تمہارے مضبوط مکانات محفوظ نہیں رہ جائیں گے
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
"تمہارے مضبوط مکانات محفوظ نہیں رہ جائیں گے۔” یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک ایسی تنبیہ ہے جو انسان کو اس بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ اینٹ، پتھر، دولت، جائیداد اور بینک بیلنس اس وقت تک حقیقی تحفظ فراہم نہیں کر سکتے جب تک قوم علم، شعور، کردار، انصاف اور اجتماعی قوت سے آراستہ نہ ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں تعلیم اور اخلاق سے محروم ہو جاتی ہیں تو ان کے مضبوط قلعے، بلند و بالا محلات اور وسیع سلطنتیں بھی انہیں زوال سے نہیں بچا سکتیں۔ یہ جملہ مجھے ایک ایسے مدبر، مفکر اور قوم کے مخلص رہنما کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قوم کی تعلیمی بیداری کے لیے وقف کر دی۔ ان کا یقین تھا کہ مسلمانوں کی عزت، وقار اور مستقبل کا راستہ صرف اور صرف تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے۔ اسی یقین کے تحت انہوں نے جدید تعلیم کے فروغ، تعلیمی اداروں کے قیام اور نئی نسل کی ذہنی تربیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کی جدوجہد ہمیں سر سید احمد خان کی تعلیمی تحریک کی یاد دلاتی ہے، جنہوں نے ایک مایوس قوم کو علم کی طاقت سے دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا۔
آج ہمارے سامنے ایسے حالات ہیں جو سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ معاشی مشکلات، تعلیمی پسماندگی، بے روزگاری، سماجی کشیدگی اور مختلف نوعیت کے چیلنجز ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ایسے وقت میں اگر ہماری تمام توجہ صرف ذاتی دولت میں اضافے، نئی جائیدادیں خریدنے اور بینک بیلنس بڑھانے پر مرکوز رہے تو یہ دور اندیشی نہیں ہوگی۔ کیونکہ اگر قوم کا اجتماعی مستقبل کمزور ہوگا تو انفرادی خوشحالی بھی ہمیشہ محفوظ نہیں رہ سکتی۔ ہمیں اپنے آپ سے ایک سوال کرنا چاہیے کہ کیا آنے والے پندرہ یا بیس برسوں میں ہمارے پاس ایسے نوجوانوں کی تعداد بڑھے گی جو انتظامیہ، عدلیہ، پولیس، تعلیم، طب، انجینئرنگ، تحقیق، صحافت، صنعت، تجارت اور قومی پالیسی سازی میں موثر کردار ادا کریں؟ اگر اس سوال کا جواب اطمینان بخش نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری ترجیحات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
قوم کی ترقی کا راستہ صرف جلسوں، نعروں یا وقتی جذبات سے نہیں نکلے گا بلکہ معیاری تعلیم، مضبوط اداروں اور قابل نوجوانوں کی تیاری سے نکلے گا۔ آج ایک ذہین مگر غریب طالب علم کی مدد کرنا دراصل پوری قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ جس نوجوان کو آج قلم، کتاب، رہنمائی اور اعتماد ملے گا، وہ کل معاشرے کا معمار بن سکتا ہے۔ اگر ہر صاحبِ استطاعت خاندان یہ عہد کر لے کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک یا دو مستحق طلبہ کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھائے گا تو چند ہی برسوں میں ایک خاموش مگر عظیم تعلیمی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ یہی طلبہ مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، وکیل، سائنس دان، صحافی، صنعت کار، جج، سول سرونٹ اور باکردار سیاسی قائد بن کر قوم کی رہنمائی کریں گے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری نئی نسل صرف ڈگری یافتہ نہ ہو بلکہ کردار، دیانت، امانت اور خدمتِ خلق کے جذبے سے بھی آراستہ ہو۔ کیونکہ علم اگر اخلاق سے خالی ہو تو وہ معاشرے کی تعمیر کے بجائے اس کی تباہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
موجودہ حالات میں ہماری ترجیحات مندرجہ ذیل کے مطابق کچھ اس طرح ہونی چاہئے۔ 1۔ تعلیم کو سب سے بڑی سرمایہ کاری بنایا جائے۔ ٭ ہر شہر، قصبے اور گاوں میں تعلیمی امدادی فنڈ قائم کیا جائے۔ ٭ ذہین اور مستحق طلبہ کی مکمل تعلیمی کفالت کی جائے۔ ٭ اسکول سے اعلیٰ تعلیم تک رہنمائی اور کیریئر کونسلنگ کا نظام قائم کیا جائے۔ 2۔ سول سروسز اور قومی اداروں میں نمائندگی بڑھائی جائے۔ ٭ نوجوانوں کو UPSC، PCS، عدلیہ، دفاع، تحقیق، تدریس، قانون، صحافت اور دیگر قومی شعبوں میں آنے کی ترغیب دی جائے۔ ٭ ہر ضلع میں لائبریری، اسٹڈی سینٹر اور رہنمائی مراکز قائم کیے جائیں۔ 3۔ معاشی خود کفالت کو فروغ دیا جائے۔ ٭ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل مہارتوں، کاروبار اور ہنرمندی کی تعلیم دی جائے۔ ٭ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے باہمی تعاون اور سرمایہ کاری کے ماڈل تیار کیے جائیں۔ 4۔ دینی و اخلاقی تربیت کو مضبوط بنایا جائے۔ ٭ جدید تعلیم کے ساتھ قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ، اخلاق اور آئینی ذمہ داریوں کی تعلیم بھی دی جائے۔ ٭ ایسا نوجوان تیار کیا جائے جو اپنے دین کا پابند، اپنے وطن کا وفادار اور انسانیت کے لیے مفید ہو۔ 5۔ مطالعے کی ثقافت کو فروغ دیا جائے۔ ٭ ہر گھر میں چھوٹی سی لائبریری قائم کی جائے۔ ٭ روزانہ مطالعہ، اخبارات، معیاری کتابوں اور علمی مباحثے کو معمول بنایا جائے۔ 6۔ قانونی اور آئینی شعور پیدا کیا جائے۔ ٭نوجوانوں کو آئین، بنیادی حقوق، شہری فرائض اور قانونی طریقہ کار سے واقف کرایا جائے تاکہ وہ ذمہ دار شہری بن سکیں۔7۔ اتحاد، تعاون اور مثبت کردار۔ ٭باہمی اختلافات کو محدود کرکے مشترکہ تعلیمی اور سماجی مقاصد پر توجہ دی جائے۔ ملک کے تمام شہریوں کے ساتھ احترام، انصاف، امن اور آئینی اصولوں کی پاسداری ساتھ باہمی اخوت اور بھائی چارہ کو فروغ دیا جائے۔
آج اگر ہم صرف اپنی عمارتوں کو مضبوط بنانے، نئی جائیدادیں خریدنے اور بینک بیلنس میں اضافہ کرنے کو کامیابی سمجھتے رہے، لیکن اپنی نئی نسل کو تعلیم، کردار، ہنر، قیادت اور خود اعتمادی سے محروم چھوڑ دیا، تو آنے والا وقت ہم سے سخت سوال کرے گا۔ قوموں کی اصل دولت ان کی زمینیں نہیں بلکہ ان کے تعلیم یافتہ، باکردار اور باصلاحیت افراد ہوتے ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو بدلیں، تعلیم کو صدقہ جاریہ سمجھیں، نوجوانوں پر سرمایہ کاری کریں، اور ایسے ادارے اور ایسے افراد تیار کریں جو آنے والی نسلوں کے لیے امید کا چراغ بن سکیں۔ یاد رکھئے! مضبوط مکانات ہمیشہ محفوظ نہیں رہتے، لیکن مضبوط کردار، مضبوط تعلیم اور مضبوط قومیں تاریخ کے ہر امتحان میں اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں۔

