Blog

حضرت مولانا شفیق احمد صاحب القاسمی، اخلاص اور خدمتِ دین کا ایک روشن باب

حضرت مولانا شفیق احمد صاحب القاسمی
اخلاص اور خدمتِ دین کا ایک روشن باب

دست بدعا:مسعود حساس کویت

وقت کا دستور ہے کہ ہر ذی روح کو ایک دن اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی وفات صرف ایک فرد کی جدائی نہیں بلکہ ایک عہد کے اختتام کا احساس دلاتی ہے ان کی یادیں ان کے اخلاق ان کی علمی خدمات اور ان کی تربیت کا فیض مدتوں تک زندہ رہتا ہے حضرت مولانا شفیق احمد صاحب القاسمی بھی انہی خوش نصیب انسانوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت قرآن و حدیث کی تعلیم اور انسان کے ساتھ ساتھ انسانیت سازی کے مقدس فریضے میں گزار دی 19 جولائی 2017ء کو جب حضرت مولانا اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے تو دارالعلوم امدادیہ محمد علی روڈ بمبئی ایک ایسے مربی استاد اور مخلص رہنما سے محروم ہوگیا جس نے تقریباً باون برس تک مسلسل علمِ نبوت کی شمع روشن رکھی ان کی وفات سے صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ہزاروں شاگرد سیکڑوں علماء بے شمار متعلقین اور ایک وسیع علمی حلقہ غمگین ہوا اشکبار ہوا بے چین ہوا بے قرار ہوا
حضرت مولانا کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا اخلاص تھا انہوں نے کبھی شہرت منصب یا دنیاوی آسائشوں کو اپنی منزل نہیں بنایا بلکہ ان کی زندگی کا مقصد صرف ایک تھا کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کی جائے اور نئی نسل کو قرآن و سنت کی روشنی سے آراستہ کیا جائے وہ درسِ حدیث دیتے تھے تو الفاظ کے ساتھ دلوں کو بھی روشن کرتے تھے اور قرآن پڑھاتے تھے تو صرف تلفظ نہیں بلکہ اس کی روح سے بھی آشنا کرتے تھے
حضرت مولانا نے اپنی ابتدائی تعلیم قدیم اور باوقار دینی ادارہ ہدایت العلوم کرہی گاؤں میں حاصل کی جسے برصغیر کے قدیم مدارس میں شمار کیا جاتا ہے وہاں انہیں ایسے جلیل القدر اساتذہ کی شاگردی نصیب ہوئی جن کے نام علمی دنیا میں ہمیشہ احترام سے لیے جاتے ہیں بعد ازاں شیخ الادب حضرت مولانا اعجاز صاحب شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ اور شیخ التفسیر حضرت مولانا انور شاہ کشمیری جیسے اکابر کی علمی تربیت نے ان کی شخصیت کو گہرائی اعتدال اور وقار عطا کیا
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے دارالعلوم امدادیہ محمد علی روڈ بمبئی کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لیا تقریبا باون برس تک مدرس اتالیق خاص اور صدر المدرسین کی حیثیت سے خدمت انجام دینا کوئی معمولی بات نہیں نصف صدی سے زیادہ عرصے تک ایک ہی ادارے کے ساتھ اخلاص کے ساتھ وابستہ رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک تدریس محض پیشہ نہیں بلکہ عبادت تھی انہوں نے ہزاروں طلبہ کو علم دیا ان کی اخلاقی تربیت کی اور انہیں معاشرے کا مفید فرد بنانے کی کوشش کی
ان کے شاگرد آج ہندوستان اور بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں ان کے ممتاز شاگردوں میں حضرت مولانا بدرالدین اجمل علی القاسمی جو راجیہ سبھا کے رکن اور اجمل گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر معروف شخصیت ہیں اور مولانا محمود دریا آبادی جو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن ہیں مولانا افضل صاحب جو کہ لندن مانچسٹر میں شیخ الحدیث ہیں خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں یہ دونوں شخصیات اس حقیقت کی گواہی ہیں کہ ایک مخلص استاد کا اثر صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتا بلکہ نسلوں تک منتقل ہوتا رہتا ہے
اگرچہ حضرت مولانا نے خود کوئی مستقل کتاب تصنیف نہیں کی لیکن ان کی علمی سرپرستی اور رہنمائی سے ایسے بے شمار علماء پیدا ہوئے جنہوں نے بعد میں مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں گویا انہوں نے خود قلم اٹھانے کے بجائے قلم کار پیدا کیے اور یہی کسی معلم کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے حضرت مولانا کی زندگی کا دوسرا بڑا وصف ان کی بے مثال سادگی تھی وہ نہایت سادہ لباس پہنتے نہایت سادہ انداز میں رہتے اور ہر قسم کی نمود و نمائش سے دور رہتے تھے ان کے پاس بیٹھنے والا کبھی یہ محسوس نہیں کرتا تھا کہ وہ کسی بڑے عالم کے سامنے بیٹھا ہے بلکہ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی شفیق باپ اپنے بچوں سے گفتگو کر رہا ہو وہ چھوٹوں کو محبت سے "بابو” کہہ کر پکارتے تھے اور یہی ان کی شفقت کا انداز تھا اس ایک لفظ میں جو محبت اپنائیت اور خلوص ہوتا تھا وہ شاید کسی طویل خطاب میں بھی نہ مل سکے
ان کے مزاج میں قلندرانہ سادگی تھی غریب و امیر چھوٹے اور بڑے سب کے لیے ان کا رویہ یکساں تھا ان کی مجلس میں تکلف نہیں،م محبت کی چاشنی ہوتی تھی اختلاف نہیں خیرخواہی ہوتی تھی اور سختی نہیں شفقت ہوتی تھی یہی وجہ تھی کہ ہر شخص ان سے مل کر اپنا پن محسوس کرتا تھا
حضرت مولانا کی زندگی کا ایک نہایت یادگار واقعہ حج کے دوران پیش آیا سن 1979–1980 کے ان پرآشوب دنوں میں جب مسجد الحرام پر حملے کے باعث غیر معمولی حالات پیدا ہوگئے تھے وہ اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ حج پر موجود تھے بعد میں وہ بتایا کرتے تھے کہ ایک وقت ایسا آیا جب مطاف تقریبا خالی ہوگیا اور چند ہی افراد طواف کر رہے تھے اس دن اللہ تعالی نے انہیں یہ سعادت عطا فرمائی کہ ہر چکر میں حجر اسود کو بوسہ دیا اور انہوں نے اس دنکم و بیش 52 طواف کیے وہ اس واقعے کو اپنی کوئی فضیلت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل قرار دیتے تھے خود میرے سامنے انہوں نے کئی دفعہ اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے
جوانی کے ابتدائی زمانے میں حضرت مولانا شعر و ادب سے بھی شغف رکھتے تھے اور شعر کہتے تھے ان کی اپنی ذاتی ڈائری میں ایک غزل شاید کہ بعد از وفات ملی بھی ہے لیکن بعد میں انہوں نے محسوس کیا کہ اس میدان میں بعض لوگوں کی بے اعتدالی اور پراگندہ مزاجی انسان کو اصل مقصد سے دور کر دیتی ہے چنانچہ انہوں نے شعر کہنا چھوڑ دیا تاہم ادب سے محبت ان کے دل میں باقی رہی ایک موقع پر ناچیز نے اپنا شعری مجموعہ "دیوان حساس” ان کی خدمت میں پیش کیا چند روز بعد حضرت مولانا نے بڑی محبت سے فرمایا بیٹا ہم نے پوری زندگی کوشش کی مگر شاعر نہ بن سکے اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ نعمت عطا کی ہے اسے کبھی ضائع مت کرنا اپنے اشعار کے ذریعے انسانی جذبات معاشرتی مسائل اور زندگی کی حقیقتوں کو بیان کرتے رہنا یہ الفاظ ان کی وسعتِ نظر اور ادب دوستی کا خوبصورت اظہار تھے اور اپنے سے چھوٹوں کی صلاحیت کا کھلا اعتراف بھی تھا حضرت مولانا کی انہی بے لوث محبتوں کو دیکھتے ہوئے جب میں اپنی دوسری منظوم کتاب یعنی اردو ادب کے اولین منظوم خاکے ترتیب دے رہا تھا تو فہرست سے بالاتر صرف تین شخصیت کو رکھا ان میں سے ایک آپ بھی ہیں
زندگی کے آخری ایام میں حضرت مولانا کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوگئے اور آغا خان اسپتال میں زیر علاج رہے اس دوران بمبئی کی دینی سماجی اور سیاسی شخصیات مسلسل ان کی عیادت کے لیے آتی رہیں ہر آنے والا ان کے لیے دعا کرتا محبت کا اظہار کرتا اور اپنی استطاعت کے مطابق تعاون بھی پیش کرتا یہ منظر اس بات کی گواہی تھا کہ حضرت مولانا نے زندگی بھر صرف علم نہیں بانٹا تھا بلکہ دل بھی جیتے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کے دلوں میں ایسی محبت عطا فرمائی تھی جو ان کی بیماری کے دنوں میں کھل کر سامنے آگئی
19 جولائی 2017ء کو جب ان کا انتقال ہوا تو ہزاروں آنکھیں اشکبار تھیں ہر شخص یہی محسوس کر رہا تھا کہ اس نے اپنا محسن کھو دیا ہے لیکن اہلِ ایمان کے لیے موت اختتام نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہے حضرت مولانا نے جو علم چھوڑا جو شاگرد تیار کیے جو اخلاق سکھائے اور جو دعائیں کمائیں وہ آج بھی ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں
حضرت مولانا کے پسماندگان میں دو صاحبزادے پانچ صاحبزادیاں اور درجنوں پوتے پوتیاں نواسے اور نواسیاں شامل ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کے خاندان کو عزت محبت اور کشادگی عطا فرمائی یہ اس بات کی ایک خوبصورت مثال ہے کہ جو شخص اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت میں گزار دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی نسلوں پر بھی اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے

سادگی کا چاک تھے حضرت شفیق
معرفت میں طاق تھے حضرت شفیق

تھی نگاہیں ہر گھڑی منزل کی سمت
رہرو, چالاک تھے حضرت شفیق

ان کے شاگردوں سے جا کر پوچھ لیں
بے بہا املاک تھے حضرت شفیق

تھے متن میں عسقلانی کی طرح
شرح میں بے باک تھے حضرت شفیق

شہر, فیشن میں اگرچہ تھے مقیم
حامل, مسواک تھے حضرت شفیق

تشنگان , علم و فن کے واسطے
مستند افلاک تھے حضرت شفیق

ہے ادارہ مدرسہ امدادیہ
مدرسے کی ناک تھے حضرت شفیق

پیش و پس پر تھی بہت گہری نظر
حامل, ادراک تھے حضرت شفیق

خرقہ پوشی تھی انہیں ازحد عزیز
مذہبی پوشاک تھے حضرت شفیق

بابو بابو تھا زباں کا ورد پر
نفس پر سفاک تھے حضرت شفیق

حضرت مولانا شفیق احمد صاحب القاسمی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم صرف کتابوں کا نام نہیں بلکہ کردار کا نام ہے عظمت صرف شہرت میں نہیں بلکہ اخلاص میں ہے اور کامیابی صرف دنیا حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے
آج ان کی برسی کے موقع پر ہم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے ان کی قبر کو نور سے بھر دے ان کے درجات کو بلند فرمائے ان کی تمام دینی علمی اور تدریسی خدمات کو قبول فرمائے ان کے شاگردوں اہلِ خانہ اور متعلقین کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بھی ایسی زندگی گزارنے کی توفیق دے جو انسانیت اور دین کے لیے نفع بخش ہو
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا شفیق صاحب القاسمی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے لیے بہترین صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین
دست بدعا
مسعود حساس کویت 19 جولائی 2026

Related posts

ہیرا گروپ: حیدرآباد کی رئیل اسٹیٹ میں آرام و آسائش کی نئی جہت

Paigam Madre Watan

صحافت میں سچائی اور دیانت داری وقت کی اہم ضرورت: اختر کاظمی

Paigam Madre Watan

”تیار ہیں ہم“ کا نعرہ لگا کر کانگریس اقلیتی شعبے نے ’ بھارت جوڑو نیائے یاترا کی کامیابی کے لئے خم ٹھونکا

Paigam Madre Watan