جوہر یونیورسٹی! تجھے کس بات کی سزا مل رہی ہے؟
تحریر : محی الدّین آزاد
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی University Grants Commission (UGC) سے منظور شدہ بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر رام پور میں ایک نجی(پرائیویٹ) یونیورسٹی ہے۔
اتر پردیش ریاست کی پہلی اردو یونیورسٹی ہے اور اس کا منصوبہ ترميم 2004ء میں رام پور میں ریاست اتر پردیش کی پہلی اردو یونیورسٹی بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا، لیکن بدقسمتی یہ یونیورسٹی پہلے ہی سے سیاسی جماعتوں کی نظریات اور ان کی مخالفت کی بھینٹ چڑھتی رہی ہے، لیکن موجودہ دور تو مکمل چڑھ چکی ہے، 8 سالہ انتھک کوششوں اور بڑی محنتوں کے بعد اعظم خان صاحب نے جو قوم و ملت کے لئے جو خواب دیکھا تھا اس کو پورا کیا،
الحمد اللّہ، اتر پردیش حکومت نے اسے 2012ء میں یونیورسٹی کا درجہ دیا۔ قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے نے 28 مئی 2013ء کو اقلیتی درجہ دیا، اس یونیورسٹی کے چانسلر اور بانی سماجوادی پارٹی کے قد آور نیتا رامپور سے موجودہ رکن پارلیمینٹ اعظم خان صاحب ہیں۔ یہ یونیورسٹی تقریباً سیکڑوں بیگھے کی وسیع عریض زمین کو احاطہ کی ہوئی ہے،
اس یونیورسٹی میں ہر ایک کے لیے الگ الگ شعبئہ جات ہیں مثلا ،شعبئہ قانون، شعبہ ایگری کلچر،شعبہ سماجی علوم، شعبہ نفسیاتی علوم، شعبہ انجینئر نگ، شعبہ اسلامک اسٹڈیز ،شعبہ جوہر انٹیٹیوٹ ،شعبہ مدرٹریسا میڈیکل کالج، شعبہ میڈیکل ،شعبہ لسانیات وغیرہ قائم ہے،
درج ذیل بالا شعبہ جات میں بلا تفریق مذہب و ملت کے تقریباً 3000 ہزار طلباء و طالبات تعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن اتر پردیش کی موجودہ حکومت سیاسی رنجش و شخصی اختلاف کی بنیاد پر یونیورسٹی کی زمین کو فرضی و غبن کی ہوئی زمین کا الزام لگاتے ہوئے یونیورسٹی کو بند کرنے اور زمین کو حکومت کے قبضے میں لینے کا اعلان کر چکی ہے، اس پہلے جواہر یونیورسٹی کا مین گیٹ "بابِ اردو” کو بلڈوزر سے گرا کر زمیں دوس کردیا گیا تھا، اب یہ خبر آرہی ہے کہ عدالت نے یونیورسٹی کے 40 خوبصورت عمارتوں میں سے 38 عمارتوں کا نقشہ پاس نہ ہونے کے پاداش میں منہدم کرنے کا اعلان کر دیا ہے حالانکہ ایک آفیسر کا بیان ہے کہ لکھنؤ میں ٪94 فیصد بھون بغیر نقشے کے بنے ہوئے ہیں لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں تو جوہر یونیورسٹی پر کاروائی کیوں؟
پر یہ سب کیوں کیا جارہا ہے؟ کیوں ملک کے بچوں کی مستقبل سے کھلواڑ جا رہا ہے، شاید اس لیے کہ یونیورسٹی کا نام محمد علی جوہر ہے جو ایک مجاہد آزادی اور سچے محب وطن تھے اور دوسرا یہ کہ اس یونیورسٹی کے بانی محمد اعظم خان صاحب ہیں، شاید جوہر یونیورسٹی کو تباہ و برباد کرنے کے لئے یہ دو مسلم نام کافی ہیں، تعلیم و تعلم سے عاری جاہلیت کے سرغنو کو یہ بات کھٹکنے لگی کہ مسلم کے نام پر یونیورسٹی ہو اور اس کے بانی و چانسلر ایک مسلمان ہو یہ کیسے ہضم ہو سکتا ہے؟ اس لیے جوہر یونیورسٹی سیاست کے بھینٹ چڑھتی ہوئی اور ذاتی دشمنی کی نذر آتش میں سلگ کر رہ جائے گی ۔
حالانکہ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی صاحب نے کہا تھا کہ میں مسلمان بچوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر و سائنس اور ٹیکنالوجی دیکھنا چاہتا ہوں لیکن بدقسمتی و نفرت بھرے مذہبی حالات دیکھئے کہ کیا سے کیا ہو رہا ہے؟ کیا کیا جا رہا ہے؟ کیا اتر پردیش حکومت کی نظروں میں وزیر اعظم نریندر مودی کے قول کوئی اہمیت نہیں، بالائے ستم یہ دیکھئے کہ ان ہی کی پارٹی، انہی کے وزیر اعلیٰ اور یوپی حکومت یہ سب ناپاک عزائم کے ساتھ جابرانہ کوشش کر رہی ہے،
اس معاملے پر تمام باشندگان وطن، سیاسی جماعتوں کے سیکولر سربراہوں خصوصاً مسلم تنظیموں کے قائدین اور مسلم قوموں کے سرغنوں کو بلا تفریق مسلک و مذہب اور ملت کے آواز اٹھانی چاہیے، کیونکہ یہ صرف یونیورسٹی پر حملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک بچوں کے مستقبل پر حملہ ہے، جس کے مٹنے سے ہماری نسلیں تعمیر و ترقی میں کوسوں دور ہو جائیں گی، لہذا یونیورسٹی کے حق میں آواز ہمیں ضرور بلند کرنا چاہیے،
پہلے تعلیم سے تم موڑ دیئے جاؤ گے
پھر کسی جرم میں تم جوڑ دیئے جاؤ گے
ہاتھ سے ہاتھ کی زنجیر بناکر نکلو
ورنہ دھاگے کی طرح توڑ دئیے جاؤ گے
اخیر میں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس علمی درسگاہ جواہر یونیورسٹی کو دشمنوں کی نظر بد سے محفوظ رکھے اور حکومت کی ناپاک عزائم کو ناکام کردے، اور اس یونیورسٹی اس کے بانی اور تمام عملہ کو صحت و تندرستی کے ساتھ باطل کے خلاف لڑنے کی توفیق بخشے آمین تقبل یا رب العالمین ،

