Blog

صحافت میں سچائی اور دیانت داری وقت کی اہم ضرورت: اختر کاظمی

صحافت میں سچائی اور دیانت داری وقت کی اہم ضرورت: اختر کاظمی
المنصور ٹرسٹ کے زیر اہتمام ادیبوں کے عصری تقاضے پر دربھنگہ میں فکر انگیز مذاکرہ
دربھنگہ (منصور خوشتر)المنصور ٹرسٹ، دربھنگہ کے زیر اہتمام حکیم دمڑی منزل، ڈاکٹر آفتاب حسین کمپلیکس، سبھاش چوک، دربھنگہ میں "ادیبوں کے عصری تقاضے” کے عنوان سے ایک باوقار ادبی و فکری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں معروف صحافی و ادیب اختر کاظمی مہاراشٹر نے کلیدی گفتگو پیش کی۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر عطاء عابدی نے کی، جبکہ ڈاکٹر افسر کاظمی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔نشست کا آغاز  مہمانِ مقرر اختر کاظمی کے استقبال سے ہوا،
 جہاں انہیں ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر نےمتھلا کی تہذیبی روایت کے مطابق پاگ اور چادر پیش کر کے عزت افزائی کی گئی، جبکہ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر افسر کاظمی کو المنصور ٹرسٹ کی جانب سے شال اوڑھا کر خیر مقدم کیا گیا۔تقریب میں ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اختر کاظمی کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی صحافتی خدمات، ادبی سفر اور قومی سطح پر ان کی شناخت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اختر کاظمی نے اپنی قلمی دیانت، بے باکی اور فکری بصیرت کے ذریعے صحافت اور ادب دونوں میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔اپنی فکر انگیز گفتگو میں اختر کاظمی نے صحافتی زندگی کے ابتدائی ایام کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس دور کی صحافت اصول، ذمہ داری اور سماجی شعور کی آئینہ دار تھی، جبکہ موجودہ عہد میں صحافت کے گرتے ہوئے معیار پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب خبر تجارت بن جائے اور سچائی پس منظر میں چلی جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان سماج کو پہنچتا ہے۔انہوں نے اردو زبان کی ترویج و اشاعت کو اہلِ قلم کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ زبان سے محبت صرف جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے ادب میں حقیقت نگاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ادیب کو اپنے عہد کے مسائل، سماجی تبدیلیوں اور انسانی اقدار کا سچا ترجمان ہونا چاہیے۔اختر کاظمی نے اپنے متعدد افسانوں اور صحافتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ادب اور صحافت کے اپنے اپنے تقاضے ہیں، تاہم دونوں کی بنیاد سچائی، دیانت داری اور حق گوئی پر استوار ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ قلم کی اصل شناخت یہی ہے کہ وہ ہر حال میں سچائی کا ساتھ دیں اور اپنی تحریروں کو معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔انہوں نے اپنے مطالعے اور مشاہدات کی روشنی میں سماج، صحافت اور ادب سے وابستہ مختلف پہلوؤں پر بے تکلف انداز میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ماضی اور حال کا تقابلی جائزہ پیش کیا اور کہا کہ عصری تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنی تہذیبی، اخلاقی اور ادبی شناخت کو برقرار رکھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
تقریب میں شریک اہلِ علم و ادب نے اختر کاظمی کی صحافتی خدمات، ادبی بصیرت اور اصول پسند شخصیت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔صدرِ مجلس ڈاکٹر عطاء عابدی نے اپنے صدارتی تاثرات میں کہا کہ اختر کاظمی نے ہمیشہ صحافت کو ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ برتا ہے اور ان کی علمی و ادبی خدمات نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔اس موقع پر معروف ادیب و شاعر انور آفاقی نے بھی اختر کاظمی کی شخصیت اور خدمات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صحافت کو ہمیشہ حق گوئی، دیانت داری اور فکری ذمہ داری کے ساتھ جوڑے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اختر کاظمی کی تحریروں میں سماجی شعور، انسانی اقدار اور عصری مسائل کی گہری تفہیم نمایاں نظر آتی ہے۔ انور آفاقی نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اہلِ قلم کی فکر اور تجربات نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کی گفتگو سے حاضرین کو صحافت اور ادب کے باہمی تعلق کو سمجھنے کا بہترین موقع ملا۔ڈاکٹر منصور خوشتر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اختر کاظمی کی صحافت بے باکی، جراتِ اظہار اور اصول پسندی کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ المنصور ٹرسٹ کا مقصد ایسی ہی علمی و ادبی شخصیات کو عوام سے روبرو کرانا ہے تاکہ نئی نسل کو فکری رہنمائی حاصل ہو سکے۔
ڈاکٹر ایوب راعین نے اختر کاظمی کی شخصیت کے مختلف علمی، ادبی اور صحافتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ حق گوئی اور سماجی ذمہ داری کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔اس موقع پر معروف شاعر ڈاکٹر احسان عالم نے اختر کاظمی کی آمد پر ایک خوب صورت استقبالیہ نظم پیش کی، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ نظم کے چند اشعار یہ ہیں:
"بزمِ ادب میں آج عجب روشنی کی ہے
دربھنگہ کی سرزمین بہت شادماں کی ہے
آ کر چلے ہیں بن کے جو اس بزم کا وقار
علم و ہنر کی گود میں آئی ہے اب بہار
طارق اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اختر کاظمی کی گفتگو محض صحافتی تجربات کا بیان نہیں بلکہ زندگی، معاشرے اور انسانی اقدار کا عمیق مطالعہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی باتوں سے نئی نسل کے لکھنے والوں اور صحافت سے وابستہ افراد کو رہنمائی حاصل ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے اختر کاظمی کی زندگی کے کئی سبق آموز واقعات بیان کرتے ہوئے ان کی سادگی، خلوص اور اصول پسندی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پرڈاکٹر افسر کاظمی
 ڈاکٹر عطاء عابدی،انور آفاقی ،ڈاکٹر احسان عالم، ڈاکٹر مجیر احمد آزاد، ڈاکٹر منصور خوشتر، ڈاکٹر ایوب راعین، طارق اقبال،  اور دیگر اہلِ علم و ادب نے بھی اپنے افکار کا اظہار کیا اور اس نوعیت کی علمی و ادبی نشستوں کو معاشرے کی فکری تربیت کے لیے نہایت ضروری قرار دیا۔آخر میں ڈاکٹر منصور خوشتر نے المنصور ٹرسٹ کی سرگرمیوں کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکائے مجلس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ آئندہ بھی ایسے علمی، ادبی اور فکری پروگراموں کا انعقاد کرتا رہے گا تاکہ ادب، زبان اور صحافت کی مثبت روایات کو فروغ دیا جا سکے۔ تقریب دعا اور خیرسگالی کے ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔

Related posts

”تیار ہیں ہم“ کا نعرہ لگا کر کانگریس اقلیتی شعبے نے ’ بھارت جوڑو نیائے یاترا کی کامیابی کے لئے خم ٹھونکا

Paigam Madre Watan

ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کہتے ہیں

Paigam Madre Watan

Dr. Nowhera shaikh determines to enhance educational standards in India through elevated teaching methodologies.

Paigam Madre Watan