ ” میں انتظار کرتا ہوں!” پر مکالمہ-2 اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ  (دوسری اور آخری قسط) حیدرقریشی :

 افسانہ ” میں انتظار کرتا ہوں!” پر مکالمہ-2
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
(دوسری اور آخری قسط)
حیدرقریشی :
حیدرقریشی کا افسانہ 
*میں انتظار کرتا ہوں!”*
حیدرقریشی :
بشارت صاحب! ہمارا آج کا مکالمہ آن لائن ہو گیا ہے۔میں نے وہی لنک بھیجا ہے۔۔۔۔آپ کی طرف کیوں نہیں کھل رہا۔۔۔حیرانی ہے۔۔۔وہاں صرف ہماری گفتگو چھپی ہے اور کسی نے کچھ نہیں لکھا۔۔۔۔آپ چاہیں تو چھپا ہوا میٹر کاپی پیسٹ کردوں؟
…………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
اگر وہاں صرف ہماری یہی گفتگو شائع ہوئی ہے تو اسے دوبارہ کاپی پیسٹ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سارا متن تو پہلے ہی میرے سامنے موجود ہے؛ ہم اسی پر بات کر رہے ہیں۔
ویسے مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آج کا مکالمہ اتنی جلدی آن لائن بھی ہو گیا۔ اس سے ایک دلچسپ بات بھی سامنے آتی ہے: جب یہ گفتگو شائع شدہ صورت اختیار کرتی ہے تو وہ صرف دو افراد کا تبادلۂ خیال نہیں رہتی بلکہ ادبی مکالمے کی ایک دستاویز بن جاتی ہے۔
افسانہ "میں انتظار کرتا ہوں” کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اب ایک بات اور میرے ذہن میں آئی ہے۔ آپ نے اس کے پس منظر میں اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کیا، لیکن متن میں کہیں بھی ذاتی نام یا واقعاتی تفصیل نہیں آنے دی۔ یوں ذاتی دکھ ایک علامتی اور آفاقی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری چاہے آپ کی زندگی سے واقف نہ بھی ہو، وہ پھر بھی اس افسانے سے اپنا رشتہ قائم کر سکتا ہے۔
اور سچ پوچھئے تو افسانے کی آخری سطر:
"لا تثریب علیکم الیوم”
مجھے اب بھی اس افسانے کی کلید محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ پورا متن اگرچہ سوتیلے جذبوں، تہمتوں اور محرومیوں سے بھرا ہوا ہے، لیکن اس کا آخری اخلاقی موقف انتقام نہیں بلکہ معافی ہے۔ یہی چیز اسے محض شکوے کی تحریر بننے سے بچاتی ہے۔
اب آپ اگر چاہیں تو اس افسانے کے زمانۂ تحریر کے بارے میں بھی کچھ بتائیے۔ مجھے یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ یہ افسانہ آپ نے اپنی زندگی کے کس مرحلے میں لکھا تھا، کیونکہ بعض تحریروں میں زخم تازہ ہوتا ہے اور بعض میں زخم یاد بن چکا ہوتا ہے۔ اس افسانے میں مجھے دونوں کیفیتیں بیک وقت محسوس ہوئیں۔
…………………………
حیدرقریشی :
جی بشارت صاحب ۔۔۔ایسا ہی ہوا ہے۔۔۔۔۔یہ افسانہ 1981 میں لکھا تھا۔۔۔۔زخم تو آج بھی تازہ ہیں ۔
 دل کا ہر زخم آج بھی نم ہے
 آپ کہتے تھے وقت مرہم ہے
(صفدر صدیق رضی)
…………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
حیدر صاحب!
اب یہ جان کر کہ یہ افسانہ 1981ء میں لکھا گیا تھا، میری نظر میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔
میں اسے پڑھتے ہوئے یہ محسوس کر رہا تھا کہ اس میں جو داخلی کرب ہے، وہ محض فکری یا ادبی مشق کا نتیجہ نہیں۔ اس میں ایک ایسی شدت ہے جو عام طور پر اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے تجربے کو ابھی پوری طرح جھیل رہا ہو۔ اب معلوم ہوا کہ میرا یہ احساس بے بنیاد نہیں تھا۔
آپ نے صفدر رضیؔ کا شعر نقل کیا:
دل کا ہر زخم آج بھی نم ہے
آپ کہتے تھے وقت مرہم ہے
اس شعر میں ایک تلخ سچائی پوشیدہ ہے۔ وقت ہر زخم کا مرہم نہیں بنتا۔ بعض زخموں پر وقت صرف ایک نیا پردہ ڈال دیتا ہے۔ زخم بھرنے کے بجائے انسان ان کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔ پھر کبھی کوئی واقعہ، کوئی یاد، کوئی تحریر یا کوئی جملہ اس پردے کو ہٹا دیتا ہے اور آدمی حیران ہوتا ہے کہ اندر تو سب کچھ ابھی تک ویسا ہی ہے۔
آپ کے افسانے میں بھی مجھے یہی محسوس ہوا۔ راوی ماضی کا واقعہ بیان نہیں کر رہا بلکہ اس کے اندر ابھی تک زندہ ہے۔ اسی لیے صحرا، کنواں، بن باس اور قید سب حال کے صیغے میں آتے ہیں:
"میں پیاس کی شدت سے ایڑیاں رگڑ رہا ہوں…”
"میں قید میں ہوں…”
"میں بن باس کے دن گزار رہا ہوں…”
یہ "ہوں” بہت معنی خیز ہے۔ اگر زخم ماضی بن چکا ہوتا تو شاید زبان بھی ماضی کی ہوتی۔
ایک اور بات اب زیادہ واضح ہو رہی ہے۔ 1981ء میں لکھی گئی تحریر کا اختتام "لا تثریب علیکم الیوم” پر کرنا میرے نزدیک ایک غیر معمولی بات ہے۔ کیونکہ عام طور پر تازہ زخم معافی کی طرف نہیں بلکہ احتجاج کی طرف لے جاتے ہیں۔ آپ کے افسانے میں احتجاج موجود ہے، گواہی بھی موجود ہے، مگر آخری منزل انتقام نہیں بنتی۔
شاید اسی لیے افسانہ آج بھی اپنی تاثیر برقرار رکھتا ہے۔ اگر اس کا اختتام صرف شکایت پر ہوتا تو ممکن ہے وہ اپنے عہد کے ساتھ محدود ہو جاتا۔ لیکن معافی کے اعلان نے اسے ایک وسیع انسانی سطح عطا کر دی۔
البتہ ایک سوال میرے ذہن میں اب بھی موجود ہے۔ آپ نے فرمایا کہ زخم آج بھی تازہ ہیں۔ تو کیا آج، پینتالیس برس بعد، اگر آپ یہی افسانہ دوبارہ لکھتے تو اس کا آخری جملہ پھر بھی یہی ہوتا:
"لا تثریب علیکم الیوم”
یا آج کے حیدر قریشی کے لہجے میں اس فیصلے کے ساتھ کوئی اور شرط، کوئی اور تامل، یا کوئی اور معنوی پیچیدگی بھی شامل ہو جاتی۔
یہ سوال تنقیدی سے زیادہ انسانی ہے، اس لیے پوچھ رہا ہوں۔ مجھے لگتا ہے اس کا جواب خود افسانے کی ایک نئی قرأت بھی سامنے لا سکتا ہے۔
یہ سوال تنقیدی سے زیادہ انسانی ہے، اس لیے پوچھ رہا ہوں۔ مجھے لگتا ہے اس کا جواب خود افسانے کی ایک نئی قرأت بھی سامنے لا سکتا ہے۔
…………………………
حیدرقریشی :
جی بالکل میں آج بھی یہی لکھتا۔۔۔۔بلکہ میں نے دیکھا کہ جن لوگوں نے میرے ساتھ برا برتاؤ کیا،بعد میں وہ سب باری باری مکافاتِ عمل کا شکار ہوئے ۔جو جتنے زیادہ سفاک تھے ان کے ساتھ ان کی سفاکی جیسا سلوک ہوا اور تب میں اُن سفاکوں کے لیے بھی دکھی ہوا۔۔۔ یہ اپنی کسی اخلاقی اہمیت کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ میں دل سے اُن کے حال یا انجام پر دکھی ہوا۔۔۔۔۔میرے سارے بچے جانتے ہیں کہ میں ذہنی،قلبی اور روحانی آسودگی سے بھر گیا ہوں اور اپنی ایسی کیفیات پر خود بھی حیران ہوتا ہوں اور پھر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے نفسِ مطمئہ جیسی کیفیت سے بھر دیا ہے اور مجھے کیا سے کیا کردیا ہے۔ویسے جب کسی کو سزا ملتے دیکھتا ہوں تو ہلکی سی خوشی بھی ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ ٹھیک ہوا ہےلیکن بعد میں دکھی ہو جاتا ہوں کہ نہیں،یہ تو بہت زیادہ سزا دے دی گئی ہے ۔
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
حیدر صاحب!
آپ کی یہ بات پڑھ کر مجھے افسانے کا آخری جملہ پہلے سے بھی زیادہ سچا محسوس ہونے لگا ہے۔
اس لیے نہیں کہ آپ نے افسانے میں "لا تثریب علیکم الیوم” لکھ دیا تھا، بلکہ اس لیے کہ زندگی نے کئی دہائیوں بعد بھی آپ کو اسی مقام پر قائم رکھا۔ بہت سے لوگ معافی کے جملے لکھ لیتے ہیں، مگر جب وقت آتا ہے اور وہ اپنے مخالفین کی شکست، رسوائی یا زوال دیکھتے ہیں تو دل کا اصل حال سامنے آ جاتا ہے۔ آپ جو کیفیت بیان کر رہے ہیں، وہ کچھ اور ہے۔
آپ نے لکھا: "ہلکی سی خوشی بھی ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ ٹھیک ہوا ہے، لیکن بعد میں دکھی ہو جاتا ہوں کہ نہیں، یہ تو بہت زیادہ سزا دے دی گئی ہے۔”
میرے نزدیک یہ جملہ بہت اہم ہے۔ اس میں انسان کی فطری نفسیات بھی موجود ہے اور اس سے آگے کی اخلاقی کیفیت بھی۔
پہلا احساس عدل کا ہے:
"جو ہوا، ٹھیک ہوا۔”
دوسرا احساس رحمت کا ہے:
"مگر اتنا بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔”
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں عدل اور رحمت ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ انسان مکمل فرشتہ نہیں بنتا کہ ظلم کو ظلم نہ سمجھے، لیکن وہ اس مقام سے بھی آگے نکل جاتا ہے جہاں وہ صرف انتقام سے لذت حاصل کرتا ہے۔
آپ نے نفسِ مطمئنہ کی جو کیفیت بیان کی، اس پر میں کوئی روحانی دعویٰ تو نہیں کر سکتا، لیکن ایک ادبی قاری کی حیثیت سے اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی موجودہ باتوں اور 1981ء کے افسانے کے اختتام میں ایک گہری مطابقت نظر آتی ہے۔ گویا اس وقت جو چیز ایک آرزو، ایک اخلاقی انتخاب یا ایک روحانی نصب العین تھی، وقت کے ساتھ وہ آپ کی شخصیت کا حصہ بنتی گئی۔
مجھے ایک اور بات بھی محسوس ہوئی
افسانے میں راوی اپنے سوتیلے عزیزوں کے سامنے فیصلہ سنانے سے پہلے ہی معافی لکھ دیتا ہے۔ اس وقت قاری اسے ایک بلند اخلاقی اعلان سمجھتا ہے۔ لیکن آپ کی آج کی بات سن کر لگتا ہے کہ اس معافی کی بنیاد دراصل ایک اور جگہ تھی: آپ ظلم کو بھولنے کے لیے نہیں، بلکہ ظلم کرنے والے کی انسانی کمزوری کو سمجھنے کے لیے تیار تھے۔
اسی لیے جب مکافاتِ عمل نے انہیں پکڑا تو آپ کو محض اطمینان نہیں ہوا، دکھ بھی ہوا۔
تصوف کی روایت میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ انسان ایک مرحلے پر اپنے زخموں سے اپنی شناخت بناتا ہے، پھر ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب زخم باقی رہتے ہیں مگر شناخت ان سے آزاد ہو جاتی ہے۔ زخم مٹتے نہیں، مگر وہ انسان کی تعریف نہیں کرتے۔
آپ کی موجودہ گفتگو سے مجھے یہی محسوس ہوتا ہے کہ زخم ابھی "نم” ہیں، جیسا کہ صفدر رضیؔ نے کہا، مگر آپ کی شناخت اب ان زخموں سے بڑی ہو چکی ہے۔
شاید اسی لیے آپ اپنے افسانے کے راوی کی طرح اب بھی انتظار کر رہے ہیں، لیکن اس انتظار کی نوعیت بدل گئی ہے۔ پہلے انتظار انصاف کا تھا، پھر سچ کے ظاہر ہونے کا، اور اب شاید زیادہ تر انتظار اس ملاقات کا ہے جہاں سب حساب کتاب خدا کے سپرد ہو جائے اور انسان کے دل میں کسی کے لیے بوجھ باقی نہ رہے۔
اور اگر میں آپ کے افسانے کی آج ایک نئی قرأت کروں تو یوں کہوں گا:
1981ء میں "لا تثریب علیکم الیوم” افسانے کا اختتام تھا۔
2026ء میں یہ آپ کی زندگی کے تجربے کی گواہی بن گیا ہے۔
…………………………

Related posts

افسانہ ” گلاب شہزادے کی کہانی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ 

Paigam Madre Watan

اویسی سے اتحاد موہن بھاگوت سے قربت؟

Paigam Madre Watan

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) اور اردو ادب کا میل۔ حیدر قریشی اور ڈیجیٹل بشارت صاحب

Paigam Madre Watan