Articles مضامین Blog Education تعلیم National قومی خبریں

جامعہ سلفیہ میں نصابی تبدیلیاں اور علمی روایت کا تحفظ ۔ کتابوں کے اخراج کے تناظر میں چند معروضی گزارشات

جامعہ سلفیہ میں نصابی تبدیلیاں اور علمی روایت کا تحفظ
کتابوں کے اخراج کے تناظر میں چند معروضی گزارشات

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

جامعہ سلفیہ بنارس برصغیر کے ان ممتاز دینی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے جس نے ایک صدی کے قریب عرصے میں ہزاروں علمائ، ائمہ، خطبائ، اساتذہ، مصنفین اور محققین تیار کیے۔ اس ادارے کی شناخت صرف اس کی عمارتوں یا انتظامی ڈھانچے سے نہیں، بلکہ اس کی علمی روایت، اس کے اکابر اساتذہ اور ان کے مرتب کردہ نصاب سے قائم ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ سلفیہ کا نام آتے ہی ذہن میں ان بزرگ اہلِ علم کی ایک طویل فہرست آتی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں تدریس، تحقیق، تصنیف اور تربیت کے لیے وقف کر دیں۔ کسی بھی قدیم علمی ادارے میں وقت کے ساتھ نصاب میں تبدیلی ایک فطری عمل ہے۔ نئی ضروریات کے مطابق کتابوں کا اضافہ یا بعض کتب کی جگہ دوسری کتابوں کا انتخاب ایک انتظامی اور تعلیمی اختیار بھی ہے۔ تاہم جب یہ تبدیلیاں ادارے کی علمی شناخت، تاریخی تسلسل یا اکابر اساتذہ کی علمی خدمات سے متعلق ہوں تو ان پر علمی حلقوں میں سوالات پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ ایسے معاملات میں شفافیت، مشاورت اور علمی دلائل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں جامعہ سلفیہ بنارس کے نصاب سے بعض ایسی کتابوں کے اخراج کا ذکر سامنے آیا ہے جو کئی دہائیوں سے تدریس کا حصہ تھیں۔ ان میں اردو قواعد، منتخب اردو جامعہ، علم العروض سے متعلق کتاب "امین الکافی” اور دیگر بعض تصانیف شامل ہیں۔ ان تبدیلیوں نے سابق طلبہ، اساتذہ اور اہلِ علم کے درمیان یہ سوال پیدا کیا کہ آیا ان کتابوں کے متبادل ایسے علمی معیار کے ساتھ فراہم کیے گئے ہیں جو طلبہ کی تعلیمی ضرورت کو بہتر انداز میں پورا کر سکیں۔ خاص طور پر علم العروض ایک ایسا فن ہے جو عربی و اردو شاعری کی فنی ساخت کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ ہر طالب علم اس میدان میں تخصص حاصل نہیں کرتا، لیکن اس علم کی تدریس سے ادبی ذوق، زبان کی لطافت اور عروضی شعور پیدا ہوتا ہے۔ اگر نصاب میں اس کی جگہ کوئی نیا اور بہتر متبادل شامل کیا گیا ہو تو اس کی وضاحت علمی حلقوں کے لیے مفید ہوگی، لیکن اگر یہ فن بتدریج نصاب سے ختم ہو جائے تو اس کے طویل المدتی اثرات پر سنجیدہ گفتگو کی ضرورت ہے۔
اسی طرح اردو زبان کی بنیادی کتابیں بھی محض زبان سکھانے کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ طلبہ کی تحریری و تقریری صلاحیتوں کی بنیاد بنتی ہیں۔ جامعہ سلفیہ جیسے ادارے سے فارغ ہونے والے علماءملک و بیرونِ ملک مختلف میدانوں میں دعوت، تدریس، صحافت اور تصنیف سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس لیے زبان و بیان کی مضبوط تربیت ادارے کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہونی چاہیے۔ جامعہ سلفیہ کی سب سے بڑی علمی قوت ہمیشہ اس کے اساتذہ رہے ہیں۔ ادارے کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ مختلف ادوار میں ایسے جید علماءنے یہاں تدریسی خدمات انجام دیں جن کی تصانیف اور علمی تحقیقات آج بھی اہلِ علم کے لیے سرمایہ ہیں۔ ان شخصیات کی خدمات کو صرف ان کی حیات تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ ان کی کتابیں، ان کا اسلوبِ تدریس اور ان کی علمی روایت بھی ادارے کی میراث کا حصہ ہیں۔
اسی لیے جب کسی استاد کی تصنیف نصاب سے خارج کی جاتی ہے تو اس پر یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آیا اس فیصلے کی بنیاد صرف علمی ضرورت تھی یا اس کے پیچھے دیگر انتظامی عوامل بھی کارفرما تھے۔ اس سوال کا بہترین جواب شفاف علمی پالیسی، نصابی کمیٹی کی سفارشات اور واضح تعلیمی مقاصد کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔ علمی اداروں میں فیصلوں کی مضبوطی کا انحصار انہی اصولوں پر ہوتا ہے۔ کسی بھی ادارے کی ترقی صرف نئی عمارتوں، جدید سہولیات یا انتظامی توسیع سے نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل سرمایہ اس کی علمی فضا، تحقیقی سرگرمیاں، مضبوط نصاب، معیاری اساتذہ اور تصنیفی روایت ہوتی ہے۔ اگر اساتذہ کی علمی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ نہ کیا جائے، تحقیق و تصنیف کی حوصلہ افزائی محدود ہو جائے یا علمی اختلاف کو مثبت انداز میں قبول نہ کیا جائے تو ادارہ آہستہ آہستہ اپنی علمی برتری کھونے لگتا ہے۔
جامعہ سلفیہ بنارس کی شاندار تاریخ اس بات کی متقاضی ہے کہ یہاں صرف تدریس ہی نہیں بلکہ مستقل علمی تحقیق، نصابی ارتقائ، کتابوں کی تدوین، علمی مباحث اور نوجوان اساتذہ کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ ہر دور میں نئے اہلِ قلم پیدا کرنا کسی بھی علمی ادارے کی کامیابی کی علامت ہوتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ نصاب میں تبدیلیاں ہمیشہ اختلافِ رائے کو جنم دیتی ہیں۔ اختلاف بذاتِ خود منفی نہیں بلکہ اگر اسے علمی حدود میں رکھا جائے تو یہی اختلاف بہتر فیصلوں کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سابق اساتذہ، فارغین، موجودہ اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کے ساتھ مسلسل مشاورت کا ماحول قائم رہے تاکہ ہر فیصلہ زیادہ مضبوط اور قابلِ قبول بن سکے۔جامعہ سلفیہ میں ایک مستقل آزاد نصابی جائزہ کمیٹی قائم کی جائے۔ نصاب سے کسی کتاب کے اخراج یا شمولیت کی علمی وجوہات تحریری صورت میں پیش کی جائیں۔ اکابر اساتذہ کی تصانیف کو محفوظ رکھنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے خصوصی منصوبہ بنایا جائے۔ تحقیق و تصنیف کے میدان میں تمام اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ادارے کی علمی روایت مزید مضبوط ہو۔ نوجوان اساتذہ کے لیے تدریسی اور تحقیقی تربیت کے خصوصی پروگرام منعقد کیے جائیں۔ سابق اساتذہ اور ممتاز فارغین کی آراءکو نصابی فیصلوں میں مناسب اہمیت دی جائے۔
جامعہ سلفیہ بنارس صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ برصغیر کی ایک عظیم علمی روایت کا امین ہے۔ اس ادارے کی عزت، وقار اور علمی مقام کا تحفظ تمام وابستگان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اختلافِ رائے اگر خیرخواہی، دیانت اور علمی اصولوں کے ساتھ پیش کیا جائے تو وہ اداروں کی کمزوری نہیں بلکہ ان کی اصلاح اور مضبوطی کا ذریعہ بنتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جامعہ سلفیہ کو اپنے علمی وقار کے ساتھ ترقی عطا فرمائے، اس کے ذمہ داران کو حکمت، عدل، مشاورت اور دور اندیشی سے فیصلے کرنے کی توفیق دے، اساتذہ اور طلبہ کو علمِ نافع سے مالا مال فرمائے، اور اس ادارے کو آنے والی نسلوں کے لیے علم و تحقیق کا روشن مرکز بنائے۔ آمین۔

Related posts

چنئی میں ہزاروں مسلمانوں نے وقف ترمیمی بل کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا

Paigam Madre Watan

مستقبل کی تشکیل سال 2047 تک کے موضوع پر دو روزہ قومی کانفرنس

Paigam Madre Watan

Ashok Koul chairs BJP cadre meeting in Bani, calls for strengthening booth-level structure

Paigam Madre Watan