National قومی خبریں

چنار بک فیسٹیول کے ساتویں دن ’نوجوان نسل اور قومی تعمیر: چیلنجز، امکانات اور فرائض‘ کے موضوع پر مذاکرہ

چنار بک فیسٹیول کے ساتویں دن ’نوجوان نسل اور قومی تعمیر: چیلنجز، امکانات اور فرائض‘ کے موضوع پر مذاکرہ

سری نگر/نئی دہلی: چنار بک فیسٹیول کے ساتویں دن’نئی نسل اور قومی تعمیر: چیلنجز امکانات اور فرائض’ کے عنوان سے علمی و ادبی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پروفیسر نذیر احمد گنائی(ممتاز ماہر تعلیم و وائس چانسلر ایس-کے-یو-اے-ایس-ٹی) اور پروفیسر نصیر اقبال(رجسٹرار یونیورسٹی آف کشمیر) نے بطور پینلسٹ اور ڈاکٹر حفیظ الرحمن (کنوینر خسرو فاؤنڈیشن،نئی دہلی) نے بطور موڈریٹر شرکت کی۔مذاکرے میں دونوں مہمانوں نے نئی نسل اور قومی تعمیر کے تمام پہلوؤں سے متعلق گفتگو کی اور چیلنجز کے ساتھ مستقبل کے امکانات کو بھی واضح کیا۔ اس تعلق سے پروفیسر نذیر احمد گنائی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ انسٹی ٹیوشنز کا کام سوچ کو جہت دینا ہوتا ہے،جس میں اس بات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے کہ اپنے مقصد کے تئیں نئی نسل کا ذہن بہت ہی واضح ہو اور ان کو یہ پتہ ہو کہ انھیں جانا کہاں ہے۔ انھوں نے اپنے ملک ہندوستان کے مختلف انقلابات کا ذکر کرتے ہوئے مستقبل کے شاندار امکانات پر امید افزا گفتگو کی اوریہ کہا کہ وکست بھارت @2047کا سب سے اہم عنصر ملک کے نوجوان ہیں،جن کا شعور سوالات قائم کرنے سے ہی پروان چڑھے گا،یہی وجہ ہے کہ عزت مآب وزیر اعظم حکومت ہند نے وکست بھارت @2047 کے وژن کی کامیابی کے لیے نوجوانوں کو ہی مخاطب کیا ہے۔مجھے امید ہے وکست بھارت @2047میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کا رول بہت ہی اہم ہوگا۔انھوں نے نئی نسل کو یہ بھی کہا کہ خود اعتمادی پیدا کیے بغیر اس کی تکمیل ممکن نہیں، اس لیے نوجوانوں کو اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ آخر میں اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ہمارا مقصد وکست بھارت کے ضمن میں جموں و کشمیر کو ایک آئیڈیل مرکز بنانا ہے۔
مذاکرے کے دوسرے پینلسٹ پروفیسر نصیر اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کے ذہن میں یہ چیزیں ہمیشہ رہنی چاہیے کہ انھوں نے کیا کیا،کیا کر رہے ہیں اور انھیں کیا کرنا چاہیے؟ ان سوالات سے جو ذہن پروان چڑھے گا وہ بہت ہی خود اعتماد ہوگا۔انھوں نے اس پہلو پر بھی زور دیا کہ شاندار مستقبل کے حصول کے لیے پریشانیاں لاحق ہوں گی لیکن ایسے میں ثابت قدم رہنا ہی مستقبل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ نئی نسل کو بلند خواب دیکھنے اور اس کی تکمیل کے لیے عملی طور پر سرگرم رہنے کے ساتھ چیلنجز کو مواقع کے طور پر لینے کی ضرورت ہے۔
ڈسکشن کے دوران قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش رہی ہے کہ چنار بک فیسٹیول کے مرکز میں نئی نسل ہو، یہی وجہ ہے کہ اس کی بیشتر سرگرمیاں انھیں کے مطابق ڈیزائن کی گئی ہیں۔ چونکہ ہندوستان نوجوانوں کا ملک ہے جہاں 65 فیصد سے زائد آبادی35 برس سے کم عمر کی ہے، ایسے میں مستقبل کا ترقی یافتہ ہندوستان کیسا ہوگا یہ نئی نسل کی سرگرمیوں سے ہی طے پائے گا۔انھوں نے کتاب کلچر پر روشنی ڈالتے ہوئے کتابوں کے ذریعے شخصیت میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے مثبت پہلوؤں کا ذکر کیا اور نئی نسل کو کتابوں کے مطالعے سے اپنی فکر و خیال کو روشن کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
آخر میں انٹریکٹیو سیشن بھی ہوا جس میں نئی نسل کے سامعین نے مہمانوں سے مختلف سوالات کیے جن کا انھوں نے تسلی بخش جواب دیا۔

Related posts

مسجد اقصیٰ کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، امت مسلمہ اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں!

Paigam Madre Watan

एसए बिल्डर्स: हैदराबाद भूमि का बेताज भू-माफिया

Paigam Madre Watan

سمینہ قتل کیس : بہن بہنوئی کی گرفتاری کےلئے شوہر نے ایس پی کو دیا دو بار درخواست ،کوئی کارروائی نہیں

Paigam Madre Watan