Articles مضامین

ارض فلسطین لہولہان مگر امت مسلمہ خاموش

از: مولانا محمد نعمان رضا علیمی


آج ارض فلسطین ایک مرتبہ پھر لہو لہان ہے، یہودی جو صدیوں سے در بدر تھے، آج وہ اس زمین کے اصل مالکان کو بے گھر کرنے کے در پے ہیں۔ اسرائیل کا ظلم حد سے بڑھ گیا ہے اور وہ تمام اخلاقی قدریں پامال کر کے فلسطینیوں کی منظم نسل کشی کر رہا ہے، اس وقت فلسطینی فضا اسرائیلی حملوں اور انسانی چیخوں سے گونج رہی ہے، غزہ میں بھوک، افلاس کا راج، خوراک ناپید، پانی بند، لاشوں کو دفنانے کے لئے جگہ ختم، ہر طرف بکھری لاشیں عالمی امن کے دعویداروں کو منہ چڑھا رہی ہیں۔
ارض فلسطین ، قبلۂ اول کی بنا پر تمام اُمتِ مسلمہ کا مشترکہ اَثا ثہ ہے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی کثرتِ بعثت کی بنا پر یہ ’’سرزمینِ انبیاء‘‘ بھی کہلاتی ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے صاحبزادہ حضرت اسحاق علیہ السلام سے حضرت یعقوب و یوسف، پھر حضرت موسیٰ، زکریا، یحییٰ، دائود، سلیمان اور بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہم الصلوۃ والسلام تک یہ خطہ انوارِ نبوت سے جگمگاتا رہا ہے۔ پیغمبرِ آخرالزماں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺبھی ہجرت کے بعد ایک مدت تک بحکمِ الٰہی ’’بیت المقدس‘‘ کی جانب رُخ کرکے نماز پڑھتے رہے ہیں، اسی لیے یہ مسلمانوں کا قبلۂ ا ول کہلاتا ہے۔
فلسطین محل وقوع کے اعتبار سے براعظم ایشیاء کے مغرب میں بحر متوسط کے جنوبی کنارے پر واقع ہے اس علاقے کو آج کل مشرق وسطیٰ بھی کہا جاتا ہے، شمال میں لبنان اور جنوب میں خلیج عقبہ واقع ہے، جنوب مغرب میں مصر اور مشرق میں شام اور اردن سے اس کی سرحدیں ملی ہوئی ہیں۔ جبکہ مغرب میں بحر متوسط کا طویل ساحل ہے، فلسطین کا رقبہ اور غزہ سمیت ۷۲ ہزار کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ــ
تاریخی حقائق کے مطابق ۱۹۱۸ء میں فلسطین میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ۶ لاکھ جبکہ یہودیوں کی آبادی صرف ۶۰ہزار تھی لیکن ۱۹۲۲ء میں یہودیوں کی تعداد ۸۳ ہزار تک پہنچ گئی یوں ایک منظم پروگرام کے تحت مسلمانوں کی آبادی گھٹتی رہی اور یہودیوں کی آبادی بڑھتی رہی۔یہاں تک کہ ۱۹۴۸ء میں یہودیوں کی آبادی ۷ لاکھ تک پہنچ گئی اور پوری دنیا نے مل کر فلسطین کا حق غصب کر کے یہودیوں کو ایک الگ وطن دے دیا۔۱۵ مئی۱۹۴۸ء کو اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔
آج فلسطین کے حالات کی وجہ سے ہر انصاف پسند،صاف دل اور زندہ ضمیر شخص رنجیدہ ہے۔ ایک مومن تو اپنے دل میں درد، جگر میں سوز اور کلیجے میں جلن محسوس کرتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ اسلام نے جس درد ومحبت کے رشتے میں ہمیں پرو دیا ہے، اس کی رو سے مشرق میں کھڑے شخص کے پاؤں میں اگر کانٹا بھی چبھے تو مغرب میں کھڑے شخص کو اپنے دل میں اس کی چبھن محسوس کرنی چاہیے۔ ایک کی مصیبت پر دوسرے کو تڑپ جانا چاہیے اور ایک کی چوٹ کی کسک دوسرے کو اپنے سینے میں محسوس کرنی چاہیے۔اس کیفیت میں شدت اس وقت آ جاتی ہے، جب وہ خود آگے بڑھ کر مظلوم کی مدد اور ظالم کا ہاتھ روکنا چاہ رہے ہوں، مگر بے بس ہوں اور جن کی اصل ذمہ داری ہو، وہ اس کا احساس نہ رکھتے ہوں۔ایسے موقع پر ان کی حالت وہ ہوجاتی ہے جو امام سبکی علیہ الرحمہ پر گزری تھی اور اس حالت میں ان کے قلم سے یہ درد میں ڈوبے ہوئے الفاظ نکلے تھے کہ ہائے،ہاتھوں کا کام فریاد کرنا نہیں، بلکہ گریبان پکڑنا ہے، مگر افسوس کہ یہ ہاتھ ان تک پہنچ نہیں سکتے۔ جن کے ہاتھ ان تک پہنچ سکتے ہیں،انہیں عالم اسلام اور ۵۸ اسلامی ملکوں سے یاد کیا جاتا ہے، ان کی زبانیں گنگ، ہاتھ شل، اعضاء مفلوج اور ضمیر مردہ ہوچکے ہیں، چنانچہ عملی تعاون اور مدد تو کجا کہیں سے ان مظلوموں کی حمایت میں کوئی طاقتور اور توانا آواز بھی نہیں اٹھ رہی،اگر کہیں کسی گوشے سے کوئی نحیف و نزار صدا سنائی بھی دیتی ہے تو رسمی جملوں تک محدود ہوتی ہے،حالانکہ انہیں آوازوں اور قراردادوں کی ضرورت نہیں، بلکہ ٹینکوں کے مقابلے میں ٹینکوں کی اور میزائلوں کے مقابلے میں میزائلوں کی ضرورت ہے۔اسرائیل کی حمایتی ریاستوں نے صرف اس کے حق میں آواز بلند نہیں کی،بلکہ بحری بیڑے اور عسکری سازو سامان بھیجا ہے۔
اسرائیلی ریاست جس نے اپنا ناجائز وجود برقرار رکھنے کے لیے فلسطین کے مظلوم اور نہتے عوام سے نہ صرف ان کا اپنا علاقہ ہی چھین رکھا ہے بلکہ انہیں اپنی ہی سر زمین پر زندگی گزارنا مشکل، تلخ اور ناممکن بنا دیا ہے۔
ہٹلر نے ۱۹۴۰ کی دہائی میں لگ بھگ ساٹھ لاکھ یہودیوں کا صفایا کر دیا ساری دنیا کے یہودیوں نے ہٹلر کے اس عمل کو نسل کشی قرار دیا جبکہ نازیوں نے جرمنی میں پیدا ہونے والے افراط زر اور بے روزگاری کا ذمہ دار یہودیوں کو قرار دیا ہٹلر نے دس سال یہودیوں کے خاتمے کے لیے مختص کر دیے جہاں اس نے بہت بڑی تعداد میں یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا وہیں اس نے کچھ یہودیوں کو زندہ چھوڑ دیا اور کہا کہ میں انہیں اس لیے چھوڑ رہا ہوں تاکہ دنیا سمجھ جائے کہ میں نے باقی یہودیوں کو کیوں مارا تھا بس یہیں پر ہٹلر غلطی کر گیا وہ ایک آ مر تھا کسی کو جواب دہ نہیں تھا اگر وہ اپنا کام مکمل کر جاتا تو دنیا بہت سے عذابوں سے محفوظ ہو جاتی اسرائیل کا ناپاک وجود جب سے نمودار ہوا ہے اس نے فلسطینی مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
اگر یہ آگ نہ روکی گئی تو یہ جنگ پھیلے گی اور یہ بہت سے مسلمان ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔یہ جنگ اب فیصلہ کن نظر آ رہی ہے۔ اس میں فلسطینیوں کا بھاری جانی و مالی نقصان تو نوشتہ دیوار ہے ہی، مگر اسرائیل کو بھی اسکی قیمت چکانی ہوگی۔ مسلمان خصوصاً عرب ممالک کے اندر سے آوازیں اُٹھیں گی، ایک لہر اٹھے گی جو بہت کچھ بہا کر
لے جائے گی۔ وہی بچے گا جو اس وقت تاریخ کی صحیح اور درست سمت میں کھڑا ہو گا۔یہ مظلومیت اور سسکتی ہوئی انسانیت کو بچانے کا وقت ہے۔ یہ عمل اور تحرک کا وقت ہے۔ یہ اپنے ان مظلوم بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے جن کے پاس نہ کھانے کو نہ پینے کو کچھ ہے۔ وہ سرنگوں میں گھسے بیٹھے ہیں اور اوپر سے بم برس رہے ہیں۔ ۵۸اسلامی ملکوں میں سے کوئی تو ہو جو ان مظلوموں کا چارہ گر بنے، جو ان کی امیدوں کا محور ہو، جو ان کے ساتھ کھڑا ہو۔ کوئی تو ہو۔مگر افسوس امت مسلمہ آج خاموش ہے ۔
پوری دنیا یہ المناک تماشہ برسوں سے دیکھ رہی ہے مگر خاموش ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی براہ راست اس بھیانک کھیل کا حصہ ہیں۔ انسانی حقوق کی پاسداری والے ملک اور بین الاقوامی تنظیمیں بے بس اور مجبور نظر آتی ہیں۔ اسلامی ملک زیادہ تر دبے ہوئے،سہمے ہوئے اور خاموش بیٹھے ہیں۔ مسلم امّہ میں کوئی دم خم نہیں کہ وہ اسرائیلی بربریت اور سفاکیت کو قوت سے روکے۔ وہ تو زیادہ تر صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا کر رہے ہیں۔ اسلامی دنیا میں اس وقت سوائے ایران اور ترکی کے کوئی دیگر ملک شاید اپنے ان فلسطینی بھائیوں کی کسی بھی طرح کی عملی مدد کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالم اسلام اس وقت ایک جاندار اور فعال قیادت سے محروم ہے۔ زیادہ تر مسلم ممالک امریکہ کے زیر اثر ہیں۔
مسئلہ فلسطین پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے، کسی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے ملک پر قبضہ کرے، اسرائیل کو فلسطین کا ناجائز قبضہ ختم کرنا ہوگا، مسلم ممالک کو اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے چاہئیں اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، خوراک، ادویات سمیت بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے مسلم امّہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس وقت امت مسلمہ کو اتحاد کی ضرورت ہے۔
ہم سب فلسطین کے مسئلہ پر یکجا ہیں، فلسطین کے پاس تین راستے تھے جن میں غلامی، ہجرت اور مزاحمت شامل تھی، فلسطینیوں نے اپنے حق خود ارادیت کے لئے مزاحمت کا راستہ چنا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف فاسفورس بموں کا استعمال کیا جا رہا ہے، حماس کا حملہ دہائیوں سے جاری نسل کشی کے خلاف ایک ردِعمل ہے، اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور ہم اس کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے، فلسطینیوں کی امداد کے لئے بین الاقوامی فلسطین فنڈ کا قیام عمل میں لایا جانا ضروری ہے۔ اس وقت جو جنگ جاری ہے اس میں پوری امت مسلمہ کو فلسطینیوں کی دامے دِرمے قَدَمے سُخَنے ہر اعتبار سے مدد کے لئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
اے اللہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما۔ اے اللہ فلسطین کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ ان کی سامنے سے، پیچھے سے اور دائیں بائیں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ تو فلسطینیوں کا حامی، مددگار، محافظ اور وکیل بن جا اور ان کا بھی جو مظلوم فلسطینیوں کی مدد کر رہے ہیں۔
آمین یارب العالمین

Related posts

کیا اسے بدحواسی کہتے ہیں؟

Paigam Madre Watan

اصلاحی تحریر

Paigam Madre Watan

اسلام میں پیڑ پودوں کی اہمیت اور ماحولیاتی مسائل کا حل

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar