تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
بلا علم و تحقیق کسی کی اندھی تقلید کرنا اندھ بھکتی کہلاتی ہے، اندھ بھکتی کا لفظ اس وقت سے رواج پذیر ہوا جب سے بی جے پی برسر اقتدار آئی، اسی وقت سے اسد اویسی بھی ملک گیر پیمانے پر منظر عام پر آئے، ملک کے کونے کونے میں انہوں نے الیکشن لڑنے کے نام پر نفرت پھیلائی، جس کا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ نے مکمل طریقے سے اٹھایا، وہ اس طرح سے کہ جو نفرتی اور متشدد تقاریر اسد اویسی نے کی، اس کو آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگوں نے ملک گیر پیمانے پر فرد فرد کو دکھایا اور نفرت پھیلانے کا کام کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہندو بھائی مسلمانوں سے نفرت کرنے لگے جو ابھی تک سنگھ اور بی جے پی کے جھانسے میں نہیں آئے تھے، معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ بھیڑ کے ذریعہ معصوم اقلیتوں کو قتل کیا جانے لگا اور پھل فروٹ و چھوٹے کاروبار کرنے والے مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا جانے لگا، قول ہے کہ ”انسان کے جسم کا سب سے اہم حصہ ’دل‘ ہے، اگر وہ صحت مند ہے تو پورا جسم صحت مند ہے اور اگر وہی ’دل ‘بیمار ہو گیا تو گویا سارا جسم بیمار ہے“۔ لہذا نفرت پنپنے لگی اور بولنے والے یعنی اویسی اور اس کے بیمار دل حمایتی اس کی حمایت میں پاگل پن میں اول جلول بکنے اور نفرت پھیلانے میں پیش پیش نظر آنے لگے، ملک کے غیور اور بااثر تعلیم یافتہ مفکرین کی جماعت نے اس نفرتی ماحول کی مخالفت کی، مگر اویسی اور بی جے پی کے حماییتوں نے مودی کی حمایت ’بھگوان ‘کی حمایت اور پاگلوں نے اویسی کی حمایت کو ’ایمان ‘کا حصہ قرار دینا شروع کردیا، جب کہ ان کم عقل نوجوانوں کو یہ نہیں معلوم کہ اویسی ایک سود سے ملین بینک چلاتا ہے اور حیدر آباد و نواحی خطوں کی مجبور ماﺅں اور بہنوں کے زیورات کو گروی رکھ کر ان کی قسطیں نا آنے کی صورت میں نیلام کرنے لگا، اس طرح ایمان کا تقاضہ تو یہ ہونا چاہئے کہ ”ایک سود خور اللہ اور اس کے رسول کا کھلا ہوا دشمن ہے“ لہذا ایک حمایتی بھی اسی سودخور کے زمرے میں آتا ہے جو سودخور کے لئے لکھتا، بولتا، گواہی دیتا یا حمایت کرتا ہے۔ اس طرح سے ملک اور دین و اسلام اور بھارت کی گنگا جمنی تہذیب کیلئے زہرِ ہلاہل کا کام کرنے والے کی حمایت اللہ و رسول کا دشمن اور خائن و منافق کی حمایت ایک پاگل ہی کر سکتا ہے، لہذا محمود مدنی صاحب کا قول کہ ”اویسی کے اندھے مقلدین ’پاگل‘ ہیں“ یہ بات بجا، جائز اور معقول معلوم ہوتی ہے۔
بھارتی سیاست میں اسدالدین اویسی اور ان کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی موجودگی اب محض حیدرآباد تک محدود معاملہ نہیں رہی۔ مختلف ریاستوں میں انتخابی میدان میں اترنے کے بعد اویسی کی سیاست پر ایک بنیادی سوال مسلسل اٹھتا رہا ہے: کیا ایم آئی ایم کی انتخابی حکمتِ عملی اپوزیشن کے ووٹوں کو تقسیم کرکے بعض حلقوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو بالواسطہ فائدہ پہنچاتی ہے؟ یہ سوال سیاسی مخالفین کی جانب سے بارہا اٹھایا گیا ہے، لیکن اس کا جواب محض نعروں سے نہیں بلکہ انتخابی اعداد و شمار، حلقہ وار نتائج اور ووٹوں کے فرق سے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ایم آئی ایم کو بعض اپوزیشن جماعتوں اور رہنماو ¿ں کی جانب سے ”ووٹ کٹر“ یا بی جے پی کی ”بی۔ ٹیم“ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ دوسری طرف اویسی اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی جماعت کو آئینی حق حاصل ہے کہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں انتخابات لڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایم آئی ایم کی انتخابی موجودگی بعض حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوئی ہے، لیکن ہر انتخاب میں اس اثر کو بی جے پی کی کامیابی کا براہِ راست سبب قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر انڈین ایکسپریٹ کی 2024 کی مہاراشٹر اسمبلی انتخابات سے متعلق ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق 2019 میں ایم آئی ایم کی موجودگی سے متاثر سمجھی جانے والی 13 قریبی نشستوں میں سات بی جے پی یا اس کے اتحادیوں اور چھ کانگریس-این سی پی اتحاد کے حصے میں گئی تھیں۔ یعنی تصویر اتنی سادہ نہیں کہ ایم آئی ایم کی موجودگی ہر جگہ لازماً بی جے پی کے حق میں گئی۔ اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ جب کسی حلقے میں کامیابی کا فرق چند ہزار ووٹ ہو اور ایم آئی ایم یا کسی دوسری جماعت کو حاصل ووٹ اس فرق سے زیادہ ہوں تو کیا ووٹوں کی تقسیم نے نتیجے کو متاثر کیا؟ ایسے ہر معاملے کا الگ انتخابی تجزیہ ضروری ہے۔
دہلی اسمبلی انتخابات کے حوالے سے بعض تجزیوں میں یہ نشاندہی کی گئی کہ کچھ مسلم اکثریتی یا مسلم ووٹرز کے اثر والے حلقوں میں ایم آئی ایم کے امیدواروں کی موجودگی سے ووٹ تقسیم ہوئے اور بعض جگہ بی جے پی کے امیدوار کو فائدہ پہنچا۔ منی کنٹرول کے ایک تجزیے میں مصطفیٰ آباد سمیت بعض حلقوں کا اسی تناظر میں جائزہ لیا گیا تھا۔ لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے: کسی انتخابی نتیجے کو صرف ایک جماعت کے امیدوار کی موجودگی کا نتیجہ قرار دینا مکمل سیاسی تصویر نہیں۔ امیدواروں کی مقبولیت، مقامی مسائل، اتحاد، ووٹر ٹرن آوٹ، دیگر جماعتوں کی مہم اور امیدواروں کے درمیان ووٹوں کا فرق بھی نتیجے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہاں سب سے اہم سوال اویسی کی حمایت یا مخالفت سے آگے بڑھ کر سیاسی شعور کا ہے۔ کسی بھی سیاسی رہنما کی حمایت اگر اس کی پالیسی، کارکردگی، پارلیمانی کردار اور عوامی مسائل پر موقف کی بنیاد پر ہو تو یہ جمہوری حق ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے پسندیدہ رہنما کے ہر بیان کو بغیر تحقیق درست ماننے لگے اور ہر تنقید کو دشمنی سمجھنے لگے تو یہ رویہ سیاسی مکالمے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی اصول کا اطلاق اویسی کے مخالفین پر بھی ہونا چاہیے۔ کسی رہنما سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر اقدام کو غلط قرار دے دیا جائے۔
اویسی کے حوالے سے مولانا محمود مدنی کا نام لے کر یہ جملہ گردش کرتا ہے کہ ”اویسی کے اندھے مقلدین پاگل ہیں“۔ تاہم دستیاب معتبر رپورٹنگ میں 7 ستمبر 2025 کو مولانا محمود مدنی نے اویسی کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے درمیان اختلاف ضرور ہے، لیکن وہ اویسی کو اپنا مخالف یا حریف نہیں سمجھتے۔ لہٰذا صحافتی دیانت کا تقاضا ہے کہ مذکورہ سخت جملے کو مولانا محمود مدنی کا مستند قول قرار دینے سے پہلے اصل ویڈیو، مکمل بیان یا قابلِ اعتماد حوالہ پیش کیا جائے۔ سیاسی تنقید اپنی جگہ، لیکن کسی شخصیت کے نام سے غیرمصدقہ جملہ منسوب کرنا صحافتی اعتبار سے درست نہیں۔ بھارت ایک کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی ملک ہے۔ یہاں سیاسی رہنماوں کے الفاظ لاکھوں لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی جماعت یا رہنما کی جانب سے مذہبی شناخت کو سیاسی کشمکش کا مرکزی ذریعہ بنانا سماجی اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ اگر اویسی کی کسی تقریر میں ایسی زبان استعمال ہونے کا الزام ہے جسے مخالفین اشتعال انگیز یا تقسیم پیدا کرنے والی سمجھتے ہیں تو اس کا جائزہ مکمل ویڈیو، اصل الفاظ اور سیاق و سباق کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اسی طرح بی جے پی یا کسی دوسری جماعت کے کسی رہنما کے بارے میں بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ قانونی اور اخلاقی صحافت کا اصول ایک ہی ہونا چاہیے: الزام ہو یا تعریف، دونوں کے لیے ثبوت ضروری ہے۔
اندھی حمایت کا مسئلہ صرف ایم آئی ایم یا اویسی تک محدود نہیں۔ ہندوستانی سیاست میں مختلف جماعتوں کے ایسے حامی موجود ہیں جو اپنے رہنما کے ہر فیصلے کو درست اور مخالف کے ہر فیصلے کو غلط سمجھتے ہیں۔ جمہوریت میں اصل وفاداری کسی فرد کے ساتھ نہیں بلکہ آئین، قانون، عوامی مفاد اور سچائی کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اگر اویسی مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کی بات کرتے ہیں تو ان سے یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ ان کی جماعت کی انتخابی حکمتِ عملی کا وسیع سیاسی اثر کیا ہے؟ اگر وہ سیکولر سیاست کی بات کرتے ہیں تو مختلف ریاستوں میں ان کی انتخابی حکمتِ عملی کے نتائج کیا رہے؟ اور اگر وہ مسلمانوں کے حقوق کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں تو ان کے سیاسی پروگرام، پارلیمانی کارکردگی اور زمینی سیاست کو بھی اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔
اویسی یا ان سے وابستہ کسی کاروباری یا مالی ادارے کے بارے میں سود، بینکاری، قرض یا عوام کے زیورات کی نیلامی جیسے سنگین الزامات عائد کیے جاتے ہیں تو ان کی اشاعت سے پہلے سرکاری دستاویز، عدالتی ریکارڈ، ریگولیٹری کارروائی یا دیگر معتبر ثبوت کا حوالہ ضروری ہے۔ صرف یہ کہنا کہ فلاں شخص ”سود خور“ ہے، ”اللہ و رسول کا دشمن“ ہے یا کسی مالی جرم میں ملوث ہے، بغیر ثبوت کے صحافتی طور پر قابلِ دفاع نہیں۔ تنقید کی آزادی اپنی جگہ، مگر الزام کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے لیے ثبوت لازمی ہے۔ اویسی کی سیاست پر سوال اٹھانا کسی شہری یا صحافی کا حق ہے۔ اسی طرح اویسی کے حامیوں کو بھی حق ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب دیں۔ لیکن جواب گالی، جذباتی الزام یا شخصیت پر حملے سے نہیں بلکہ اعداد و شمار، پالیسی اور شواہد سے آنا چاہیے۔ اگر کسی حلقے میںایم آئی ایم کے ووٹ بی جے پی کے امیدوار کی کامیابی کے فرق سے زیادہ ہوں تو اس انتخابی نتیجے کا تجزیہ ہونا چاہیے۔ اگر کسی دوسرے حلقے میں ایم آئی ایم کی موجودگی کے باوجود بی جے پی کو نقصان ہوا ہو تو اسے بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ایک ہی سیاسی معیار ہر جماعت پر لاگو ہوگا تو ہی عوام کو صحیح تصویر مل سکے گی۔ اسدالدین اویسی کی سیاست پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی انتخابی حکمتِ عملی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے اور ان کے بیانات کا سخت سیاسی تجزیہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کسی بھی نتیجے تک پہنچنے کے لیے جذبات کے بجائے ثبوت ضروری ہیں۔اسی طرح اویسی کے حامیوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی سیاسی رہنما کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر اقدام پر سوال اٹھانا ممنوع ہو جائے۔ جمہوریت میں نہ اندھی حمایت قابلِ احتساب سوالات سے بالاتر ہے، نہ اندھی مخالفت۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ عوام سیاسی نعروں کے بجائے انتخابی اعداد و شمار، امیدواروں کی کارکردگی، پالیسیوں، آئینی اصولوں اور زمینی حقائق کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کریں۔ اور اگر کسی سیاسی رہنما یا جماعت پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس کی سیاست کسی دوسری جماعت کو فائدہ پہنچاتی ہے، تو اس دعوے کا فیصلہ جذبات نہیں بلکہ حلقہ وار انتخابی نتائج اور قابلِ تصدیق شواہد کریں گے۔

