Education تعلیم

شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنزکے زیرِ اہتمام کٹھ پتلیاں تھیٹر گروپ کے اشتراک سے حضرت خواجہ محمود گاواںؒ کی حیات و خدمات پر مبنی عظیم الشان تاریخی ڈرامہ پیش، حاضرین پر سحر طاری

شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنزکے زیرِ اہتمام کٹھ پتلیاں تھیٹر گروپ کے اشتراک سے حضرت خواجہ محمود گاواںؒ کی حیات و خدمات پر مبنی عظیم الشان تاریخی ڈرامہ پیش، حاضرین پر سحر طاری

شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنزکے زیرِ اہتمام
کٹھ پتلیاں تھیٹر گروپکے اشتراک سے حضرت خواجہ محمود گاواںؒ کی حیات و خدمات پر مبنی عظیم الشان تاریخی ڈرامہ پیش، حاضرین پر سحر طاری
بیدر۔13جولائی۔(محمدامین نواز)۔شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے زیرِ اہتمام، بنگلورو کے معروف کٹھ پتلیاں تھیٹر گروپ کے اشتراک سے پندرہویں صدی کے عظیم مدبرِ سلطنت، جلیل القدر عالمِ دین، مصلح، دانشور، ماہرِ تعلیم اور بہمنی سلطنت کے نامور وزیر حضرت خواجہ عماد الدین محمود گاواںؒ کی حیاتِ تابندہ، علمی و انتظامی خدمات اور ان کے بے مثال تاریخی کردار پر مبنی عظیم الشان تاریخی ڈرامہ ”محمود گاواں“ گزشتہ شام شاہین نگر، بیدر کے عبدالرحمن ملٹی پرپز ہال میں شاندار انداز میں پیش کیا گیا۔ تقریباً دو گھنٹے پچاس منٹ پر محیط اس دلکش اور فکر انگیز اسٹیج ڈرامے نے حاضرین کو ابتدا سے اختتام تک اپنے سحر میں اس طرح جکڑے رکھا کہ ہر منظر کے اختتام پر تالیوں کی گونج دیر تک ہال میں سنائی دیتی رہی۔ تقریب کا آغاز شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر کے بصیرت افروز خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بیدر میں اس تاریخی ڈرامے کی پیشکش محض ایک ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ اس شہر کی عظیم علمی، تہذیبی اور تاریخی شناخت کو نئی نسل کے سامنے زندہ اور م¶ثر انداز میں پیش کرنے کی ایک سنجیدہ اور بامقصد کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ محمود گاواںؒ نے بیدر کی سرزمین پر علم، عدل، دیانت، انتظام اور اصلاحِ معاشرہ کی ایسی درخشاں مثالیں قائم کیں جن کی روشنی صدیوں بعد بھی کم نہیں ہوئی۔ ان کی قائم کردہ عظیم الشان مدرسہ محمود گاواں آج بھی علم دوستی، اعلیٰ طرزِ تعمیر اور قوم کی فکری رہنمائی کا لازوال استعارہ ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ اس تاریخی ڈرامے میں بہمنی سلطنت کے عروج و زوال، اقتدار کی پیچیدہ کشمکش، علم و حکمت کی سربلندی، دیانت داری، عدل و انصاف، سیاسی سازشوں اور حق و باطل کی کشمکش کو نہایت م¶ثر، متوازن اور تاریخی حقائق کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے ظفر محی الدین کی چھ ماہ سے لگاتار کوشش اور تمام فنکاروں کی شاندار اداکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہر کردار نے اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا اور یہ پیشکش نوجوان نسل کو اپنی درخشاں تہذیبی اور تاریخی میراث سے روشناس کرانے میں یقیناً ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ ڈرامے کی روح رواں ممتاز ہدایت کار، اردو و ہندی تھیٹر کے معروف فنکار اور کرناٹک راجیہ اتسو ایوارڈ یافتہ ظفر محی الدین کی ہدایت کاری نے اس تاریخی تخلیق کو ایک نئی فنی جہت عطا کی۔ ملک کے ممتاز ادیب، گیان پیٹھ اعزاز یافتہ، پدم شری اور پدم بھوشن سے سرفراز ڈاکٹر چندرشیکھر کمبار کی شہرہ آفاق تخلیق کو جدید تھیٹر کی تمام فنی باریکیوں کے ساتھ اسٹیج پر پیش کیا گیا، جس نے ناظرین کو بہمنی دور کے تاریخی ماحول میں پہنچا دیا۔ اس موقع پر ظفر محی الدین نے کہا کہ تھیٹر محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تاریخ، تہذیب اور معاشرتی شعور کو زندہ رکھنے کا ایک م¶ثر وسیلہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی برسوں کی خواہش تھی کہ حضرت محمود گاواںؒ جیسی عظیم شخصیت کی خدمات کو تھیٹر کے ذریعے نئی نسل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے اس تاریخی پیشکش کے انعقاد پر شاہین گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر کی خصوصی دلچسپی، بھر پورتعاون اور سرپرستی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی حوصلہ افزائی سے کٹھ پتلیاں تھیٹر گروپ، بنگلورو کو بیدر میں یہ تاریخی ڈرامہ پیش کرنے کا موقع ملا۔ ڈرامے میں حضرت محمود گاواںؒ کا مرکزی کردار معروف فنکار سگنک سنہا نے انتہائی پختگی اور فنکارانہ مہارت کے ساتھ ادا کیا، جبکہ پرتیک سلطانیہ، اشوک دھاریوال، رکشت را¶، ڈاکٹر کویتا اگروال اور دیگر فنکاروں نے بھی اپنے کرداروں میں جان ڈال دی۔ خصوصاً خواجہ ترک کے کردار کی جاندار اداکاری حاضرین کے لیے خصوصی توجہ کا مرکز بنی، جس نے اپنے برجستہ مکالموں، باوقار انداز اور م¶ثر اداکاری سے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔ ڈرامے کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی فنی پیشکش تھی۔ اسٹیج ڈیزائن، روشنیوں کی دلکش ترتیب، پس منظر کی موسیقی، ملبوسات اور منظر آرائی کو بہمنی عہد کی شان و شوکت کے عین مطابق ترتیب دیا گیا تھا، جس نے تاریخی فضا کو حقیقت سے قریب تر بنا دیا۔ ہر منظر میں تحقیق، محنت اور فنی سلیقہ نمایاں دکھائی دیتا تھا، جس نے اس ڈرامے کو محض ایک اسٹیج پرفارمنس کے بجائے ایک جیتا جاگتا تاریخی تجربہ بنا دیا۔ ڈرامے کے دوران وقفہ وقفہ سے ظفر محی الدین کی حضرت محمود گاواںؒ پر لکھی گئی دکنی نظم کو موسیقی کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا، جس نے سامعین کو مسحور کر دیا۔ ڈرامہ کے دوران دس منٹ کے وقفے کے بعد ڈرامہ دوبارہ اسی شان کے ساتھ جاری رہا اور ناظرین پوری یکسوئی اور انہماک کے ساتھ اپنی نشستوں پر بیٹھے اس تاریخی شاہکار سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ وقفہ کے دوران شاہین ادارہ جات کی جانب سے بیدر کی تاریخ، آثارِ قدیمہ اور حضرت محمود گاواںؒ سے متعلق تحقیقی خدمات انجام دینے والی ممتاز شخصیات کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مرحوم سید مشتاق حسین، مرحوم محمد لیاقت علی خان اور آنجہانی بی آر کونڈا کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں ان کے فرزندان کوتہنیت پیش کی گئی۔ معروف مورخ محمد عبدالصمد بھارتی کو بیدر کی تاریخ پر اردو اور انگریزی زبان میں ان کی تحقیقی و تصنیفی خدمات کے اعتراف میں اعزاز پیش کیا گیا، جبکہ کنڑا کے ممتاز صحافی، مصنف اور محقق کودیو پتار کو حضرت محمود گاواںؒ پر تاریخی ماخذ کی بنیاد پر تحقیقی کتاب مرتب کرنے پر تہنیت پیش کی گئی۔ اس تاریخی تقریب میں اہلِ علم، م¶رخین، ادبائ، شعرائ، اساتذہ، طلبہ، دانشوروں اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور حضرت خواجہ محمود گاواںؒ کی بے مثال علمی، تعلیمی، انتظامی اور قومی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر شاہین ادارہ جات کے منیجنگ ڈائریکٹر عبدالحسیب، اکیڈمک ڈائریکٹر عبدالمقیت، سینئر کانگریسی قائد عبدالمنان سیٹھ، پرنسپل خواجہ پٹیل اور معروف مترجم و ادیب ماہر منصور سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔ تقریب کے اختتام پر حاضرین کی متفقہ رائے تھی کہ ”محمود گاواں“ صرف ایک تاریخی ڈرامہ نہیں بلکہ بیدر کی علمی و تہذیبی شناخت، دکن کی شاندار روایت اور حضرت خواجہ محمود گاواںؒ کی لازوال خدمات کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی ایک م¶ثر، باوقار اور یادگار ثقافتی کاوش ہے، جسے بیدر کی ادبی و ثقافتی تاریخ میں ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔

Related posts

’معاشرے میں تبدیلی نوجوانوں کے بغیر ممکن نہیں‘

Paigam Madre Watan

ترجمے میں مختلف زبانوں کے لسانیاتی و ثقافتی امتیازات کا لحاظ کرنا ضروری

Paigam Madre Watan

غالب اردو کا پہلا ترقی پسند شاعر: ڈاکٹر تقی عابدی

Paigam Madre Watan