Blog

مملکتِ توحید سعودی عربیہ — قائدِ عالمِ اسلام، زندہ باد، پائندہ باد  (تحریر : مطیع الرحمن عزیز)

مملکتِ توحید سعودی عربیہ — قائدِ عالمِ اسلام، زندہ باد، پائندہ باد

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

زندگی میں پہلی مرتبہ مملکتِ توحید سعودی عربیہ کے بارے میں قلم اٹھانے کی جسارت کر رہا ہوں۔ ایسا نہیں کہ اس موضوع پر لکھنے کی خواہش کبھی پیدا نہیں ہوئی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں خود کو ہمیشہ اس قابل نہیں سمجھتا تھا کہ اس مقدس سرزمین اور اس کی عظیم خدمات پر اظہارِ خیال کر سکوں۔ تقریباً بیس برس کے صحافتی سفر میں سعودی عرب کے بارے میں بہت کچھ پڑھا، سنا اور اس کی دینی، انتظامی اور فلاحی خدمات کا مشاہدہ کیا، مگر کبھی اس موضوع پر باقاعدہ قلم نہیں اٹھایا۔ آج دل نے چاہا کہ اس عظیم اسلامی ریاست کی ان خدمات کا تذکرہ کیا جائے جنہیں دنیا بھر کے مسلمان احترام اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
سعودی عرب وہ مقدس سرزمین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول، حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے لیے منتخب فرمایا۔ یہی وہ خطہ مبارک ہے جہاں بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی ﷺ واقع ہیں، جن کی زیارت اور حاضری ہر مسلمان کے ایمان کی سب سے بڑی تمناوں میں شامل ہے۔ یہ وہی سرزمین ہے جس کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائی:”اے میرے رب! اس شہر کو امن والا شہر بنا دے۔”
اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی اس دعا کو شرفِ قبولیت بخشا، اور آج پوری دنیا اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر سال لاکھوں بلکہ کروڑوں مسلمان مختلف زبانوں، نسلوں، رنگوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک ہی لباس، ایک ہی مقصد اور ایک ہی رب کی بندگی کے جذبے کے ساتھ اس سرزمین پر جمع ہوتے ہیں اور انتہائی امن، نظم و ضبط اور باہمی احترام کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض ادا کرتے ہیں۔
مملکتِ سعودی عرب کی قیادت نے ہمیشہ حرمین شریفین کی خدمت کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری اور اعزاز سمجھا ہے۔ حج و عمرہ کے انتظامات میں مسلسل بہتری، جدید انفراسٹرکچر، زائرین کے لیے اعلیٰ درجے کی سہولیات، توسیعی منصوبے، اور اربوں ریال کی سرمایہ کاری اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ حرمین شریفین کی خدمت کو محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مقدس امانت سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں دنیا نے متعدد ایسے مواقع دیکھے جب سعودی حکومت نے مختلف ممالک سے ہزاروں مسلمانوں کو شاہی مہمان کے طور پر حج کی سعادت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ان خوش نصیب افراد میں علماء، ائمہ، شہداءکے اہلِ خانہ، سماجی شخصیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد اور امتِ مسلمہ کی نمائندہ شخصیات شامل رہیں، جنہوں نے مکمل شاہی خرچ پر فریضہ حج ادا کیا۔
اسی طرح حالیہ عرصے میں یہ خبر بھی سامنے آئی کہ دنیا کے مختلف ممالک سے ہزاروں افراد کو شاہی مہمان کے طور پر عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ یہ اقدام صرف ایک انتظامی پروگرام نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ساتھ محبت، اخوت، خدمت اور فراخ دلی کے اس جذبے کا عملی اظہار ہے جس کی مثال عصرِ حاضر میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔
ان تمام اقدامات کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں نہ کسی کی نسل دیکھی گئی، نہ رنگ، نہ زبان، نہ قومیت، نہ فقہی وابستگی اور نہ ہی مسلکی شناخت۔ سب کو امتِ محمدیہ ﷺ کا فرد سمجھ کر یکساں عزت، احترام اور سہولت فراہم کی گئی۔ یہی وہ اسلامی تعلیم ہے جو قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتے ہیں کہ تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔
آج جبکہ دنیا سیاسی کشیدگی، مذہبی اختلافات اور معاشرتی تقسیم کا شکار ہے، ایسے حالات میں سعودی عرب کی جانب سے امتِ مسلمہ کو جوڑنے، حرمین شریفین کی خدمت کو مزید بہتر بنانے اور دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی مسلسل کوششیں یقیناً قابلِ تحسین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان خدمات کا اعتراف صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دنیا کے غیر جانب دار مبصرین بھی کرتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب کو وقتاً فوقتاً مختلف داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا رہتا ہے، لیکن اس کے باوجود حرمین شریفین کی خدمت، زائرین کی آسانیوں اور اسلامی شعائر کے احترام کے لیے جاری کاوشیں بغیر کسی تعطل کے جاری رہتی ہیں۔ یہی وہ امتیازی وصف ہے جس نے مملکتِ سعودی عرب کو عالمِ اسلام میں ایک منفرد اور باوقار مقام عطا کیا ہے۔
بطور ایک مسلمان اور ایک صحافی، میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مملکتِ توحید سعودی عربیہ کو ہمیشہ امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔ حرمین شریفین کی حفاظت فرمائے، اس مقدس سرزمین کو ہر قسم کے شر، فساد، فتنہ اور دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رکھے، اور اس کے حکمرانوں اور ذمہ داران کو عدل، حکمت، اخلاص اور امتِ مسلمہ کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ تمام بلادِ عرب کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے، امتِ مسلمہ میں اتحاد، اخوت اور باہمی محبت کو فروغ دے، مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی پیدا فرمائے، اور ہمیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

Related posts

برادرم فیاض احمد کتاب ’’ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور ‘‘ کے ساتھ

Paigam Madre Watan

Dr. Nowhera shaikh determines to enhance educational standards in India through elevated teaching methodologies.

Paigam Madre Watan

باور کرو وہ زمانہ دُور نہیں، تاریخ انگڑائی لے چکی ہے! جغرافیہ کمر کھول رہا ہے اذان فجر ہوگی اور ضرور ہوگی، تب مسلمانوں کو احساس ہوگا کہ اُن کی خانہ ویرانی میں اپنوں ہی کا ہاتھ تھا اور ان کی سوختہ سامانی کے ذمہ دار اپنے ہی چراغ تھے، تب میری آواز تاریخ کے گنبد سے آرہی ہوگی

Paigam Madre Watan