من مانی زمین نیلامی کرائی، عدالت نے رجسٹرار سے رجسٹری کرالی
ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے جیل جانا قبول مگر ظلم کے آگے جھکنا منظور نہیں کیا
نئی دہلی / حیدر آباد (رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز)ہیرا گروپ آف کمپنیز سے متعلق سپریم کورٹ آف انڈیا میں ہونے والی حالیہ سماعت نے ایک بار پھر اس مقدمے کو نئی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ کمپنی کے موقف کے مطابق، اس کارروائی سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ تحقیقات اور عدالتی عمل میں ایجنسیوں کے موقف کو زیادہ اہمیت دی گئی، جبکہ کمپنی اور اس کے سرمایہ کاروں کے اعتراضات کو مطلوبہ توجہ حاصل نہیں ہو سکی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے ابتدا ہی سے عدالتی کارروائی میں تعاون کیا، لیکن متعدد مواقع پر اس کے قانونی اعتراضات اور مطالبات کو موثر انداز میں نہیں سنا گیا۔ ہیرا گروپ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا موقف ہے کہ انہوں نے کبھی قانون سے فرار کی کوشش نہیں کی بلکہ ہر مرحلے پر قانونی طریقہ کار کے ذریعے اپنے موقف کا دفاع کیا۔ ان کے مطابق اگر ظلم اور انصاف میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو وہ ظلم کے سامنے جھکنے کے بجائے ہر قیمت پر قانونی جدوجہد کو ترجیح دیں گی۔
کمپنی کے مطابق، سپریم کورٹ کی جانب سے صرف محدود تعداد میں جائیدادوں کی نیلامی کی اجازت دی گئی تھی، لیکن بعد ازاں ایجنسیوں نے اس سے زیادہ جائیدادیں نیلام کر دیں۔ مزید یہ کہ تقریباً پچاس اضافی جائیدادوں کی نیلامی کا اعلان بھی ایم ایس ٹی سی (MSTC) کی ویب سائٹ پر کر دیا گیا۔ ہیرا گروپ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے مسلسل یہ مطالبہ کیا کہ ہر جائیداد کی تفصیلات، اس کی قیمت اور نیلامی کے مکمل ریکارڈ سے کمپنی کو آگاہ کیا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے، مگر ان کے بقول یہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ کمپنی کا مزید دعویٰ ہے کہ رجسٹری کے عمل کے سلسلے میں بھی ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو نہ مناسب اطلاع دی گئی اور نہ ہی انہیں اس عمل میں شریک کیا گیا، جبکہ بعد میں عدالت میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ رجسٹری ممکن نہیں ہو سکی۔ بعد ازاں عدالت نے مقامی رجسٹرار کی فہرست طلب کرتے ہوئے رجسٹری کا عمل مکمل کرانے کی ہدایت جاری کی۔
سماعت کے دوران ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے وکیل نے یہ نکتہ اٹھایا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایس ایف آئی او (SFIO) کے پاس کتنے حقیقی دعویٰ دار موجود ہیں اور مجموعی دعویٰ کی مالیت کتنی ہے۔ ایجنسی کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ تقریباً 14 ہزار افراد نے اپنے دعوے جمع کرائے ہیں۔ اس پر کمپنی کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پیش کی گئی فہرست مکمل طور پر واضح نہیں اور اس میں بعض افراد کے دعوے ایک سے زیادہ مرتبہ شامل کیے گئے ہیں، جس کے باعث اصل تعداد کا تعین ہونا باقی ہے۔ عدالت نے اس مرحلے پر ریمارکس دیے کہ پہلے رجسٹری کا عمل مکمل کیا جائے، اس کے بعد ٹرائل کے دوران تمام دعووں کی جانچ، تصدیق اور قانونی چھان بین کی جائے گی۔ دوسری جانب کمپنی کا دعویٰ ہے کہ حقیقی واجبات کی مجموعی رقم تقریباً پچاس کروڑ روپے کے قریب ہے اور حتمی تصدیق کے بعد ہی اصل مستحقین کی تعداد سامنے آئے گی۔
حالیہ عدالتی کارروائی کو بعض افراد فوری ادائیگی یا سرمایہ کاروں کی کامیابی تصور کر رہے ہیں، لیکن قانونی اعتبار سے معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ قانونی عمل کے مطابق پہلے نیلام شدہ جائیدادوں کی رقم متعلقہ سرکاری محکمے کے پاس جمع ہوگی۔ اس کے بعد عدالت کی ہدایات کے مطابق رقم متعلقہ اتھارٹی یا ایس ایف آئی او کے ذریعے قانونی نگرانی میں منتقل ہوگی۔ پھر باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا، جس میں ہر دعویٰ دار کو اپنے دعوے کے ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔ اس مرحلے پر تمام دعویٰ داروں کی فہرست کی جانچ ہوگی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کون حقیقی سرمایہ کار ہے، کس نے کتنی سرمایہ کاری کی، کسے کمپنی سے پہلے ہی کتنی رقم یا منافع ملا، اور کس پر اب بھی کتنی رقم واجب الادا ہے۔ اگر کوئی شخص پہلے ہی اپنی اصل سرمایہ کاری سے زیادہ رقم وصول کر چکا ہوگا تو قانونی اصولوں کے مطابق اس سے اضافی رقم کی واپسی (ریکوری) بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جن افراد کے واجبات ثابت ہوں گے، انہیں متعلقہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کے حقوق ادا کیے جائیں گے۔ اس پورے عمل میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس کی مدت عدالتی کارروائی کی رفتار پر منحصر ہوگی۔
ہیرا گروپ کا کہنا ہے کہ گزشتہ تقریباً پچیس برسوں کے دوران اس نے لاکھوں سرمایہ کاروں کے ساتھ مالی معاملات انجام دیے اور ان میں سے بڑی تعداد آج بھی کمپنی پر اعتماد رکھتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اس کے بہت سے سرمایہ کار چاہتے ہیں کہ ان کے معاملات کا تصفیہ براہِ راست ہیرا گروپ کے ذریعے کیا جائے۔ کمپنی کا یہ بھی موقف ہے کہ موجودہ کارروائی میں بعض عناصر کی دلچسپی صرف جائیدادوں کی فروخت تک محدود نظر آتی ہے، جبکہ اصل مقصد سرمایہ کاروں کو بروقت اور منصفانہ انصاف فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ ہیرا گروپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کی خاطر طویل قانونی جدوجہد کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوئیں۔
ان کے مطابق اگر وہ کسی بھی مرحلے پر دباو کے سامنے جھک جاتیں تو شاید کمپنی کا وجود باقی نہ رہتا اور سرمایہ کاروں کے مفادات مزید متاثر ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا اعتماد ہمیشہ اس بات پر رہا ہے کہ اگر قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کی جائے تو بالآخر انصاف ضرور ملتا ہے۔ ہیرا گروپ کے مطابق، انہیں یقین ہے کہ ہندوستان کا آئین، عدالتی نظام اور قانون آخرکار حقیقی سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور تمام حقائق مکمل قانونی جانچ کے بعد سامنے آئیں گے۔


