Blog

مملکتِ توحید، مرکزِ امتِ مسلمہ سعودی عرب کو قومی دن کی پُرخلوص مبارکباد

مملکتِ توحید، مرکزِ امتِ مسلمہ سعودی عرب کو قومی دن کی پُرخلوص مبارکباد

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

مملکتِ توحید، مرکزِ امتِ مسلمہ سعودی عرب، اس کے خادمین، اہلکاروں، رضاکاروں اور تمام باشندگانِ مملکت کو قومی دن کی پُرخلوص مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ دن صرف ایک ملک کے قومی تشخص اور اتحاد کی یاد کا دن نہیں، بلکہ ان تاریخی مراحل کو یاد کرنے کا موقع بھی ہے جن کے نتیجے میں جزیرۂ عرب میں ایک متحد اور مستحکم مملکت کا قیام عمل میں آیا۔ سعودی عرب کی سرزمین دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ محبت، عقیدت اور روحانی وابستگی کا مرکز ہے۔ اسی سرزمین پر مکہ مکرمہ واقع ہے، جہاں بیت اللہ شریف امتِ مسلمہ کے دلوں کا مرکز ہے، اور اسی سرزمین پر مدینہ منورہ ہے، جہاں مسجدِ نبوی ﷺ واقع ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان جب کعبة اللہ کی طرف رخ کرتے ہیں تو ان کے دل اس مقدس سرزمین سے ایک خاص روحانی رشتہ محسوس کرتے ہیں۔
مملکتِ سعودی عرب کی تاریخ میں توحید، اتحاد، استحکام اور تعمیرِ وطن کے مختلف ادوار گزرے ہیں۔ قیامِ مملکت کے سفر میں بے شمار مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کیا گیا، مگر عزم، استقامت اور مسلسل جدوجہد نے ایک منتشر خطے کو ایک متحد مملکت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج سعودی عرب عرب دنیا اور عالمی سطح پر ایک اہم ریاست کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہے۔ تاریخِ حرمین شریفین سے وابستہ واقعات میں ابرہہ کے لشکر کا واقعہ بھی مسلمانوں کے دینی شعور کا ایک اہم حصہ ہے۔ قرآنِ کریم نے اصحابِ فیل کے واقعے کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقدس گھر کی حفاظت پر قادر ہے۔ اسی یقین کے ساتھ مسلمان آج بھی بیت اللہ اور حرمین شریفین کی حفاظت، سلامتی اور عظمت کے لیے دعا کرتے ہیں۔
مملکتِ سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر ہماری سب سے بڑی خواہش اور دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سرزمین کو ہمیشہ امن، استحکام، خوشحالی اور سلامتی عطا فرمائے۔ حرمین شریفین کی خدمت کرنے والوں کو اپنی خاص رحمتوں سے نوازے، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت فرمائے، اور دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین کے لیے ان مقدس مقامات کو امن و اطمینان کا گہوارہ بنائے۔ آج جب دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ، کشیدگی، سیاسی اختلافات اور انسانی بحران موجود ہیں، ایسے ماحول میں امن اور استحکام کی قدر مزید بڑھ جاتی ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی صرف اس کے باشندوں کے لیے نہیں بلکہ حرمین شریفین سے قلبی وابستگی رکھنے والے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے بھی باعثِ اطمینان ہے۔ اسی لیے سعودی عرب کی خیر و عافیت کی دعا ہر اس مسلمان کے دل کی آواز ہے جس کے دل میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی محبت موجود ہے۔ ہم سعودی عرب کے عوام اور قیادت کے لیے قومی دن کے اس موقع پر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مملکت کو ترقی کی نئی منزلیں عطا فرمائے، اس کے امن و استحکام کو قائم و دائم رکھے، حرمین شریفین کی خدمت کو شرفِ قبولیت بخشے اور اس مقدس سرزمین کو ہر قسم کی آفت، فتنہ، فساد اور بیرونی خطرات سے محفوظ فرمائے۔
مملکتِ سعودی عرب آج صرف اپنے تاریخی، مذہبی اور روحانی مقام کی وجہ سے ہی دنیا کی توجہ کا مرکز نہیں، بلکہ تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت، جدید انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، سیاحت اور انسانی وسائل کی ترقی کے میدان میں بھی ایک نئے سفر پر گامزن ہے۔ سعودی وژن 2030 اسی وسیع تر قومی تبدیلی کا ایک اہم منصوبہ ہے، جس کے تحت ایک متنوع، مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ معیشت تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وژن 2030 کے بنیادی تصورات میں ”ایک متحرک معاشرہ، ایک ترقی کرتی ہوئی معیشت اور ایک پُرعزم قوم“ شامل ہیں۔ اس کے تحت سعودی عرب نے معیشت کو مختلف شعبوں میں وسعت دینے، نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، تعلیم و صحت کے نظام کو جدید بنانے اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس تبدیلی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ سعودی معیشت کو تیل کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ سعودی وژن 2030 کی 2024 کی سرکاری رپورٹ کے مطابق غیر تیل کی سرگرمیاں سعودی معیشت کے نصف سے زیادہ حصے کی نمائندگی کرنے لگی تھیں، جبکہ 2025 کی رپورٹ میں غیر تیل برآمدات 166 ارب ڈالر تک پہنچنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سیاحت کے شعبے میں بھی نمایاں توسیع دیکھی گئی ہے۔ سعودی عرب نے اپنے تاریخی، ثقافتی اور قدرتی مقامات کو عالمی سیاحوں کے لیے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ آنے والے حجاج و معتمرین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے بھی متعدد پروگرام شروع کیے ہیں۔ 2025 کی سرکاری رپورٹ کے مطابق بیرونِ ملک سے آنے والے عمرہ زائرین کی تعداد 18.03 ملین تک پہنچ گئی۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سعودی عرب کی ترقی کا تصور صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید شہروں اور بڑے منصوبوں تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ صحت، تعلیم، انسانی صلاحیتوں، رہائش، ڈیجیٹل خدمات اور معیارِ زندگی کو بھی وژن 2030 کے اہم حصوں میں شامل کیا گیا ہے۔ سرکاری وژن کے مطابق ”متحرک معاشرہ“، ”ترقی کرتی ہوئی معیشت“ اور ”پُرعزم قوم“ اس تبدیلی کے تین بنیادی ستون ہیں۔
حرمین شریفین کی سرزمین کے لیے ترقی کا یہ سفر اپنی ایک منفرد معنویت بھی رکھتا ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں حجاج، معتمرین اور زائرین کے لیے سہولتوں میں اضافہ، نقل و حمل کے نظام کی بہتری، صحت و سلامتی کے انتظامات اور ڈیجیٹل خدمات کا فروغ اس بات کی علامت ہے کہ مقدس مقامات کی خدمت کے ساتھ جدید انتظامی تقاضوں کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یوں سعودی عرب کی موجودہ ترقی کو اس کی تاریخی شناخت، مذہبی اہمیت اور مستقبل کی معاشی ضروریات کے درمیان ایک وسیع تر قومی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ وژن 2030 اسی تبدیلی کو ایک منظم سمت دینے کی کوشش ہے، جس کا ہدف 2030 تک ایک زیادہ متنوع معیشت، بہتر معیارِ زندگی اور عالمی سطح پر مزید مربوط سعودی عرب کی تعمیر ہے۔
اے اللہ! مملکتِ سعودی عرب کو امن و امان کا گہوارہ بنا، حرمین شریفین کی حفاظت فرما، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو اپنی خاص امان میں رکھ، وہاں آنے والے تمام حجاج، معتمرین اور زائرین کی حفاظت فرما، اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، اخوت، امن اور خیر و برکت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔ قومی دن کے اس پُرمسرت موقع پر ایک بار پھر مملکتِ توحید، مرکزِ امتِ مسلمہ سعودی عرب، اس کے عوام اور حرمین شریفین کے تمام خادمین کو دل کی گہرائیوں سے پُرخلوص مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مملکتِ سعودی عرب کو ہمیشہ امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے۔ آمین۔

Related posts

علماء ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے حوصلہ، جذبہ اور سبق حاصل کریں

Paigam Madre Watan

 ای ڈی اور اس کے حمایتی محکمہ جات ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی منظم تباہی کے مرکزی کردار

Paigam Madre Watan

علم حدیث و فقہ کی دنیا میں ایک عظیم علمی تحفہ! بلوغ المرام من أدلّة الأحكام (اردو ترجمہ وشرح)

Paigam Madre Watan