حیدر صاحب، السلام علیکم!
سب سے پہلے تو ایک بات۔ آپ نے پہلے فرمایا تھا کہ "خواب و خیال کی باتیں” اس سلسلے کی آخری تحریر ہے، اور اب "بلاعنوان” بھی شامل ہونے والی ہے۔ مجھے اس پر خوشی ہوئی، کیونکہ اس تحریر کو پڑھ کر یہی محسوس ہوا کہ اس کے بعد ایک ایسا اختتامی باب ہونا چاہیے جو پورے سفر کو ایک انسانی اور تخلیقی وحدت میں سمیٹ دے۔ شاید "بلاعنوان” یہی کردار ادا کرے گا۔
اب اس تحریر کی طرف آتا ہوں۔
یہ افسانہ نہیں، افسانہ نگار کے باطن کی کلید ہے
اس تحریر کو میں محض خوابوں کی روداد نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک یہ آپ کے پورے افسانوی جہان کی Master Key ہے۔
پچھلے کئی ہفتوں سے ہم آپ کے افسانے پڑھتے آئے ہیں۔ کہیں ایٹمی جنگ ہے، کہیں ماورائیت، کہیں وجودی تنہائی، کہیں انسانی محبت، کہیں علامت، کہیں تجرید۔ ان سب کے بعد آج پہلی مرتبہ ان تخلیقات کے پیچھے کام کرنے والی داخلی دنیا نسبتاً براہِ راست سامنے آئی ہے۔
گویا قاری پہلی مرتبہ افسانہ نگار کے لاشعور کی کھڑکی کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔
خواب یہاں "واقعات” نہیں، "استعارے” ہیں
میرے نزدیک اس تحریر کو ابنِ سیرین اور فرائڈ کے درمیان محدود کرکے نہیں پڑھنا چاہیے۔
خواب یہاں تعبیر مانگنے سے زیادہ معنی پیدا کر رہے ہیں۔
مثلاً:
- ویران زمین
- مسلسل چلتے جانا
- خاموش انسان
- جنگ زدہ عمارتیں
- سبز دروازہ
- شیر
- گھٹن بھری بس
- پوری زمین کا گھومنا
یہ سب مل کر ایک ایسی علامتی دنیا بناتے ہیں جو آپ کے افسانوں میں بار بار مختلف صورتوں میں ظاہر ہوئی ہے۔
"چلتے جانا” اس تحریر کی مرکزی علامت ہے
میرے خیال میں اس پوری تحریر کا سب سے طاقتور استعارہ مسلسل چلتے رہنا ہے۔
آپ کہیں نہیں پہنچتے۔
آپ کسی منزل کا اعلان نہیں کرتے۔
آپ صرف چلتے رہتے ہیں۔
یہی آپ کی ادبی زندگی بھی ہے۔
میں نے آپ کی متعدد تحریروں میں محسوس کیا ہے کہ آپ جواب دینے سے زیادہ تلاش میں یقین رکھتے ہیں۔
اسی لیے آپ کے افسانوں میں آخری جملہ بھی اکثر مکمل اختتام نہیں ہوتا بلکہ ایک نیا سوال چھوڑ جاتا ہے۔
خاموش انسان
اس حصے نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا۔
لوگ موجود ہیں،
مگر سب خاموش ہیں،
ایک دوسرے سے بے تعلق۔
میں اسے صرف خواب نہیں سمجھتا۔
یہ جدید تہذیب کی بھی ایک تصویر ہے۔
رابطے بڑھ گئے ہیں،
مگر تعلقات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
ہجوم بڑھ رہا ہے،
مگر انسان ایک دوسرے سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
آپ نے اس کیفیت کو خواب کی زبان میں بیان کیا ہے۔
شیر کا منظر
مجھے یہ منظر بہت علامتی لگا۔
آپ سرسبز جگہ میں داخل ہوتے ہیں۔
پہلے خوشی۔
پھر اچانک تین شیر۔
اور آنکھ کھل جاتی ہے۔
یہ صرف خوف کا منظر نہیں۔
بلکہ شاید اس بات کا اظہار بھی ہے کہ
ہر جنت کے دروازے پر ایک آزمائش کھڑی ہوتی ہے۔
پوری زمین کو گھومتے دیکھنا
یہ حصہ میرے نزدیک پوری تحریر کا روحانی نقطۂ عروج ہے۔
خاص طور پر یہ جملہ:
"مجھے لگتا ہے یہ الوہی شان و شوکت اور جاہ و جلال کی ایک جھلک ہے۔”
یہاں خواب ذاتی نہیں رہتا۔
یہ کائناتی ہو جاتا ہے۔
اسی لیے آپ خوفزدہ نہیں ہوتے۔
بلکہ حیران ہوتے ہیں۔
مجھے یہاں صوفیہ کی وہ روایت یاد آتی ہے جس میں حیرت کو معرفت کا ایک اہم مقام کہا گیا ہے۔
مبارکہ کا بار بار آنا
یہ بھی قابلِ غور ہے۔
ویرانی والے خوابوں میں آپ اکیلے ہیں۔
خوبصورتی والے خوابوں میں مبارکہ ساتھ ہیں۔
یہ صرف شخصی محبت نہیں۔
بلکہ وہ رفاقت بھی ہے جسے آپ اپنی زندگی میں بار بار خراجِ تحسین پیش کرتے رہے ہیں۔
اس سے خوابوں کا جذباتی توازن قائم رہتا ہے۔
"حوّا کی تلاش” سے ربط
یہ حصہ بہت اہم ہے۔
آپ نے پہلی مرتبہ واضح طور پر بتایا کہ
"حوّا کی تلاش” شاید اب آپ کو خوابوں میں دوبارہ لکھ رہی ہے۔
یہ بہت خوبصورت خیال ہے۔
عام طور پر ہم کہتے ہیں
مصنف کہانی لکھتا ہے۔
آپ یہاں کہہ رہے ہیں
کہانی اب اپنے مصنف کو لکھ رہی ہے۔
یہ جملہ اگرچہ آپ نے لفظ بہ لفظ نہیں کہا، مگر مفہوم یہی بنتا ہے۔
میرے نزدیک یہ اس تحریر کی سب سے منفرد دریافت ہے۔
آخری پیراگراف
یہ پڑھتے ہوئے میرے چہرے پر مسکراہٹ بھی آئی اور دل میں اداسی بھی۔
آپ لکھتے ہیں:
اگر میرے بعد بھی ایٹمی جنگ ہو جائے تو اس میں بچ جانے والا ہر مرد میں ہی ہوں گا اور بچ رہنے والی ہر عورت حوّا ہو گی۔
یہ جملہ حقیقت کا دعویٰ نہیں۔
یہ ایک تخلیق کار کی شناخت کا اعلان ہے۔
گویا
"جب تک انسان باقی ہے،
میری کہانی بھی باقی ہے۔”
یہ بہت خوبصورت اختتام ہے۔
ایک مختصر تنقیدی مشورہ
اگر یہ مضمون کتاب میں شامل ہو تو صرف ایک جگہ میں معمولی اختصار پر غور کرنے کی تجویز دوں گا۔
ابنِ سیرین، فرائڈ، "بیماری یا روحانی تجربہ”، "چشمِ تصور”، "حوّا کی تلاش” اور "ایٹمی جنگ” کے حوالے سب نہایت اہم ہیں، لیکن ان میں بعض مقامات پر ایک ہی خیال مختلف مثالوں سے ثابت ہوتا ہے۔ اگر چند اقتباسات مختصر کر دیے جائیں تو مرکزی خوابوں کی تاثیر اور بھی نمایاں ہو جائے گی۔
آخر میں…
یہ تحریر پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ ہمارے اس پورے مطالعاتی سفر کو ایک جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے۔
شروع میں ہم آپ کے افسانوں کو سمجھنے نکلے تھے۔
آخر میں معلوم ہوا کہ
افسانوں کو سمجھنے کے لیے افسانہ نگار کے خوابوں تک جانا پڑتا ہے۔
اور اگر مجھے اس پوری تحریر کا ایک ذیلی عنوان تجویز کرنا ہو تو شاید میں لکھوں:
"ایک کہانی کار کے لاشعور کی ڈائری”
حیدر صاحب، یہ تحریر افسانوں پر گفتگو کا اختتام نہیں، بلکہ ان کی باطنی دنیا کا دروازہ ہے۔ اسی لیے مجھے خوشی ہے کہ "بلاعنوان” ابھی باقی ہے۔ مجھے گمان ہے کہ وہ اس پورے سفر کو انسانی سطح پر ایک ایسی تکمیل دے گا جو محض ادبی نہیں بلکہ یادگار بھی ہوگی۔
اللہ آپ کے قلم کو سلامت رکھے۔ 
……………………………………………
حیدرقریشی :
ڈسکس کرنے کے لیے نہیں بس آپ کو بتانے کے لیے لکھ رہا ہوں کہ "بلا عنوان” فرحت نواز صاحبہ کا خاکہ ہے خاکہ نما ہے۔انہیں شروع میں میری کتاب "میری محبتیں ” کے خاکوں میں شامل ہونا تھا لیکن ان کی گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے احتیاط کرنا ہڑی۔یہ 1990 کے زمانے کی بات ہے۔اب میری بیٹی رضوانہ اور فرحت کی بیٹی غزنہ کو کریڈٹ جاتا ہے کہ میں برسوں کی رُکی ہوئی بلکہ روکی ہوئی تحریر اب لکھنے جا رہا ہوں ۔
…………………………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
حیدر صاحب، السلام علیکم!
یہ جان کر مجھے واقعی خوشی ہوئی۔ اور اب "بلاعنوان” کا عنوان بھی ایک نئی معنویت اختیار کر گیا ہے۔
آپ کی وضاحت سے اندازہ ہوا کہ یہ کوئی اچانک لکھی جانے والی تحریر نہیں، بلکہ تقریباً تین دہائیوں سے اپنے وقت کا انتظار کرتی ہوئی تحریر ہے۔ بعض تحریریں لکھنے سے زیادہ، پکنے میں وقت لیتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔
مجھے اس بات نے بھی متاثر کیا کہ آپ نے 1990ء کی دہائی میں احتیاط کو ترجیح دی۔ بعض اوقات نہ لکھنا بھی اتنا ہی ذمہ دارانہ فیصلہ ہوتا ہے جتنا لکھنا۔ ہر سچ اپنے وقت کا تقاضا کرتا ہے، اور بعض رشتوں کی نزاکت یہ چاہتی ہے کہ قلم جلد بازی نہ کرے۔
اور یہ بات بہت خوبصورت ہے کہ اب اس تحریر کے ممکن ہونے کا کریڈٹ آپ نے رضوانہ اور غزنہ کو دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ادبی کام صرف مصنف کی خواہش سے نہیں ہوتے، بلکہ رشتوں کے اعتماد سے مکمل ہوتے ہیں۔ جب متعلقہ لوگوں کو اطمینان حاصل ہو جائے، تبھی بعض یادیں الفاظ کا روپ اختیار کرتی ہیں۔
مجھے اب اس تحریر سے ایک اور توقع بھی پیدا ہو گئی ہے۔
چونکہ آپ نے اسے "خاکہ نما” کہا ہے، اس لیے میرا خیال ہے کہ یہ صرف ایک شخصیت کا تعارف نہیں ہوگا، بلکہ آپ کی اپنی ادبی زندگی کے ایک اہم دور کا بھی آئینہ ہوگا۔ فرحت نواز صاحبہ کا ذکر آئے گا تو یقیناً "جدید ادب”، ادبی رفاقت، مشترکہ جدوجہد اور اس زمانے کی فضا بھی کہیں نہ کہیں ساتھ آئے گی۔
اس لیے اب مجھے لگتا ہے کہ ہمارے اس پورے مطالعاتی سفر کا اختتام افسانے پر نہیں بلکہ انسان پر ہوگا۔ اور شاید یہی زیادہ مناسب بھی ہے۔ آخرکار افسانے اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان افسانوں کے پیچھے جو لوگ، رفاقتیں، قربانیاں اور خاموشیاں ہوتی ہیں، وہ بھی ادب کی تاریخ کا حصہ ہوتی ہیں۔
میں اس تحریر کا انتظار کروں گا—جلدی کے ساتھ نہیں، بلکہ اسی اطمینان کے ساتھ جس اطمینان سے اس نے تین دہائیاں انتظار کیا ہے۔
اللہ کرے "بلاعنوان” اپنے عنوان کی طرح منفرد بھی ہو اور اپنی تاخیر کی طرح پختہ بھی۔ 
………………………………………

