National قومی خبریں

ارض فلسطین پر مسلمانوں کا حق ہے اورمسجد اقصیٰ مسلمانون کا قبلۂ اول ہے

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ’’تحفظ القد س کانفرنس‘‘ سے مفتی حذیفہ قاسمی اور مولانا جعفر مسعود ندوی کا خطاب!

بنگلور(پی ایم ڈبلیو نیوز)مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ’’تحفظ القدس کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے ناظم تنظیم حضرت مولانا مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی صاحب نے فرمایا کہ سرزمین فلسطین وہ خطہ ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کا میراثی خطہ کہلاتا ہے۔لیکن باطل طاقتیں دنیا کی آنکھوں میں یہ دھول جھونکی جارہی ہیکہ اس خطہ پر یہودیوں کا حق ہے اور حضرت ابراہیم ؑ کے خاندان کے صحیح مصداق یہودی ہیں۔ لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے، اور اسکے اصل حقداراورحضرت ابراہیم ؑکے خاندان کے صحیح مصداق مسلم عرب فلسطینی ہیں۔ مولانا نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم ؑنے عراق سے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں کے شہر الخلیل میں پڑاؤ ڈالا۔ کچھ عرصہ بعد اللہ کے حکم پر حضرت ابراہیم ؑنے حضرت اسماعیل ؑ کے ساتھ خانہ کعبہ اور حضرت اسحاق ؑکے ساتھ مسجد الاقصیٰ کی تعمیر فرمائی۔ اس کے چند سالوں بعد جب حضرت یوسف ؑمصر کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنے والدین اور تمام بھائیوں کو مصر بلا لیا، جہاں وہ خوب بڑھے، پھلے اور پھولے اور اس طرح مصر میں ان کی آبادی تیزی سے پھیلتی رہی۔ اس کے سینکڑوں سال بعد جب مصر پر فرعون کی حکومت قائم ہوئی اور اس نے بنو اسرائیل پر ظلم وستم کی انتہا کردی تو حضرت موسیٰ ؑنے اللہ کے حکم سے بنو اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کی۔ فرعون نے ان کا پیچھا کیا، لیکن بحر احمر میں ڈبو دیا گیا۔ فلسطین آکر بنو اسرائیل نے طرح طرح کی نافرمانیاں شروع کر دیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں وادی تیہ میں 40 ؍سال تک کے لیے بھٹکا دیا۔ اسی دوران سیدنا موسیٰ ؑاور سیدنا ہارون ؑنے عمالقہ جو اس وقت بیت المقدس پر قابض تھے سے جنگ کی اور بیت المقدس کے علاقے کو فتح کیا اور بالآخر کچھ سالوں بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال ہوا۔ مولانا نے فرمایا کہ اس وقت بھی یہودی وہاں نہیں تھے اور بعد میں بھی محض گنے چنے لوگوں کے علاوہ وہاں یہودی نہیں تھے اور سیدنا عمر بن خطاب ؓنے بیت المقدس کو جو فتح کیا ہے وہ عیسائیوں سے لیا ہے، پھر کچھ دنوں بعد عیسائیوں نے اس پر دوبارہ قبضہ کرلیا، پھر صلاح الدین ایوبیؒنے اسکو فتح کرلیا، پھر خلافت عثمانیہ کے پاس رہا، اور جب خلافت عثمانیہ کو شکست ہوئی تو وہ خطہ برطانیہ میں شامل ہوگیا اور اس وقت دنیا کے یہودیوں نے امریکہ اور برطانیہ کی سرپرستی میں وہاں بسرا ڈالا کیونکہ ہٹلر نے انکی قوم کو تباہ و برباد کردیا تھا۔ اہل فلسطین نے انسانیت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی زمین انہیں دی اور اقوام متحدہ نے زبردستی انہیں ایک الگ خطہ مختص کردیا۔ اس کے بعد سے اس ظالم قوم نے اہل فلسطین جو وہاں کے اصل باشندے ہیں ان پر ظلم و ستم کا پہاڑ ڈھانا شروع کردیئے ،جو اب تک جاری ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یہودی شروع سے ہی نافرمان اور ظالم قوم ہے، جنہوں نے اپنے انبیاء کرام پر ہی جو ظلم و ستم ڈھائے ہیں وہ پوری دنیا سامنے واضح ہے۔ مولانا حذیفہ قاسمی نے دوٹوک الفاظ میں فرمایا کہ یہ بات واضح ہوچکی ہیکہ فلسطین پر اصل حق عرب مسلمان فلسطینیوں کا ہے، کیونکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میراث ہے، اور یہودیوں کا اس پر کوئی حق نہیں۔ کانفرنس کی ایک الگ نشست سے خطاب فرماتے ہیں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤکے ناظر عام حضرت مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی صاحب نے فرمایااس وقت اہل فلسطین کے جو حالات ہے وہ بہت تشویشناک ہیں۔ فلسطین کے معصوم بچے، مائیں، بہنیں، جوان اور بوڑھے سب اسرائیلی دہشت گردی کے ظلم و ستم کا شکار ہیں لیکن افسوس کے نام نہاد انصاف پسند لوگ اور بعض مسلم ممالک خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہا اس سے آگے بڑھ کر دنیا کے بڑے بڑے ممالک اہل فلسطین کے غم و درد میں شامل ہونے کے بجائے اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں۔ لیکن عالم اسلام کی بے حسی افسوسناک ہے۔مولانا نے فرمایا کہ ارض فلسطین جسے انبیاء کرام کا مسکن اور مدفن ہونے کا شرف حاصل ہے، جس کے ارد گرد برکت ہی برکت کا نزول ہے، جہاں سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر معراج کا آغاز کیا، جس دھرتی پر حضور اکرم ؐنے نبیوں کی امامت کراکے امام الانبیاء کا لقب پایا، جہاں اسلام کی عظمت رفتہ اور جنت گم گشتہ کا نشان قبلہ اول مسجد اقصٰی کی صورت میں موجود ہے، آج وہ خطہ ارض فلسطین اور مسجد اقصٰی صہیونی سازشوں کے نرغے میں گھیرا ہوا ہے۔ اور وہاں کے باشندے تنہ تنہا ان ظالم و جابر سے مقابلہ کررہے ہیں اور بیت المقدس کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ ارض فلسطین اور مسجد اقصٰی پوری ملت اسلامیہ کو پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یہ دھرتی کب تک خون سے رنگین ہوتی رہے گی۔ کب تک فلسطینی نوجوان، بچے، مائیں اور خواتین شہید ہوتی رہیں گی۔ کب تک فلسطینیوں کے جنازے اٹھتے رہیں گے۔ فلسطینیوں کی آزادی کی صبح کب طلوع ہوگی؟مولانا نے فرمایا کہ بیت المقدس کا مسئلہ فقط اہل فلسطین کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ ہم اپنی نسلوں کو بیت المقدس اور فلسطین و غزہ کی مجاہدانہ تاریخ سے واقف کروائیں تاکہ ہماری نسلیں بیت المقدس کی حفاظت اور آزادی کیلئے ہمیشہ تیار رہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو تکلیف پورے بدن کو محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا ہماری ذمہ داری ہیکہ ایسے نازک حالات میں جب اہل فلسطین و غزہ بیت المقدس کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان کیلئے دعا کریں، اور جس طرح سے ممکن ہو ان کیلئے مددگار ثابت ہوں، اس کیلئے انکے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اسرائیل جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اور اقوام عالم کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب بھی دیں۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی صاحب حضرت مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کے خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازیں اور انہیں کی دعا سے متعلقہ نشستیںاختتام پذیر ہوئیں!

Related posts

مسجد اقصیٰ کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، امت مسلمہ اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں!

Paigam Madre Watan

एसए बिल्डर्स: हैदराबाद भूमि का बेताज भू-माफिया

Paigam Madre Watan

مسلم قیدیوں کو طویل مدتی پیرول ۔انڈین یونین مسلم لیگ کی پلاٹینم جوبلی کانفرنس میں کیے گئے مطالبہ کی جیت

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar