بیدر برصغیر کے اُن معدودے چند تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے جن کی فضا آج بھی ماضی کی عظمت، تہذیبی وقار اور علمی و ثقافتی شان و شوکت کی گواہی دیتی ہے۔ اس شہر کی قدیم فصیلیں، قلعے، مساجد، مدارس، مقابر اور دیگر تاریخی عمارتیں نہ صرف ایک عظیم سلطنت کی یادگار ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ کے روشن اوراق بھی ہیں۔ صدیوں تک مختلف سلاطین نے بیدر کو اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنایا اور یہاں سے اپنے اقتدار کا نظم و نسق سنبھالا۔ انہی حکمرانوں میں بہمنی سلاطین کا دور تاریخِ دکن کا نہایت درخشاں باب تصور کیا جاتا ہے، جنہوں نے بیدر کو اپنے پایۂ تخت کی حیثیت سے بے مثال ترقی بخشی اور اسے علم، فن، تہذیب اور تعمیرات کا عظیم مرکز بنا دیا۔اسی بہمنی سلطنت کے عہدِ زریں میں ایک ایسی عظیم المرتبت شخصیت جلوہ گر ہوئی جس کا نام تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے سنہرے حروف میں ثبت ہو گیا۔ یہ عظیم ہستی حضرت خواجہ عمادالدین محمود گاوانؒ تھے، جن کا شمار نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمِ اسلام کے نامور وزرائے سلطنت میں کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی ذہانت، سیاسی بصیرت، انتظامی صلاحیت، عسکری حکمت، علمی وجاہت، تقویٰ، دیانت اور بلند کردار جیسی بے شمار نعمتوں سے نوازا تھا۔ وہ ایک کامیاب وزیرِ سلطنت ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجے کے سپہ سالار، ممتاز عالمِ دین، مدبر سیاست دان اور کامل درویش بھی تھے۔حضرت محمود گاوانؒ 1408ء میں ایران کے صوبۂ گیلان کے مقام "گاوان” میں خواجہ محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان پورے خطے میں عزت، شرافت، دیانت اور علمی وجاہت کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتا تھا۔ بچپن ہی سے آپ نے علم و فضل، فہم و فراست اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ عمر کے ساتھ ساتھ آپ کے تجربات میں اضافہ ہوتا گیا اور آپ کی شہرت دور دور تک پھیلنے لگی۔جب ایران میں سیاسی انتشار اور بدامنی نے شدت اختیار کی تو حضرت محمود گاوانؒ نے بہتر مستقبل کی تلاش میں دکن کا رخ کیا، جہاں اس وقت بہمنی سلطنت اپنے عروج پر تھی اور سلطان علاؤالدین ثانی بہمنی تخت نشین تھا۔ سلطان خود بھی علم دوست، اہلِ فضل کا قدردان اور دانش وروں کا احترام کرنے والا فرمانروا تھا۔ جب اس کی ملاقات حضرت محمود گاوانؒ سے ہوئی تو وہ ان کے علم، ذہانت، شائستگی اور بلند کردار سے بے حد متاثر ہوا اور انہیں دربار میں نمایاں مقام عطا کیا۔ اگرچہ آپ نے مختلف ادوار میں سلطنت کی خدمت انجام دی، تاہم آپ کی اصل سیاسی عظمت سلطان نظام شاہ بہمنی کے دور میں نمایاں ہوئی۔ چونکہ سلطان کم عمر تھا، اس لیے اس کی والدہ ملکہ مخدومہ جہاں نے سلطنت کا بیشتر انتظام حضرت محمود گاوانؒ کے سپرد کر دیا۔ بعد ازاں سلطان محمد شاہ بہمنی نے آپ کو باقاعدہ وزیرِ سلطنت مقرر کیا اور "خواجہ جہاں” کے معزز خطاب سے نوازا۔ حضرت محمود گاوانؒ کی وزارت میں بہمنی سلطنت نے ترقی کی نئی منزلیں طے کیں۔ سلطنت کی سرحدیں مستحکم ہوئیں، انتظامی اصلاحات نافذ کی گئیں، مالیاتی نظام بہتر بنایا گیا، عدل و انصاف کو فروغ ملا اور رعایا کو امن و سکون نصیب ہوا۔ مگر آپ کی اصل عظمت صرف سیاسی کامیابیوں تک محدود نہ تھی بلکہ آپ کی نجی زندگی بھی تقویٰ، زہد، قناعت اور بے نفسی کا ایسا نمونہ تھی جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اتنی وسیع سلطنت کے طاقتور وزیر ہونے کے باوجود حضرت محمود گاوانؒ نے کبھی شاہانہ طرزِ زندگی اختیار نہیں کیا۔ وہ اپنی سرکاری تنخواہ کا ایک پیسہ بھی ذاتی ضروریات پر خرچ نہیں کرتے تھے۔ آپ تجارت بھی کرتے تھے اور اسی سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنی ضروریات پوری فرماتے، جبکہ بقیہ رقم غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور نادار افراد کی امداد کے لیے وقف کر دیتے۔ شاہی دسترخوان سے کبھی ایک لقمہ بھی تناول نہ فرمایا۔ اپنے لیے نہایت سادہ کھانا مٹی کی ہانڈی میں تیار کرواتے اور اسی پر اکتفا کرتے۔آرام و آسائش سے آپ کو کوئی رغبت نہ تھی۔ نرم بستر اور قیمتی پلنگ کے بجائے ہمیشہ زمین پر بچھی ہوئی چٹائی پر آرام فرماتے۔ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ سادگی، عبادت، خدمتِ خلق اور خوفِ خدا سے عبارت تھا۔ ہر جمعہ کی شب آپ عام آدمی کا بھیس بدل کر شہر کی گلیوں میں اشرفیوں کی تھیلی لیے نکلتے، تاکہ کسی ضرورت مند، یتیم، بیوہ یا معذور کی خاموشی سے مدد کر سکیں۔ امداد دیتے وقت اپنی ذات کا نام ظاہر کرنے کے بجائے فرمایا کرتے کہ "یہ بادشاہ کی طرف سے عطیہ ہے، اس کے لیے دعا کیجیے۔” حضرت محمود گاوانؒ کی زندگی کا ایک ایسا عظیم الشان کارنامہ بھی ہے جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے علمی دنیا میں امر کر دیا۔ انہوں نے بیدر میں ایک عظیم درسگاہ قائم کی جو آج بھی "مدرسہ محمود گاوان” کے نام سے دنیا بھر میں معروف ہے۔ یہ ادارہ اپنے زمانے میں دکن کی سب سے بڑی علمی و تعلیمی درسگاہوں میں شمار ہوتا تھا، جہاں ہندوستان اور بیرونِ ہند سے نامور علما، فضلا اور دانش ور تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے۔ یہاں طب، ریاضی، فلسفہ، منطق، ادب، فقہ، تفسیر، حدیث اور دیگر علوم کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی۔مدرسہ محمود گاوان کی تعمیر اس دور کے علمی، تہذیبی اور فنِ تعمیر کے اعلیٰ ذوق کی آئینہ دار تھی۔ اس عظیم الشان درسگاہ میں طلبہ اور اساتذہ کی رہائش کے لیے کشادہ حجرے تعمیر کیے گئے تھے، جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ قیام و طعام کا بھی بہترین انتظام موجود تھا۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ کو مفت خوراک، لباس اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جاتی تھیں تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ علم کے حصول میں مشغول رہ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ جلد ہی پورے برصغیر بلکہ عالمِ اسلام کے ممتاز علمی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ آج بھی بیدر کے قلب میں ایستادہ مدرسہ محمود گاوان کی عظیم الشان عمارت اپنے شاندار ماضی کی خاموش مگر بلیغ ترجمان ہے۔ اگرچہ وقت کے بے رحم ہاتھوں نے اس کی ایک بلند و بالا مینار کو منہدم کر دیا، تاہم باقی ماندہ عمارت آج بھی فنِ تعمیر، علم دوستی اور تہذیبی عظمت کی لازوال علامت بنی ہوئی ہے۔ حضرت خواجہ محمود گاوانؒ کی زندگی جتنی تابناک، باوقار اور کامیابیوں سے بھرپور تھی، ان کی شہادت بھی اسی قدر عظمت اور استقامت کا شاہکار ثابت ہوئی۔ اقتدار کے ایوانوں میں جب حسد، سازش اور مفاد پرستی نے جنم لیا تو چند درباری امرا آپ کی غیر معمولی مقبولیت، دیانت داری اور اثر و رسوخ سے خائف ہو گئے۔ انہوں نے آپ کو راستے سے ہٹانے کے لیے ایک نہایت خطرناک منصوبہ تیار کیا۔ سازشی عناصر نے حضرت محمود گاوانؒ کے غلام جوہر کو شراب پلا کر بے ہوش کر دیا اور دھوکے سے آپ کی سرکاری مہر حاصل کر لی۔ پھر اُڑیسہ کے راجہ کے نام ایک جعلی خط تیار کیا گیا، جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ بہمنی سلطنت کے امرا سلطان محمد شاہ کے ظلم و ستم اور شراب نوشی سے تنگ آ چکے ہیں، لہٰذا اگر راجہ حملہ کرے تو اندر سے اس کی مدد کی جائے گی اور بعد ازاں سلطنت کو آپس میں تقسیم کر لیا جائے گا۔ یہ جعلی خط سلطان محمد شاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ بدقسمتی سے سلطان اس وقت شراب کے نشے میں مدہوش تھا۔ خط پڑھتے ہی وہ شدید غضب ناک ہو گیا اور فوراً حضرت محمود گاوانؒ کو دربار میں طلب کیا۔ آپ بلا خوف و تردد دربار میں حاضر ہوئے۔ سلطان نے دریافت کیا:”اگر کوئی شخص اپنے آقا سے غداری کرے تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے؟” حضرت محمود گاوانؒ نے نہایت اطمینان سے جواب دیا: "اگر جرم ثابت ہو جائے تو اس کی سزا قتل کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟” اس کے بعد سلطان نے وہ خط آپ کے سامنے رکھ دیا۔ حضرت محمود گاوانؒ نے خط کا بغور مطالعہ کیا اور نہایت اعتماد سے فرمایا: "اس پر ثبت مہر یقیناً میری ہے، لیکن یہ تحریر میری نہیں۔ میرے خلاف ایک گہری سازش کی گئی ہے، اور میں اپنی بے گناہی پر اللہ کو گواہ بنا کر قسم کھا سکتا ہوں۔” لیکن نشے میں مست سلطان نے انصاف، تحقیق اور حقیقت کو نظر انداز کر دیا۔ اس نے کسی وضاحت کو قبول نہ کیا اور جلاد کو فوراً قتل کا حکم صادر کر دیا۔ اس نازک ترین لمحے میں بھی حضرت محمود گاوانؒ کے چہرے پر خوف یا اضطراب کا کوئی اثر نہ تھا۔ انہوں نے نہایت وقار سے فرمایا: "میں اپنی عمر پوری کر چکا ہوں۔ اگر آج قتل نہ بھی کیا جاؤں تو کل اپنی طبعی موت مر جاؤں گا، لیکن یاد رکھو! میرا قتل اس سلطنت کی تباہی اور بادشاہ کی دائمی بدنامی کا سبب بنے گا۔” افسوس کہ سلطان نے اس خیرخواہانہ تنبیہ کی بھی کوئی پروا نہ کی۔حضرت محمود گاوانؒ نے سکون و اطمینان کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر کلمۂ طیبہ کا ورد کیا اور اپنی جان راہِ حق میں پیش کر دی۔ روایت ہے کہ ان کی زبان مبارک پر آخری الفاظ یہ تھے:”الحمدُ للّٰہِ عَلٰی نِعْمَۃِ الشَّہَادَۃِ” یعنی: "تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے شہادت جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی۔” تاریخ نے ثابت کر دیا کہ حضرت محمود گاوانؒ کی پیش گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ ان کی شہادت کے بعد بہمنی سلطنت کا نظم و نسق بکھرنے لگا، انتشار، بدامنی اور باہمی اختلافات نے سلطنت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مرکزی اقتدار کمزور ہوتا گیا اور بالآخر یہ عظیم سلطنت کئی خودمختار ریاستوں میں تقسیم ہو گئی، جنہیں بعد میں دکن کی پانچ سلطنتوں کے نام سے یاد کیا گیا۔ حضرت خواجہ محمود گاوانؒ کی حیاتِ مبارکہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اقتدار کی اصل عظمت دولت، شان و شوکت یا قوت میں نہیں بلکہ دیانت، عدل، علم، خدمتِ خلق اور خدا خوفی میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی علم کی ترویج، رعایا کی فلاح، انصاف کے قیام اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ اسی لیے آج، پانچ صدیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود، ان کا نام نہ صرف بیدر بلکہ برصغیر کی تاریخ میں احترام، عقیدت اور فخر کے ساتھ لیا جاتا ہے، اور مدرسہ محمود گاوان آج بھی اس عظیم مردِ مجاہد، مدبر سیاست دان اور محسنِ علم کی لازوال یادگار کے طور پر دنیا کو ان کی عظمت کا پیغام دے رہا ہے۔
حضر ت خواجہ عمادالدین محمود گاوانؒ : محمد امین نواز
حضر ت خواجہ عمادالدین محمود گاوانؒ
محمد امین نواز

