بھارت اور بھارتی مسلمان: تاریخ، تہذیب اور مستقبل
تحریر۔۔۔۔عبد الحمید خان
بھارت کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ ملک ہمیشہ سے مختلف مذاہب، زبانوں اور تہذیبوں کا مسکن رہا ہے۔ اس کثیر الثقافتی معاشرے میں مسلمانوں کی تاریخ تقریباً ایک ہزار سال پر محیط ہے۔ بھارتی مسلمان صرف ایک اقلیت نہیں بلکہ اس ملک کی تاریخ، معیشت، فن اور قومی شناخت کا ایک بنیادی اور ناقابلِ تنصیف حصہ ہیں۔ آزاد بھارت کی بنیاد ایک لبرل اور سیکیولر آئین پر رکھی گئی، جس کے اہم معماروں میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور مولانا ابوالکلام آزاد شامل تھے۔ آئینِ ہند کی دفعات، خصوصاً دفعہ 25 سے 30، ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی مکمل آزادی دیتی ہیں۔ بھارتی مسلمان کی سب سے بڑی طاقت اس کا آئینی فریم ورک ہے، جو اسے ایک مظلوم اقلیت کے بجائے برابر کے قومی شہری کا درجہ دیتا ہے، اور تمام تر سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود آئین اور عدلیہ ان کے حقوق کی پاسبانی کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔
تاریخی، دفاعی اور معاشی اعتبار سے مسلمانوں نے ملک کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بھارت کی مشترکہ گنگا جمنی تہذیب، لال قلعہ و تاج محل جیسے عظیم الشان فنِ تعمیر، موسیقی، کھانوں اور اردو زبان کے فروغ میں بنیادی حصہ لیا۔ 1857ء سے 1947ء تک مولانا ابوالکلام آزاد اور دیگر مجاہدینِ آزادی نے ملک کو آزاد کرانے میں بڑی قربانیاں دیں اور تقسیم کے وقت بھارت ہی کو اپنا حتمی وطن چنا۔ 1965ء کی جنگ کے شہید کمپنی کوارٹر ماسٹر ہولدار عبدالحمید اور بھارت کے "میزائل مین” و سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی خدمات ملک کی دفاعی تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔ اس کے علاوہ بنارسی ساڑھی، ہتھ کرگھا، برتن اور قالین کی روایتی صنعتوں سے لے کر جدید آئی ٹی، فارما اور بالی ووڈ تک مسلمانوں کا معیشت میں بڑا حصہ رہا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے مستقبل کو اگر صرف سیاسی نقطہٴ نظر کے بجائے سماجی، معاشی اور فکرِ عمل کی روشنی میں دیکھا جائے، تو ایک بالکل مختلف اور امید افزا تصویر سامنے آتی ہے۔ آنے والے وقت میں بھارتی مسلمانوں کا انحصار سیاسی جماعتوں یا سرکاری مراعات پر کم اور اپنی ذاتی صلاحیتوں پر زیادہ ہوگا۔ ماضی کی جذباتی اور روایتی سیاست کے بجائے اب ایک عملی فکر جنم لے رہی ہے جس میں مظلومیت کے بیانیے سے نکل کر آئینِ ہند کے دیے گئے قانونی راستوں اور عدالتی نظام کا سلیقے سے استعمال بڑھ رہا ہے، جبکہ علاقائی سطح پر صحت، تعلیم اور معاشی ترقی جیسے زمینی مسائل پر بات چیت اور شرکت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اس مثبت تبدیلی کے تحت نچلی اور درمیانی سطح کی سیاست کے بجائے تعلیم کو بنیادی ہدف بنایا جا رہا ہے، جہاں تکنیکی علوم، ڈیٹا سائنس، میڈیکل اور قانون کی پڑھائی مسلم نوجوانوں کے لیے نئے راستے کھول رہی ہے اور نجی شعبے و کارپوریٹ ورلڈ میں میرٹ کی بنیاد پر نوجوان اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ مستقبل کی قیادت اب محض روایتی یا مذہبی طبقے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ وکلائے کرام، سول سروسز کے افسران، ڈاکٹرز اور صنعت کار اب کمیونٹی کی رہنمائی اور قانونی تحفظ کے لیے آگے آ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مسلم خواتین کا تعلیم اور روزگار کے میدان میں آگے آنا ایک بڑا انقلابی قدم ہے جو آئندہ نسلوں کی تربیت اور معاشی استحکام کو نئی سمت دے رہا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کا آنے والا کل کتنا روشن ہوگا، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ نئی نسل وقت کے تقاضوں کو کس طرح سمجھتی ہے۔ چیلنجز اور سماجی کشیدگی کے باوجود مستقبل مایوس کن نہیں، بلکہ صلاحیت اور حکمت کے ذریعے ایک بہتر کل کی تعمیر ممکن ہے۔ آنے والے دنوں کو درخشاں بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ تعلیم اور معاشی خود کفالت ہے، اور جب مسلم نوجوان جذباتی بیانیوں کے بجائے سائنس، ٹیکنالوجی، طب، قانون اور بزنس کے میدان میں اپنی قابلیت ثابت کریں گے تو ان کی جگہ کو نظر انداز کرنا ناممکن ہو جائے گا کیونکہ نجی شعبے میں ہمیشہ ہنر کی قدر ہوتی ہے، مذہب کی نہیں۔ آئینِ ہند کی طاقت، قانون کی پاسداری، اور دیگر برادریوں کے ساتھ باہمی بھائی چارہ اور مکالمہ (Dialogue) مسلمانوں کے حقوق کی بہترین ضمانت ہیں۔ بھارت دنیا کی ایک بڑی معاشی قوت بننے کی راہ پر گامزن ہے، اور اس سفر میں مسلمانوں کا مستقبل ان کی قابلیت اور شراکت داری پر منحصر ہے۔ اگر قوم تعلیم، صبر، قانون کی پاسداری اور محنت کو مشعلِ راہ بنا کر آئینی راستے پر مضبوطی سے قائم رہے تو بھارت کی ترقی کے سفر میں مسلمانوں کا مستقبل یقیناً باوقار، کامیاب اور روشن ہوگا۔

