Articles مضامین

مولانا شمس الدین سلفی کا کتاب ”ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور “ پر تبصرہ

مولانا شمس الدین سلفی
اورنگ آباد، مھاراشٹرا


الحمد للہ رب العالمین والعاقبة للمتقین والصلاة والسلام علی رسول اللہ محمد و علی آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد.
ماشاءاللہ عزیزم شعیب الرحمن عزیزکی کتاب ”ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور“ میرے ہاتھوں میں ہے، مجھ سے تاثرات کی گزارش کی گئی ، الحمد للہ مسلم حکمرانوں کی تاریخ پر ایک اچھی کوشش ہے، اللہ سے دعاءہے ہم سب کو قوم وملت کا خیرخواہ بنے رہنے کی توفیق بخشے۔آمین
آزادی کے بعد اور خصوصاً چند سالوں سے فرقہ پرست قوت نے ہندوستان سے اسلام اوراس کے پیروکار کی بیخ کرنے میں یہودونصاریٰ کی پوری پوری نیابت اختیار کررکھی ہے۔ کبھی بابری مسجد کا معاملہ تو کبھی بھاگلپور وگجرات میں مسلم نسل کشی کا ننگا ناچ، اسی طرح کبھی مسلمانوں کی پرسنل لاءمیں مداخلت، کبھی دینی مدارس کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینا گویا ”بہروپیا مختلف رنگوں میں“۔
”تم جتنا ہی تراشوگے اتنا ہی سوا ہوگا“ کے تحت جب اسلام دشمن کی تشنہ نگاہ سیراب نہ ہوسکی تو اس نے ہماری تاریخ کو مسخ کرنا شروع کردی، اور یہ آج ہی سے نہیں، بلکہ بہت پہلے ہی سے اس کی داغ بیل ڈالی جاچکی ہے،لیکن ماضی قریب سے اس میں روز بروز شدت بڑھتی ہی جارہی ہے۔ متعصب مورخین کی دوغلی پالیسی کے علی الرغم اکثر لوگوں کا زاویہ فہم اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ مسلم حکمراں نے ہندو پر تشدد نیز ان کے مقامات مقدسہ کی پوری بے حرمتی کی ہے، اور مذہبی آزادی سلب کرلی گئی تھی، لیکن انسان لاکھ اپنی آنکھ بند کرکے روشن سورج کو جھٹلائے پھر بھی سورج روشن ہی رہے گا اس کی چمک دمک پر اس نادان کی آنکھ مچولی سے ہرگز تاریکی طاری نہیں ہوسکتی۔
شاہانِ اسلام نے ہندوستان کو اپنا وطن سمجھا اور اس کو ترقی کی سمت گامزن کرنے میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا نیز اس کو دیدہ زیب، سونے کی چڑیا اور پرکشش بنانے میں پوری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ جس کی مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ یوں منظر کشی کرتے ہیں”مسلمان اگرچہ ہندوستان میں فاتح کی حیثیت سے آئے لیکن اجنبی حکمرانوں کی طرح انھوں نے اس کو محض تجارت کی منڈی اور حصولِ دولت کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اس کو وطن بناکر یہیں رس بس گئے اور مرنے کے بعد بھی اس کی خاک کے پیوند ہوئے اس لئے کہ انہوں نے حکومت و سیاست، علم وفن، صنعت وحرفت، زراعت وتجارت، تہذیب و معاشرت، ہر حیثیت سے اس کو ترقی دے کر صحیح معنوں میں ہندوستان کو جنت نشاں بنادیا۔“ (ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے تمدنی کارنامے ،ص:۱)
یہی وجہ ہے کہ شہنشاہانِ اسلام نے مختلف مقامات پر تعلیمی ادارے قائم کئے، رفاہِ عام کا مکمل نظم و نسق کیا پھر ڈاک کی راہیں ہموار کیں، مختلف الانواع روز مرہ نیز سردیوں کے کپڑوں کے بے شمار کارخانے بنوائے، تجارت و زراعت کا صحیح زاویہ سکھایا اور متمدن ممالک کے اتصال کا سامان مہیا کیا ،نیز صنعت و حرفت کو بام عروج تک پہنچایا۔ اسی طرح اہل ہند کی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے جن خوراک کی بھی ضرورت پڑی خواہ باطنی ہو یا ظاہری مسلم حکمرانوں نے اس کو بہم پہنچایا۔ چنانچہ حقیقت سے بے خبر لوگ اسلامی حکومت کو بے انصاف، تشدد پسند اور سلاطین کی ریڑھ کی ہڈی، ہندوستان کے ہر ہر ذرے کو آفتاب و ماہتاب بنانے والے اور پورے پچاس سال تک سپاہیوں کی مقدار پر تنخواہ لے کر ملک و قوم کی خدمت کرنے والے عالمگیر اورنگ زیب کو متشدد اور مذہب ہندو کا جانی دشمن قرار دیتے ہیں۔ بڑے رنج والم کی بات ہے۔ اس کے باوجود جواہر لال نہرو اپنی کتاب (تلاش ہند) میں ہندوستانی سماج، ہندوستانی فکر، اور ہندوستان کی تمدن و ثقافت پر مسلمانوں کے ناقابل فراموش گہرے اثرات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ کہتے ہیں:”ہندوستان میں اسلام کی اور ان مختلف قوموں کی آمد نے جو اپنے ساتھ نئے خیالات اور زندگی کے مختلف طرز لے کر آئے، یہاں کے عقائد اور یہاں کی ہیئت اجتماعی کو متاثر کیا، بیرونی فتح خواہ کچھ بھی برائیاں لے کر آئے اس کا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے، یہ عوام کے ذہنی افق میں وسعت پیدا کردیتی ہے اور انھیں مجبور کردیتی ہے کہ وہ اپنے ذہنی حصار سے باہر نکلیں، وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ دنیا اس سے کہیں زیادہ بڑی اور بوقلموں ہے جیسی کہ وہ سمجھ رہے تھے۔ (تلاش ہند،ص:۹۱۲ بحوالہ ہندوستانی مسلمان،ص:۰۳)
سابق صدر کانگریس اور جنگ آزادی کے ایک رہنما ”ڈاکٹر پٹابی سیتا رَمیّہ“ کے الفاظ کا نقل کرنا بھی میرے خیال سے بہتر ہوگا: ”مسلمانوں نے ہمارے کلچر کو مالامال کیا ہے اور ہمارے نظم ونسق کو مستحکم اور مضبوط بنایا نیز وہ ملک کے دور دراز حصوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کامیاب ہوئے، اس ملک کے ادب اوراجتماعی زندگی میں ان کی چھاپ بہت گہری دکھائی دیتی ہے۔“ (خطبہ صدارت انڈین نیشنل کانگریس اجلاس جے پور۸۴۹۱/، بحوالہ ہندوستانی مسلمان، ص:۰۳)
ایک ہندو مبصر سرپی سی رائے نے حقیقت سے کتنی قریب تربات کہی ہے کہ” مذہبی تعصب اور فرقہ پرستی کی وبا موجودہ دور نے جنم دیا ہے۔ مسلم شاہان ہند کے دور حکومت میں عملاً اس کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔“ برٹش گورنمنٹ کے وائسرائے کو یہ تسلیم کرنا پڑا تھا کہ” حکومت مغلیہ برٹش گورنمنٹ (برطانیہ) سے حددرجہ بہتر ہے۔“ مذکورہ بالا تحریر سے ہرعقلمند شخص بآسانی یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ شاہانِ مسلم جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ کیا لائے، ہندوستان پستی کی کس تہہ تک پہنچ چکا تھا اس کو بلندی کے کس معیار پر پہنچایا۔سارے بادشاہ سرزمین ہند پر باغباں بن کر آئے اور اپنی بوقلمونی ذہن و افکار اور مذہبی قوت کو اس کی باغبانی اور اس کو خوشگوار بنانے میں صرَف کیا، بقدر ضرورت زمین بھی کریدی اور خس و خاشاک کو صاف کرکے از سر نو ایک شاندار اور متنوع گلوں کی پھلواری قائم کی، ہرطرح اس کی آبیاری کی اور اس کے وہ پھول جو صدیوں سے طبقہ واریت، دیوتاو ¿ں کی کثرت اور نفسانیت و رہبانیت کے بادِ سموم جھلس رہے تھے ،کو نئی زندگی عطا کی اور پھلنے پھولنے کی مکمل راہیں ہموار کیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ آج اگر ہم تعصب و نفرت کی دبیز تہہ کا آپریشن کرکے فرقہ واریت کی ہلاکت خیز بیماری سے نجات چاہتے ہیں اور ہندومسلم یکتا قائم کرنے کے خواہاں ہیں تو ہمیں یورپ کی دجل آفرینی جال سازیوں سے اپنی نگاہوں کو موڑ کر حق و انصاف کی صحیح کسوٹی اختیار کرنا ہوگی، اور تعصب و اختراعات سے بالاتر ہوکر نسل جدید کے سامنے اپنے ملک ووطن کی صحیح تاریخ پیش کرنا ہوگی۔ جبھی ہمارا بابِ ہند کے دوپاٹ بننا ممکن ہوسکے گا تاکہ ہمارے اصل دشمن جو ہمیں باہم لڑانا چاہتے ہیں، کو منھ کی کھانی پڑے، اور جس طرح ہم پہلے سے ہندی رہے ہیں آئندہ بھی ہندی ہی رہیں۔

Related posts

کیاشکست خوردہ پارٹیاںہار سے کچھ سبق حاصل کریںگی؟

Paigam Madre Watan

بہار میں ووٹنگ کا گرتا تناسب 

Paigam Madre Watan

خوشی اور انعام و اکرام کا دن ہے عید الفطر!

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar