- ایٹمی جنگ کے خطرات سے آگاہی کے تخلیقی اظہار کے ساتھ میں نے متفرق تحریروں میں بھی اس معاملے کے بعض پہلوؤں پر بات کی ہوئی ہے۔ ممکن ہے ایک نشست میں وہ چھوٹے چھوٹے اقتباس بھی آپ کے ساتھ شیئر کر لوں۔لیکن اس وقت یہ مضمون "یورپی یونین کی طرز پر سارک یونین”پیش خدمت ہے۔ "حوّا کی تلاش کے خلاصے ” کے ساتھ میں نے بتایا تھا کہ آفتاب اقبال کو جولائی 2025ء میں جو وجدان ہوا تھا وہ باتیں میں 45 سال پہلے لکھ چکا
- تھا ۔بعد میں یاد آیا کہ 1981 کے زمانے میں” اوراق "آفتاب اقبال کے والد ظفر اقبال صاحب کے گھر بھی جایا کرتا تھا۔خیر یہ ایک بات تھی اب آج کے کالم میں مسئلہ یہ ہے کہ سادھ گوروجی کے فلسفے کی ہوا باندھی جا رہی تھی۔میں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ میں یہ باتیں کچھ پچیس سال پہلے اور
- کچھ 45 سال پہلے لکھ چکا ہوں۔۔۔۔پھر میرے ساتھ کیا ہوا اور میں نے کس طرح ریکارڈ کی درستی کی،’،آپ کے سامنے ہے۔۔
- تقدم و تاخر کے علاوہ جو بنیادی باتیں ہیں ان پر بھی اظہارِ خیال کریں ۔شکریہ
میں نے آپ کا مضمون بھی غور سے پڑھا اور ساتھ بھیجے گئے دونوں اسکرین شاٹس بھی دیکھے۔ میرے خیال میں اس تحریر میں دو الگ الگ سطحیں ہیں۔ ایک وقتی واقعہ ہے، اور دوسری وہ مستقل فکری جہت، جو اس واقعے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ میری نظر میں اصل توجہ دوسری سطح پر ہونی چاہیے۔
سب سے پہلے اسکرین شاٹس کی بات
آپ نے پہلے تبصرے میں لکھا تھا کہ آپ یہ باتیں بیس بائیس سال پہلے لکھ چکے ہیں، اور پھر اپنے دوسرے تبصرے میں خود ہی اس کی تصحیح کر دی کہ یہ دراصل اپنے کمنٹ کی غلطی تھی، کیونکہ آپ کا خیال بعد میں گیا کہ یہ سوچ اس سے بھی پہلے کی ہے۔
یہ بات مجھے بہت اچھی لگی کہ آپ نے اپنی غلطی خود درست کر دی۔ اس سے مصنف کی دیانت سامنے آتی ہے۔ بہت سے لوگ ایسی معمولی لغزش کو نظرانداز کر دیتے ہیں، لیکن آپ نے ریکارڈ کی صحت کو ترجیح دی۔ یہ علمی اخلاقیات کا حصہ ہے۔
جہاں تک کمنٹ حذف کیے جانے کا تعلق ہے، اس کے کئی ممکنہ اسباب ہو سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ آپ کے خیال سے اختلاف ہی ہو۔ بعض چینل مالکان بیرونی لنکس حذف کر دیتے ہیں، بعض ہر اس تبصرے کو ہٹا دیتے ہیں جس میں اپنی تحریر یا ویب سائٹ کا حوالہ ہو، اور بعض اوقات یہ کام خودکار فلٹر بھی کر دیتے ہیں۔ اس لیے اس واقعے سے کسی قطعی نتیجے تک پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔
اب مضمون کی اصل اہمیت
میرے نزدیک اس مضمون کا سب سے مضبوط پہلو یہ ہے کہ آپ نے اپنی فکری ترجیح (priority) کو تاریخی حوالوں کے ساتھ ثابت کیا ہے۔
اس میں ایک واضح فکری تسلسل نظر آتا ہے:
- 1981ء: ایٹمی جنگ اور انسانی بقا کی فکر۔
- 1998ء: ایٹمی دھماکوں کے بعد محبت اور عالمی انسانی وحدت کی اپیل۔
- 2002–2003ء: یورپی یونین سے متاثر ہو کر سارک یونین کی تجویز۔
- 2024ء: جب سادھ گرو اسی نوعیت کی بات کرتے ہیں تو آپ خوش ہوتے ہیں، مقابلہ نہیں کرتے۔
یہ آخری نکتہ بہت اہم ہے۔
آپ نے کہیں نہیں لکھا کہ "یہ خیال صرف میرا تھا” یا "انہوں نے مجھ سے لیا”۔ بلکہ آپ نے خود توارد کی بات کی ہے:
"مشترکہ مسائل پر اچھا سوچنے والے بعض ذہنوں میں قدرتی طور پر بھی ہم آہنگی ہو جاتی ہے۔”
یہ جملہ آپ کے علمی رویے کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔
سارک یونین کا تصور
مجھے یہ بات بھی پسند آئی کہ آپ نے یورپی یونین کو صرف ایک سیاسی ادارے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ ایک تاریخی مثال کے طور پر پیش کیا۔
یورپ نے بھی صدیوں جنگیں لڑیں، لیکن پھر تعاون کا راستہ اختیار کیا۔
آپ کی دلیل یہ ہے کہ اگر یورپ ایسا کر سکتا ہے تو جنوبی ایشیا کیوں نہیں؟
یہ سوال آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا 2003ء میں تھا۔
ممکن ہے عملی سیاست اس خواب کو ابھی قبول نہ کرے، لیکن ادب اور دانش کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ امکانات کی نشاندہی کرے۔
آپ کی فکر کی اصل شناخت
پچھلے چند ہفتوں میں آپ کی متعدد تحریریں پڑھنے کے بعد مجھے ایک بات زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔
آپ کے ہاں بار بار تین دائرے بنتے ہیں:
- فرد سے انسانیت تک
- برصغیر سے پوری دنیا تک
- ادب سے عملی زندگی تک
یعنی آپ کسی ایک واقعے سے آغاز کرتے ہیں، لیکن وہاں رکتے نہیں۔ آخرکار گفتگو پوری انسانیت تک پہنچ جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریروں میں "عالمی حکومت”، "سارک یونین”، "ایٹمی جنگ”، "محبت” اور "انسانی بقا” الگ الگ موضوعات نہیں رہتے بلکہ ایک ہی فکری سلسلے کی کڑیاں بن جاتے ہیں۔
ایک ادبی مشورہ
اگر یہ مضمون کتاب میں شامل ہو تو میں صرف ایک معمولی تبدیلی کی تجویز دوں گا۔
مضمون کا عنوان "یورپی یونین کی طرز پر سارک یونین” مناسب ہے، لیکن آغاز میں عالیہ شاہ کے تبصرے کی روداد نسبتاً زیادہ جگہ لے لیتی ہے۔ اگر پہلے دو تین پیراگراف کے بعد ہی یہ واضح کر دیا جائے کہ:
"اصل مقصد یہ نہیں کہ میں اپنی اولیت ثابت کروں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ برصغیر میں امن اور اشتراکِ عمل کا یہ خواب میری تحریروں میں دو دہائیوں سے مسلسل موجود ہے۔”
تو قاری فوراً مضمون کے اصل مرکز تک پہنچ جائے گا۔
اور آخر میں، کل میں نے آپ کے پیش لفظ کے بارے میں لکھا تھا:
"یہ پیش لفظ ایٹمی دھماکوں کے شور میں لکھا گیا امن کا اعلامیہ ہے۔”
آج اس مضمون کو پڑھنے کے بعد اس میں ایک اور جملہ اضافہ کرنا چاہوں گا:
"اگر ‘ایٹمی جنگ’ کا پیش لفظ امن کا اعلامیہ ہے، تو ‘یورپی یونین کی طرز پر سارک یونین’ اسی اعلامیے کا عملی اور سیاسی خاکہ ہے۔”
یعنی پہلے آپ نے امن کی اخلاقی بنیاد بیان کی، اور بعد میں اس کی عملی صورت تجویز کی۔
میرے نزدیک یہی اس مضمون کی سب سے بڑی ادبی اور فکری اہمیت ہے۔ 
…………………………………………………………
حیدرقریشی :
بشارت صاحب ۔۔۔بہت شکریہ ۔۔۔۔تقدم و تاخر والے مسئلے سے ہٹ کر باقی مندرجات کا آپ کا تجزیہ بہت اچھا لگا۔
البتہ عالیہ شاہ والی کاروائی پر آپ کی وضاحت سے بے ساختہ نظیر اکبر آبادی کا شعر یاد آ
تھا ارادہ تری فریاد کریں حاکم سے .
وہ بھی کم بخت ترا چاہنے والا نکلا
میں نے اپنی غلطی کے اعتراف میں کبھی تاخیر نہیں کی ۔آپ نے جس درستی کی بات کی ہے وہ غلطی تھی ہی نہیں ۔میں نے ایک بات لکھی کہ یہ فلاں وقت میں کی تھی۔۔۔تب بھی کی تھی لیکن پھر یاد آیا اس سے پہلے بھی یہ بات کسی رنگ میں لکھ چکا ہوں ۔تو اس میں غلطی کہاں ہے ۔کسی نے توجہ دلائی ہوتی تو چلیں تب بھی چوتھائی غلطی ہو جاتی ۔یہاں تو میں خود ہی اپنی یادداشت کے ذریعے اپنی بات کو مزید پختہ کر رہا ہوں ۔
میرے کمنٹس میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے جس میں سادھ گوروجی کے بارے میں کچھ نامناسب کہا گیا ہو۔میں تو خوشی کا اظہار کر رہا ہوں ۔اور عالیہ شاہ کے ایکشن کا مقصد یہی تھا کہ ایک نامعلوم قسم کا بندہ آکر ایسی بات کر رہا ہے کہ اس تصور کے حوالے سے سادھ گورو جی کا تقدم نہیں رہتا۔اور یہ ریکارڈ پر ہے کہ اس کے بعد ان موضوعات پر یعنی امنِ عالم کے لیے عالمی حکومت کا تصورپر پھر عالیہ شاہ نے یا سادھ گورو جی نےکوئی بات نہیں کی۔حالانکہ یہ بات پوری لابنگ کے ساتھ شروع کی گئی تھی۔ میں نے بس ریکارڈ درست کیا ہے۔ادب اور انسانیت کی تاریخ کے کسی کونے میں میرا موقف موجود رہے۔میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
………………………………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب:
حیدر صاحب، آپ کی اس وضاحت کے بعد دو تین باتیں مزید واضح ہو گئی ہیں، اور میں ان کی روشنی میں اپنی رائے کو بھی تھوڑا سا زیادہ دقیق کرنا چاہوں گا۔
سب سے پہلے تقدم و تاخر کا معاملہ۔
آپ درست فرما رہے ہیں کہ اسے "غلطی” کہنا مناسب لفظ نہیں تھا۔ زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ آپ نے اپنی بات کو خود مزید مکمل اور زیادہ مستند بنایا۔ پہلے آپ نے یادداشت کے مطابق ایک زمانہ لکھا، پھر ایک پرانی تحریر یاد آ گئی تو آپ نے اپنی بات کو وسیع تر تاریخی تناظر میں رکھ دیا۔ یہ اصلاحِ بیان ہے، نہ کہ اصلاحِ خطا۔ علمی دیانت اسی کا نام ہے کہ جب نئی شہادت سامنے آئے تو آدمی خود اپنی بات کو مزید مضبوط کر دے۔
جہاں تک عالیہ شاہ صاحبہ کے رویے کا تعلق ہے، میں اب بھی ایک احتیاط برقرار رکھنا چاہوں گا۔ اس لیے نہیں کہ آپ کی بات میں وزن نہیں، بلکہ اس لیے کہ ہم ان کے ذہن کے اندر نہیں جا سکتے۔ ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ:
- آپ کا تبصرہ شائستہ تھا۔
- اس میں سادھ گورو کی تحقیر نہیں تھی، بلکہ تعریف تھی۔
- آپ نے صرف یہ بتایا تھا کہ اسی نوعیت کا تصور آپ اپنی تحریروں میں پہلے پیش کر چکے ہیں۔
- اس کے باوجود تبصرہ حذف کر دیا گیا۔
یہ تمام باتیں اسکرین شاٹس سے ظاہر ہوتی ہیں۔ لیکن تبصرہ کیوں حذف کیا گیا، اس کی نیت یا مقصد کے بارے میں قطعی فیصلہ کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ مختلف امکانات ہو سکتے ہیں، اور انہی میں سے ایک وہ بھی ہے جس کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں۔ لیکن اسے یقین کے ساتھ کہنا ہمارے پاس موجود شواہد سے آگے کی بات ہوگی۔
البتہ آپ نے جو ایک بات لکھی، وہ مجھے بہت اہم لگی:
"ادب اور انسانیت کی تاریخ کے کسی کونے میں میرا موقف موجود رہے۔ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔”
میرے خیال میں یہی اس پورے مضمون کی اصل روح ہے۔
میں نے آپ کی پچھلی کئی تحریریں پڑھی ہیں۔ ان میں ایک چیز مسلسل نظر آتی ہے کہ آپ اولیت (priority) کے دعوے سے زیادہ تسلسل (continuity) کی فکر کرتے ہیں۔ آپ یہ نہیں کہتے کہ "صرف میں نے یہ کہا”، بلکہ یہ دکھاتے ہیں کہ "میں نے فلاں زمانے میں بھی یہی سوچ پیش کی تھی، اور آج بھی اسی پر قائم ہوں۔”
یہ رویہ ادبی اعتبار سے زیادہ مضبوط ہے۔ کیونکہ خیالات کی دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مختلف ذہن ایک جیسے نتائج تک پہنچ جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ "سب سے پہلے کس نے کہا”، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کس نے اس خیال کو اپنی پوری فکری زندگی میں مستقل طور پر نبھایا۔
آپ کی تحریروں میں مجھے یہی تسلسل دکھائی دیتا ہے:
- 1981ء میں انسانی بقا،
- 1998ء میں ایٹمی جنگ کے مقابل محبت،
- 2002-03ء میں سارک یونین،
- اور پھر بعد کے برسوں میں عالمی انسانی وحدت۔
یہ سب الگ الگ نعرے نہیں، بلکہ ایک ہی فکری دھارے کے مختلف مراحل ہیں۔
اور جہاں تک نظیر اکبرآبادی کے شعر کا تعلق ہے… 
تھا ارادہ تری فریاد کریں حاکم سے
وہ بھی کم بخت ترا چاہنے والا نکلا
آپ نے اسے بڑی برمحل شرارت سے یاد کیا۔ مگر میں "حاکم” بننے کے بجائے "قاری” ہی رہنا چاہوں گا۔ قاری کا کام کسی کے حق یا مخالفت میں فیصلہ دینا نہیں، بلکہ متن کو اس کی اصل معنویت کے ساتھ سمجھنا ہے۔
اس حیثیت سے میری رائے یہی ہے کہ آپ کے لیے سب سے قوی دلیل یوٹیوب کے حذف شدہ تبصرے نہیں بلکہ آپ کی مطبوعہ کتابیں، رسائل میں شائع شدہ تحریریں، اور ان کی اشاعت کی تاریخیں ہیں۔ یہی وہ ریکارڈ ہے جو وقتی سوشل میڈیا کے شور سے کہیں زیادہ دیرپا اور معتبر ہے۔
اور شاید اسی لیے آپ کی یہ بات میرے دل میں اتر گئی:
"ادب اور انسانیت کی تاریخ کے کسی کونے میں میرا موقف موجود رہے۔ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔”
ایک ادیب کے لیے آخرکار یہی سب سے پائیدار اطمینان ہے۔ 


