اویسی کی بیرسٹری مسلمانوں پر ظلم اور انکو کچلنے کے کام آئی
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
عام طور پر سنا جاتا رہا ہے کہ اسد اویسی صرف چیخنے چلانے، اجلاس میں بھاشن دینے میں ہی دلچسپی دکھاتے ہیں، کیا اسد اویسی نے کبھی کوئی ایسا مقدمہ دائر کیا ہے جس میں مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائی گئی ہو، یا صرف چیخنا چلانا اور جگہ تقریر کرنا ہی ان کا شیوا بن گیا ہے، تو پتہ یہ چلتا ہے کہ اسد اویسی کی بیرسٹری کبھی مسلم کمیونٹی کو تقویت پہنچانے کیلئے استعمال نہیں ہوئی، البتہ اویسی کی کی ڈگری مسلمانوں کو کچلنے، دبانے اور مسلم اقلیتوں پر دھونس جمانے کیلئے استعمال ہوئی ہے، میں حوالے کے طور پر سی سی ایس حیدر آباد میں اسد اویسی کی جانب سے دائر کی گئی ایف آئی آر 154 & 157 سی آر پی سی 14.08.2012 سیکشن 420 اور 406 دائر کرائی، اسد اویسی نے ایک مسلم معیشت اور سود سے پاک تجارت کے خلاف یہ ایف آئی آر درج کرائی، جس کے نتیجے میں کمپنی اور اس کی سی ای او پر 2016 تک سخت جانچ اور مشکل کارروائی ہوئی، نتیجہ کے طور پر اسد اویسی اپنے ہی ایف آئی آر میں شکست فاش سے دو چار ہوئے اور ہتک عزت مقدمہ سو کروڑ روپیہ کا ہرجانے کا مقدمہ اسد اویسی اپنے ہی اوپر لے بیٹھے۔ ایف آئی آر کاپی ساتھ میں منسلک کی جائے گی۔ جس سے ہندستان کے عوام یہ بہتر سمجھ سکیں گے کہ اسد اویسی کی بیرسٹر ڈگری صرف مسلمانوں کو دبانے کچلنے اور مسلمانوں کے ذریعہ کھڑی کی تجارت اور سیاست کو کچلنے کیلئے استعمال ہوئی ہے، چیخنا چلانا، اجلاس کرکے لچھے دار تقریر کرنا تو ان کا باطل پرستوں کو طاقت پہنچانے کیلئے ایک تجارت و ٹھیکہ داری ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اویسی اپنی بیرسٹری کی ڈگری کا دھونس اور استعمال مسلمانوں کیخلاف ہی کیوں کرتے ہیں، تو اس کا بڑا معقول اور حقیقت کو چھونے والا جواب ہے کہ اسد اویسی اگر سیاست میں تجارت کرتے پھر رہے ہیں تو یہ ان کی مجبوری ہے اپنے آقا کی طرف سے لی گئی ٹھیکہ داری یا یوں سمجھیں کہ اویسی کے ذریعہ قبضہ کی گئی تین سے 5000 کروڑ روپئے مالیت کی وقف جائیدادیں اور اس پر کارروائی کا ڈر۔ اور یہی ڈر ستاتا ہے کہ ہر اس مسلم قدآور لیڈر کے خلاف اپنے امیدوار کھڑے کرتے ہیں، دوسری اور اہم بات ہے اویسی کی اکلوتی سیٹ اور اکلوتہ شہر حیدرآباد۔ لہذا اس اکلوتی ممبر پارلیمنٹ سیٹ پر یا شہر پر یا علاقے میں پھیلے ہوئی جائز ناجائز کاروبار یا سودی بینک۔ اس کو بچانے کیلئے اسد اویسی ہر وہ گھناﺅنا کھیل کھیل سکتے ہیں جو ان سے ممکن ہو پائے، لہذا یہ ایف آئی آر بھی حیدر آباد میں پھیلے ہوئے سودی کاروبار کو نقصان ہونے کے ڈر سے کیا گیا، بعد میں اویسی کا یہ ڈر ان کے اکلوتے فاطمہ اویسی اسپتال کے وجود کو خطرہ اور ڈر لاحق ہو گیا۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا حیدر آباد کے نواحی میں میڈیکل کالج بنانے کے بعد اویسی نے 2018 میں ایک بار پھر الگ طریقے سے جال بچھایا اور سود سے پاک تجارت ہیرا گروپ کیخلاف خفیہ جنگ چھیڑ دی، ہنوز یہ جنگ ای ڈی اور دیگر ایجنسیوں کی مدد سے عدالت میں جاری ہے، لہذا ایف آئی آر 154 & 157 سی آر پی سی 14.08.2012 سیکشن 420 اور 406 اویسی کے ڈر کا بنیاد ہے جسے مسلمانوں اور ان کی کمپنی کیخلاف دائر کیا گیا اور نتیجے کے طور پر اویسی شکست فاش سے دو چار ہوئے اور 100 کروڑ روپیہ ہتک عزت مقدمہ اپنے سر لے بیٹھے۔
عام طور پر سیاسی حلقوں میں یہ تاثر سننے کو ملتا رہا ہے کہ بیرسٹر اسدالدین اویسی کی سیاست کا بڑا حصہ پارلیمانی تقاریر، جلسوں، اجلاسوں اور تندوتیز بیانات کے گرد گھومتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کی قانونی قابلیت اور بیرسٹری کی ڈگری کبھی مسلمانوں کے اجتماعی حقوق، معاشی تحفظ، قانونی انصاف اور مظلوم مسلم شہریوں کی مدد کے لیے بھی اسی شدت کے ساتھ استعمال ہوئی، جس شدت کے ساتھ وہ سیاسی مخالفین اور مختلف مسلم حلقوں کے خلاف قانونی کارروائیوں میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں؟ یہ سوال محض سیاسی اختلاف یا کسی جماعت کی مخالفت کا نہیں، بلکہ مسلم قیادت کے کردار، اس کی ترجیحات اور اس کے عملی طرزِ عمل کا ہے۔ اگر کسی سیاسی رہنما کے پاس قانون کی اعلیٰ تعلیم، پارلیمانی حیثیت اور عوامی اثرورسوخ موجود ہو تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان صلاحیتوں کو کمزور، مظلوم اور معاشی طور پر پریشان مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کرے گا۔ لیکن جب اسی قانونی اختیار کے استعمال سے مسلم کاروباری اداروں، مسلم شخصیات اور مسلم معاشی سرگرمیوں کے بارے میں سوالات اٹھنے لگیں تو عوام کو جواب طلب کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم دستاویز ایف آئی آر نمبر 154، بتاریخ 14 اگست 2012، حیدرآباد کے سی سی ایس پولیس سے متعلق بتائی جا رہی ہے، جس کے حوالے سے اسدالدین اویسی کی شکایت اور تعزیراتِ ہند کی دفعات 420 اور 406 کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس دستاویز کی نقل اس تحریر کے ساتھ منسلک کی جائے گی تاکہ قارئین خود اصل ریکارڈ کا مطالعہ کر سکیں۔ اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک مسلم کاروباری ادارے، اس کی مالیاتی سرگرمیوں اور اس کے انتظامی ڈھانچے کے خلاف شکایت کا پس منظر کیا تھا؟ کیا اس کارروائی کے پیچھے حقیقی قانونی شکایات تھیں یا اس کے نتیجے میں ایک مسلم معاشی ادارے کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ ہیرا گروپ کے معاملے میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور کمپنی کو طویل عرصے تک تحقیقات اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پورے معاملے کے مختلف مراحل، اداروں کی کارروائیوں اور عدالتی فیصلوں کا الگ الگ جائزہ ضروری ہے۔ اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو اسدالدین اویسی کے خلاف مبینہ طور پر دائر کیا گیا سو کروڑ روپے کے ہرجانے کا دعویٰ ہے، جسے ہیرا گروپ اور اس سے متعلق فریقین کے موقف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر واقعی یہ مقدمہ دائر کیا گیا ہے تو اس کی موجودہ قانونی حیثیت، دعوے کی بنیاد، متعلقہ عدالتی کارروائی اور اسدالدین اویسی کے جواب کو عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔ کیا اس مقدمے میں کوئی فیصلہ صادر ہوا؟ کیا دعویٰ ابھی زیرِ سماعت ہے؟ یا کسی مرحلے پر فریقین کو قانونی ریلیف ملا؟ یہ تمام سوالات اصل عدالتی دستاویزات سے واضح ہونے چاہئیں۔
ہیرا گروپ کے معاملے کو صرف ایک کمپنی یا ایک کاروباری شخصیت کا معاملہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہزاروں سرمایہ کاروں، ملازمین، کاروباری روابط اور ان لوگوں کی معاشی امیدیں وابستہ رہی ہیں جنہوں نے اپنے مستقبل کے لیے اس ادارے پر اعتماد کیا۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے سود سے پاک تجارت اور مسلم معاشی خودمختاری کے تصور کو اپنے کاروباری ماڈل کا حصہ قرار دیا۔ اس تصور سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس کے مالیاتی نظام پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں اور قانون کے مطابق تحقیقات بھی ہو سکتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قانون کا اطلاق یکساں، شفاف اور غیر جانب دارانہ ہونا چاہیے یا نہیں؟ اگر کسی کاروباری ادارے کے خلاف شکایت ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں، لیکن اگر کسی ادارے کے خلاف کارروائی میں غیر ضروری تاخیر، غیر متناسب اقدامات یا قانونی حقوق کی خلاف ورزی کے خدشات موجود ہوں تو ان پر بھی آواز اٹھنی چاہیے۔2018 کے بعد ہیرا گروپ کے خلاف قانونی اور تفتیشی کارروائیوں نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور دیگر تحقیقاتی ادارے اس معاملے میں سرگرم ہوئے۔ اس دوران ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور کمپنی کو مختلف قانونی مراحل سے گزرنا پڑا۔یہاں ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ حیدرآباد میں مسلم کاروباری سرگرمیوں، تعلیمی اداروں اور معاشی خودمختاری کے حوالے سے پیدا ہونے والی سیاسی کشمکش کو کس نظر سے دیکھا جائے؟ یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ ہیرا گروپ کی بڑھتی ہوئی معاشی اور تعلیمی سرگرمیاں بعض سیاسی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث بنیں۔ تاہم اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے دستاویزی شواہد، متعلقہ بیانات اور واقعات کی زمانی ترتیب کا جائزہ ضروری ہے۔
اسدالدین اویسی کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مختلف ریاستوں میں مسلم سیاسی نمائندگی کے نام پر اپنی جماعت AIMIM کو وسعت دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس دوران سماج وادی پارٹی، کانگریس اور دیگر مسلم سیاسی حلقوں سے ان کے اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا مسلم سیاسی نمائندگی کا مطلب صرف اپنی جماعت کے امیدواروں کو آگے بڑھانا ہے، یا اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ مسلم قیادت کے دوسرے مراکز، مسلم کاروباری اداروں اور معاشرتی شخصیات کے حقوق کا بھی احترام کیا جائے؟ جمہوریت میں سیاسی مقابلہ ہر جماعت کا حق ہے، لیکن سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی، قانونی دباو یا معاشی نقصان کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔اویسی خاندان، حیدرآباد کی وقف املاک اور بعض کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ بعض ناقدین نے وقف جائیدادوں پر قبضے اور ان کے انتظام سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں۔ان الزامات کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے متعلقہ وقف ریکارڈ، سرکاری تحقیقات اور عدالتی فیصلوں کی روشنی میں جانچنا ضروری ہے۔



