Education تعلیم

اردو یونیورسٹی میں خواتین تشدد کے انسداد کے متعلق شعور بیداری مہم کا اختتام

حیدرآبا(پی ایم ڈبلیو نیوز) خواتین پر تشدد کے انسداد کے متعلق 16 روزہ عالمی شعور بیداری مہم کے ضمن میں مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، داخلی شکایات کمیٹی (آئی سی سی) کے زیر اہتمام 8؍ دسمبر کو ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔ عالمی سطح پر شعور بیداری کی یہ مہم 26؍ نومبر تا 10؍ دسمبرچلائی گئی تھی۔ اردو یونیورسٹی نے پروگرام کے انعقاد میں شعبۂ تعلیمات نسواں، مانو اور مائی چوائسس فائونڈیشن سے اشتراک کیا تھا۔
پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے اس پروگرام کی صدارت کی۔ انہوں نے شعور بیداری مہم کے دوران منعقدہ مختلف مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ میں انعامات اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔ ریسورس پرسنس ڈاکٹر فرزانہ خان، ہیڈ آف آپریشنس،مائی چوائسس فائونڈیشن، ڈاکٹر انیتا سابل، ہیڈ ، ڈپارٹمنٹ آف ایل ایل ایم، سمبائسس اور محترمہ پرل چورگوڈی، ہیڈ آف انٹروینشنس، مائی چوائسس فائونڈیشن نے بالترتیب ’’خواتین کے خلاف تشدد کے تدارک‘‘، ’’ابتدائی برسوں کا استحکام: بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی روک تھام‘‘، ’’تشدد اور بدسلوکی سے متاثرہ افراد کی دلجوئی و تشخیص‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ پروفیسر گلفشاں حبیب، صدر نشین آئی سی سی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے شعور بیداری مہم کے دوران منعقدہ مباحث، ورکشاپ اور تبادلہ خیال اجلاسوں کے علاوہ مقابلہ جات کی رپورٹ پیش کی۔ اس سلسلے میں شعبۂ تعلیمات نسواں، مانو اور مائی چوائسس فائونڈیشن کے درمیان ہوئی یادداشت مفاہمت کو بھی پیش کیا گیا۔ پروفیسر آمنہ تحسین، صدر شعبۂ تعلیمات نسواں نے یادداشت کے متعلق معلومات فراہم کیں۔ ڈاکٹر شیخ وسیم نے خیر مقدم کیا، ڈاکٹر شاکرہ پروین نے ریسورس پرسنس کو متعارف کیا۔ محترمہ اروندھتی ٹی نے شکریہ ادا کیا۔


علم سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔ پروفیسر سید عین الحسن،شیخ الجامعہ


علم سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔تعلیم و تعلم ،درس و تدریس دیگر امور کی طرح فطری طور پر تبدیلیوں کو قبول کر تے ہوئے نئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نت نئے طریقوں کو روبہ عمل لانے کا نام ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن ،شیخ الجامعہ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے مر کز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذۂ اردو ذریعۂ تعلیم کے دوروزہ ورکشاپ بعنوان اختراعی طریقہ تدریس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شہر حیدرآباد کے مختلف اسکولوں سے 50 سے زائد اساتذہ نے اس پروگرام میں شرکت کررہے ہیں۔مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر ایم ونجا،ڈین ،اسکول برائے تعلیم و تربیت ،مانو نے پہلے تکنیکی سیشن میں’’ تفتیش پر مبنی طریقہ تدریس ‘‘کے حوالے سے گفتگو کی۔دوسرے تکنیکی سیشن میں ڈاکٹر شیخ وسیم ،اسو سی ایٹ پروفیسر،ڈی ڈی ای،مانو نے ’’ترمیم شدہ مفید اکتساب ‘‘ کے عنوان سے سر گرمیو ںکے ذریعہ اساتذہ کو روشناس کرایا۔پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی،ڈائرکٹر ،مر کز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذۂ اردو ذریعۂ تعلیم نے شرکا کا استقبال کیا اور تربیتی پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ڈاکٹر محمد اکبر اور ڈاکٹر افروز ظہیر ،اسسٹنٹ پروفیسرس ،سی پی ڈی یو ایم ٹی نے مختلف اجلاسوں میں نظامت کے فرائض انجام دئیے۔

Related posts

”لسانیات سب سے بڑی فارنسک سائنس ہے“ پروفیسر ابّی کا اردو یونیورسٹی میں خصوصی خطاب

Paigam Madre Watan

نسیمہ خاتون کو تعلیماتِ نسواں میں پی ایچ ڈی

Paigam Madre Watan

مانو میں این ای پی پراورینٹیشن پروگرام کا افتتاح،رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد کا خطاب

Paigam Madre Watan

Leave a Comment