Blog

ہمارے گھر کیوں اجڑ رہے ہیں، اسے کیسے سنوارا جائے؟ مفتی اشفاق قاضی

ہمارے گھر کیوں اجڑ رہے ہیں، اسے کیسے سنوارا جائے؟
image.png
مفتی اشفاق قاضی
ہمارا مسلم معاشرہ جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں ایک انتہائی اہم مسئلہ گھروں کا سکون ختم ہونا اور رشتوں کا بوجھ بن جانا ہے، بظاہر مسلمان عبادات سے وابستہ ہے، مسجدیں آباد ہیں، دینی اجتماعات ہو رہے ہیں، مگر افسوس کہ ہمارے بہت سے گھروں میں محبت، برداشت، احترام اور ایثار عنقاء ہوتا جا رہا ہے، ماں اور بیٹے کے درمیان شکایتیں ہیں، باپ اور اولاد میں فاصلے ہیں، بھائی بھائی سے نالاں ہیں،  بہنیں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتیں، ساس اور بہو کے درمیان معمولی باتیں بڑے جھگڑوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، نند اور بھاوج ایک دوسرے کو حریف سمجھنے لگتی ہیں، جائیداد اور وراثت کے معاملات رشتوں کو دشمنی میں بدل دیتے ہیں اور بعض اوقات ایک معمولی اختلاف برسوں کی قطع تعلقی کا سبب بن جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ آخر یہ صورت حال کیوں پیدا ہوئی؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو زندگی کے ایک محدود حصے تک رکھ دیا ہے، نماز، روزہ اور دیگر عبادات دین کا بہت ہی اہم ترین شعبہ ہیں، لیکن اسلام صرف عبادات کا نام نہیں؛ اسلام معاملات، اخلاق، گفت و شنید، رشتہ داری، پڑوسیوں، والدین، اولاد، میاں بیوی اور معاشرے کے ہر فرد کے حقوق میں بھی دینی رہبری و رہنمائی کرتا ہے، قرآن کریم نے اہل ایمان کو باہم بھائی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مومن آپس میں ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ،  یہی اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے، مگر ہمارے معاشرے میں بدگمانی، حسد، غیبت، چغلی، طعنہ زنی، انا، خود پسندی اور دوسروں کی زندگی میں بے جا مداخلت نے اس بنیاد کو کمزور کر دیا ہے، ہم دوسروں سے اپنے حق کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن اپنے فرائض بھول جاتے ہیں، ہمیں شکایت رپتی ہے کہ اولاد ہماری خدمت نہیں کرتی، مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے اولاد کو کتنی محبت اور تربیت دی؟  بیوی کو شوہر سے شکوہ ہے کہ وہ اسے وقت نہیں دیتا، شوہر کو بیوی سے شکایت ہے کہ وہ اس کے گھر والوں کا احترام نہیں کرتی، بھائی کو بھائی سے جائیداد کا گلہ ہے، مگر انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر کوئی تیار نہیں، بہت سے گھریلو جھگڑوں کے پیچھے کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹی بات کو انا کا مسئلہ بنا لینا اصل خرابی بن جاتا ہے، ایک لفظ، ایک طنز، ایک غلط فہمی یا کسی تیسرے شخص کی لگائی ہوئی بات کبھی کبھی ایسے فاصلے پیدا کردیتی ہے جنہیں ختم کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں،  اسلام کا درس ہے کہ ہر اختلاف کو جنگ نہ بنایا جائے، ہر غلطی کا بدلہ نہ لیا جائے اور ہر تلخ جملے کا جواب تلخ جملے سے نہ دیا جائے، قرآن کریم نے بدگمانی، تجسس اور غیبت سے روکا ہے، کیونکہ یہ چیزیں رشتوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں، اسی طرح صلہ رحمی کی تاکید اور قطع رحمی سے ممانعت واضح کرتی ہے کہ اسلام رشتوں کو جوڑنے کی تعلیم دیتا ہے، اگر ہم واقعی دین کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا چاہتے ہیں تو ابتدا اپنے گھر سے کرنا ہوگی اور یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک دوسرے کو شکست دینا کامیابی نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنا، معاف کرنا اور ساتھ لے کر چلنا ہی کامیابی ہے۔
خاندان کی خوش حالی کے لیے اسلام نے ہر رشتے کے حقوق اور حدود واضح کیے ہیں، لیکن ہماری بہت سی پریشانیاں اسی وقت شروع ہوتی ہیں جب کوئی شخص اپنے حق سے آگے بڑھ کر دوسرے کی زندگی پر اختیار جتانے لگتا ہے، شادی کے بعد سب سے بنیادی رشتہ میاں بیوی کا ہے، اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کو سکون، محبت و مودت اور رحمت کا ذریعہ قرار دیا ہے، اس لیے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ساتھی سمجھنا چاہیے،  شوہر کو بیوی کی عزت، ضروریات اور جذبات کا خیال رکھنا چاہیے، اس کی معمولی لغزشوں کو درگزر کرنا چاہیے اور ہر بات پر اسے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے اس کے ساتھ حسن معاشرت، عفو و درگزر اور وسعت قلب و نظر سے رہنا چاہیے، اسی طرح بیوی کو بھی شوہر کی عزت، گھر کی حفاظت اور اس کے حالات و مشکلات کا احساس ہونا چاہیے، میاں بیوی کی ہر بات کو والدین، بہن بھائیوں یا دوستوں تک پہنچانا مسئلے کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا دیتا ہے، دونوں کو ایک دوسرے کی کمزوریوں اور گھریلو معاملات کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے بچنا چاہیے، شادی کے بعد ساس، سسر، نند، بھاوج، جیٹھ اور دیور کے رشتے بھی احترام اور شرعی حدود کے محتاج ہیں، ساس کو چاہیے کہ بہو کو گھر کی نئی فرد سمجھ کر محبت اور شفقت دے، ہر معاملے میں اپنی مرضی مسلط کرنے کے بجائے اسے نئے ماحول سے مانوس ہونے کا موقع دے، بہو کو بھی ساس سسر کے احترام کو اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہیے، لیکن گھر کے بڑوں کو یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ بہو گھر میں خدمت کے لیے آنے والی کوئی خدامہ و ملازمہ نہیں بلکہ ایک خاندان سے اپنا رشتہ جوڑ کر آنے والی صنف نازک ہے، جس کے اپنے جذبات، عادات اور ضروریات ہیں، نند کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ بھائی کی شادی کے بعد بھابھی اس کی حریف نہیں بلکہ خاندان کا حصہ ہے، اور بھابھی کو بھی نند کی ہر بات کو مداخلت یا سازش سمجھنے کے بجائے حسنِ ظن سے کام لینا چاہیے، جیٹھ اور دیور کے ساتھ شرعی پردے اور حدود کا لحاظ ضروری ہے، کیونکہ احترام کا مطلب بے تکلفی نہیں، گھر کے ہر فرد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ محبت کا مطلب دوسرے کی زندگی میں مسلسل دخل اندازی بھی نہیں، بعض گھروں میں سکون صرف اس لیے برباد ہوتا ہے کہ ہر شخص دوسرے کے معاملات پر رائے دینا اور فیصلہ سنانا اپنا حق سمجھتا ہے، بھائیوں کے درمیان جائیداد، کاروبار اور وراثت کے معاملات بھی بڑی تلخی پیدا کرتے ہیں، اسلام نے وراثت کے حقوق واضح کر دیے ہیں، اس لیے کسی بہن، بھائی، بیوہ یا یتیم کا حق روک کر حاصل کی گئی دولت میں برکت کی امید نہیں رکھی جا سکتی، والدین کو بھی اولاد کے درمیان بلاوجہ ایسا فرق نہیں کرنا چاہیے جس سے حسد اور احساسِ محرومی و احساس کمتری پیدا ہو، جبکہ اولاد پر لازم ہے کہ والدین کی خدمت اور احترام کو اپنی سعادت سمجھے، والدین کی ہر بات سے اتفاق ضروری نہیں، مگر اختلاف کا انداز ادب سے ہونا چاہیے، قرآن کریم نے والدین کے بارے میں یہاں تک فرمایا کہ انہیں اُف تک نہ کہو اور ان سے عزت کے ساتھ بات کرو، اسی طرح بھائی بھائی سے، بہن بھائی سے اور رشتہ دار ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہوئے زبان کی حفاظت کریں، کیونکہ ایک جملہ کبھی کبھی برسوں کا تعلق توڑ دیتا ہے، بولنے سے پہلے سوچنا، جواب دینے سے پہلے رکنا اور فیصلہ کرنے سے پہلے دوسرے کا مؤقف سن لینا گھر کے سکون کے لیے بہت ضروری ہے۔
خانگی اور معاشرتی ناچاقی کا علاج صرف دوسروں کو نصیحت کرنے سے نہیں ہوگا، بلکہ ہر شخص کو اپنے اندر بھی جھانکنا ہوگا، اصلاح کا آغاز اس سوال سے ہونا چاہیے کہ خرابی صرف دوسرے میں ہے یا میرے رویے میں بھی کوئی ایسی بات ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے؟ غصہ، انا، ضد، حسد اور بدگمانی کو قابو میں کیے بغیر کوئی خاندان خوش حال نہیں ہو سکتا، قرآن کریم نے غصہ پی جانے اور لوگوں کو معاف کرنے والوں کی تعریف کی ہے، گھر میں کسی سے غلطی ہو جائے تو ہر غلطی کو زندگی بھر کا مقدمہ نہ بنایا جائے، ماں کو چاہیے کہ بیٹے کی ہر کوتاہی کو نافرمانی نہ سمجھے اور بیٹے کو ماں کی عمر، مزاج اور جذبات کا لحاظ رکھنا چاہیے، باپ کو اولاد کی تربیت میں محبت اور حکمت کو جگہ دینی چاہیے اور اولاد کو اختلاف کے باوجود والدین کی عزت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہو تو دونوں ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے دوسرے کے دل کو جیت لے، مناسب وقت پر سکون سے بات کریں، پرانی غلطیوں کی فہرست نہ کھولیں، طعنہ نہ دیں، آواز بلند نہ کریں اور ہر بات کو خاندان کے سامنے نہ لے جائیں، معاملہ قابو سے باہر ہو تو سمجھ دار اور غیر جانب دار افراد کی مدد لی جا سکتی ہے، قرآن کریم نے میاں بیوی کے شدید اختلاف کی صورت میں دونوں خاندانوں سے ایک ایک سمجھ دار شخص کو ثالث بنانے کی رہنمائی دی ہے، صلح عزت کی کمی نہیں بلکہ عقل مندی ہے۔ ساس بہو یا بھائی بھائی کے اختلاف میں بھی گھر کے بڑوں کو کسی ایک فریق کا وکیل بننے کے بجائے انصاف سے کام لینا چاہیے، کسی کی بات سنے بغیر فیصلہ کر دینا، ایک کی شکایت دوسرے تک پہنچانا، بات کو بڑھانا اور گھر کے ہر فرد کو فریق بنا دینا فساد کو بڑھاوا دیتا ہے، گھروں میں دینی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ایسا ماحول جس میں صرف عبادات کی تلقین نہ ہو بلکہ اخلاق بھی سکھائے جائیں، بچوں کو قرآن پڑھانے کے ساتھ یہ بھی بتایا جائے کہ بہن سے کیسے بات کرنی ہے؟ والدین کا احترام کیا ہے؟ پڑوسی کا حق کیا ہے؟ بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کیسے کرنا ہے؟ اور اختلاف کے باوجود زبان کو قابو میں کیسے رکھنا ہے؟ گھر میں سلام کو عام کرنا، ایک دوسرے کے لیے دعا کرنا، موقع بہ موقع تحفہ دینا، بیمار کی عیادت کرنا، خوشی میں شریک ہونا اور غم میں سہارا دینا محبت کو دوبارہ زندہ کرسکتا ہے، آج جس بھائی سے ہم ناراض ہیں، ممکن ہے کل وہی ہماری ضرورت کے وقت سب سے پہلے ہمارے ساتھ کھڑا ہو؛ جس ماں کی بات ہمیں آج ناگوار لگ رہی ہے، ممکن ہے کل اس کی آواز سننے کو ہم ترس جائیں؛ جس باپ سے ہم اختلاف کر رہے ہیں، ممکن ہے کل اس کا سایہ ہمارے سر پر نہ رہے، رشتوں کو عدالت، تھانے یا لوگوں کی مجلس تک پہنچانے سے پہلے گھر کے اندر بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے، جہاں بات چیت سے مسئلہ حل نہ ہو وہاں کسی دیانت دار، سمجھ دار اور غیر جانب دار شخص کی مدد لینے میں کوئی عار نہیں، ان ہی گھریلو مسائل کے حل کے لیے فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر گزشتہ تقریباً چار برس سے خاندانوں کی رہنمائی اور تنازعات کو سلجھانے کا کام کر رہا ہے، دیندار، ماہر اور تجربہ کار کاؤنسلرز کی نگرانی میں سینکڑوں خاندانی تنازعات میں فریقین کی بات سنی گئی، غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی اور جہاں ممکن ہوا وہاں بکھرتے رشتوں کو دوبارہ جوڑنے کی راہ نکالی گئی، متعدد میاں بیوی کے درمیان دوبارہ اعتماد پیدا ہوا، بھائی بھائی کی ناراضگی ختم ہوئی اور باپ بیٹے کے درمیان پیدا ہونے والی دوریاں کم ہوئیں، ایسے معاملات میں مقصد کسی ایک کو جتانا نہیں بلکہ خاندان کو ٹوٹنے سے بچانا اور فریقین کو ایک دوسرے کی بات سمجھنے کا موقع دینا ہوتا ہے، بعض اوقات انسان اپنے گھر والوں کے سامنے اپنی پریشانی بیان نہیں کر پاتا، لیکن ایک غیر جانب دار اور سمجھ دار مشیر کے سامنے وہ اپنے دل کی بات کہہ دیتا ہے، جس سے مسئلے کی اصل وجہ تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے، گھر کا ایک جھگڑا اگر وقت پر سلجھا لیا جائے تو پورے خاندان کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکتا ہے، ہمیں اپنے گھروں میں ایسے رویوں کی ضرورت ہے جن سے دل قریب ہوں، فاصلے نہ بڑھیں؛ غلطی پر اصلاح ہو، ذلت نہ ہو؛ اختلاف میں گفتگو ہو، شور نہ ہو؛ اور رشتہ کمزور ہونے لگے تو اسے چھوڑ دینے کے بجائے سنبھالنے کی کوشش کی جائے، اللہ تعالیٰ نے رشتوں کو انسان کی زندگی کا حصہ بنایا ہے، انہیں آزمائش بھی بنایا اور اجر کا ذریعہ بھی، اس لیے گھر کو سکون دینے کا کام کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں، شوہر بھی ذمہ دار ہے، بیوی بھی، ماں بھی، باپ بھی، اولاد بھی، بہن بھائی بھی ، جب ہر شخص اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرے گا تو بہت سے وہ جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں جنہیں ہم برسوں سے قسمت، مزاج یا حالات کا نام دے کر برداشت کر رہے ہوتے ہیں، اللہ ہمیں سکون والا ماحول میسر فرمائے، ایک دوسرے کو سمجھنے کی توفیق دے آمین۔
(مضمون نگار معروف عالم دین، مشہور مذہبی اسکالر، معلم حجاج، شریعہ ایڈوائزر، مصنف، کالم نگار ، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)
Mufti Ashfaq Kazi

Related posts

پہلا دو روزہ کل نیپال مسابقہ حفظ قرآن کریم کا پہلا دن اختتام پذیر 

Paigam Madre Watan

हीरा ग्रुप की जाँच कर रही एसएफआईओ की सूची पर सवालों के बावजूद ईडी प्रॉपर्टीज़ की नीलामी पर कायम

Paigam Madre Watan

علم حدیث و فقہ کی دنیا میں ایک عظیم علمی تحفہ! بلوغ المرام من أدلّة الأحكام (اردو ترجمہ وشرح)

Paigam Madre Watan