Blog

اویسی مسلمانوں کو بھڑکاتے اور تقسیم کرتے ہیں : شاہی امام پنجاب

اویسی مسلمانوں کو بھڑکاتے اور تقسیم کرتے ہیں : شاہی امام پنجاب

 تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

شاہی امام پنجاب مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی کا ایک بیان آج کل سوشل میڈیا پر کافی گردش کر رہا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ ہمارے قوم کے نام نہاد لیڈر اویسی جیسے لوگ مسلمانوں کو صرف بھڑکاتے اور مشتعل کرتے ہیں، مگر کبھی مسلم مسائل پر وہ آگے بڑھ کر نہیں آتے۔ مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی نے کہا کہ ملک میں کئی مسجدیں شہید کی گئیں مگر اویسی کبھی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنے پر بیٹھنے نہیں پہنچے، مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی نے کہا کہ اویسی کو ووٹ تو چاہئے مسلمانوں کے دوسرے مضبوط مسلمان ایم پی، ایم ایل کو ہرانے کیلئے اور انہیں تقسیم کرکے کمزور کرنے کیلئے، لیکن مسلمانوں کے کسی مسائل پر کام کرتے ہوئے اویسی کو نہیں دیکھا گیا، شاہی امام پنجاب مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی غالبا اس بات سے بھی واقف ہوں گے کہ حیدر آباد میں درجنوں مساجد مسمار کی گئیں مگر اویسی کبھی ایک لفظ نہیں بولے، حیدر آباد اور تلنگانہ میں سیکڑوں آثار قدیمہ اور وقف کی مسجدیں تالہ بند ہیں مگر انہیں کھلوانے کی کوشش کبھی نہیں کی گئی، اس کے علاوہ ملک کے کئی بے گناہ نامور ہستیاں جیسے شرجیل امام ، عمر خالد اور خود ان کے شہر حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر نوہیرا شیخ وغیرہ جیسے لوگ جیلوں میں بلا خطا و قصور کے بند ہیں مگر اویسی ایک بیرسٹر ہونے کے باوجود کبھی اس نا انصافی پر عدالت نہیں پہنچے اور انہیں آزاد کرانے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی نہیں دئے، بلکہ اس سے دو چار قدم دور کی بات کریں تو اویسی کے ہی شہر سے تعلق رکھنے والی خاتون تاجرہ کو خود اویسی ہی جیل کراکے ان کی جائیدادیں نیلام کرنے اور اپنے سودی بینک کو پروان چڑھانے کیلئے ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی سود سے پاک تجارت اور کمپنی کو بند کرانے کی تگ و دو میں پیش پیش ہیں۔ شاہی امام پنجاب مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی کی بات صداقت سے لبریز ہے کہ اویسی بھڑکانے اور مشتعل کرنے کیلئے مسلم مسائل کو اپنی تقریروں میں بیان ضرور کرتے ہیں مگر کسی معاملے پر عملی جامہ پہناتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ شاہی امام پنجاب مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی کے اس بات میں کتنی صداقت ہے، آج اس مضمون پر اسی موضوع پر تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔
پنجاب کے شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی سے منسوب جو بیان ان دنوں سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ہے، جس میں اسدالدین اویسی کی سیاست اور مسلمانوں کے مسائل پر ان کے طرزِ عمل پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بیان میں بنیادی اعتراض یہ بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے بعض مسائل کو اپنی سیاسی تقریروں میں نمایاں کرنے اور جذباتی ماحول پیدا کرنے کے بجائے ان مسائل کے حل کے لیے عملی سیاسی و قانونی جدوجہد بھی سامنے آنی چاہیے۔ واقعی یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا صرف تقریر، احتجاجی بیان اور سیاسی جذبات مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کافی ہیں؟ سیاسی رہنماؤں سے یہ توقع فطری ہے کہ وہ پارلیمنٹ، عدالت، انتظامیہ، متعلقہ وزارتوں اور دیگر آئینی اداروں کے ذریعے بھی اپنے دعووں اور مطالبات کو آگے بڑھائیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کی کارکردگی کا جائزہ صرف تقریروں سے نہیں بلکہ اس کے پارلیمانی ریکارڈ، قانونی اقدامات، عوامی نمائندگی، تحریری مطالبات اور عملی سیاسی سرگرمیوں کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے، جو کہ اسد اویسی کے حق میں بالکل دکھائی نہیں دیتا ہے۔
اویسی ایک طویل عرصے سے مسلمانوں، اقلیتوں، شہریت، مساجد، وقف املاک اور دیگر موضوعات پر پارلیمانی و عوامی سطح پر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ اس لیے ان کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے “صرف تقریریں کیں اور کبھی کوئی عملی اقدام نہیں کیا” ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے مخصوص اور قابلِ تصدیق شواہد پیش کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر کسی رہنما پر یہ الزام لگایا جائے کہ وہ مسلمانوں کو جان بوجھ کر تقسیم کرکے کسی پوشیدہ سیاسی حلیف کو فائدہ پہنچاتے ہیں تو اس دعوے کے لیے الدین اویسی کے حرکات شواہدات کے لئے کافی ہیں، سابق وزیر اعلیٰ دہلی اروند کجریوال کی پریس کانفرنس جس میں انہوں نے اس بات کا دعوی کیا تھا کہ ”امت شاہ کے قریبی اور گجرات کے مشہور وکیل یتن اوجھا جو اکبر الدین اویسی اور امت شاہ کے درمیان رات کے تین بجے خفیہ میٹنگ میں موجود تھے، نے بتایا کہ امت شاہ اور اکبر الدین اویسی کے درمیان اس بات پر معاہدہ طے پایا کہ اویسی اور ان کی پارٹی ایم آئی ایم ہر اس جگہ پر اپنے امیدوار اتارے گی جہاں مسلمانوں اور اقلیتوں کے ووٹ نتیجہ خیز اور فیصلہ کن ہوتے ہیں، بات چیت میں طے پایا کہ اشتعال انگیز باتیں کرکے نفرتی ماحول کو گرم کرنا ہے اور اپنی تقاریر میں ان باتوں کا بارہا ذکر کرنا ہے جو امت شاہ کے دفتر سے ان تک پہنچائی جائے گی۔
اس کے علاوہ ایک سنجیدہ سوال بھی ضرور زیرِ بحث آ سکتا ہے کہ کیا مذہبی یا سیاسی جذبات کو ابھارنے والی تقاریر مسلم معاشرے کو متحد کرتی ہیں یا سیاسی تقسیم میں اضافہ کرتی ہیں؟ اس سوال کا جواب نعروں سے نہیں بلکہ انتخابی نتائج، سیاسی اتحاد، پارلیمانی کارروائی، قانونی جدوجہد اور زمینی سطح پر عوامی مسائل کے حل سے تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ خود شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی کی عملی سرگرمیوں کے متعدد اخباری حوالہ جات موجود ہیں۔ 2020ءمیں نائب شاہی امام کی حیثیت سے انہوں نے پنجاب کے اعلیٰ پولیس و انتظامی افسران سے ملاقات کرکے مذہبی بنیاد پر موصول ہونے والی شکایات ان کے سامنے پیش کی تھیں۔ بعد میں سیلاب متاثرین کے لیے جامع مسجد لدھیانہ اور احرار فاونڈیشن کی امدادی سرگرمیوں کا بھی ذکر سامنے آیا۔ اس پس منظر میں اصل بحث کسی ایک شخص کو اچھا یا برا قرار دینے کے بجائے یہ ہونی چاہیے کہ مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے تقریر، پارلیمانی سیاست، عدالتی جدوجہد، انتظامی رابطہ اور زمینی خدمت—ان سب میں سے کون سے راستے اختیار کیے جا رہے ہیں اور ان کے نتائج کیا ہیں؟
ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام بہت پرانا ہے، مشہور آئی پی ایس ٹیچر اودھ اوجھا اپنے ایک بیان میں کہتے ہیں کہ اویسی مسلمانوں کے لئے کسی طرح سے فائدہ بخش نہیں ہیں، ہاں البتہ اپنے خفیہ دوست بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے اویسی فائدہ بخش مانے جاتے ہیں، اویسی بظاہر مسلمانوں کی حمایت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے اشتعال انگیز تقریروں سے وہ غیر مسلم ہندو برادری بھارتیہ جنتا پارٹی کے پلیٹ فارم پر جمع ہوجاتے ہیں جو ابھی تک سیکولر اور بھائی چارہ میں یقین رکھتے تھے۔ اس بات کے شواہد اور ثبوت کیلئے اکبر الدین اویسی کا ہندو دیوی دیوتاﺅں کے خلاف اشتعال انگیز بات برسہا برس بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی دوست تنظیم آر ایس ایس نے ہندوبرادری کو دکھا کر اپنی جماعت میں شامل کرنے کا کام کیا، سونے پر سہاگا تب اور بڑھ جاتا ہے جب اکبرالدین اویسی کی اشتعال انگیز تقریر ”پندرہ منٹ پولس ہٹا دو“ کو آج بھی ہر بی جے پی حمایتی شخص اپنی موبائل میں رکھ کر لوگوں کو دکھاتے ہیں اور سیکولر پسند ہندو عوام کو اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں، ”پندرہ منٹ پولس ہٹا دو“ اکبرالدین اویسی کی تقریر کو دکھا کر آر ایس ایس اور اس کی حمایتی تنظیمیں ہندو نوجوانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ ”دیکھو ابھی یہ لوگ چند ایم ایل اے اور ایک ایم پی ہیں، کل کو جب یہ لوگ دس بیس کی تعداد میں ہوں گے تو ملک سے تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا“۔
ٍ مسلمانوں کو محض جذباتی نعروں یا سیاسی تقریروں کے بجائے ایسے سیاسی و سماجی طرزِ عمل کی ضرورت ہے جس میں اختلافِ رائے کے باوجود اتحاد، آئینی جدوجہد، قانونی راستہ، تعلیم، معاشی استحکام اور عملی خدمت کو اہمیت حاصل ہو۔ کسی بھی رہنما کے بارے میں فیصلہ اس کی تقریروں کے ساتھ ساتھ اس کے دستاویزی سیاسی و عملی ریکارڈ کو دیکھ کر کیا جانا چاہیے۔ یہی معیار اویسی پر بھی لاگو ہوتا ہے اور ان کے ناقدین پر بھی۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اویسی کے ممبرپارلیمنٹ حلقہ میں 9 کروڑ روپئے سرکار کی طرف سے ترقیاتی کام کرنے کو ملے تھے، مگر میڈیا رپورٹ کے مطابق اویسی اپنی تقریروں اور الیکشن ریلیوں میں اس قدر مست ہیں اور اشتعال انگیزی پھیلانے میں مصروف ہیں کہ عوام کی سہولت کیلئے ایک کروڑ روپئے کا بھی کام ان کے فنڈ سے نہیں ہو سکا۔ لہذا مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی کی باتوں کو مزید تقویت ملتی ہے کہ حقیقت میں اویسی اشتعال انگیز تقریر کرتے ہیں ، مسلمانوں کو اشتعال دلا کر تقسیم کا کام کرتے ہیں مگر جس کمیونٹی سے آتے ہیں ان کے لئے کام کرنے کی اویسی کے اندر دلچسپی ہرگز منظر عام پر دیکھی نہیں جا رہی ہے۔

Related posts

حضرت مولانا شفیق احمد صاحب القاسمی، اخلاص اور خدمتِ دین کا ایک روشن باب

Paigam Madre Watan

 جامعہ اسلامیہ فیض عام، مئو ناتھ بھنجن میں عظیم الشان علمی و تربیتی نشست کا انعقاد، جید علمائے کرام کی شرکت

Paigam Madre Watan

پروفیسر ارشاد بیاروی کی والدہ کی تعزیت میں جلسہ

Paigam Madre Watan