Blog

کانپور میں نیو شمع لیبارٹریز کے زیرِ اہتمام کامیاب CME پروگرام کا انعقاد! یونانی طب کے فروغ، سائنسی رہنمائی اور معالجین سے مؤثر رابطے کی جانب ایک اہم قدم!

کانپور میں نیو شمع لیبارٹریز کے زیرِ اہتمام کامیاب CME پروگرام کا انعقاد!

یونانی طب کے فروغ، سائنسی رہنمائی اور معالجین سے مؤثر رابطے کی جانب ایک اہم قدم!

 

نیو شمع لیبارٹریز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام Hotel Grand Geet، The Mall Road, Kanpur میں Continuing Medical Education (CME) پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
اس CME کا مقصد یونانی طب کے فروغ، معالجین کے ساتھ سائنسی و پیشہ ورانہ رابطے کو مضبوط بنانا، معیاری یونانی ادویات کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرنا اور جدید طبی تقاضوں کے مطابق مسلسل طبی تعلیم (CME) کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔
پروگرام میں ڈاکٹر عبداللہ خان، Business Development Manager نے نیو شمع لیبارٹریز کی طبی سرگرمیوں، معیاری یونانی ادویات اور معالجین کے ساتھ مضبوط پیشہ ورانہ روابط کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے CME جیسے علمی پروگراموں کو معالجین کے درمیان معلومات کے تبادلے اور یونانی طب کی سائنسی ترقی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
اس موقع پر جناب سید محمد فراحیم، Regional Sales Manager (RSM)، جناب محمد ماجد، Sales Officer (SO) Kanpur اور جناب محمد فیض، Sales Officer (SO) Varanasi بھی موجود رہے۔ ان کے علاوہ جناب راہل راوت Super، جناب ادریس احمد، Agency اور جناب محمد آصف، Agency نے بھی پروگرام میں شرکت کرکے اپنی خدمات اور تعاون پیش کیا۔
شرکاء نے CME پروگرام کو مفید اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے نیو شمع لیبارٹریز کی جانب سے اس نوعیت کے علمی و پیشہ ورانہ پروگراموں کے انعقاد کو سراہا۔
پروگرام کے اختتام پر تمام معزز شرکاء، معالجین اور ٹیم ممبران کا شکریہ ادا کیا گیا۔ نیو شمع لیبارٹریز (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یونانی طب کے فروغ، مسلسل طبی تعلیم اور معیاری صحت کی خدمات کے لیے مستقبل میں بھی ایسے علمی اور پیشہ ورانہ پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ان شاء اللّٰہ!

Related posts

Heera Group is coming out of tough times through struggle

Paigam Madre Watan

डॉ. नौहेरा शेख और हीरा ग्रुप के अधिकारों पर ध्यान देने की ज़रूरत है – एजेंसियों के काम और कथित असंतुलन पर गंभीर सवाल

Paigam Madre Watan

نئی دہلی میں طلبہ پر لاٹھی چارج: کیا نوجوانوں کی آواز سننے کے بجائے اسے دبایا جا رہا ہے؟

Paigam Madre Watan