Blog

شیخ عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ حیات وخدمات ۔ حافظ عبد المعبود ابن محمد رفیق سراجی

شیخ عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ حیات وخدمات۔

✍️
حافظ عبد المعبود ابن محمد رفیق سراجی ڈومریا گنج سدھارتھ نگر

نام ونسب۔آپ کا نام عبدالحمید اور والد کانام عبدالجبار اور آپ کی نسبت رحمانی ہے اور نیپال کےپاس ایک گاؤں( چوبے پور ) کے رہنے والے تھے
ولادت نشوونما ۔شیخ عبد الحمید رحمہ اللہ کی ولادت 1940ءبمطابق 1335ھ کو یوپی کے تیندوا نامی گاؤں میں ہوئی اور وہیں نشوونما پائی ۔
تعلیم و تربیت ۔شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ ہی میں حاصل کی جن مدارس سے کسب علم کیا ان میں بحر العلوم انتری بازار ،سدھارتھ نگر یوپی ،مدرسہ شمس العلوم سمراء( سدھارتھ نگر) معروف درسگاہ جامعہ سراج العلوم کنڈؤ بونڈیہار بلرام پور اور آخر میں اعلی تعلیم جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو ناتھ بھنجن یوپی جامعہ رحمانیہ بنارس یوپی اور جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ سعودی عرب سے حاصل کی آپ جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ سعودی عرب تأسیس کے بعد وہاں سے بیرونی ممالک سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والے اولین طلبہ میں سے ہیں وہاں آپ نے ہمیشہ اپنے تفوق علمی کا لوہا منوایا اور معروف مفتی اور عالم اسلام کی عظیم شخصیت امارت کے درجہ پر فائز علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کے پر خلوص مشورہ سے کلیۃ الدعوہ واصول الدین ۔میں عقیدہ اور دعوت کے تخصص کے لیے داخل ہوئے کلیہ کے آخری سال میں معروف عالم دین علامہ سید صدیق حسن خان قنوجی کی حیات وخدمات پر عربی زبان میں سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے ایک پر معزز اور علمی مقالہ پیش کیا اور دوسری بہت سی تنظیموں سے جڑے رہے اور اپنی علمی زندگی کو فروغ دیتے رہے۔
شیخ عبدالحمید رحمانی عالم اسلام کی نظر میں :
جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ سے فراغت کو تھوڑی ہی عرصہ گزرا تھاکہ وہ مفتی سعودی عرب اور وزارت شؤن اسلامیہ کے وزیر نیز علماء سعودیہ کے رئیس عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کے ہندوستان میں نمائندہ چن لیے گئے تھے فراغت کے بعد سعودی عرب کے شاہ فیصل رحمہ اللہ نے عبدالحمید رحمانی کو خط بھی لکھا کہ وہ سعودی حکومت کے داعی کے طور پر حکومت کے خرچ پر برازیل منتقل ہوجائیں لیکن شیخ عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ نے فیصل رحمہ اللہ کی خدمت میں فوراً یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ میں اپنے وطن عزیز ہندوستان ہی میں علمی خدمات انجام دینا چاہتا ہوں لہذا مجھکو یہیں رہنے دیا جائے ۔
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے امام شیخ علی حذیفی حفظہ اللہ اپنے اہم اور حساس مسائل میں شیخ محترم سے مشورہ لیا کرتے تھے رہی بات بیرون ممالک کے سفر کی تو آپ مکہ مدینہ کے علاوہ کویت،قطر،بحرین،امارات،امریکہ،برطانیہ،سری لنکا،ترکی،جارڈن ،نیپال،ہندوستان کے مختلف خطوں اور عالم اسلام کے دوسرے ممالک اور ان کی اہم اسلامی تنظیموں سے ان کے گہرے روابط تھے اور بہت سی جگہوں پر مختلف اداروں اور تنظیموں کا انہیں اعزازی ممبر بھی نامزد کیا گیا تھا۔
شیخ عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کا خطابت وصحابت۔
شیخ عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ دوسرے علوم و فنون کے ساتھ عوام وخواص کی نظر میں خطابت وصحابت کی وجہ سے بھی بہت مقبول تھے مرکزی جمعیت اہلحدیث ھند کی نظامت علیا کے دور میں اس کا مسلم پرسنل لا نمبر جسے عالمی طور شہرت اور مقبولیت ملی,, پنجاب وقف بورڈ کے ترجمان واوقاف کی نگرانی عربی رسالہ "صوت الجامعہ ، (موجودہ صوت الامہ )جامعہ سلفیہ بنارس اور مجلہ ”التوعیہ ،،نئی دہلی اور التبیان ،،نئی دہلی کا مکمل اشراف صحافتی تجربہ کی مثالیں ہیں اس عہد کے رسالوں سے ان کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ عرب دنیا کے بعض اخبارات اور رسائل نیز مجلات میں ان کے مضامین اور انٹرویو بھی شائع کیے گئے ۔
تاریخ أہل الحدیث کے موضوع پر خطابت میں تو شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ کو جو قدرت اور کمال حاصل تھا اس کی مثال ہندوستان میں نہیں ملتی ،بسااوقات سات سات گھنٹے تک ان کی تقریر کا سلسلہ چلتا رہتا اور اب سے پندرہ برس پہلے تک وہ جب بھی کسی علاقہ میں خطاب کے لیے تشریف لے جاتے تھے تو دیہاتی علاقوں میں لوگ دوروز پہلے ہی اپنی بیل گاڑیوں اور سواریوں کے ساتھ راستوں کے دونوں جانب استقبال اور تقریر سننے کے لیے جگہ کی تعیین کے لیے پہلے سے موجود ہوا کرتے تھے ،انکے قائم کردہ ادارہ کی جامع مسجد ابوبکر صدیق جوگابائی میں چند سال قبل تک ان کا خطبہ جمعہ جس میں وہ شرعی دلائل کے ساتھ عالمی حالات پر بھی واضح موقف پیش کرتے تھے اور اسے سننے کے لئے دہلی سے باہر تک کے افراد آیا کرتے تھے یہ بھی ان کی خطبات کا ایک عہد تھا جو ختم ہوگیا ‌۔وہ عربی اور اردو دونوں زبانوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے ‌تقریبابیس سال قبل محرم کے موقع پر جب ایک خطیب کے خطبہ کو نشانہ بناکر تحریکی جماعت کے بعض افراد نے شیعوں کا دفاع کیا شیخ عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ سے بھی الجھنے کی کوشش کی تو انہوں نے سلسلہ وار عقلانیت اور شیعیت پر نو خطبہ جمعہ دئیے دلائل اور انداز بیان ایسا مناظراتی ہوا کرتا تھا کہ سب کے چکھے چھوٹ گئے بالآخر فریق مخالف کو ندامت کا سامنا کرنا پڑا اور حق واضح ہوا ۔
سیاسی دنیا اور شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ:
سن 1977ء میں مسنراندرا گاندھی کی نافذ کی ہوئی ایمر جنسی کے خلاف بابو جگجیون رام اور ہیم وتی نندن بہوگنا کی بغاوت کے دور میں بعض احباب کے ساتھ عبد الحمید رحمانی رحمہ کاخاصا کردار رہا ہے وہ بہو گنا وغیرہ کے ساتھ تھے اور مسلمانوں کے حق میں پوری جدوجہد کر رہے تھے علی گڑھ فسادات کے موقع پر حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی انکو ائری کمیٹی میں شامل سابق نائب صدر جمہوریہ کرشنا کانت وغیرہ نے انکو علی گڑھ فسادات میں اختیار دے دیا کہ فریقین سے گفتگو کرکے کسی بھی طرح حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کریں جنتا پارٹی کی مائنارٹی کمیٹی اور جج ایڈوائزرس بورڈ کے وہ رکن بھی رہے ۔
سیاسی دنیا کے مختلف افراد سے ان کی شناسائی اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کاسلسلہ انکے مزاج کے خلاف تھا لیکن کچھ دنوں تک وہ اس میں رہے اور بڑی سیاسی شخصیات نے ان کو قریب رکھنے کی کوشش بھی کیں لیکن چونکہ یہ ان کے مزاج کے خلاف تھا لہذا گوارا نہیں کیا بعد کے ادوار میں سیاسی دنیا کے اہم لوگ مختلف مناسبات سے انہیں بلانے کی کوشش بھی کرتے رہے لیکن انہوں نے شرکت پر غور ہی نہیں کیا ،ان کی ملاقاتیں عالم اسلام کی سیاسی شخصیات سے بھی رہیں ایک مرتبہ ان کی ملاقات سعودی عرب میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے ہوئی اور پاکستان کے حالات پر گفتگو کے دوران نواز شریف نے ہندوستانی مسلمانوں کا حال پوچھا ،تو انہوں نے صاف الفاظ میں جواب دیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت پاکستانی مسلمانوں سے بہت بہتر ہے ۔
اسے کہتے ہیں اصلی ہندوستانی اور لیڈر ۔
ابتلاء و آزمائش شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ
شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ کی پوری زندگی ابتلاء اور آزمائشوں سے بھری پڑی تھی ،خاندان پر زمینداروں کے مظالم اور زمینوں پر غاصبانہ قبضہ تعلیم کے حصول میں بے شمار مشقتیں ،دادی رحمہا اللہ اور چچاؤں کے ذریعہ گھر کے خرچ سے بچت کرکے کسی طرح دادی کا ایک بکری خریدنا اور اسے بھی بعض شرپسندوں کا اٹھا لیجانا ،جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ کے دور میں گھر میں آگ لگنے کا واقعہ اور مدینہ سے گھر کے لیے بھیجی گئی رقم کو ایک طالب علم کا ایک لمبی مدت تک غصب کر لینا ،مدینہ سے فراغت کے بعد جامعہ سلفیہ بنارس میں تدریس کے دور کی آزمائشیں اور پھر مرکزی جمعیۃ اہلحدیث کی ذمہ داری کے عہد کا آزمائشی دور اور اسی دوران مدرسہ ریاض العلوم میں واقع مرکزی جمعیت کے دفتر میں انکے ساتھ ناروا سلوک مئی سن 1974ء میں مرکزی جمعیت کے نظامت کے دور میں ان پر قاتلانہ حملہ جس میں حملہ آور نے ان کے سینے پر وار کرنے کی کوشش کی اور کامیاب نہ ہوسکا تو اسکا چاقو ان کی ران کو زخمی کرگیا ،وہ تانگے پر تھے اور جمعہ کا خطبہ دے کر نکل رہے تھے پھر دوبارہ حملہ ہوا اور اللہ ربّ العالمین نے بچالیا ،آخر کار ہاسپٹل میں ایڈمٹ کئے گئے وہاں بدتمیزیاں ہوئیں اور شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ نے دونوں ہاتھوں کا سہارا لیکر ہاسپٹل عملہ کے ایک ملازم پر پیر سے وار بھی کیا اور یہ ثابت کردیا کہ مسلمان اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا حالات ایسے ہوگئے کہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں ان کی صلوٰۃ جنازہ غائبانہ بھی پڑھ لی گئیں ان سب اذیتوں اور مصیبتوں کو جھلینے کے بعد انہوں نے علمی کاموں اور مدارس کے قیام پر توجہ دی اور پورے ہندوستان میں دینی خدمات کا ایک عظیم جال بچھا دیا آخر کار اس پوری داستان سے اکتا کر انہوں نے سیاسی دنیا میں قدم رکھا ،یہ سب وہ حقائق ہیں کہ اگر ان کی تفاصیل جمع کی جائیں تو ایک طوفان کھڑا ہوسکتا ہے ،الغرض وہ جہاں بھی رہے حسد اور آزمائشوں کا شکار رہے ۔
خدمات۔شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ:
شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ نے عالمی پیمانے کی جو خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں ،بے شمار ممالک میں سلگتے موضوعات پر کانفرنسوں میں شرکت ،جلسوں اور پروگراموں میں تقریریں ،یومیہ اور ہفتہ واری درس وتدریس اور مباحثات ،بنارس کےبعد مناظرات اور سن ١٩٧٢ء میں جمعیت اصلاح المسلمین کے بالمقابل جمعیت شباب المسلمین بنارس کا قیام اوراس کے پلیٹ فارم سےسنت کا دفاع کیا جس میں انہوں نے نہایت جامع انداز سے اسلامی کازکا دفاع کیا اور مخالف کو خاموش کر دیا جس کے اثرات اب تک محسوس کیے جاتے ہیں اور بعض مناظراتی تقریریں نیز خطبات جمعہ اور اپنے وسیع تعلقات کی بنیاد پر اقلیات بالخصوص مسلمانوں کی خدمت وغیرہ ۔
نیز آپ نے جامعہ دارالسلام عمر آباد کے لیے بھی شروع کے دور میں کافی جدوجہد کی، اور ایک لمبی مدت تک اس کے ایڈوائزری ممبر رہے اور مرکزی دار العلوم جامعہ سلفیہ بنارس کے مادی وعلمی تعاون کے لیے بھی انہوں نے کئی دور ے کئے‌اور عرب دنیا اور ہندوستان سے اس کے لیے تعاون حاصل کیا۔
اخلاق وکردار شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ:
شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ آخری عمر تک مہمان نوازی اور صدقات و خیرات کی صفت میں معروف تھے انکے یہاں کوئی بھی آجائے اس کے لیے وہ ہر وقت تیار رہتے تھے اور سارے انتظامات کا ذمہ اٹھا لیا کرتے تھے بلکہ بہت سے ایسے مہمان بھی ہوتے تھے جنہیں دور سے آنے کی وجہ سے وہ ہدیہ کے طور پر آمدورفت کا خرچ بھی پیش کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے تھے ،مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ گھر میں بیسیوں مہمان کھانے پر مدعو ہوا کرتے تھے ان کے مزاج میں اپنوں کے لیے سختی تھی اجنبیوں سے وہ کبھی سخت اور کبھی نرم انداز میں تعامل کرتے تھے وہ منکرات اور برائیوں کو دیکھ کربرداشت نہیں کرسکتے تھے ۔ان کے مزاج میں اپنی غلطی کا اقرار کر لینے کی صفت بدرجہ اتم موجود تھی ان کی ایک صفت یہ بھی تھی کہ وہ بیمار پرسی ،عیادت اور تعزیت میں کبھی مخالف یا موافق کا لحاظ نہیں کرتے تھے ،بڑے بڑے مخالف کی عیادت انہوں نے کی اور ہمیشہ بالخصوص جماعتی افراد کے احوال سے متعلق ان کو مکمل اطلاع ہوا کرتی تھی ،ان کے مزاج میں تواضع اس حدتک تھا کہ لاعلمی کی صورت میں وہ طلبہ سےبھی علمی مسائل دریافت کرلیا کرتے تھے اور اسی تواضع کی بنیاد پر ان کی روداریوں کو بھی عملی شکل ملا کرتی تھی ۔
درس وتدریس ۔شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ
شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ کا جامعہ اسلامیہ مدینہ میں موجودہ عرب دنیا کی عظیم شخصیات کی نگاہ میں علمی مقام بیٹھ گیا ،جامعہ رحمانیہ بنارس سے فراغت کے بعد آپ وہیں جامعہ رحمانیہ بنارس میں مدرس کی حیثیت سے پڑھانے لگے اور اس کے بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ سے فراغت کے بعد آپ جامعہ سلفیہ ﴿مرکزی دار العلوم ﴾بنارس اور مدرسہ ریاض العلوم اردو بازار دہلی مرکزی جمعیت اہلحدیث ہنداور جامعہ دار السلام عمر آباد تاملنا ڈو اور دوسری بہت سی مدارس میں درس وتدریس دیتے رہے ۔
اساتذہ:شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ:
آپ نے بہت سے مشہور اساتذہ سے علم حاصل کیا ان کے چند نام یہ ہیں ۔شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ،علامہ عبداللہ بن حمید ،علامہ محمد ناصرالدین البانی ،شیخ عبد الغفار حسن رحمانی ،شیخ عبدالرؤف لبدی ،علامہ نذیر احمد رحمانی ،علامہ عبدالمبین منظر ،علامہ اقبال رحمانی بونڈیہار ،شیخ عبدالوحید رحمانی رحمہم اللہ اور ان کے علاوہ بہت سارے اساتذہ ہیں جن سے آپ نے علم حاصل کیا۔
تلامذہ ۔شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ :
آپ کے چند مشہور تلامذہ کے نام درج ذیل ہیں ۔شیخ محمد صالح بنارسی ،شیخ نیاز احمد بن عثمان مدنی ،شیخ مظفر الحسن مدنی،شیخ عبدالرقیب سلفی ۔
وفات:شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ:
آپ کے ٧٣سالہ زندگی میں لوگوں کو اپنا علم ونصیحت دیتے رہے پھر ١٩ /اگست کی صبح ناشتہ کرکے سو گئے نیند پھر نہیں کھلی اور بروز منگل ٢٠اگست سن ٢٠١٣ءبمطابق ١٤٣٥میں وفات پاۓ ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اللہ ہم تمام مسلمانوں کو اور شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ کو عذاب قبر سے بچاکر اپنی نعمتوں کی نوازش فرما اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے نیز عصر حاضر میں انکا نعم البدل عطاء فرما تاکہ جو جماعت میں خلا ہے وہ پورا ہوجائے ۔(آمین )
✍️ حافظ عبد المعبود ابن محمد رفیق سراجی ڈومریا گنج سدھارتھ نگر

Related posts

علم حدیث و فقہ کی دنیا میں ایک عظیم علمی تحفہ! بلوغ المرام من أدلّة الأحكام (اردو ترجمہ وشرح)

Paigam Madre Watan

خدارا! اس نفرت کی آندھی کو روکنا ہوگا – تحریر …. مطیع الرحمن عزیز

Paigam Madre Watan

ہیرا گروپ کی جانچ کر رہی ایس ایف آئی او کی فہرست پر سوالات کے باوجود ای ڈی پراپرٹیز کی نیلامی پر قائم

Paigam Madre Watan