Blog

مجلس اتحاد المسلمین کیا واقعی ایک ’’گودی پارٹی‘‘ بن چکی ہے؟ دو اہم رہنماؤں کی علاحدگی نے مجلس کی سیاست، حکمت عملی اور کردار پر سوال اٹھائے #محمد لقمان ندویؔ، ممبئی

مجلس اتحاد المسلمین کیا واقعی ایک ’’گودی پارٹی‘‘ بن چکی ہے؟
دو اہم رہنماؤں کی علاحدگی نے مجلس کی سیاست، حکمت عملی اور کردار پر سوال اٹھائے
#محمد لقمان ندویؔ، ممبئی

چند روز قبل مجلس اتحاد المسلمین سے ڈاکٹر عبد المنان کی علاحدگی کی خبر سامنے آئی اور اب عاصم وقار نے بھی پارٹی سے اپنا راستہ الگ کر لیا ہے۔ ڈاکٹر عبد المنان اتر پردیش میں پارٹی کے ریاستی ترجمان تھے، جبکہ عاصم وقار قومی ترجمان کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ میں ان دونوں کو نہ صرف جانتا ہوں بلکہ ان کے ساتھ کام بھی کر چکا ہوں۔ میرے مشاہدے میں دونوں وضعدار، ہوشیار، بے باک اور مخلص سیاسی کارکن ہیں۔ ایسے لوگ کسی تنظیم میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر پاتے جہاں اختلافِ رائے اور تنقید کی گنجائش کم ہو۔ میرا تاثر ہے کہ مجلس میں عہدے تو بہت ہیں، لیکن فیصلہ سازی کا اختیار چند ہاتھوں میں مرکوز ہے۔ بظاہر یہی صورت حال بھارتیہ جنتا پارٹی میں بھی دکھائی دیتی ہے، جہاں اہم فیصلوں پر نریندر مودی اور امیت شاہ کا اثر نمایاں ہے۔ یہی پہلو ناقدین کو دونوں جماعتوں کے درمیان بظاہر سیاسی دشمنی کے باوجود عملی ہم آہنگی کے سوالات اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔
یہ محض دو افراد کا کسی سیاسی جماعت سے الگ ہونا نہیں ہے۔ میرے نزدیک یہ ان بنیادی سوالات کی طرف اشارہ ہے جنہیں میں گزشتہ کئی ماہ سے اپنے مضامین اور ویڈیوز میں اٹھاتا رہا ہوں۔ خصوصاً عاصم وقار کے معاملے میں میرا مشاہدہ محض دور بیٹھ کر کیا گیا سیاسی تبصرہ نہیں ہے۔ مجھے ان کے ساتھ متعدد مرتبہ اسٹیج شیئر کرنے، ملاقاتیں کرنے اور دہلی میں ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ میں انہیں ایک سنجیدہ، سلجھے ہوئے، مخلص، باخبر اور بے باک سیاسی کارکن کے طور پر جانتا ہوں۔ سیاست میں ان کا تقریباً تین سے ساڑھے تین دہائیوں کا تجربہ ہے۔
میری رائے میں انہوں نے پارٹی کے لیے جس خلوص اور صلاحیت کے ساتھ کام کیا، ویسا کام ہر شخص نہیں کر سکتا۔ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ پارٹی کے بعض افراد کے بارے میں کارکنان اور عوام کی جانب سے مختلف الزامات اور شکوک و شبہات سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض حلقے انہیں ’’وصولی گینگ‘‘ تک کہتے ہیں، لیکن کسی فرد یا جماعت کے مالی معاملات یا بدعنوانی سے متعلق الزام کو ثبوت کے بغیر حتمی حقیقت قرار دینا مناسب نہیں۔ البتہ بعض سیاسی فیصلے سوال ضرور پیدا کرتے ہیں، مثلاً 2022 میں سندیلہ سے انتخاب لڑنے کے فیصلے پر بھی مختلف حلقوں نے سوالات اٹھائے تھے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اتر پردیش میں مجلس کس کے خلاف لڑ رہی ہے؟ ڈاکٹر عبد المنان اور عاصم وقار نے اپنی علاحدگی کی وجوہات بیان کی ہیں، لیکن میرے نزدیک بنیادی سوال یہ ہے کہ اتر پردیش میں مجلس اتحاد المسلمین عملی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف کہاں اور کس طرح لڑ رہی ہے؟
تقریروں اور بیانات میں بی جے پی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرنا آسان ہے۔ جلسوں میں یہ کہنا بھی آسان ہے کہ بی جے پی کو اکھاڑ پھینکیں گے، مسلمان اپنا حق لے گا، ’’عبداللہ کا بیٹا وزیر اعلیٰ بنے گا‘‘ یا ’’برقعہ والی وزیر اعلیٰ بنے گی‘‘۔ ایسے نعرے سیاسی جوش پیدا کر سکتے ہیں، مگر اصل سیاست میدان میں کیے جانے والے عملی اقدامات سے پہچانی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اتر پردیش میں مجلس کی سیاست کا عملی فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ اگر کسی جماعت کی انتخابی سرگرمیوں اور سیاسی حملوں کا بڑا حصہ سماجوادی پارٹی، کانگریس اور دیگر سیکولر قوتوں کے خلاف دکھائی دے، جبکہ بی جے پی کے خلاف اسی شدت کی زمینی جدوجہد نظر نہ آئے، تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض ریاستوں میں مجلس کی سیاست بی جے پی کو براہِ راست نقصان پہنچانے کے بجائے ان قوتوں کو کمزور کرتی ہے جو اس کے مقابلے میں موجود ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر سنجیدہ سیاسی بحث ضروری ہے۔
عاصم وقار کی علاحدگی کے پس منظر میں بنگال کی سیاست اور ہمایوں کبیر کے ساتھ اتحاد کا معاملہ بھی اہم ہے۔ اس سیاسی شراکت داری پر مختلف حلقوں نے اعتراضات اور سوالات اٹھائے تھے۔ عاصم وقار نے بھی بعض مواقع پر ہمایوں کبیر کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، جبکہ مجلس کی قیادت نے اپنی سیاسی حکمت عملی کے مطابق فیصلہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ کسی اتحاد یا سیاسی شراکت داری سے فرقہ وارانہ سیاست کو تقویت تو نہیں ملتی اور اس کا بالواسطہ فائدہ بی جے پی کو تو نہیں پہنچتا؟
بابری مسجد کے نام پر سیاسی ماحول پیدا کرنے اور اس کے ممکنہ انتخابی نتائج کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں نے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس سیاست کا حتمی فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟ سیاست میں نیتوں کے دعوے بہت کیے جاتے ہیں، لیکن عوام بالآخر نتائج کا حساب کرتے ہیں۔
اتر پردیش میں مجلس کی مقامی قیادت کے بارے میں بھی کارکنان کی جانب سے مختلف شکایات سامنے آتی رہی ہیں، میں تنظیم کے تمام اندرونی معاملات پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دے سکتا، لیکن اتنا ضرور محسوس کرتا ہوں کہ پارٹی کے اندر سب کچھ معمول کے مطابق نہیں ہے۔ کسی سیاسی جماعت کے لیے محض اسلام اور مسلمانوں سے وابستہ نعروں کے بجائے تنظیمی شفافیت، داخلی جمہوریت اور کارکنوں کی رائے کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔
میرا اپنا سیاسی اور تنظیمی تجربہ زیادہ تر مہاراشٹر اور خصوصاً ممبئی سے وابستہ رہا ہے، وہاں میں نے دیکھا کہ انتخابات سے قبل تنظیمی سطح پر تبدیلیاں کی جاتی ہیں، بعض افراد کو اہم ذمہ داریاں دی جاتی ہیں اور بعد میں انہیں کنارے لگا دیا جاتا ہے۔ بعض کارکنوں کی جانب سے مالی معاملات اور تنظیمی رویے کے بارے میں شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ان شکایات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، لیکن اگر کارکن خود کو نظر انداز یا استحصال کا شکار محسوس کرنے لگیں تو یہ تنظیم کے لیے سنجیدہ مسئلہ ہے۔
جب کسی سیاسی جماعت میں نظریے کی جگہ شخصیت پرستی اور کارکنوں کی جگہ چند مخصوص افراد اہم ہو جائیں تو تنظیم اندر سے کمزور ہونے لگتی ہے۔ میں نے اس سے قبل بھی لکھا تھا کہ ’’جب تک بی جے پی ہے، تب تک مجلس اتحاد المسلمین ہے، اور دونوں کا زوال بھی ایک ساتھ ہوگا۔‘‘ یہ میری سیاسی رائے ہے، جسے وقت ہی درست یا غلط ثابت کرے گا۔
میری نظر میں عاصم وقار کا مزاج ایسی سیاست سے مختلف ہے جس میں شور زیادہ اور حقیقی سیاسی جدوجہد کم ہو، وہ محض نعرے لگانے والے شخص نہیں، ان کے پاس سیاسی تجربہ، معلومات اور زمینی حقائق کو سمجھنے کی صلاحیت ہے۔ پارٹی کی خامیوں پر بلا خوف تنقید کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اس تضاد کے ساتھ زیادہ عرصے تک سمجھوتہ نہیں کر سکے۔
ایک طرف بی جے پی کے خلاف بلند بانگ دعوے ہوں اور دوسری طرف عملی سیاست میں ایسے فیصلے سامنے آئیں جن سے اس کے سیاسی مخالفین کمزور ہوں، تو ایک سنجیدہ سیاسی شخص کے ذہن میں سوالات پیدا ہونا فطری ہے۔ یہی تضاد شاید عاصم وقار کی علاحدگی کے پس منظر کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
ڈاکٹر عبد المنان کی علاحدگی ہو یا عاصم وقار کا پارٹی سے الگ ہونا، میرے نزدیک اسے محض ذاتی اختلاف یا عہدے کی سیاست کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، یہ مجلس اتحاد المسلمین، خصوصاً اتر پردیش میں، پیدا ہونے والے ایک بڑے سیاسی بحران کی علامت ہو سکتا ہے، آج ملک کا سیاسی ماحول بدل رہا ہے اور عوام و نوجوان سوال کر رہے ہیں، ایسے ماحول میں بی جے پی کی مخالفت کا دعویٰ کرنے والی ہر جماعت کا اصل امتحان اس کے عملی کردار سے ہوگا۔
مجلس پر اس کے ناقدین طویل عرصے سے الزام لگاتے رہے ہیں کہ اس کی انتخابی حکمت عملی بالآخر بی جے پی کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ پارٹی اور اس کے رہنما ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں کا اصل امتحان ان کے بیانات سے زیادہ ان کے عملی نتائج ہوتے ہیں۔ عوام اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ کون بی جے پی کے خلاف حقیقی جدوجہد کر رہا ہے اور کون ایسے اقدامات کر رہا ہے جن سے بی جے پی مخالف ووٹ تقسیم ہوتے ہیں۔
میرا اپنا تجربہ بھی یہی ہے کہ جب مجھے محسوس ہوا کہ میرے سیاسی اصول اور تنظیم کی عملی سمت ایک دوسرے سے مختلف ہو رہی ہے تو میں نے پارٹی سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔ میرے نزدیک سیاسی جماعت کا مقصد ایسے مسلم رہنماؤں کو شکست دینا نہیں ہونا چاہیے جو اپنے طور پر سیاسی اثر رکھتے ہوں، بلکہ جمہوری، سیکولر اور آئینی سیاست کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے۔
اسی لیے آج جب ڈاکٹر عبد المنان اور عاصم وقار جیسے لوگ الگ ہوتے ہیں تو یہ محض دو استعفوں کی خبر نہیں، یہ مجلس کی سیاست، اس کی حکمت عملی اور اس کے دعووں و زمینی کردار کے درمیان فاصلے پر ایک بڑا سوال ہے۔ سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اگر آپ واقعی بی جے پی کو شکست دینے کے لیے سیاست کر رہے ہیں تو آپ کی عملی سیاست کا بنیادی نشانہ کون ہے؟ فاشسٹ بی جے پی یا وہ سیکولر قوتیں جو پہلے ہی اس کے خلاف میدان میں موجود ہیں؟ شاید اسی سوال کا جواب آنے والے دنوں میں مجلس اتحاد المسلمین کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ 

Related posts

“Harmony’s Horizon: Dr. Nowhera Shaikh’s Visionary Journey for a Flourishing Arunachal Pradesh”

Paigam Madre Watan

اسلام کا جو صاف وشفاف نظام نکاح ہے کو عبادت سمجھ کر آسان و مسنون بنائیں :مولانا غیاث احمد رشادی

Paigam Madre Watan

ہیرا گروپ: حیدرآباد کی رئیل اسٹیٹ میں آرام و آسائش کی نئی جہت

Paigam Madre Watan