Articles مضامین

معمر افراد اور آج کے نوجوان

از : محمد عابد احمد جامعی


اس عالم رنگ و بو میں دین اسلام ہی دین فطرت ہے ۔ اور قیامت تک آنے والی نسل انسانی کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ دین اسلام ابن آدم کی زندگی کے تمام تر شعبہ جات میں مکمل رہنمائی فرماتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں حیوانات سے لیکر نباتات و جمادات وغیرہ ہر ایک کے حقوق و فرائض کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ تاکہ انسان زندگی کے کسی مرحلے میں شش و پنج کا شکار نہ ہو ۔ اور اپنے ذمے عائد کیے گئیے فرائض و واجبات کی ادائیگی میں ناکام و نامراد ثابت نہ ہو ۔حیات انسانی سے منسلک جمیع امور و ضروریات کی تفصیلات شریعت اسلامیہ میں مرقوم ہیں ۔ شارع اسلام نے جہاں انسانوں کو اپنے حقوق بجالانے کا پابند بنایا ہے ۔ تو وہیں حقوق العباد کی ادائیگی کی تلقین فرمائی ہے ۔ حقوق العباد وہ حقوق ہیں جو خالص بندوں سے متعلق ہیں۔ خواہ اپنی ذات سے ہوں یا غیروں سے ۔ ان تمام حقوق میں کچھ حقوق وہ ہیں جو قوم کے بزرگوں سے متعلق ہیں ۔ معاشرے کے عمر رسیدہ افراد قوم کی بنیاد ہوتے ہیں وہ ایسے درخت ہوتے ہیں جو زندگی کی جد و جہد میں تھکنے والے مسافر کو سایۂ امید فراہم کرتے ہیں ۔ ان کے حوصلہ افزاں اقوال شکست خوردہ نوجوانوں میں جوش و ولولہ پیدا کردیتے ہیں ۔وہ زندگانی کی کڑی دھوپ میں ٹھنڈے ساۓ کا مانند ہوتے ہیں ۔ کثیر احادیث میں وارد ہے کہ جس گھر میں معمر افراد ہوں اس پر خدا کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں ۔ ان کے صدقے میں گھر انوار و تجلیات ربانی کا مسکن بن جاتا ہے ۔ ان کی عزت کرنا رب کریم کی عزت کرنا  ہے ۔ دراز عمر افراد کے سا تھ حسن سلوک اور محبت و احترام سے پیش آنا اللہ عزوجل کو پسند اور اس کی رضا کا باعث ہے ۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ان کے لیے آسانیاں فراہم کرنا سنت نبوی ہے ۔ لیکن دور حاضر میں ہم ہر گذرتے دن کے ساتھ مشاہدہ کر رہیں ہیں کہ نوجوان نسلیں حسن سلوک و مثالی اخلاق سے عاری اور تہذیب و تربیت سے خالی نظر آتی ہیں ۔ اپنے بڑوں اور بزرگوں کا ادب و احترام نہیں کرتیں ۔ان کے ساتھ بیٹھنا ، اٹھنا اور ان کے پاس وقت گذارنا ناپسند کرتی ہیں ۔ان کی باتوں کو نظر انداز کرنا  اپنے لیے باعث فخر سمجھتی ہیں ۔ اگر وہ کچھ بتائیں تو بد زبانی سے پیش آتی ہیں ۔آج قوم کے نوجوانوں کا اپنے بزرگوں کا احترام تو کجا ان کی آواز تک سننا ان کے کانوں پر گراں گذرتا ہے ۔ یقینا یہ رویہ مغربی تہذیب کا شاخسانہ ہے ۔ والدین اپنے بچوں کو مغربی تعلیمات سے بہراور  تو کررہے ہیں مگر اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ چھوڑ دیا ہے ۔آج ہمارے معاشرے میں بڑوں کے سا تھ خوش اخلاقی سے پیش آنا بالکل مفقود ہوچکا ہے ۔ حالانکہ  قرآن و حدیث میں ظعیف و عمر رسیدہ افراد کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنے کی جابجا تلقین فرمائی گئی ہے ۔ سورہ اسراء کی آیت نمبر 23 شاہد ہے کہ معمر و عمر رسیدہ والدین سے اف تک نہ کہنا ، اور انہیں نہ جھڑکنا ، اور ان سے تعظیم کی بات کہنا ۔ اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھاؤ نرم دلی سے ۔
مذکورہ بالا آیات سے واضح ہوتا ہے کہ کس قدر شریعت اسلامیہ نے عمر رسیدہ اشخاص کے حقوق اور ادب و احترام کا اہتمام فرمایا ہے ۔اسی طرح کی کثیر آیات و احادیث وارد ہیں ۔ بس ضرورت ہے ہمیں ان کو سمجھ کر عمل کرنے کی ۔ لہذا جوانوں کو چاہیے کہ اپنے بزرگوں کی  عزت کریں ۔  ان کے سامنے ادب و لحاظ سے پیش آۓ ۔ اور جہاں تک ممکن ہو ان کو بھلائی اور آرام پہنچانے کی کوشش کریں۔ امام بیہقی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بوڑھے مسلمانوں کی تعظیم و تکریم بھی اللہ عزوجل کی تعظیم و تکریم سے ہے ۔
اسی طرح امام ترمذی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جو نوجوان کسی بوڑھے کی اس کے بڑھاپے کی وجہ سے عزت کرے گا تو اللہ عزوجل اس کے بڑھاپے میں دوسرے جوانوں کو اس کی عزت و تکریم کے لیے مقرر فرمادے گا۔
مذکورہ بالا دونوں حدیثوں سے واضح ہوتا ہے کہ معمر و دراز عمر حضرات اللہ عزوجل کے نزدیک بہت اعلٰی مقام و مرتبے پر فائز ہیں ۔ اور یہ بھی کہ  بوڑھے لوگوں کی عزت کرنے والے جوان اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب و مکرم ہے ۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب ان کی عزت کرنا رب کائنات کی عزت کے مانند ہے تو ان کو تکلیف و اذیت پہنچانا رب ذوالجلال کو اذیت پہنچانے کے مانند نہیں ہوگا ۔ جس طرح ان کی خوش کرنا  اللہ کو خوش کرنا ہے اسی طرح ان کو ناراض کرنا اللہ تعالٰی کو ناراض کرنا ہے ۔
اسی طرح ایک  حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ مجھے اپنے کمزور افراد میں تلاش کرو کیونکہ انہیں کے سبب تمہیں رزق عطا کیا جاتا ہے اور مدد کی جاتی ہے ۔ گویا کہ ضعیف و عمر رسیدہ اشخاص اللہ عزوجل کی نصرت و حمایت اور رزق عطا کیے جانے کا ذریعہ ہیں ۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب یارغار مصطفیٰ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے نابینا والد کو خدمت اقدس میں لیکر حاضر ہوۓ ۔ تو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھکر فرمایا ” اے ابو بکر تم نے ان بڑے صاحب کو کیوں زحمت دی ؟ میں خود ہی ان کے پاس چلا آتا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر بزرگوں کا خیال فرماتے اور ان کے لیے آسانیاں فراہم کرنے کی کوششیں فرماتے ۔اس سے یہ بھی معلوم ہؤا کہ بزرگوں اور معمر افراد کی عزت کرنا ، ان کو آرام پہنچانا، اور ان کے لیے آسانی کے اسباب فراہم کرنا سنت نبوی ہے ۔اسی طرح ایک حدیث کا مضمون ہے کہ جو بڑوں کا احترام نہیں کرتا وہ ہمارے طریقے پر نہیں ۔ مذکورہ بالا تحریر سے عیاں ہوتا ہے کہ جو حضرات معمر افراد کی عزت و توقیر نہیں کرتے وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت سے خارج ہے لہذا ہمارے لیے لازم ہے کہ ہر آن بڑوں کی عزت کریں ۔ ان کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں ان کے حقوق کا خاص خیال رکھیں۔ شریعت اسلامیہ نے بڑوں کی عزت و تکریم کرنے کی کس قدر تلقین فرمائی ہے ۔اور ان کے ادب و احترام کا کتنا خیال رکھا ہے ۔لہذا معاشرے کے ہر جوان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے بزرگوں سے حسن سلوک اور ادب و احترام سے پیش آئے ۔تاکہ ان کی دعا ہمیشہ ڈھال بن کر تمہاری حفاظت کرتی رہے ۔جس گھر یا  معاشرے میں کوئی بزرگ ہوں اور ان کی عزت کی جاۓ تو وہ گھر یا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ اور تہذیب و ثقافت کا مثالی نمونہ بنتا نظر آتا ہے ۔ معمر افراد باعث خیر و برکت ہیں ۔  رحمت باری تعالی اس گھر کو  اپنے احاطہ کرم میں لے لیتی ہے ۔اس گھر یا معاشرے پر نوازشات و برکات الہی کی بارشیں برسنے لگتی ہیں ۔ رزق کی فراوانی ہوجاتی ہے ۔

Related posts

ائمہ جمعہ کے خطبہ میں ترغیب حج کو موضوع بنائیں

Paigam Madre Watan

کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے!

Paigam Madre Watan

حماس کا حملہ اور فلسطین کی موجودہ صورت حال پر ہمارا موقف

Paigam Madre Watan

Leave a Comment