Articles مضامین

شیخ محمد اسحاق گورکھپوری

نسبت مقام سے ظاھر ہے کہ یہ گورکھپور کے باشندہ تھے۔معمولی تعلیم پائی تھی، شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے کسب فیض کے شوق میں اپنے وطن سے پیدل دہلی پہونچے، یہ اس زمانے کی بات ہے جب سید صاحب ایک بڑے قافلے کے ساتھ حج کے لئے گئے ہوئے تھیـ۔شیخ اسحاق نے شاہ صاحب سے بیعت کی درخواست کی تو جواب میں ارشاد ہوا کہ میں گوناگوں عوارض میں مبتلا ہوں۔ میرا نواسا محمد اسحاق درس وتدریس میں مشغول ہے میرے خلیفہ سید احمد حج سے واپس آئیںگے تو ان سے بیعت کر لینا شیخ اسحاق نے عرض کیا کہ میں آپ سے بیعت کا آرزو مند ہوں، صرف دس روز دہلی میں ٹھہروں گا، پھر واپس چلا جائوں گا، اس لئے کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور ان کے گزارے کی کوئی سبیل نہیں۔
بیعت: سید صاحب حج سے واپس آئے تو شاہ عبد العزیز کا انتقال ہو چکا تھا، شیخ اسحاق بیعت کے شوق میں سید صاحب کے پاس رائے بریلی پہونچ گئے اور بیعت کر لی، چند روز کے بعد سید صاحب نے خانوادہ ہائے فیض روحانی کے معمول کے مطابق منصب خلافت دینا چاہا تو شیخ اسحاق نے یہ عذر پیش کیا کہ میں قرآن مجید اور چند ضروری مسائل دین کے سوا کچھ نہیں جانتا ،منصب خلافت اسے ملنا چاہیے جسے دین کا وسیع علم حاصل ہو سید صاحب نے بے تکلف فرمایا کہ میرا علم بھی اسی قدر ہے، شیخ اسحاق نے عرض کیا کہ ہمارے وطن میں ایک بزرگ عالم دین ہیں جو ہر وقت یاد خدا میں مصروف رہتے ہیں۔ انھیںخلافت عطا کرنا مناسب ہو گا، سید صاحب نے فرمایا کہ میں آپ کو بھی خلیفہ بناتا ہوں اور اس بزرگ کو ساتھ لائیںتو انھیں بھی خلافت دے دوں گا۔ شیخ کا اشارہ سید قطب علی کی طرف تھا جنھیں منصب خلافت ملنے کی کیفیت ان کے حالات میں درج ہے۔
ھجرت: سید صاحب مجاہدین کی پہلی جماعت کو لے کر جہاد کے لئے سرحد تشریف لے گئے تو شیخ اسحاق کا دل بھی اس کار خیر میں شرکت کے ولولوں سے بے تاب ہو گیا، چنانچہ وہ بال بچوں کو خدا کے حوالے کر کے گھر سے نکل پڑے ،کچھ مدت عظیم آباد میں ٹھہرے رہے جو مجاہدین کا ایک بڑا مرکز تھا، پھر ایک قافلہ میں شریک ہو کر دہلی پہونچے اور شاہ محمد اسحاق کے پاس مقیم رہے، اس زمانے میں مولوی سید محبوب علی اپنے قافلہ کے ساتھ سرحد سے واپس آچکے تھے۔ اس وجہ سے عازمین جہاد پر ایک گونہ افسردگی طاری ہو گئی تھی اور قافلوں کے جانے کا سلسلہ معرض تعطل میں پڑ چکا تھا۔ شیخ محمد اسحاق ارباب عزیمت میں سے تھے ،عام افسردگی ان کے عزم وہمت پر قطعاً اثر انداز نہ ہو سکی، وہ صرف چار رفیقوں کولے کر فقیرانہ لباس میں نکل پڑے اور سکھوں کی حکومت سے گزرتے ہوئے سید صاحب کے پاس پہونچ گئے، چوں کہ یہ کل پانچ آدمی تھے،اس لئے جماعت مجاہدین میںـ’ ’ـــــــپنج تن ‘‘کـے لقب سے مشہور ہوگئے۔
جنگ مایار: شیخ صاحب تمام لڑائیوں میں شریک رہے، مایار کی جنگ میںانھوں نے مردانگی اور عزیمت کا جو نقشہ پیش کیا اس کی صحیح کیفیت الفاظ میں نہیں سما سکتی۔ سیدصاحب کے حالات میں یہ بیان ہوا ہے کہ سواروں کا جیش ایک اتفاقی غلطی کے باعث غنیم کی ترکتازکا ہدف بن کر منتشر ہو گیا تھا۔ شیخ اسحاق جوش شجاعت میں گھوڑا لے کر سواروں میں شامل ہو گئے تھے، ایک دُرّانی سوار نے نیزے سے ان پر حملہ کیا وہ وار بچانے کے لئے دائیں جانب جھکے نیزے کی أنی سینے کے بجائے کندھے میں گھس گئی پھر اور دُرّانی سوار اُن پرٹوٹ پڑے، شیخ صاحب نے مقابلہ جاری رکھا لیکن بری طرح زخمی ہو گئے، دائیں ہاتھ کی انگلیاں کٹ گئیں، تلوار کی ایک ضرب سر پر پڑی، بائیں کندھے پر نیزے کے زخم کے بعد تلوار کا بھی ایک شدید زخم لگا۔زخموں سے چور ہو جانے کے باعث لڑنے کی سکت باقی نہ رہی، تو شیخ نے اپنی رائفل ایک غازی کے حوالے کی، تلوار دوسرے غازی کو دی، جس کے پاس تیر کے سوا کوئی ہتھیار نہ تھا، اور ان دونوں سے کہا کہ: ’’یہ خدا کا مال ہے، میں آپ کو امین سمجھ کر دیتا ہوں امید ہے آپ ان کا حق ادا کرنے میںکوئی دقیقہ سعی اٹھا نہ رکھیں گے‘‘۔پھر آہستہ آہستہ میدان جنگ سے مایار کی طرف روانہ ہوئے راستے میں میاںجی محی الدین ملے جن کا پاؤں سخت زخمی ہو چکا تھا اور وہ سہارے کے بغیر چلنے سے عاجز تھے۔ شیخ اسحاق کے ہاتھ اگرچہ بری طرح زخمی ہو چکے تھے لیکن انھوں نے میاں جی محی الدین کو سہارا دے کر اٹھایا اور ساتھ لے کر آہستہ آہستہ چلے، تھوڑی دور جا کر دونوں کو غش آگیا اورزمین پر گر پڑے، پھر ہوش آیا تو ایک درخت کے سائے میں جا کر لیٹ گئے۔ (سیرت سید احمد شہید، ص۲۵۲)دُرّانیوں کی شکست کے بعد مولوی سید جعفر علی نقوی مؤلف ـ’’منظورۃ السعداء‘‘ شیخ کے پاس پہونچے تو انھوں نے سب سے پہلے لڑائی کا حال پوچھا، فتح کی خبر سن کر جوش مسرت سے فرمایا کہ آؤ بھائی! گلے لگ جاؤ، پھر کہا: ’’یہ حدیث سچی ہے کہ شہیدوں کے سکرات موت کی کیفیت ویسی ہی ہوتی ہے جیسے کسی کو چیونٹی کاٹے (ما یجد الشہید من مس القتل الا کما یجد احدکم من مس القرحۃ) میرا جسم زخموں سے چور ہو گیا لیکن کانٹا چبھنے سے زیادہ تکلیف نہیں ہوئی‘‘ (سید احمد شہید، ص۲۵۲ــــ۔۲۵۳)۔
دیوانہ شاہ: علاج سے تمام زخم اچھے ہو گئے لیکن انگلیاں کٹ جانے کے باعث ان کا دایاں ہاتھ بندوق یا تلوار چلانے کے قابل نہ رہا تھا، تاہم انھوں نے مجاہدین کا ساتھ نہ چھوڑا۔ کچھ مدت تک فروسہ (نزدامب) میں تھانیدار رہے۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول پاک کی محبت دل پر غالب تھی۔ ایک مرتبہ مولانا شاہ اسماعیل نے وعظ میں {والذین آمنوا اشدحباً للہ}کی تفسیر بڑے پر تاثیر انداز میں فرمائی۔ شیخ محمد اسحاق پراس وعظ کا اتنا اثر ہوا کہ بے اختیار رونے لگے اور کھانا پینا ترک کر دیا، مولانا کو اس واقعہ کا علم ہوا تو بلا کروجہ پوچھی،شیخ نے کہا کہ مجھے اپنی بیوی سے محبت ہے اور ہر وقت اس کا خیال رہتا ہے، یہ صورت ــ{والذین آمنوا اشدحبا ًللہ}کے منافی ہے۔مولانا نے پوچھا کہ کیا اس وقت بھی یہی کیفیت تھی، جب آپ وطن میں تھے۔جواب دیا کہ اس وقت تو یہ کیفیت نہ تھی لیکن اب یہ خیال دل سے زائل ہی نہیں ہوتا۔ مولانا نے پھر پوچھاکہ آپ بیوی کی محبت کے جوش میں لشکر اسلام کو چھوڑ کر وطن جا سکتے ہیں، جواب دیا ہرگز نہیںمجھے دل پر اتنا قابو حاصل ہے کہ یہاں اگر ہزاروں تکلیفیں بھی پیش آجائیں تو خوشی خوشی جھیل لوں گااور وطن کا قصد نہ کروں گا۔مولانا نے فرمایا: پھر اطمینان رکھیئے کہ آپ یقینا اشد حبا ًللہ کے گروہ میں شامل ہیں، اس کے بعد کھانا کھایا۔ (سیرت سید احمد شہید، ص۷۴)۔ایک مرتبہ راج دواری میں سید صاحب کا وعظ سن کر شیخ محمد اسحاق کے دل میں یہ وسوسہ بیٹھ گیا کہ ان کا ایمان لوث خلل سے پاک نہیں، چنانچہ شدت رنج وغم میں خوردونوش سے ہاتھ اٹھا لیا اور دھاڑیں مار کر رونے لگے رفیقوں نے سبب پوچھا تو بولے حضرت امام المسلمین نے تین موقعوں پر جن غازی بھائیوں کو مغفرت کی بشارت دی میں ان میں سے کسی موقعہ پر موجود نہ تھا، یہ میری انتہائی بے نصیبی تھی، اب اس وقت تک کچھ نہ کھاؤں گا جب تک حضرت میرا ہاتھ پکڑ کر نہ فرمائیں گے کہ یہ شخص جنتی ہے۔سید صاحب تک بات پہونچی تو شیخ اسحاق کو اپنے پاس بلوایا اور بولے دیوانے شاہ کیا ہوا؟ (آپ محبت سے شیخ صاحب کو دیوانہ شاہ کہا کرتے تھے) انھوں نے پوری کیفیت عرض کی تو سید صاحب نے فرمایا: بھائی آپ مجھ سے ایسی بات کہلوانا چاہتے ہیں کہ علماء اس پر میرے قتل کا حکم دے دیںگے ایسی بات کہی نہیں جا سکتی لیکن آپ اپنی حالت پر غور کیجئے آپ نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں ، کاروبار جہاد میں مصروف ہیں، شر وفساد کا ازالہ کرتے ہیں کیا یہ نیک کام نہیں ہیں؟ اہل جنت کے اعمال نہیں ہیں؟ اب اٹھئے، کھاناکھائیے اور سو جائیے ،جس کام میں مشغول ہیں مشغول رہئیے ،ارحم الراحمین کے فضل پر بھروسہ رکھئے ان شاء اللہ آپ کا انجام بخیر ہو گا۔ (سید احمد شہید، ص۳۴۵ بحوالہ منظورہ ، ص۱۱۰۸)۔
بالاکوٹ:بالاکوٹ کی لڑائی میں شریک تھے، لیکن مایار کی جنگ میں دائیں ہاتھ کی انگلیاںکٹ گئی تھیں اس لئے بندوق نہ چلا سکتے تھے اور انھیں’’ گنڑا سا‘‘دے دیا گیا تھا، وہ مولانا احمد اللہ ناگ پوری کی جماعت میں شامل تھے، مولانا احمد اللہ میدان جنگ میں سید صاحب کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کر چکے تھے، انہوں نے اپنے بعد اور کسی کو جماعت کا امیر بنا دینا ضروری سمجھا۔ مولوی سید جعفر علی نقوی کو یہ منصب پیش کیا تو موصوف جماعت میں سے جن اصحاب کو اہل تر بتایا ان میں حافظ مصطفی کاندھلوی اور مولوی محمد حسن بنارسی کے علاوہ شیخ محمد اسحاق گورکھپوری بھی تھے۔سکھوں نے مٹی کوٹ کے ٹیلے سے اتر کر بالاکوٹ پر پیش قدمی شروع کی تو مجاہدین قصبے کی مسجد کلاں میں اور اس کے آس پاس جمع تھے، سکھوں کی طرف سے گولے اور گولیاں اولوں کی طرح برس رہی تھیں۔ مولوی سید علی جعفر نقوی کے بیان کے مطابق اس وقت شیخ محمد اسحاق نے فرمایا: اب دل میں شہادت کے سوا کوئی خیال باقی نہیں رہا۔مجاہدین نے قصبے سے اتر کر سکھوں پر یورش کی تو ابتدا ہی میں شیخ محمد اسحاق کے بائیں بازو پر گولی لگی ،دایاں بازو پہلے ہی بیکار تھا، بایاں بھی بیکار ہو گیا ، تو یہ کہتے ہوئے قصبے میں واپس آگئے کہ میں اب صرف دعا کے قابل رہ گیا ہوں۔
شہادت: یقینی طور پرمعلوم نہ ہو سکا کہ جنگ بالاکوٹ میں ان پر کیا گزری، حاجی غریب اللہ گورکھپوری ان مجاہدین میں سے تھے جو مٹی کوٹ کے دامن میں لڑتے ہوئے سکھوں کے ہجوم کے باعث قصبے میں پہونچ گئے تھے، وہ فرماتے ہیں کہ شیخ محمد اسحاق بالاکوٹ میں بے ہوش پڑے تھے،سکھوں کی فوج نے قصبے کی جنوبی سمت سے پیش قدمی کی توشیخ غریب اللہ ’’ستبنے‘‘ کے راستے چلے گئے، شیخ محمد اسحاق چونکہ بے ہوش تھے اس لئے انھیں اٹھا کر نہ لے جا سکے، بعد میں معلوم ہوا کہ جتنے مجاہدین قصبے میں زخموں کے باعث معذور پڑے تھے سکھوں نے ان سب کو شہیدکر ڈالااور قصبے کو آگ لگا دی، شیخ محمد اسحاق بھی انھیں میں شامل تھے ۔ رحمہ اللہ تعالی۔۔ (جماعت مجاہدین، ص ۱۶۷ ۔ ۱۷۰)۔

Related posts

علماء کرام کو تجارت کرنی چاہیے‎

Paigam Madre Watan

चुनावी रणनीति का शिकार हुई संसद

Paigam Madre Watan

بچوں کی تعلیم اور صحت، ایک قومی سرمایہ

Paigam Madre Watan

Leave a Comment