Blog

 مدارس کی مخالفت نہیںبلکہ اصلاح وتعاون کی ضرورت : سید شاہ واصف حسن واعظی

 مدارس کی مخالفت نہیںبلکہ اصلاح وتعاون کی ضرورت
سید شاہ واصف حسن واعظی
سجادہ نشین خانقاہ عالیہ وارثیہ حسنیہ، لکھنؤ
9235555776
مدارس کو دہشت گردی، انتہاپسندی یا کسی مخصوص ذہنیت کی پیداوار قرار دینا محض ایک تعلیمی ادارے پر الزام نہیں بلکہ ملک کی تاریخ، اس کی تہذیبی ساخت اور تحریک آزادی کے ان ابواب پر سوالیہ نشان لگانے کے مترادف ہے جن میں مذہبی مدارس سے وابستہ علماء، طلبہ اور اہل علم نے اپنے وقت کے حالات کے مطابق نمایاں کردار ادا کیا۔ ایسے وقت میں جب ملک کو سماجی ہم آہنگی، باہمی اعتماد اور تعلیمی ترقی کی ضرورت ہے، کسی پورے تعلیمی نظام کو چند افراد کے مبینہ جرائم یا نظریات کے ساتھ جوڑ دینا نہ دانش مندی ہے اور نہ ہی ایک ذمہ دار جمہوری معاشرے کے شایانِ شان۔حالیہ دنوں مصنفہ تسلیمہ نسرین کی جانب سے مدارس پر سخت تنقید اور انہیں ختم کرکے سیکولر اسکول قائم کرنے کی وکالت، اور اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی جانب سے مدرسوں سے فارغ ہونے والوں کی سوچ کو دہشت گردانہ ذہنیت سے جوڑنے والے بیان نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو قومی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے کہ کیا ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور آئینی جمہوری ملک میں کسی پورے تعلیمی طبقے کے بارے میں عمومی فیصلہ محض سیاسی یا جذباتی بیانات کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟ دستیاب رپورٹس کے مطابق موریہ نے حالیہ بیان میں مدارس سے متعلق انتہائی سخت رائے کا اظہار کیا، جبکہ تسلیمہ نسرین نے مدارس کو ختم کرکے سیکولر تعلیم کے ادارے قائم کرنے کی بات کہی۔
یہاں اختلافِ رائے کا حق اپنی جگہ مسلم ہے۔ کسی بھی تعلیمی نظام کے نصاب، معیار، نگرانی، شفافیت اور جدید تعلیم سے ہم آہنگی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے، بلکہ مدارس سمیت ہر تعلیمی ادارے سے یہ توقع بھی بجا ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو معیاری تعلیم، سائنسی شعور، آئینی اقدار، روزگار کے تقاضوں اور بدلتی دنیا کے چیلنجوں سے ہم آہنگ کرے۔ لیکن اصلاح اور الزام میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ اصلاح کا مقصد ادارے کو بہتر بنانا ہوتا ہے، جبکہ الزام پورے ادارے اور اس سے وابستہ لاکھوں طلبہ کے بارے میں ایک منفی عمومی تاثر پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جسے ایک ذمہ دار حکومت، سیاست دان، مصنف اور دانشور کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
ملک کی آزادی کی جدوجہد کسی ایک جماعت، طبقے، مذہب یا خطے کی میراث نہیں تھی۔ اس میں مختلف طبقات نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا۔۱۸۵۷ء کی بغاوت کے دوران دہلی اور اودھ سمیت کئی علاقوں میں علماء نے برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت میں حصہ لیا۔ وزارتِ ثقافت کے آزادی سے متعلق سرکاری ڈیجیٹل ریکارڈ میں دہلی کے مفتی صدرالدین خان آزردہ کے کردار کا ذکر ملتا ہے، جنہوں نے ۱۸۵۷ء کی جدوجہد میں برطانوی حکومت کے خلاف بیداری اور مزاحمت میں حصہ لیا، جبکہ مولوی احمد اللہ شاہ کو بھی اودھ کے خطے میں اس جدوجہد کا اہم کردار بتایا گیا ہے۔دارالعلوم دیوبند اور اس سے وابستہ علماء کی تاریخ بھی ملکی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ تاریخی تحقیق میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعد کے دور میں دیوبند کے متعدد علماء نے قوم پرستانہ سیاست میں حصہ لیا اور برطانوی اقتدار کی مخالفت کی۔ کیمبرج یونیورسٹی پریس میں شائع ایک تحقیقی مطالعہ بھی اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دیوبند کے متعدد علماء نے ہندوستانی قوم پرستانہ سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ اس لیے مدارس کو آج کے کسی سیاسی یا سلامتی کے مسئلے کے ساتھ یک قلم جوڑنے سے پہلے تاریخ سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ جن اداروں سے وابستہ لوگوں نے کبھی نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف آواز بلند کی، انہیں محض ان کے تعلیمی تشخص کی بنیاد پر مشتبہ قرار دینا کہاں تک تاریخی انصاف ہے؟ ملک کی آزادی کسی ایک طبقے کی قربانی کا نتیجہ نہیں، لیکن کسی طبقے کی قربانی کو فراموش کرنا بھی تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں۔اس بحث کا دوسرا اہم پہلو اترپردیش میں مدرسہ تعلیم کے قانونی مستقبل سے متعلق ہے۔۲۰۲۴ء میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اترپردیش بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے۵؍ نومبر۲۰۲۴ء کے فیصلے میں ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ مسترد کرتے ہوئے ایکٹ کو بنیادی طور پر برقرار رکھا۔ تاہم عدالت نے مدرسہ بورڈ کی جانب سے کامل اور فاضل جیسی اعلیٰ تعلیمی اسناد کو یونیورسٹی کی گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن ڈگریوں کے مساوی قرار دینے والی قانونی گنجائش کو یو جی سی ایکٹ سے متصادم قرار دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں دینے کا اختیار متعلقہ قانونی فریم ورک کے تحت تسلیم شدہ یونیورسٹیوں سے وابستہ ہے۔
یہ قانونی صورت حال مدارس کے مستقبل پر ایک سنجیدہ سوال ضرور اٹھاتی ہے، لیکن اس کا حل طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی میں ڈالنا نہیں بلکہ ایک ایسا تعلیمی راستہ پیدا کرنا ہونا چاہیے جس میں دینی تعلیم کے ساتھ جدید، سائنسی، فنی اور اعلیٰ تعلیم کے دروازے بھی کھلے رہیں۔ دسمبر ۲۰۲۴ءمیں اترپردیش حکومت کی جانب سے مدرسہ ایکٹ میں ایسی تبدیلی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جن کے تحت قانون کا دائرہ بارہویں جماعت تک محدود کرنے اور کامل و فاضل جیسے اعلیٰ درجات کو اس کے دائرے سے نکالنے کی تجویز زیر بحث تھی۔یہاں اصل مسئلہ اسناد سے زیادہ ان طلبہ کا ہے جو برسوں ایک مخصوص نظام میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اگر کسی ڈگری کی قانونی حیثیت تبدیل ہوتی ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ طلبہ کے لیے متبادل، شفاف اور قابل عمل تعلیمی راستہ فراہم کرے۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ جدید تعلیم حاصل کرو،سوال یہ ہے کہ پہلے سے مدرسہ نظام میں زیر تعلیم طالب علم کس پل کے ذریعے یونیورسٹی، پیشہ ورانہ تعلیم اور روزگار کی دنیا تک پہنچے گا؟ تعلیمی پالیسی کا امتحان یہی ہے کہ وہ تبدیلی کے دوران کسی نسل کو راستے میں بے سہارا نہ چھوڑے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مدارس کا تعلیمی ڈھانچہ اصلاح سے ماورا نہیں۔ جدید مضامین، کمپیوٹر، انگریزی، ریاضی، سائنس، سماجی علوم، آئینی تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں نصاب کا حصہ بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن جدیدیت کا مطلب کسی ادارے کی مذہبی شناخت مٹانا نہیں اور مذہبی تعلیم کا مطلب جدید علوم سے دوری اختیار کرنا بھی نہیں۔ ایک ایسا ماڈل تشکیل دیا جا سکتا ہے جس میں قرآن و حدیث، عربی و فارسی اور دینی علوم کے ساتھ جدید زبانیں، سائنس، ٹیکنالوجی، قانون، معاشیات اور دیگر عصری علوم بھی پڑھائے جائیں۔ اس سے مدرسہ کا طالب علم صرف مذہبی علوم کا ماہر نہیں بلکہ ایک باصلاحیت، باخبر اور ذمہ دار شہری بھی بن سکتا ہے۔مدارس کے فارغین کی علمی افادیت کو بھی محض ایک محدود تصور میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ عربی، فارسی اور اسلامی علوم کے ماہرین کی ضرورت تحقیق، ترجمہ، تدریس، دستاویزات کے مطالعے اور ہندوستان کے عرب دنیا سے علمی و تجارتی روابط جیسے شعبوں میں موجود ہے۔ خود سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی مدرسہ نظام کے تاریخی پس منظر اور اس کے مختلف تعلیمی درجات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔
اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مدرسہ باقی رہے یا ختم ہو، اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ مدرسہ کس شکل میں آگے بڑھے۔ اگر حکومت معیار، شفافیت، اساتذہ کی اہلیت، نصاب اور طلبہ کے تعلیمی حقوق کے بارے میں اصول طے کرنا چاہتی ہے تو اس پر بامعنی مکالمہ ہونا چاہیے۔ لیکن نگرانی اور اصلاح کے نام پر کسی ادارے کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینا ایک الگ معاملہ ہے۔ جرم اگر کہیں ہو تو فرد، تنظیم یا مخصوص واقعے کی بنیاد پر قانونی کارروائی ہونی چاہیے، کسی پورے تعلیمی نظام کو اجتماعی طور پر مجرم بنا دینا انصاف کے بنیادی اصول سے ہم آہنگ نہیں۔
ملک کی جمہوری طاقت اس کے اختلاف رائے میں ہے۔ یہاں مندر، مسجد، گرجا، گوردوارہ، مدرسہ، اسکول، کالج اور یونیورسٹی سب اسی آئینی ہندوستان کا حصہ ہیں۔ ایک ادارے کی اصلاح کیلئے دوسرے ادارے کی تحقیر ضروری نہیں۔ اسی طرح حب الوطنی کا پیمانہ بھی کسی مخصوص نعرے یا لباس کو بنا دینا درست نہیں، ہندوستانی ہونے کا اصل ثبوت آئین کی پاسداری، قانون کا احترام، دوسروں کے حقوق کا اعتراف اور ملک کی تعمیر میں مثبت کردار ہے۔

Related posts

شکواہ فلسطین

Paigam Madre Watan

عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ: حیدرآباد کے سیاسی منظر نامے پر امید کی کرن

Paigam Madre Watan

حیدرقریشی کا تعارف” پر محترمہ نجیدہ نظربائیوا کی بہترین کوشش‘‘

Paigam Madre Watan