Articles مضامین

وقت کی اہمیت اور مسلم معاشرہ

از. غلام رسول نقشبندی


اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، وقت ایک ایسی نعمت ہے جو تمام انسانوں چاہے امیر ہو یا غریب سب کو برابر ملا ہے، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں کے حصے میں 27 گھنٹے آئے ہیں کیونکہ وہ امیر ہے اور فلاں کے حصے میں 22 گھنٹے ہیں اس لیے کہ وہ غریب ہے، بلکہ اللہ تعالی نے ہم سب ہم میں سے ہر ایک کو دن اور رات میں 24گھنٹوں میں 1440 منٹ اور86400 سیکنڈ عطا فرمائے ہیں،وقت کی  اہمیت کا اندازہ اس اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ رب العزت اس کی قسم اٹھائی ہے اور فرمایا: زمانے کی قسم، بے شک تمام انسان خسارے میں ہے مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے،اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی،اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔(پارہ نمبر٣٠، سورہ عصر ۱ تا ۳)
وقت کی اہمیت کے متعلق پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں، ایک صحت، اور دوسری فراغت (بخاری شریف،حدیث نمبر (6412)
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: وقت تلوار کی مانند ہے اگر تماس کو نہیں کاٹوگے تو تمہیں کاٹ دیگا، وقت کی قدروں کی قیمت کا اندازہ اس عمل سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام نے پانچ نمازیں فرض کی تو اس کے لیے وقت متعین کر دیا اب اسے پہلے یا اس کے بعد کوئی نماز ادا کرے تو قابل قبول نہیں، مثلا ظہر کے وقت میں اگر کوئی عصر کی ادا پڑھنا چاہے تو اس کے لیے کسی بھی صورت میں جائز نہ ہوگا،بلکہ عصر پڑھنے کے لیے وقت عصر کا انتظار کرنا پڑے گا، اسی طرح جب ہم روزہ کو دیکھتے ہیں تو وہاں بھی ایسا ہی معاملہ نظر آتا ہے کہ وقت متعینہ پر سحری کرتے ہیں اور افطاری بھی جب وقت پورا ہو جاتا ہے تب کرتے ہیں۔
تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ ہر وہ شخص جس نے کامیابی کی منزلیں طے کیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس انہوں نے وقت کا صحیح استعمال کیا،اور پھر آج کے اس دور میں یہ بات بالکل طتشت از بام ہو چکی ہے کہ جب تک ایک انسان  وقت کا پابند نہیں ہوگا تب تک وہ کامیاب نہیں ہو سکتا،یہی وجہ ہے کہ ہمارے دور میں باقاعدہ ٹائم مینجمنٹ کے نام سے علیحدہ ایک کورس چلایا جاتا ہے جہاں لوگ صرف یہ سیکھتے ہیں کہ ٹائم کو کس طرح استعمال کیا جائے کہ ہم گھر، کاروبار اور دوسری ضروریات زندگی کو حسین انداز میں پائے تکمیل تک پہنچا سکیں۔
لیکن جب ہم اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم چلتا ہے کہ اسلام نے آج سے صدیوں پہلے ٹائم کا پابند بنایا ہے اور ایک ایسا ٹائم مینجمنٹ بنایا ہے کہ اگر اس پر عمل کوئی کرے تو وہ یوں ہی کامیاب ہو جائے گا، مثلا آپ نماز کے اوقات کو دیکھ لیں،فجر کے وقت اٹھنے کو لازم قرار دیا اور پھر فجر اور ظہر کے درمیان سات سے ٓاٹھ گھنٹے کا فاصلہ رکھا تاکہ بندے اپنا کام خوب اچھی سے کرلے، اس کے بعد ظہر اور عصر کے درمیان تین سے چار گھنٹے کا فاصلہ رکھا تاکہ بندہ کچھ دیر آرام کر نے اورنماز سے فارغ ہوکر پھر اپنے کام کی طرف متوجہ ہو جائے، بعد ازاں عصر اور مغرب کے درمیان مختصر وقت رکھا تاکہ بندے اپنے کام کو سمیٹ کر مغرب تک گھر پہنچ جائیں، اور پھر مغرب اور عشاء کے درمیان کچھ زیادہ وقفہ رکھا تاکہ بندہ رات کا کھانا کھا لے او ساتھ ساتھ ر اپنے اہل و عیال کی بھی حال و خیریت معلوم کر لے، اور پھر بعد عشاء سونے کا حکم دیا تاکہ دن بھر کی تھکاوٹ ختم ہو جائے اور نئے آنے والے دن میں تازہ دم ہو کر پھر اپنے کاروبار کی طرف متوجہ ہو جائے، اور اللہ پاک نے قران میں بھی ارشاد فرمایا کہ: ہم نے رات کو سونے کے لیے اور دن کو معاش کے لیے بنایا ہے۔(پارہ نمبر 30 سورہ نبا)
لیکن افسوس کی آج کا مسلمان بالکل فرمان الٰہی اور فطرت الہٰی کا الٹ کام کر رہا ہے، صبح فجر تک جاگتا ہے اور جب اٹھنے کا وقت ہوتا ہے تو سونے کے لیے جاتا ہے، تو ایسی قوم جو قانون الہی اور فطرت کے خلاف کام کرے کبھی سرخ رو اور کامیاب نہیں ہو سکتی، کیونکہ قانون فطرت کے خلاف جو بھی کام کرے گا بالآخر اس کی تباہی و بربادی ہے، مثلا مچھلی کی فطرت یہ ہے کہ وہ پانی میں رہے اگر وہ پانی سے باہر نکل کر زندگی گزارنے کی کوشش کرے گی تو وہ کبھی بھی اس میں کامیاب نہیں ہو سکتی،سی لیے ہم تمام مسلمان پر لازم ہے کہ وقت کی اہمیت کو سمجھیں، اور اچھے انتظام اور اصول کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی کوششکریں کیونکہ اسی میں کامیابی اور کامرانی کا راز مضمر ہے۔ اللہ پاک ہمیں وقت کا صحیح استعمال کرنے اور پابندی وقت کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

Related posts

ایک صحافی جسے کوئی نہ خرید سکا: رویش کمار

Paigam Madre Watan

مجادِآزادیٔ اول ’’بہادر شاہ ظفر‘‘

Paigam Madre Watan

ہاں میں نے ووٹ دیا

Paigam Madre Watan

Leave a Comment