ایک درویش صفت سیاست داں جو ہم سے جدا ہوگیا
ضلع اعظم گڑھ کے ایم ایل اے عالم بدیع کا انتقال، سیاسی و سماجی حلقوں میں غم کی لہر
انا للہ وانا الیہ راجعون
اعظم گڑھ کے ہی ایم ایل نہ تھے بلکہ وہ ہندستانیوں کے لئے ایک عمدہ مثال تھے ـ آج ہمارےسیاست دانوں کو مشعل راہ بنانا چاہئے ا ن کے نقش قدم پر چلنا چاہئے ـاتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کی نظام آباد اسمبلی سے رکنِ اسمبلی عالم بدیع کا انتقال ہو گیا، جس کی خبر سے سیاسی، سماجی اور ملی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
عالم بدیع کو ایک تجربہ کار، باوقار اور عوامی رہنما کے طور پر جانا جاتا تھا۔ بلا تفریق وہ تمام مذاہب میں مقبول تھے ان کی ہر دلعزیزی کا عالم یہ تھا کی جہاں کھڑے ہوجاتے تھے وہاں مجع اکٹھا ہوجاتا تھا ـ ان کے انتقال پر مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقے اور ملت کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
ممبئ جب بھی آنا ہوتا تھا تو ہم ان سے ضرور ملاقات کرتے تھےـ کئ مرتبہ ابوعاصم بھائی کے دفتر میں ملاقات ہوئی تھی افسوس اب عالم بدیع ہمارے بیچ نہ رہےـ
مرحوم نے اپنی سیاسی اور سماجی زندگی میں عوام کی خدمت کو ہمیشہ ترجیح دی۔ ایمانداری ایسی تھی کی موصوف پیدل چل کر اپنی کمپینگ کرتے تھے ـ الیکشن جیت جاتے تھے ـ آج کے دور میں جہاں دولت وثروت کی ریل پیل ہے گاڑیوں کے شور میں لوگوں کی چیخیں دب جاتی ہیں وہ عوام کی آواز بن کر گاؤں سے اسمبلی تک دھاڑتے تھے ـ اور حق وانصاف کی آواز بنے رہتے تھے ـ
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اہلِ خانہ و وابستگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
ایسا کہاں سے لاؤں کی تجھ سا کہیں جسے
ڈاکٹر عبد اللہ فیصل

