National قومی خبریں

پرائمری اُردو اسکولوں کا حال زار

محمد شمیم حسین:  کولکاتہ  مغربی بنگال میں اردو زبان کے ساتھ حکومت کا سوتیلا سلوک آخر کب تک۔آج پرائمری ، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اردو اسکولوں کا حال یہ ہیکہ ٹیچروں کی بحالی نہیں ہو رہی ہے۔بنگال میں اس وقت سیکڑوں ایسے اسکول ہیں جہاں ٹیچرز برائے نام ہے تو کہیں طالب علم۔ ڈراپ آوٹ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔کچھ فلاحی تنظیمیں اس پر کام کر رہی ہیں لیکن خاطر خواہ کوئی فائدہ نہیں دکھ رہا ہے۔گزشتہ دو تین سال سے کئی ایک تنظیم تحریک تو چلائی لیکن وہ اپنی باتیں خود پرست اقلیتی سیاست دانوں کی چاپلوسی اور جی حضوری کی وجہ سے اپنی منزل تک نہیں پہنچ پائیں۔کچھ اردو زبان کے متوالے اور خدمت گار حضرات آواز تو اٹھا رہے ہیں لیکن انکی فائل دبا دی جارہی ہے۔حکومت کے وزراء اس سلسلے میں کوئی معقول جواب نہیں دے رہے ہیں۔اس مسئلہ کا حل نظر نہیں آرہا ہے۔کولکاتہ کے کچھ اردو زبان کے بہی خواہ مسلسل اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ایجوکیشن منسٹر سے رابطہ کرنا ہو یا وزیر اعلیٰ سے کوئی انکے وفد کو وقت نہیں دے رہا ہے ۔
ایسے میں اقلیتی چئیر مین کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان دونوں کے درمیان پل کا کام کرے۔
آج ہندی اُردو سنتھالی کو ۔  آرڈینینس کمیٹی کی جانب سے نہ صرف اردو زبان کی بقاء بلکہ ہندی اور سنتھالی زبان کی تحفظ کے لئے  مغربی بنگال حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر  ان زبانوں کی تحفظ  نہ کی گئی تو اسکا بھی حشر سنسکرت زبان کی طرح ہو جائے گی۔اور اس طرح ایک دن یہ زبان مٹ جائے گی یا پھر ہیریٹیج کا حصہ بن جائے گی۔اس حوالے سے آج کے پریس میٹ میں محافظ اردو ہندی اور سنتهالی کے دانشورانِ نے اپنی باتیں رکھیں۔  اردو کے بہی خواہ اور اردو زبان سے محبت کرنے والے متوالے اور جیالے میدان میں کود پڑے ہیں۔اتساہی ،ہم،آواز اور مژگاں کے سر پرستوں نے کمان سنبھال لیا ہے۔ وہ لوگ ایک زور دار تحریک چلانے کی تیاری کر رھے ھیں۔اس سلسلے میں اردو کے خادم ،سوشل ایکٹوسٹ ، اور بیباکی سے قوم و ملت کے حق پرستی کی باتیں  کرنے والے حفیظ الرحمان صاحب نے حکومت وقت کو الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر اردو زبان کے ساتھ ناانصافی ہوگی تو ہم بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے جب تک ہمارا حق ہمیں نہیں مل جاتا ہے۔لڑائی لمبی ہے لیکن ان تنظیموں کے سرپرستوں کا کہنا ہے کہ ہم اپنا حق  جمہوری طریقے سے لے کر رہیں گے ۔اب یہ وقت طے کریگا۔ سچ تو یہ ہے کہ اُردو کو دوسری زبان کا درجہ ملا ہے لیکن صرف کاغذ پر عملی طور پر نوٹیفکیشن اور گجیٹ میں یہ پاس تو ہو چکا ہے لیکن اس سے اُردو والوں کتنا فائدہ پہنچا یہ اب تک ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں بنگلہ زبان کے آٹھ ہزار سے زائد اسکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔کہیں ایک طالب علم پر 10 اساتذہ ہیں تو کہیں سات سو طالب علموں پر 3 ٹیچر بھی نہیں کیا اس طرح بنگال کبھی ترقّی کر پائے گا۔حکومت ائے دن نئی نئی اسکیم متعارف کرا رہی ہے لیکن سچائی کچھ اور ہے ۔پرائمری اسکول ہو یا کارپوریشن کا اپنا اسکول سب کا ایک جیسا حال ہے۔ان سارے اسکول میں ٹیچروں کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔یہ مسئلہ صرف اردو والوں کے ساتھ نہیں بلکہ بنگلہ زبان والوں کے ساتھ بھی درپیش ہے۔ اس کے علاوہ ہندی اور سنتهالی کا بھی وہی حال ہے ۔پرائمری سیکشن کے ،ایک اسکول کے ریٹائرڈ ٹیچر  اسلم صاحب نے اس پریس میٹ میں جس طرح سے ڈاٹا کلیکٹ کر کے پیش کیا ہے واقعی  فکر اور بے حد حیرت کی بات ہے کہ اُردو زبان کو حکومت مغربی بنگال نے حاشیہ پر لا کھڑا کر دیا ہے۔
اگر اسکولوں میں اساتذہ کی بحالی ( ریکروٹمنٹ) ہی نہیں ہوگی تو اسکول میں پڑھے گا کون۔لہٰذا حکومت کی پہلی زمہ داری ہے کہ زبان کی ارتقاء اور اسکی ترقی اور ترویج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے مشاعرہ ،ڈراما فلم اُردو کتاب میلہ اور سال کے آخر میں دس پندرہ سیمینار کروا دینے سے مسئلہ کا حل نہیں بلکہ جن اسکولوں میں اساتذہ  نہیں وہاں ٹیچروں کی خالی نشست پر کر ے ۔ٹیچرز کی بحالی ضروری ہے نہ کہ اکیڈمی میں ناٹک کرانا ضروری ہے۔
آخری سوال یہ ہے کہ آخر تعلیم کا بجٹ اور مینارٹی بجٹ جو آلاٹ کیا جاتا ہے کروڑوں روپے وہ جاتا کہاں ہے۔ کھیلا اور میلہ میں یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ایسے میں بر سراقتدار  حکومت سے سوال تو ہم پوچھے گے ۔اے کاش ! کے جواب ملتا ۔ان زبانوں کی فکر اہل اقتدار کو ہوتی۔

Related posts

मुख्यमंत्री ने पंचकूला में महिला प्रतिनिधियों के साथ की पूर्व बजट चर्चा

Paigam Madre Watan

حیدر آباد قاضی نجم الدین مالک ٹریول پوائنٹ قتل معمہ

Paigam Madre Watan

فلسطینیوں کی حمایت میں دعاکا اہتمام طلباء پر درج کیس واپسی کا مطالبہ

Paigam Madre Watan

Leave a Comment