Blog

اردو میڈیا نے ثقافتی بیانیے کو سب سے زیادہ اجاگر کیا:مشتاق صدف – شعبۂ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام توسیعی خطبے کا انعقاد

اردو میڈیا نے ثقافتی بیانیے کو سب سے زیادہ اجاگر کیا:مشتاق صدف
شعبۂ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام توسیعی خطبے کا انعقاد

نئی دہلی 22؍ستمبر(پریس ریلیز): شعبۂ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی کے زیر اہتمام ’’عصر حاضر میں اردو میڈیا کا کردار‘‘ کے موضوع پر ایک توسیعی خطبے کا انعقاد کیا گیا جسے اردو زبان و ادب کے ممتاز شاعر، نقاد اور صحافی ڈاکٹر مشتاق صدف نے پیش کیا۔ جلسے کی صدارت پروفیسر کوثر مظہری نے فرمائی۔  ڈاکٹر مشتاق صدف نے توسیعی خطبے میں کہا کہ عصر حاضر میں اردو میڈیا نے پوری دیانت داری کے ساتھ ثقافتی بیانیے کو اجاگر کیا ہے۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود اردو میڈیا اردو زبان اور ہندوستانی تہذیب کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ ڈاکٹر صدف نے یہ بھی کہا کہ عوامی مسائل کے تدارک کے لیے اردو میڈیا کی کارکردگی اطمینان بخش ہے۔ عام شہری اور پسماندہ طبقات کی آواز کو اقتدار تک پہنچانے میں بھی اردو میڈیا اپناکلیدی کردار ادا کر رہا ہے، نیز زبان کے محاسن اور فکری روایات کو ڈیجیٹل دنیا میں بڑی تن د ہی سے منتقل بھی کر رہا ہے۔ انھوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اردو صحافت نے ادھر انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور موبائل ایپ کو اپنا کر جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کا ثبوت دیا ہے۔ مشتاق صدف ، جنھوں نے حال ہی میں سر سید اکیڈمی (اے ایم یو) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالی ہے،نے اپنے خطبے میں فیک نیوز، جھوٹی خبروں کی تشہیر، پروپیگنڈہ، سنسنی خیزی اور ریٹنگز و ویوز بٹورنے کے لیے یک طرفہ رپورٹنگ پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی جڑیں کمزور ہوں گی۔ ڈاکٹر مشتاق صدف نے اس بات پر زوردیتے ہوئے کہا کہ سرسید احمد خاں، مولانا محمد علی جوہر اور ابو الکلام آزاد نے اپنی صحافت سے ملک و قوم کی تعمیرو ترقی کے لیے جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، عصر حاضر کے اردو میڈیا کو بھی اس سے روشنی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
اپنی صدارتی تقریر میں صدر شعبۂ اردو پروفیسر کوثر مظہری نے ڈاکٹر مشتاق صدف کے خطبے کو بے حد معلوماتی اور پرمغز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو میڈیا کوچاہیے کہ وہ اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کے پیش نظر رائے عامہ کی تشکیل کے لیے خوشگوار فضا اور اظہار رائے کی آزادی کو مثبت رنگ عطا کرے۔
پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر جاوید حسن نے مہمان مقرر ڈاکٹر مشتاق صدف کا بھرپور تعارف پیش کیا اور نظامت کے فرائض بھی بحسن و خوبی ادا کیے۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شاہنواز فیاض کی تلاوت سے ہوا۔ آخر میں ڈاکٹر قرۃالعین نے سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر پروفیسر محمد علیم، پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر عمران احمد عندلیب، پروفیسر سرورالہدیٰ، پروفیسر شاہ عالم، ڈاکٹر خالد مبشر،ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر محمد مقیم،ڈاکٹر مخمور صدری،ڈاکٹر شاداب تبسم، ڈاکٹر خان رضوان، ڈاکٹر محمد آدم،ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر راحت افزا ، ڈاکٹر ثاقب فریدی اور ڈاکٹر روبینہ شاہین زبیری کے علاوہ شعبے ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

تصویر میں (دائیں سے): ڈاکٹر قرۃالعین، ڈاکٹر مشتاق صدف، پروفیسر کوثر مظہری اور ڈاکٹر جاوید حسن۔

Related posts

مساجد کا بطور لائبریری و اسٹڈی سینٹر استعمال : ذکی نور عظیم ندوی ۔ لکھنؤ

Paigam Madre Watan

مجلس اتحاد المسلمین کیا واقعی ایک ’’گودی پارٹی‘‘ بن چکی ہے؟ دو اہم رہنماؤں کی علاحدگی نے مجلس کی سیاست، حکمت عملی اور کردار پر سوال اٹھائے #محمد لقمان ندویؔ، ممبئی

Paigam Madre Watan

”تیار ہیں ہم“ کا نعرہ لگا کر کانگریس اقلیتی شعبے نے ’ بھارت جوڑو نیائے یاترا کی کامیابی کے لئے خم ٹھونکا

Paigam Madre Watan