تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب، زبانوں، تہذیبوں اور ثقافتوں کا ملک ہے۔ اس ملک کی اصل طاقت اس کی تکثیری شناخت، آئینی مساوات اور ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس“ جیسے وعدوں میں مضمر ہے۔ لیکن گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے حوالے سے جو سیاسی، سماجی اور انتظامی بحث پیدا ہوئی ہے، اسے نظرانداز کرنا نہ حکومت کے لیے مناسب ہے اور نہ ہی جمہوریت کے لیے۔یہ مضمون کسی مذہب یا کسی طبقے کے خلاف نہیں بلکہ ریاستی پالیسی، سیاسی بیانیے، نفرت انگیز تقاریر، قانون کے یکساں اطلاق اور شہری مساوات کے سوال پر ایک صحافتی و تجزیاتی مطالعہ ہے۔2014 میں نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے مرکز میں حکومت قائم کی۔ حکومت کی جانب سے ترقی، شمولیت اور سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کا پیغام دیا گیا۔ بعد کے انتخابات میں بھی ترقی، قومی سلامتی، فلاحی اسکیمیں اور مضبوط قیادت اہم موضوعات رہے۔لیکن دوسری جانب انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے اس عرصے میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ہیومن رائٹس واچ نے اپنی 2025 کی رپورٹ میں کہا کہ 2024 کے انتخابی ماحول میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز سیاسی بیانات سامنے آئے اور بعض بی جے پی حکومتوں میں مسلمانوں کے گھروں، کاروبار اور عبادت گاہوں کو قانونی کارروائی کے نام پر منہدم کیے جانے پر سوالات اٹھے۔ تنظیم نے ان کارروائیوں میں بعض مواقع پر ”کسی برادری کو اجتماعی سزا دینا“ جیسے خدشات بھی ظاہر کیے۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر حکومت واقعی سب کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم رکھتی ہے تو اقلیتوں کے ایک بڑے طبقے کے اندر مسلسل عدم تحفظ اور سیاسی بے دخلی کا احساس کیوں پیدا ہو رہا ہے؟اس سوال کا جواب محض سیاسی نعرے سے نہیں بلکہ عملی حکمرانی سے دینا ہوگا۔
مسلمان بھارت کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، لیکن موجودہ مرکزی حکومت میں مسلم سیاسی نمائندگی انتہائی کم ہے۔وزیر اعظم کی سرکاری ویب سائٹ پر 25 جولائی 2026 تک کی مرکزی وزارتوں کی فہرست موجود ہے۔ اس فہرست میں کوئی مسلم وزیر شامل نہیں دکھائی دیتا، جبکہ اقلیتی امور کی وزارت کی سربراہی کیرن رجیجو کر رہے ہیں۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مسلمان آئینی طور پر کسی وزارت یا عہدے کے حق دار ہیں، کیونکہ وزارتی تقرری سیاسی اور پارلیمانی عمل کا حصہ ہے۔ لیکن ایک جمہوری ملک میں آبادی کے مختلف طبقات کی سیاسی آواز اور فیصلہ سازی میں نمائندگی ایک اہم جمہوری سوال ضرور ہے۔خاص طور پر اس وقت جب حکومت خود ”سب کا ساتھ“ کی بات کرتی ہو، تو یہ جائز سوال اٹھتا ہے کہ ملک کی بڑی مذہبی اقلیت کی سیاسی نمائندگی اتنی محدود کیوں ہے؟یہ سوال کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے معیار کے حوالے سے ہے۔اقلیتی امور کی وزارت کا مقصد صرف کسی ایک مذہب کے معاملات دیکھنا نہیں بلکہ ملک کی مسلم، عیسائی، سکھ، بدھ، پارسی اور جین اقلیتوں سے متعلق فلاحی، تعلیمی اور ترقیاتی امور کو آگے بڑھانا ہے۔سرکاری وزارت کی ویب سائٹ کے مطابق اس وزارت کے تحت مختلف اقلیتی فلاحی پروگرام، تعلیمی اقدامات، حج سے متعلق ادارے، اقلیتی مالیاتی ادارے اور دیگر پروگرام کام کرتے ہیں۔اس لیے اصل مسئلہ وزیر کا مذہب نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کیا اقلیتوں کو حقیقی معنوں میں مساوی مواقع، تعلیم، روزگار، تحفظ اور فیصلہ سازی میں اعتماد حاصل ہے؟اگر کسی اقلیت کو یہ محسوس ہو کہ حکومت اس کی بات سننے کے لیے تیار نہیں، تو جمہوری حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس احساس کو دور کرے۔
کسی بھی جمہوریت میں سیاسی اختلاف فطری چیز ہے، مگر مذہبی شناخت کو سیاسی نفرت کا ذریعہ بنانا انتہائی خطرناک ہے۔رائٹرز نے فروری 2024 میں "بھارت نفرت تحقیقی مرکز” کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ 2023 میں بھارت میں مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر کے 668 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں تقریباً 75 فیصد واقعات بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار ایک تحقیقی گروپ کے ہیں، حکومت کے سرکاری اعداد و شمار نہیں، اس لیے انہیں اسی حیثیت سے دیکھنا چاہیے۔ہیومن رائٹس واچ نے بھی 2024 کے انتخابی ماحول میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات پر تشویش ظاہر کی۔یہاں حکومت اور سیاسی جماعتوں دونوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ واضح کریں:کیا انتخابی فائدے کے لیے مذہبی جذبات کو بھڑکانا جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے یا معاشرے کو تقسیم کرتا ہے؟اگر کسی جماعت کا کوئی کارکن یا رہنما مسلمانوں، عیسائیوں یا کسی دوسرے مذہبی طبقے کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرتا ہے تو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ وہ اس کا ذاتی بیان ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں اور نمائندوں کے طرز عمل کے بارے میں واضح اخلاقی اور قانونی معیار قائم کرنا چاہیے۔
گزشتہ برسوں میں ”بلڈوزر جسٹس“ ہندوستانی سیاسی مباحثے کا ایک نمایاں موضوع بن گیا۔ مختلف بی جے پی حکومتوں میں ایسے مکانات اور املاک گرائے گئے جن کے مالکان یا مکینوں پر جرائم یا تشدد میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔حکومتوں کا موقف رہا ہے کہ کارروائی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف تھی، جبکہ ناقدین نے الزام لگایا کہ بعض کارروائیوں میں مسلمانوں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا گیا۔نومبر 2024 میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ صرف کسی شخص کے جرم کا ملزم ہونے کی بنیاد پر اس کا گھر منہدم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے ملک بھر کے لیے کارروائی سے پہلے نوٹس، جواب کا موقع اور دیگر قانونی تقاضوں سے متعلق رہنما اصول وضع کیے۔یہ فیصلہ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کا مسئلہ ہے۔اگر ایک شخص ملزم ہے تو عدالت اسے مجرم قرار دے گی۔ انتظامیہ عدالت کا متبادل نہیں بن سکتی۔اور اگر کسی مکان میں کئی افراد رہتے ہیں تو ایک فرد کے مبینہ جرم کی سزا پورے خاندان کو دینا آئینی انصاف کے بنیادی تصور سے متصادم ہوگا۔
اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے جرائم کے خلاف سخت کارروائی، قانون و نظم اور مافیا کے خلاف اقدامات کو اپنی حکمرانی کا اہم حصہ بنایا ہے۔حکومت اپنے اقدامات کو قانون و نظم کی بحالی سے تعبیر کرتی ہے، جبکہ ناقدین کا الزام ہے کہ بعض کارروائیوں میں مذہبی اور سیاسی تعصب کا خطرہ موجود رہا ہے۔2024 میں اترپردیش اسمبلی نے غیر قانونی مذہبی تبدیلی کے قانون میں مزید سخت دفعات منظور کیں۔ حکومت نے اسے جبری یا دھوکے سے مذہبی تبدیلی روکنے کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کا غلط استعمال مذہبی آزادی اور بین المذاہب تعلقات کو متاثر کرسکتا ہے۔اسی طرح مدارس کے معاملے میں بھی شدید سیاسی اور قانونی بحث ہوئی۔ 2024 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اترپردیش مدرسہ قانون کو غیر آئینی قرار دیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور بعد میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ اس پورے معاملے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذہبی تعلیم اور اقلیتی اداروں کے معاملات میں ریاستی پالیسی کتنی حساسیت کا تقاضا کرتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان طویل عرصے سے بی جے پی سے سیاسی طور پر بڑی تعداد میں دور رہے ہیں۔ یہ فاصلہ صرف ایک انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ تاریخی سیاسی تجربات، نظریاتی اختلافات اور موجودہ سیاسی بیانیے سے بھی جڑا ہوا ہے۔لیکن یہاں ایک اہم اصول سامنے آتا ہے:حکومت صرف اپنے ووٹروں کی نہیں ہوتی؛ حکومت ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جنہوں نے اسے ووٹ نہیں دیا۔جمہوریت میں عوام کو حکومت پسند ہو یا نہ ہو، ریاست سب کے حقوق کی محافظ رہتی ہے۔اگر مسلمانوں کا بڑا طبقہ کسی سیاسی جماعت کو ووٹ نہیں دیتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اس طبقے سے سیاسی رابطہ ختم کردے۔ بلکہ ایک سمجھ دار حکومت کو ایسے طبقے کے خدشات دور کرنے، اس کے ساتھ مکالمہ بڑھانے اور اعتماد بحال کرنے کی زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔ہمارے معاشرے میں یہ تصور عام رہا ہے کہ عوام اگر انتشار کا شکار ہوں تو حکمران کا فرض ہے کہ انہیں متحد کرے۔اسی تصور کو اگر آج کے ہندوستان پر لاگو کیا جائے تو سوال یہ بنتا ہے کہ اگر ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے خوف، شک یا نفرت کی کیفیت میں مبتلا ہوجائیں تو حکومت کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ایک مضبوط ریاست کی پہچان یہ نہیں کہ اکثریت کو طاقتور بنا دیا جائے؛ بلکہ یہ ہے کہ کمزور اور اقلیتی طبقے کو بھی یہ یقین ہو کہ قانون اس کا محافظ ہے۔
مسلمانوں کے مسائل کا سارا ذمہ حکومت پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔مسلم معاشرے کو بھی تعلیم، اقتصادی ترقی، سیاسی شعور، قانونی آگہی، خواتین کی تعلیم، جدید ہنر، کاروباری ترقی اور آئینی حقوق کے استعمال پر توجہ دینی ہوگی۔مسلمانوں کو بھی جذباتی سیاست، افواہوں، اشتعال انگیز زبان اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے بچنا ہوگا۔اگر کوئی خبر ملے تو پہلے اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔ اگر کسی پر الزام ہو تو عدالت کا فیصلہ آنے تک اسے مجرم قرار دینا درست نہیں۔ اور اگر کسی دوسرے مذہب کے خلاف نفرت پھیلائی جائے تو مسلمان سمیت ہر ہندوستانی شہری کو اس کی مخالفت کرنی چاہیے۔
کوئی ملک اس وقت تک حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ نہیں بن سکتا جب تک اس کے تمام شہری خود کو اس ترقی کا حصہ محسوس نہ کریں۔مسلمانوں کی ترقی کا مطلب صرف مسلمانوں کی ترقی نہیں؛ اس کا مطلب ہندوستان کی ترقی ہے۔اسی طرح ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں، بدھوں، جینیوں، پارسیوں اور دیگر تمام طبقات کی ترقی ہندوستان کی مجموعی ترقی ہے۔ایک کمزور اقلیت، کمزور جمہوریت کی علامت بن سکتی ہے؛ جبکہ ایک محفوظ اقلیت مضبوط جمہوریت کی علامت ہوتی ہے۔حکومت سے چند بنیادی سوالات:آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سے جذباتی نہیں بلکہ آئینی اور جمہوری سوال پوچھے جائیں:کیا ہر شہری کو مذہب سے بالاتر ہوکر برابر تحفظ حاصل ہے؟کیا قانون کا اطلاق تمام مذہبی اور سیاسی طبقات پر یکساں ہے؟کیا نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی سیاسی وابستگی سے آزاد ہے؟کیا اقلیتوں کے اندر بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کو دور کرنے کے لیے موثر مکالمہ موجود ہے؟کیا مسلمانوں کی سیاسی اور انتظامی نمائندگی پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے؟کیا ترقیاتی اسکیموں کا فائدہ تمام شہریوں تک یکساں پہنچ رہا ہے؟کیا کسی شخص کے خلاف کارروائی عدالت کے فیصلے سے پہلے سزا کی شکل اختیار تو نہیں کررہی؟یہ سوال کسی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے نہیں بلکہ حکومت کو مزید جواب دہ بنانے کے لیے ہیں۔
آج ہندوستان کو کسی ایک مذہب کے غلبے سے زیادہ آئین کی بالادستی، قانون کی یکساں عمل داری اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہے۔مودی حکومت ہو یا یوگی حکومت، کانگریس کی حکومت ہو یا کسی دوسری جماعت کی—اصول ایک ہونا چاہیے:حکومت کی نظر میں شہری پہلے ہندوستانی ہے، اس کے بعد اس کی مذہبی یا سیاسی شناخت آتی ہے۔اگر کوئی مسلمان جرم کرتا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے؛ اگر کوئی ہندو جرم کرتا ہے تو اسے بھی وہی سزا ملنی چاہیے۔ اگر کوئی مسلمان نفرت پھیلاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اور اگر کوئی ہندو یا کسی بھی جماعت کا رہنما نفرت پھیلاتا ہے تو اس کے خلاف بھی قانون یکساں طور پر حرکت میں آنا چاہیے۔
یہی سیکولر جمہوریت کی روح ہے۔ہندوستان کی طاقت اس کے تنوع میں ہے۔ اس ملک کی ہر کمیونٹی ایک زنجیر کی کڑی کی مانند ہے۔ اگر ایک کڑی کمزور ہوگی تو پوری زنجیر متاثر ہوگی۔


