National قومی خبریں

معاشرتی فلاح کے ادارے اور ہماری ذمہ داری کے موضوع پر فکری نشست

معاشرتی فلاح کے ادارے اور ہماری ذمہ داری کے موضوع پر فکری نشست
زکوٰۃ کے اجتماعی نظام، تعلیمی ترقی اور بلاسودی مالی تعاون پر گفتگو

لکھنؤ، ۶؍ نومبر (پریس ریلیز): معاشرتی فلاح و بہبود اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے اجتماعی ذمہ داریوں کو اجاگر کرنے کے مقصد سے ’’معاشرتی فلاح کے ادارے اور ہماری ذمہ داری‘‘ کے عنوان سے ایک فکری نشست کا انعقاد معروف خان کی میزبانی میں ان کی رہائش گاہ اے آر کے ولا، اشرف آباد، لکھنؤ میں کیا گیا، جس میںساٹھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ نشست میں زکوٰۃاینڈ چیریٹیبل فاؤنڈیشن اور الخیر کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی لمیٹڈ کے ذمہ داران نے اپنے اداروں کی خدمات اور سرگرمیوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے زکوٰۃ کے اجتماعی نظام، تعلیم، صحت، ہنرمندی اور چھوٹے کاروباروں کے فروغ پر روشنی ڈالی۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد سکندر علی اصلاحی نے معاشرے کے موجودہ حالات اور سماجی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے افرادِ معاشرہ کو اپنی ذمہ داریوں کے تئیں متوجہ کیا۔ ڈاکٹر محمد مبشر نے زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کی اہمیت و افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منظم نظام کے ذریعے مستحقین کی صحیح شناخت اور ان تک امداد کی مؤثر ترسیل ممکن ہے۔
زکوٰۃ اینڈ چیریٹیبل فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی نیئر اقبال خان نے ادارے کی سرگرمیوں کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں سے فاؤنڈیشن صحت، تعلیم، ہنرمندی کی ترقی اور خود روزگار کے شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ ادارہ ہنگامی حالات میں بھی ضرورت مندوں کی مدد کرتا ہے، جس کی مثال وکاس نگر میں آتش زدگی اور فیض اللہ گنج میں سیلاب کے دوران انجام دی گئی امدادی سرگرمیاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کے تحت گزشتہ تین برسوں سے بی بی اے کورس جاری ہے اور طلبہ کے لیے ہاسٹل کی سہولت بھی موجود ہے۔ تعلیمی میدان میں طلبہ نے گورنمنٹ کالجوں میں داخلے اور نیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو اجتماعی محنت اور منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا۔
الخیر کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی لمیٹڈ کے ذمہ دار ڈاکٹر خالد نے ادارے کی خدمات سے واقف کراتے ہوئے بتایا کہ سوسائٹی چھوٹے اور عام کاروباری افراد کو بلاسودی قرض فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ اپنے کاروبار کو ترقی دے سکیں۔ ادارہ مائیکرو فنانس کے شعبے میں بھی سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے شرکاء کو اس سہولت سے استفادہ کرنے کی ترغیب دی۔
اسلامک اسکالرمولانا ذکی نور عظیم ندوی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ مال و دولت انسانی زندگی کی اہم ترین اور بنیادی ضرورتوں میں ہے لیکن یہ بذات خود نہ ہی مطلوب ومقصود ہے اور نہ اس کی فراوانی بہتر اور افضل ہونے کی دلیل ہے بلکہ اس کے تئیں اللہ اور رسول کی طرف سے دی گئی تعلیمات کی روشنی میں اس کا استعمال انسان کو عظیم بناتا ہے۔ جس میں زکوٰۃ کے علاوہ ذمہ داریاں بھی شامل ہیں اور ساتھ میں سماج کی تمام ضرورتوں میں اس کا خرچ انسان کی عظمت اور مال کے تئیں اس کی ذمہ داری ادا کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔مستحقین تک اس کی درست تقسیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلاحی اداروں کو ضرورت مندوں کی عزتِ نفس کا تحفظ اور انہیں خود کفالت کے مواقع فراہم کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ ڈاکٹر سلمان خالد نے بھی معاشرتی فلاح کے لیے اجتماعی کوششوں اور منظم اداروں کے کردار کو اہم قرار دیا۔
اس موقع پر میزبان معروف خان نے ابتدائی کلمات میں شرکاء کا خیرمقدم کیا اور زکوٰۃ اینڈ چیریٹیبل فاؤنڈیشن کی خدمات کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ صاحبِ خیر افراد اپنی مصروفیات کے باعث بعض اوقات حقیقی مستحقین تک نہیں پہنچ پاتے، ایسے میں منظم فلاحی ادارے ان کے لیے ایک قابلِ اعتماد ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے الخیر کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی کی مالی سہولتوں کا ذکر کرتے ہوئے چھوٹے تاجروں کو ان سے استفادہ کرنے کی دعوت دی۔ آخر میں انہوں نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

Related posts

کیجریوال کی گجرات کے عوام سے اپیل: جاگو اور جھاڑو چلا کر اپنی حکومت بناؤ

Paigam Madre Watan

भवन व अन्य सन्निर्माण कार्य से जुडे़ श्रमिकों के लिए ब्लॉक स्तर पर स्थापित होंगे हैल्प-डेस्क: अनिल विज

Paigam Madre Watan

Behind the arrest of Dr. Nowhera Sheikh The secret of illegal action of ED Hyderabad exposed

Paigam Madre Watan