Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

افسانہ ” گھٹن کا احساس” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ

افسانہ ” گھٹن کا احساس” پر مکالمہ
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
حیدرقریشی کا افسانہ 
*گھٹن کا احساس”*
 
…………………………………………………
حیدرقریشی :
جی بشارت صاحب سلام اپنا افسانہ "گھٹن کا احساس” بھیج رہا ہوں ۔پہلے دیکھیں تخلیق آپ کو کیا بتاتی ہے ۔
…………………………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
 السلام علیکم حیدر صاحب!

یہ افسانہ میں نے پوری توجہ اور تأنی سے پڑھا۔ حسبِ وعدہ، پہلے میں نے مصنف کو ایک طرف رکھا اور صرف متن کو سنا کہ وہ خود کیا کہتا ہے۔ میری پہلی قرأت کا حاصل یہ ہے:

"گھٹن کا احساس” دراصل گھٹن کے بارے میں نہیں، بلکہ "پناہ کی تلاش” کا افسانہ ہے۔ گھٹن اس کا ظاہری موضوع ہے، لیکن اس کا باطنی موضوع انسان کی اس ازلی آرزو کا بیان ہے کہ وہ کسی ایسی ہستی کے سینے سے لگ جائے جہاں ہر خوف ختم ہو جائے۔

چند نکات خاص طور پر میری توجہ کا مرکز بنے:

۱۔ افسانے کی ساخت: ایک مکمل دائرہ

افسانہ نلکے کے نیچے نہلائے جانے سے شروع ہوتا ہے اور ماں کے سینے پر ختم ہوتا ہے۔

یہ محض اختتام نہیں بلکہ Circular Structure ہے۔ بچپن کا خوف، زندگی بھر مختلف صورتوں میں لوٹتا رہتا ہے، اور انجام پر جا کر وہیں تحلیل ہو جاتا ہے جہاں سے زندگی شروع ہوئی تھی۔

آغاز اور اختتام ایک دوسرے کا عکس بن جاتے ہیں۔ اس لیے آخری منظر جذباتی ہونے کے باوجود مصنوعی نہیں لگتا۔

۲۔ پانی کا استعارہ

یہاں پانی ایک ہی وقت میں دو متضاد معنوں کا حامل ہے۔

  • بچپن میں پانی خوف ہے۔
  • زندگی میں پانی گھٹن ہے۔
  • قبر کے بعد یہی پانی تطہیر بن جاتا ہے۔

یعنی ایک ہی عنصر پوری کہانی میں اپنے معنی بدلتا رہتا ہے۔ یہی علامتی افسانے کی خوبی ہے۔


۳۔ بلندی اور گہرائی

مجھے محسوس ہوا کہ پانی اور بلندی الگ الگ علامتیں نہیں بلکہ ایک ہی خوف کے دو رخ ہیں۔

اوپر دیکھو تو گرنے کا خوف۔

نیچے دیکھو تو ڈوبنے کا خوف۔

درمیان میں انسان کھڑا ہے۔

یہ درمیانی جگہ ہی پوری زندگی ہے۔


۴۔ ماں کی موجودگی

افسانے میں ماں صرف کردار نہیں۔

وہ رحمت، حفاظت، اصل وطن اور وجودی سکون کی علامت ہے۔

یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بیوی کو ایک لمحے کے لیے ماں کی جگہ لانے کی کوشش ہوتی ہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوتی۔

کیوں؟

کیونکہ بیوی محبت دے سکتی ہے۔

ماں پناہ دیتی ہے۔

یہ دونوں نفسیاتی درجے مختلف ہیں۔


۵۔ قبر

افسانے میں قبر صرف موت نہیں۔

قبر ہر وہ بند جگہ ہے جہاں انسان اپنی آزادی کھوتا ہے۔

چھوٹا باتھ روم۔

کمبل۔

بندوقوں سے بھری دنیا۔

آلودہ فضا۔

ایٹمی جنگ۔

حتیٰ کہ انسانی تہذیب بھی ایک اجتماعی قبر بنتی جا رہی ہے۔

یہاں افسانہ فرد سے نکل کر پوری انسانیت تک پہنچ جاتا ہے۔


۶۔ "چھلانگ لگادو”

میرے خیال میں یہ افسانے کا سب سے طاقتور استعارہ ہے۔

اسے صرف خودکشی کی خواہش سمجھنا شاید متن کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

یہ وہ پراسرار کشش ہے جسے جدید نفسیات میں بعض اوقات Call of the Void کہا جاتا ہے۔

بلندی پر کھڑے ہو کر اچانک نیچے کودنے کا خیال۔

انسان کودنا نہیں چاہتا۔

لیکن ایک لمحے کو ذہن اسے تصور کرتا ہے۔

آپ نے اسے نہایت فنکارانہ انداز میں خارجی آواز بنا دیا ہے۔

یہ بہت کامیاب فنی حربہ ہے۔


۷۔ آخری منظر

افسانہ یہاں آکر مکمل صوفیانہ کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔

دریا میں گرنا۔

پھر ماں کی آغوش۔

پھر گھبراہٹ کا ختم ہو جانا۔

اس کی دو قرأتیں ممکن ہیں۔

پہلی:

وہ واقعی مر گیا۔

دوسری:

وہ ایک ایسی باطنی نجات پا گیا جہاں خوف کا وجود باقی نہیں رہا۔

متن دونوں امکانات کو زندہ رکھتا ہے، اور یہی اس کی خوبصورتی ہے۔


۸۔ زبان

زبان غیر ضروری آرائش سے پاک ہے۔

جہاں علامتیں ہیں وہاں بھی بیان روزمرہ کا ہے۔

اسی وجہ سے افسانہ بوجھل نہیں بنتا۔


ایک سوال

پہلی قرأت میں صرف ایک چیز نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا۔

بچپن کے خوف سے لے کر عالمی آلودگی، اوزون، ایٹمی جنگ اور تہذیبی بحران تک کا سفر یقیناً معنوی اعتبار سے درست ہے، لیکن یہ حصہ نسبتاً زیادہ فکری (discursive) محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگا جیسے کردار چند لمحوں کے لیے افسانے سے نکل کر مضمون نگار بن گیا ہو۔

ممکن ہے دوسری یا تیسری قرأت میں یہ احساس کم ہو جائے، مگر پہلی قرأت میں یہی واحد مقام تھا جہاں بیانیہ اپنی خالص کہانی پن سے ذرا ہٹتا محسوس ہوا۔


مجموعی طور پر میری پہلی رائے یہ ہے کہ "گھٹن کا احساس” ایک نفسیاتی افسانہ ضرور ہے، مگر اس کی تہہ میں وجودی اور روحانی سوالات کی گونج بھی موجود ہے۔ یہ خوف کی کہانی سے زیادہ اس سکون کی کہانی ہے جس کی تلاش انسان پوری زندگی کرتا رہتا ہے، اور جس کی پہلی جھلک اسے ماں کی آغوش میں ملتی ہے۔

میں اب دوسری قرأت میں اسے ایک ناقد کی نظر سے دیکھنا چاہوں گا۔ میرا اندازہ ہے کہ اس میں کچھ ایسی علامتی پرتیں بھی سامنے آئیں گی جو پہلی قرأت میں صرف اشاروں کی صورت میں محسوس ہوئیں۔

……………………………………………

حیدرقریشی :

آپ نے بڑا علمی تجزیہ کیا بشارت صاحب ۔۔۔۔بہت شکریہ ۔

اس میں نلکے کے نیچے ماں کا نہلانا،بیوی کا بالی ووڈ کے باتھ روم والے سین سے گریز کرنا، ۔حقیقی زندگی سے ہیں ۔پھر پانی اور بلندی سے خوف میرے ذاتی خوف ہیں ۔

گھٹن کے احساس سے متعلق بیان کردہ واقعات مجھ پر ہی گزرتے رہے تھے۔ چونکہ اُن دنوں میں فضائی آلودگی اور ایٹمی جنگ کے موضوعات پر کافی مطالعہ کر رہا تھا،شاید اسی لیے ان کا ذکر بھی آتا گیا۔یہ مسائل تو نجی گھٹن سے زیادہ پورے کرہء ارض کی گھٹن کا سبب بن رہے ہیں ۔شاید اس لیے ان کا ذکر آتا گیا۔۔۔۔پل صراط میں نے سچ مچ میں پار کیا تھا اور آخری سین کے علاوہ باقی سب کچھ ایسے ہی ہوا تھا ۔آخری سین لکھنے کے بعد میں سچ مچ میں بہت رویا تھا ۔لیکن ان سارے مرحلوں سے گزر آنے کے بعد میرا گھٹن کا احساس تقریباً ختم ہوگیا ہے ۔اب اپنی بیگم کی قبر کے ساتھ اپنی قبر کی جگہ بھی مختص کرا لی ہے۔ہم دونوں کا مشترکہ کتبہ بھی سجا ہوا ہے ۔وہاں دعا کے لیے جاتا رہتا ہوں۔اپنی قبر کے کنارے کھڑے ہو کر گھٹن کی کوئی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔یہ ساری باتیں بھی "گھٹن کا احساس”  سے کسی نہ کسی طور منسلک ہیں ۔

………………………………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

حیدر صاحب، السلام علیکم!

آپ کی یہ وضاحت پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اب افسانے کی تخلیقی کیفیات اور بھی روشن ہو گئی ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ معلومات افسانے کی قدر میں اضافہ ضرور کرتی ہیں، اس کی بنیاد نہیں بنتیں۔ اگر آپ یہ پس منظر نہ بھی بتاتے تو متن اپنی ادبی خودمختاری کے ساتھ قائم رہتا۔ اب البتہ اس کے بعض استعاروں کی جڑیں بھی دکھائی دینے لگی ہیں۔

جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ آپ کا یہ جملہ ہے:

"آخری سین لکھنے کے بعد میں سچ مچ میں بہت رویا تھا۔”

میرے نزدیک یہی اس افسانے کی تخلیقی کنجی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ اس وقت افسانہ لکھ نہیں رہے تھے، اپنے اندر کئی دہائیوں سے جمع ایک وجودی بوجھ کو لفظوں میں تحلیل کر رہے تھے۔ شاید اسی لیے آپ نے آخر میں لکھا کہ اس کے بعد گھٹن کا احساس تقریباً ختم ہو گیا۔ اس سے مجھے قدیم تصورِ Catharsis (تطہیرِ باطن) یاد آتا ہے۔ ارسطو نے اسے المیے کے قاری کے لیے بیان کیا تھا، لیکن تخلیق کار کے لیے بھی یہ کیفیت کم و بیش اسی طرح برآمد ہوتی ہے۔ بعض تخلیقات اپنے مصنف کو بھی بدل دیتی ہیں، اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ "گھٹن کا احساس” انہی تخلیقات میں سے ہے۔

آپ کی وضاحت سے ایک اور نکتہ بھی نمایاں ہوا۔

پہلی قرأت میں مجھے پانی، بلندی، قبر اور گھٹن علامتی سلسلے کے اجزا محسوس ہوئے تھے۔ اب معلوم ہوا کہ ان میں سے اکثر تجربات واقعی آپ کی زندگی کا حصہ تھے۔ لیکن فن کی کامیابی یہی ہے کہ نجی واقعہ، نجی نہیں رہتا۔ وہ ایک ایسے تجربے میں بدل جاتا ہے جس میں بے شمار قارئین اپنے خوف پہچان سکتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوانح، ادب بن جاتی ہے۔

آپ نے اوزون، فضائی آلودگی اور ایٹمی جنگ کے حوالے سے جو بات لکھی، اس نے بھی میرے پہلے تاثر کی ایک نئی توجیہ کر دی۔ پہلی قرأت میں مجھے وہ حصہ ذرا فکری محسوس ہوا تھا، لیکن اب میں اسے یوں دیکھ رہا ہوں کہ کردار کی گھٹن صرف نفسیاتی نہیں رہ گئی تھی؛ اس نے پوری زمین کی گھٹن کو اپنی ذات میں محسوس کرنا شروع کر دیا تھا۔ گویا اندر کی سانس گھٹ رہی تھی، اور باہر کا ماحول بھی سانس لینے کے قابل نہیں رہ گیا تھا۔ اس طرح نجی اور اجتماعی بحران ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے۔

لیکن آپ کی گفتگو میں جس بات نے مجھے سب سے زیادہ دیر تک سوچنے پر مجبور رکھا، وہ آخری حصہ ہے۔

آپ نے لکھا:

"اب اپنی بیگم کی قبر کے ساتھ اپنی قبر کی جگہ بھی مختص کرا رکھی ہے… وہاں دعا کے لیے جاتا رہتا ہوں… اپنی قبر کے کنارے کھڑے ہو کر گھٹن کی کوئی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔”

یہ جملہ مجھے افسانے کے آخری منظر کا حقیقی تسلسل محسوس ہوا۔

افسانے میں قبر خوف کی آخری علامت تھی۔

آج وہی قبر قبولیت کی علامت بن گئی ہے۔

یعنی جس شے سے پوری زندگی بھاگتے رہے، آخرکار اسی کو زندگی کے فطری انجام کے طور پر قبول کر لیا۔ میرے نزدیک یہ نفسیاتی تبدیلی نہیں، ایک وجودی ارتقا ہے۔ خوف ختم اس لیے نہیں ہوا کہ قبر بدل گئی؛ خوف اس لیے ختم ہوا کہ اس کے ساتھ آپ کا رشتہ بدل گیا۔

یہاں مجھے آپ کا ایک پرانا شعر بھی یاد آ گیا تھا، جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ہم نے زندگی کم، اور زندگی کو بھوگا زیادہ ہے۔ "گھٹن کا احساس” اسی بھوگی ہوئی زندگی کا افسانوی اظہار معلوم ہوتا ہے۔

آخر میں ایک بات بطور قاری عرض کرنا چاہوں گا۔

اب مجھے لگتا ہے کہ اس افسانے کا عنوان اگرچہ بالکل مناسب ہے، لیکن اس کا باطنی عنوان شاید "ماں کی آغوش کی طرف واپسی” بھی ہو سکتا تھا۔ کیونکہ پوری کہانی گھٹن سے شروع نہیں ہوتی؛ گھٹن تو اس وقت شروع ہوتی ہے جب ماں کی آغوش چھوٹ جاتی ہے، اور ختم بھی اسی لمحے ہوتی ہے جب شعور یا لاشعور میں وہ آغوش دوبارہ میسر آ جاتی ہے۔

یہ افسانہ میرے نزدیک صرف نفسیاتی افسانہ نہیں رہا؛ اب یہ آپ کی تخلیقی زندگی میں ایک ایسے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں ادب، خود علاج (Self-healing) کا وسیلہ بھی بن گیا۔ شاید اسی لیے اسے لکھنے کے بعد آپ روئے بھی، اور پھر آہستہ آہستہ وہ گھٹن بھی تحلیل ہوتی گئی جس نے برسوں آپ کا ساتھ دیا تھا۔

آپ کی اس تخلیق کے ساتھ یہ گفتگو میرے لیے بھی ایک ادبی تجربہ رہی ہے۔ بعض افسانے پڑھے نہیں جاتے، دیر تک انسان کے اندر رہتے ہیں۔ "گھٹن کا احساس” میرے لیے انہی افسانوں میں شامل ہو گیا ہے۔

…………………………………………

Related posts

 افسانہ ” روشن نقطہ” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ

Paigam Madre Watan

افسانہ ” اپنی تجرید کے کشف کا عذاب” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ

Paigam Madre Watan

افسانہ ” دو کہانیوں کی ایک کہانی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

Paigam Madre Watan