Articles مضامین

غزہ نے فلسطین کو عقوبت گاہ اوردنیا کولاچار بنادیا

ڈاکٹرمحمدسعیداللہ ندویؔ


بلاتفریق مذہب وملت ہرصاحب اولاد اورپہلو میں دھڑکتا ہوا دل رکھنے والے شخص کا فلسطین میں قتل ہوتے بچوں، عورتوں، بزرگوں کی تصویریں دیکھ کرمضطرب ہوجاتاہے اوراُس کا کلیجہ منھ کو آجاتا ہے۔ جہاں پرتاریخ اپنے دامن میں ظلم کی نئی داستان رقم کیے بے بس کھڑی نظرآتی ہے۔ ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والے مناظر دل دہلا دینے والے ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم فلسطینی بچوں اور عورتوں کی دلخراش تصویروں اور چیخوں سے بھرے پڑے ہیں۔ معصوم لاشیں کچھ زندہ اور کچھ مردہ، نوعمر زخمی اور آزردہ، مرنے والے سب ایک ہی رنگ اور نسل کے ہیں جن کا خون پانی سے بھی ارزاں ہے ۔مظلوم فلسطینیوںکا خون انسانیت کے ماتھے پربدنماداغ بن کرہولو کاسٹ کی یاد دلارہاہے لیکن نام نہاد انسانیت کے علمبردار تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ذرا سوچیے اُس بچے کا کیا قصور تھا جس کی پیدائش سے قبل اُس کی موت کا سرٹیفکیٹ جاری ہوا؟فلسطین کے مقتل میں مارے جانے والے بے گناہ مسلمانوں کے مناظر ہر روز دیکھنے والے 57 مسلم ممالک کے ڈیڑھ ارب مسلمان یعنی دنیا کی آبادی کا 21 فیصد حصہ اسرائیل اوراس کے حواریوں کے سامنے سمندر کے جھاک کے مانندہے۔یمن جیسے غریب اسلامی ملک کے باغی گروہ کو قابو میں لانے والی عظیم اسلامی فوج اسرائیل کے سامنے ناصرف خاموش تماشائی ہے بلکہ آہ بھی سوچ سمجھ کر نکال رہی ہے۔تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک مذمتی قراردادوں پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں اورعملی جرأت مندانہ سفارت کاری سے کوسوں دور ہے۔ ہماراملک بھی غزہ اوراسرائیل کے درمیان جنگ بندی چاہتاہے لیکن جنگ بندی کی ووٹنگ سے غیرحاضرہوکر ہندوستان نے یہ بتادیاکہ وہ نہ تو امریکہ کے خلاف جاسکتاہے اورناہی کھل کر اس کی حمایت کرسکتاہے۔ اب خود کو وشوگرو کہنے والے ہمارے وزیراعظم میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی ووٹنگ میں اس کے حق میں ووٹ دیں اوردنیا کو سمجھادیں کہ ہم لوگ ظالموں کا ساتھ کبھی نہیں دیتے ۔ دراصل ہمارے وزیراعظم نہ توامریکہ کو ناراض کرنا چاہ رہے تھے اورنہ عرب ممالک کو خفاکرناچاہتے تھے ۔ جبکہ اسرائیل ہندوستان کے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے سے بھی ناراض ہوا اورکہہ دیا کہ جن لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا وہ ہمارے دوست نہیں ہیں۔ بہرحال اُردن کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی قرارداد کی مخالفت یا ووٹنگ سے غیرحاضر رہنے والے ممالک نے یہ ثابت کردیاکہ ان کی انسانیت ، آزادی حقوق ومساوات کی تمام باتیں جھوٹ کا ایک پلندہ ہیں ۔ یہ تمام لوگ گونگے بہرے اوراندھے ہوچکے ہیں جنہیں اسرائیل کی درندگی اور غزہ والوں کی مظلومیت نظرنہیں آرہی ہے۔ میں تو سمجھتاہوں کہ وہ منافقین اگرپوری طرح سے اس جنگ کے تعلق سے غیرجانبدار ہی ہوجائیں تووہاں کے مظلوم نہتے وطن پرست افراد اسرائیل کو نہ صرف جنگ بندی پر مجبور کرسکتے ہیں بلکہ اپنی شرائط پر اُسے گھٹنے پر بھی لاسکتے ہیں لیکن انسانی حقوق کی دُہائی دینے والے اورجنگلی بھیڑیوں کی خصلت رکھنے والے لوگ بھلا ایسا کب ہونے دیں گے ؟ عرب اسرائیل تنازعہ کے تصفیہ میں اقوام متحدہ کے کردار کا اگرجائزہ لیاجائے تو پتہ چلے گاکہ امریکہ اس مسئلے کو سلجھانے میں سب سے بڑا روڑا ثابت ہواہے۔ اگر’اوسلو قرار ‘ کی روشنی میں دونوں فریق اس تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے تویہ مسئلہ کب کا حل ہوچکاہوتالیکن سرد جنگ کے دوران جو ماحول بنا اس کے ختم ہونے کے بعد بھی اس کا اثر ابھی تک قائم ہے۔ یہ تنازعہ دوسپر پاور کی مسابقت کا بھی شکار ہوئی۔ نتیجتاً فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کی زیادتیوں اورناانصافیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف جب بھی قرارداد آئی امریکہ نے ویٹو کردیا۔ 2015سے لیکر اب تک اقوام متحدہ کی جرنل اسمبلی میں اسرائیل کے خلاف 140قرار دادیں منظور کی ہیں جن میں بنیادی طور پر فلسطینیوں کے ساتھ اس کے سلوک ، پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات اوردیگر غلط اقدام پر تنقید کی گئی ہے۔ اسرائیل کی حامی ’یواین واچ‘کے مطابق اسی عرصہ میں اس ادارے نے دنیا کے دیگر تمام ممالک کے خلاف کل ملاکر 68قراردادیں منظور کی ہیں۔ اسرائیل کے خلاف قراردادیں جرنل اسمبلی میں تو پاس ہوجاتی تھیں لیکن سلامتی کونسل میں امریکی ویٹو کے سبب نامنظور ہوجاتی تھیں۔ جولائی 2002ء کو اقوام متحدہ میں امریکہ کے مندوب جان نیگروپونٹے نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بنداجلاس کے دوران اسرائیل -عرب پالیسی کی وضاحت کی جو مستقبل میں اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی کی بنیاد بنی۔ اس میں کہاگیاہے کہ امریکہ اسرائیل اورفلسطین تنازعہ کے بارے میں سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کی مخالفت کرے گا جواسرائیل کی مذمت توکرتی ہیں لیکن عسکریت پسندوں کی مذمت نہیں کرتیں۔ امریکہ کی عرب اسرائیل پالیسی کا یہ اصول ’نیگروپونٹے نظریے‘کے نام سے جاناجاتاہے ۔ اسی پالیسی کی بنیاد پر امریکہ نے واضح کیاکہ چونکہ جنرل اسمبلی کی مبینہ قرارداد میں حماس کی مذمت نہیں کی گئی ہے اس لئے اس نے جنگ بندی کی قرارداد کی مخالفت کی ہے۔اسلامی ملکوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کے اب تک کے ’غیر معمولی اجلاس‘ اسرائیل کو معمولی سا بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکے۔مذمتی قراردادیں اور احتجاجی مظاہرے اسرائیل کی بے رحم توپوں کے دہانے بند نہیں کرسکے۔ اربوں ،مسلمانوں کی اجتماعی کھوکھلی اورنامراد دعائیں اسرائیل کی توپوں میں کیڑے نہیں ڈال سکیں اور ’مرگ بر اسرائیل‘ وغیرہ کے جھوٹے غیرشرعی نعرے صیہونی ارادوں کو تسخیر نہیں کر سکے۔لہٰذا اقوام متحدہ کوچاہیے کہ اسرائیل پرشکنجہ کس کر تعلیم یافتہ ،آزاد وخودمختار ہونے کا ثبوت دے اورجرات مندانہ اقدمات کرتے ہوئے سفارتی ،اقتصادی اوردفاعی پابندیاں عائد کرنے پر غور کرے جیساکہ پہلے روس ،ایران ، عراق ، افغانستان وغیرہ کے ساتھ ہوچکاہے لیکن پھر وہی ایک پرانا اورمعروف سوال کھڑاہوتاہے ،کیا اقوام متحدہ امریکہ اوریورپین یونین کی مرضی کے خلاف اس طرح کی کارروائی کرنے پر قادر ہے،دنیا کے سبھی اہم ملکوںکونہایت دوراندیشی سے اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے اورمظلوموں کے ساتھ ترقی یافتہ دنیا کو کھڑا ہوکر انسانیت نوازی اورحریت پسندی کا پیغام دیانچاہیے کیونکہ بلا تفریق مذہب ملت دنیا کے کسی بھی خطۂ ارضی کے مظلوموں کا ساتھ دینا اوران کی مدد کرنا زندہ باشعور قوموں کی پہچان اورانسانیت نواز پیشواؤں کا طرۂ امتیاز ہوتاہے ۔ اگرایسا نہ ہوا تویہ جانِ رنگ وبو بے بس نہتے لوگوں کیلئے ایک قید خانہ اورعقوبت گاہ ہے۔ جہاں سسکتی بلکتی کراہتی انسانیت انسانوں کے سامنے دم توڑ دیتی ہے ۔

Related posts

یہودیوں کی عالمی میڈیا پر بالادستی

Paigam Madre Watan

ریاکاری اور فضول خرچی حج کو ضائع کرن ے والے اعمال ہیں

Paigam Madre Watan

हिंडेनबर्ग पर शीर्ष न्यायालय के फैसले के मायने

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar