Articles مضامین

آخر ہندوستانی شہری ہونے کا ثبوت کیا ہے؟ تحریر: محمد سرمد رضا

آخر ہندوستانی شہری ہونے کا ثبوت کیا ہے؟

تحریر: محمد سرمد رضا
رابطہ: 9263186448
تخصص فی الفقہ و اصولہ: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا

ملک میں شہریت کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر قومی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے مختلف عدالتوں میں ایسے مقدمات سامنے آ رہے ہیں جن میں افراد کو اپنی ہی شہریت ثابت کرنے کے لیے طویل قانونی جدوجہد سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ صورتِ حال اس حد تک پیچیدہ ہو چکی ہے کہ متعدد سرکاری دستاویزات رکھنے کے باوجود بعض شہری اپنی شناخت اور قانونی حیثیت کے بارے میں سوالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حالیہ عدالتی فیصلوں نے اس بحث کو مزید شدت بخشی ہے کہ آخر وہ کون سا معیار ہے جس کی بنیاد پر کسی شخص کو بلا شبہ ہندوستانی شہری تسلیم کیا جائے۔ اسی سلسلے میں کرناٹک ہائی کورٹ نے بنگلورو میں زیرِ حراست عبدالرحیم کے معاملے میں ایک اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے ان کی فوری ملک بدری پر روک لگا دی۔ عدالت نے فرینرز ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) کو ہدایت دی کہ عبدالرحیم کی شناخت اور شہریت سے متعلق تمام ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ کی جائے، اس کے بعد ہی کسی حتمی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے۔
عبدالرحیم کا مؤقف یہ ہے کہ وہ 14 اپریل 1979 کو دہلی کے نیو سیماپوری میں پیدا ہوئے اور پیدائشی طور پر ہندوستانی شہری ہیں۔ ان کے وکیل نے عدالت کے سامنے متعدد سرکاری دستاویزات پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے موکل کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ، ووٹر شناختی کارڈ، آدھار کارڈ اور دیگر قانونی دستاویزات موجود ہیں۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے بنگلورو میں کاروبار کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود مبینہ غیر دستاویزی بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے دوران انہیں حراست میں لے کر ڈٹینشن سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ عدالت نے فی الحال ان کی ملک بدری روک دی ہے اور مکمل جانچ مکمل ہونے تک موجودہ صورتِ حال برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
دوسری جانب گوہاٹی ہائی کورٹ نے ایک مختلف مقدمے میں ایسا فیصلہ سنایا جس نے شہریت سے متعلق قانونی معیار کو مزید واضح کر دیا۔ عدالت نے فارنرز ٹریبونل کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں آسام کے ایک باشندے کو غیر ملکی قرار دیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق کسی شخص کے پاس متعدد دستاویزات کا ہونا بذاتِ خود اس کی شہریت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ تمام دستاویزات قانونی طور پر قابل قبول ہوں، ایک دوسرے سے مربوط ہوں اور ان میں کسی قسم کا تضاد موجود نہ ہو۔
اس مقدمے میں درخواست گزار نے اپنی ہندوستانی شہریت کے حق میں سولہ مختلف دستاویزات پیش کیے تھے۔ ان میں 1951 کے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کی نقل، مختلف ادوار کی ووٹر فہرستیں، زمین کی رجسٹری، اسکول کا سرٹیفکیٹ، پین کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ اور دیگر سرکاری ریکارڈ شامل تھے۔ بظاہر یہ تمام دستاویزات ایک مضبوط مقدمہ پیش کرتی تھیں، لیکن عدالت نے ہر دستاویز کا قانونی معیار پر الگ الگ جائزہ لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ 1951 کے این آر سی کی جو نقل پیش کی گئی وہ کمپیوٹر سے حاصل شدہ تھی، مگر اس کے ساتھ انڈین ایویڈنس ایکٹ کے مطابق مطلوبہ تصدیقی سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا، اس لیے اسے قانونی شہادت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح اسکول کا سرٹیفکیٹ بھی اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا کہ اسے جاری کرنے والے ہیڈ ماسٹر کو بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، لہٰذا اس کی قانونی حیثیت مکمل نہیں سمجھی جا سکتی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ پین کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ اگرچہ اہم سرکاری دستاویزات ہیں، لیکن انہیں شہریت کا ناقابلِ تردید ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کی حیثیت بنیادی طور پر شناخت یا انتظامی ریکارڈ تک محدود ہے، جبکہ شہریت ثابت کرنے کے لیے اس سے زیادہ مضبوط اور باہم مربوط قانونی شواہد درکار ہوتے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے مختلف برسوں کی ووٹر فہرستوں کا تقابلی جائزہ بھی لیا، جس میں کئی نمایاں تضادات سامنے آئے۔ ایک ہی خاندان کے افراد کی عمروں میں مختلف ادوار کی فہرستوں میں غیر معمولی فرق پایا گیا، جبکہ رہائش کے مقامات بھی مختلف دیہات کے طور پر درج تھے۔ عدالت کی رائے میں ان تضادات کی مناسب وضاحت پیش نہیں کی جا سکی، جس کے باعث شہریت کے دعوے کو قانونی اعتبار سے مضبوط نہیں سمجھا گیا۔ درخواست گزار کے والد نے عدالت میں حاضر ہو کر یہ گواہی بھی دی کہ متعلقہ شخص ان کا حقیقی بیٹا ہے، لیکن عدالت نے واضح کیا کہ شہریت جیسے حساس اور قانونی نوعیت کے معاملے میں صرف زبانی بیان فیصلہ کن ثبوت نہیں بن سکتا۔ جب تک اس کی تائید مستند اور مربوط دستاویزی شہادت سے نہ ہو، عدالت محض گواہی کی بنیاد پر شہریت تسلیم نہیں کر سکتی۔
اپنے فیصلے میں ہائی کورٹ نے یہ بھی دہرایا کہ فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 9 کے مطابق اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری خود متعلقہ شخص پر عائد ہوتی ہے۔ اگر وہ عدالت کے مقرر کردہ قانونی معیار کے مطابق اپنے دعوے کو ثابت نہ کر سکے تو متعدد دستاویزات کی موجودگی بھی اس کے حق میں فیصلہ کن حیثیت اختیار نہیں کر سکتی۔ یہ دونوں مقدمات بظاہر الگ الگ نوعیت کے ہیں، مگر ان سے ایک مشترک حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہندوستان میں شہریت کا معاملہ صرف سرکاری دستاویزات رکھنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب ان دستاویزات کی قانونی حیثیت، باہمی مطابقت اور شہادت کے مقررہ معیار کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج شہریت کے سوال نے صرف قانونی حلقوں ہی نہیں بلکہ عام شہریوں کے ذہنوں میں بھی کئی نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں، جن کا جائزہ اگلے حصے میں لیا جائے گا۔
عدالتی فیصلوں کے بعد ملک بھر میں ایک بنیادی سوال شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے کہ اگر پاسپورٹ، آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ، راشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، تعلیمی اسناد اور زمین کے کاغذات بھی کسی شخص کی شہریت کا قطعی ثبوت نہیں تو آخر وہ کون سی دستاویز ہے جو کسی ہندوستانی شہری کی شناخت کو ہمیشہ کے لیے غیر متنازع بنا سکے؟ یہی سوال آج عام شہری کے ذہن میں بے چینی، اضطراب اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر رہا ہے۔ آسام کے متعدد مقدمات نے اس تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔ کئی افراد نے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے پرانے این آر سی ریکارڈ، مختلف ادوار کی ووٹر فہرستیں، اراضی کے دستاویزات، اسکولی اسناد اور دیگر سرکاری کاغذات عدالت میں پیش کیے، لیکن معمولی تضادات، ناموں کے املا میں فرق، عمروں کے اختلاف یا قانونی شہادت کے تقاضے پورے نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دعووں کو قبول نہیں کیا گیا۔ اس سے یہ احساس مضبوط ہوا کہ سرکاری ریکارڈ کی موجودگی بھی ہر صورت میں شہری کو مکمل قانونی تحفظ فراہم نہیں کر پاتی۔
اس دوران ایک اور بحث اس وقت شروع ہوئی جب وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ وضاحت کی کہ ہندوستانی پاسپورٹ بنیادی طور پر بیرونِ ملک سفر کے لیے جاری کیا جانے والا سفری دستاویز ہے، اسے شہریت کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ شہریت کا فیصلہ شہریت قانون 1955 اور اس سے متعلق قواعد کی روشنی میں کیا جاتا ہے، نہ کہ صرف پاسپورٹ کی بنیاد پر۔ اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نیا اصول نہیں بلکہ پہلے سے موجود قانونی پوزیشن ہے، لیکن اس بیان نے عوامی سطح پر کئی نئے سوالات کو جنم دیا۔ عام طور پر دنیا کے بیشتر ممالک میں پاسپورٹ کو شہری کی قومیت اور ریاستی وابستگی کی مضبوط علامت سمجھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی سفر، ویزا، قونصلر تحفظ اور دیگر معاملات میں اسی دستاویز کی بنیاد پر کسی شخص کی شناخت قائم ہوتی ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات حیران کن ہے کہ جس دستاویز کو ریاست خود جاری کرتی ہے، وہی عدالت میں شہریت کا فیصلہ کن ثبوت کیوں نہیں بن پاتی۔
یہ بحث صرف قانونی تشریح تک محدود نہیں بلکہ اس کے سماجی اثرات بھی نہایت گہرے ہیں۔ ملک کی بڑی آبادی ایسے طبقات پر مشتمل ہے جن کے پاس کئی دہائیوں پرانے ریکارڈ محفوظ نہیں رہے۔ غربت، ناخواندگی، قدرتی آفات، نقل مکانی، فسادات، سرکاری ریکارڈ کی خامیاں، مختلف زبانوں میں ناموں کے املا کا فرق اور شادی کے بعد خواتین کے نام یا رہائش میں تبدیلی جیسے عوامل دستاویزی تسلسل کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر صرف کاغذی مطابقت کو فیصلہ کن معیار بنا دیا جائے تو کمزور اور پسماندہ طبقات سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ آئینِ ہند شہریت کو محض ایک انتظامی اندراج نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان بنیادی قانونی تعلق قرار دیتا ہے۔ اسی تعلق کی بنیاد پر ووٹ دینے، عوامی نمائندگی میں حصہ لینے، ریاستی تحفظ حاصل کرنے اور دیگر آئینی حقوق سے استفادہ ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے شہریت سے متعلق ہر فیصلہ نہ صرف قانونی بلکہ انسانی وقار اور بنیادی حقوق سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔
سپریم کورٹ نے بھی اپنے حالیہ مشاہدات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ شہریت کا مسئلہ کسی فرد کی شناخت، وابستگی، آزادی اور عزتِ نفس سے وابستہ ہے، اس لیے اس نوعیت کے معاملات میں مکمل احتیاط، منصفانہ کارروائی اور قانونی انصاف کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ محض شبہ یا ابتدائی اندراج کی بنیاد پر کسی شخص کی شہریت کا آخری فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ہر معاملے کو قانون کے مطابق جانچنا لازم ہے۔ شہریت ترمیمی قانون 2019 اور این آر سی جیسے اقدامات کے بعد یہ بحث مزید حساس ہو گئی ہے۔ متعدد حلقوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر شہریت کے معیار پوری طرح واضح نہ ہوں تو معاشرے کے بعض طبقات میں عدم تحفظ اور امتیازی سلوک کا احساس بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس موضوع پر صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی سطح پر بھی سنجیدہ گفتگو کی جا رہی ہے۔
اس پوری صورتِ حال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ شہریت کے تعین کے لیے ایسا شفاف، یکساں اور قابلِ فہم نظام اختیار کیا جائے جس میں تمام سرکاری ادارے ایک ہی قانونی معیار پر عمل کریں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے جاری کردہ ریکارڈ کی قانونی حیثیت کو واضح کرے، معمولی تکنیکی یا املا کی غلطیوں کو شہری کے خلاف ثبوت نہ بنایا جائے، مختلف محکموں کے درمیان مؤثر ربط پیدا کیا جائے اور کمزور طبقات کو مناسب قانونی امداد، سماعت اور اپیل کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ اسی طرح شہریت کے قابلِ قبول ثبوت کے بارے میں ایک واضح اور ملک گیر قانونی رہنمائی بھی ناگزیر ہے تاکہ ہر عدالت اور ہر سرکاری دفتر الگ الگ معیار اختیار نہ کرے۔
الغرض! شہریت کسی شخص کے پاس موجود چند کاغذات کا نام نہیں بلکہ اس کے وجود، شناخت، وقار اور آئینی حقوق کی بنیاد ہے۔ اگر ریاست کی جانب سے جاری کی گئی متعدد دستاویزات رکھنے کے باوجود ایک شہری مسلسل اپنی شناخت ثابت کرنے پر مجبور رہے تو یہ صورتِ حال یقیناً عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔ ریاست کا فرض صرف غیر قانونی دراندازی کی روک تھام نہیں بلکہ اپنے حقیقی شہریوں کو غیر ضروری خوف، شبہے اور قانونی الجھنوں سے بھی محفوظ رکھنا ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت کی پہچان یہی ہے کہ وہ قانون کی بالادستی اور انسانی انصاف کے درمیان متوازن راستہ اختیار کرے۔ شہریت کے معاملے میں شفاف قوانین، یکساں معیار، ذمہ دارانہ انتظامی رویہ اور منصفانہ عدالتی عمل ہی وہ راستہ ہے جو شہریوں کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔ جب تک ہر حقیقی شہری کو یہ یقین حاصل نہیں ہوگا کہ اس کی شناخت محفوظ ہے اور ریاست اس کے آئینی حقوق کی محافظ ہے، تب تک شہریت سے متعلق یہ بحث محض عدالتی مقدمات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عوامی اضطراب اور قومی مکالمے کا ایک اہم موضوع بنی رہے گی۔

 

Related posts

تابناک کل کے لیے : بھارت کی جی 20 صدارت اور ایک نئے کثیر پہلوئی نظام کا طلوع

Paigam Madre Watan

کیا مدینہ منورہ میں کافر، مشرک جاسکتے ہیں؟

Paigam Madre Watan

دو نوجوانوں کا بے دردانہ قتل۔ذمہ دار کون؟

Paigam Madre Watan