Articles مضامین

صدقہ کے احکام، ان کی اہمیت ، فضیلت اور صدقہ نہ کرنے کی فضیحت

ابونصر فاروق


(۱) صدقہ مالداروں سے لینا محتاجوں کو دیناہے:
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر صدقہ فرض کیاہے جواُن کے مالداروں سے لیا جائے گا اور اسے اُن کے ضرورت مندوں کو لوٹایا جائے گا۔‘‘ (بخاری،مسلم)……صدقہ کے اصل حقدار محتاج اور مجبور لوگ ہیں۔ جو لوگ صدقہ اور زکوٰۃ کی رقم محتاجوںاور مجبوروں کو نہیں دے کر مدرسہ چلانے کے لئے، جماعت اور امارت چلانے کے لئے یا تعلیم کے نام پر خرچ کرتے ہیں وہ در اصل اس رقم کی ہیرا پھیری کرنے اور بے ایمانی کرنے کے مجرم ہیں۔ محتاج اورمجبور کو جب صدقہ دے دیا گیا تو اب وہ اس کا حقداار ہے کہ کھانے پینے پر یا لباس پر یا تعلیم پر اُس رقم کو خرچ کرے۔دوسروں کو خرچ کہاں کریں یہ طے کرنے کا حق نہیں ہے۔
(۲) صدقہ حلال کمائی کاہونا چاہئے:
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص حلال کمائی سے کھجور کے برابر بھی صدقہ دیتا ہے اللہ تعالیٰ پاک و حلال چیزوں کو قبول فرماتا ہے۔ ‘‘( بخاری )……یاد رکھنا چاہئے کہ جن لوگوں کی حلال روزی میںحرام روزی مل جاتی ہے اُن کا صدقہ قبول نہیں ہوتا ہے۔
(۳) صدقہ کا افضل دینار:(اہل خانہ پر خرچ)
حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں، رسول اللہﷺنے فرمایا: وہ دینار درجہ اور ثواب کے لحاظ سے افضل ہے جسے آدمی اپنے بال بچوں پر خرچ کرتا ہے ، اور وہ دینار افضل ہے جسے آدمی خدا کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے سواری وغیرہ کی خریدار ی اورتیاری میں لگاتا ہے، اور وہ دینار افضل ہے جسے آدمی اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔(مسلم ) ……عام مسلمان یہ نہیں جانتے کہ وہ اپنی حلال کمائی ،فضول خرچی سے بچتے ہوئے ،جب جائز طور پر اپنے بال بچوں پر خرچ کرتے ہیں تو اُس پر بھی اللہ تعالیٰ اپنے اُس نیک بندے کو صدقہ کرنے کا ثواب دیتا ہے۔
(۴) صدقہ سے اللہ کا غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے:
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ::’’ صدقہ اور خیرات کرنے سے خدا کا غضب ٹھنڈا ہوتا ہے اور بری موت سے آدمی محفوظ رہتا ہے۔‘‘ ( ترمذی)
انسان سے ہر لمحہ جانے انجانے میں گناہ ہوتا رہتا ہے جس سے اللہ کا غصہ بھڑکتا ہے۔جو آدمی صدقہ اور خیرات کرتا رہتا ہے اُس کے لئے اللہ کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔
(۵) صدقہ تندرستی کی حالت کا:
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کون سا صدقہ سب سے زیادہ اجر و ثواب رکھتا ہے ؟ نبیﷺنے فرمایا: ایسے وقت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا زیادہ اجر و ثواب رکھتا ہے جب کہ انسان تندرست ہو اور اپنی آئندہ ضروریات کے پیش نظر یہ خوف بھی ہو کہ مال خرچ کر ڈالا تو کہیں بعد میں محتاج نہ ہو جاؤں۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو اس وقت پر نہ ٹالو جب کہ روح تمہاری حلق کو آ جائے اور مرنے لگو تو اس وقت کہو کہ اتنا مال فلاں کو دے دو اتنا فلاں کام میں خرچ کر دو۔ اور اس وقت وہ کہے کہ اے میرے رب کیوںنہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا۔(بخاری اور مسلم )
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ:’’ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہﷺ کون سا صدقہ اجر و ثواب میں سب سے بہتر ہے ؟نبی ﷺ نے فرمایا وہ صدقہ جو تندرستی کی حالت میں( دیا جائے)جب کہ تجھ پر مال کی لالچ غالب ہو ،تجھے ناداری کا اندیشہ بھی ہو اور دولت مندی کی خواہش بھی ہو۔ اُس وقت کا انتظار نہ کر کہ جب دم حلق میں آجائے تو اُس وقت کہے کہ فلاں کو اتنا دے دو اور فلاں کو اتنا، حالانکہ اب تو وہ خود بہ خود فلاں فلاں کا ہو چکا ہو گا۔‘‘ ( بخاری)
(۶) صدقہ دائیں ہاتھ کا:
رسول اللہﷺ نے فرمایا :صدقہ اتنا چھپا کر کرے کہ بائیں ہاتھ کوبھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔(ترمذی)……صدقہ کے حقدار کو صدقہ اس طرح چھپا کر دینا چاہئے کہ اُس کی عزت اور خود داری کو ٹھیس نہیں پہنچے۔جو لوگ بیت المال کے نام پرزکوٰۃ صدقہ کی رقم جمع کر کے بینک کے قرض کی طرح حقدار کو بلا کر ذلیل کر کے دیتے ہیں وہ ایسا گناہ کرتے ہیں جس کاسنگین عذاب اُن کو قیامت میں جھیلنا پڑے گا۔
(۷) صدقے کی برکت:
نبی کریمﷺ کا فرمان ہے :’’ صدقہ برائی کے ۷۰ دروازے بند کر دیتا ہے، یہ بیماریوں اور پیش آنے والی مصیبتوں کو دور کر دیتا ہے ۔(کنز الاعمال)……صدقہ کرنے والے پر جو آفت، بلا، مصیبت اور بیماری آنے والی ہوتی ہے صدقہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ اُس کو ٹال دیتا ہے اور اپنے بندے کو آزمائش سے بچا لیتا ہے۔
(۸) صدقہ کا دُہرا ثواب:
حضرت سلمان بن عامرؓ روایت کرتے ہیں، رسول اللہﷺنے فرمایا:غریب اور محتاج کو خیرات دینے پر صدقہ کا اجر ہے اور رشتہ دارو کو خیرات دینے پر صدقہ کرنے کا اجر ہے اور صلہ رحمی کرنے کا ثواب۔ (ترمذی)……صدقہ کرنے میں پہلے اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہئے۔اس کا دوگنا اجر ملتا ہے۔
(۹) صدقہ کرنا خوش حالی لانا ہے:
حضرت ابوہریرہؓ اور حکیمؓ بن حزام سے روایت ہے ، انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:بہتر صدقہ وہ ہے جس کے بعدبھی خوش حالی برقرار رہے اور اس پر پہلے صرف کرو جس کے تم کفیل ہو۔(بخاری)……قرآن میں حکم آیا ہے کہ’’اللہ نے جو بھی روزی تم کو دی ہے اُس میں سے صدقہ کرو۔‘‘یہاں کہا جارہا ہے کہ صدقہ کرنے میں اس کا خیال رکھو کہ کہیں تم خود ہی صدقہ کے محتاج نہ بن جاؤ۔
(۱۰) صدقہ کے سایے میں رہنے والے:
حضرت عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں،میں نے سنا رسول اللہﷺنے فرمارہے تھے : قیامت کے دن حساب کتاب ختم ہونے تک بندہ اپنے صدقہ کے سایے میں رہے گا۔ (مسند احمد)……قیامت کے دن جب کہ کوئی سایہ نہیں ہوگا اور ہر فرد کے سر پر سورج آگ برسا رہا ہوگا صدقہ کرنے والا اپنے صدقے کے سایے میں رہے گا۔
(۱۱) صدقہ جو بہترین ہو سکتا ہے:
حضرت سراقہ بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں : نبی ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین صدقہ نہ بتاؤں ! تمہاری وہ بیٹی جو تمہاری طرف لوٹا دی گئی اور تمہارے سوا اس کے لئے کوئی کمانے والا نہ ہو۔ (ابن ماجہ)ماں باپ نے مشکل سے رقم مہیا کر کے بیٹی کی شادی کی تھی۔نالائق داماد نے بیٹی کو طلاق دے دی اور وہ لوٹ کے پھر اپنے ماں باپ یا بھائی بہن کے گھر آ گئی۔اب وہ لوگ اس بیٹی پر جو کچھ بھی خرچ کر رہے ہیں اُس پر اللہ تعالیٰ اُن کو صدقہ کرنے کا اجر و ثواب دے رہا ہے۔ایمان رکھنے والا بیٹی یا بہن کے طلاق ہو جانے پرآگ بگولا ہوگا ؟
(۱۲) صدقہ کسان اور باغبان کا:
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو مسلمان کاشت کرتا ہے یا باغ لگاتا ہے اور اس کے کھیتوں کے غلے اور باغوں کے پھلوں میں سے چڑیاں یاانسان یا مویشی کھالیتے ہیں تویہ اس کے لئے صدقہ بن جاتا ہے۔(مسلم)……کسی کے باغ سے پھل وہی انسان چوری کرتا ہے جو بازار سے خریدنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔ ایسا آدمی اگرباغ سے چرا کر پھل کھا لیتا ہے یا مویشی اور پرندے جو باغ کا پھل کھالیتے ہیں اُس پر اللہ تعالیٰ باغ والے کو صدقہ کا اجر و ثواب دیتا ہے۔باغ والے کو اس نقصان پر غصہ نہیں کرنا چاہئے اورچھوٹے دل کی جگہ بڑے دل والا بن کر اس نقصا ن کو ہنستے ہوے برداشت کرنا چاہئے۔
(۱۳) صدقہ رقم سے نہیں دل سے بڑا ہوتا ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ایک درہم لاکھ درہم سے بڑھ گیا۔ایک شخص نے پوچھا،یا رسول اللہﷺکیوں کر ؟ نبیﷺنے فرمایا ایک شخص بڑا دولت مند ہے ، اس نے کثیر مال میں سے لاکھ درہم نکال کر خیرات کر دیا۔دوسرے شخص کے پاس فقط دو درہم ہیں۔ اُس نے ایک درہم اللہ کی راہ میں خیرات کیا۔ یہ ایک درہم اُس ایک لاکھ سے بڑھ گیا۔ (نسائی ) ……اللہ تعالیٰ صدقہ کی رقم کو نہیں دیکھتا ہے بلکہ دینے والے کے دل کو دیکھتا ہے۔ایک رئیس نے بڑی رقم دی لیکن وہ رقم اُس کی پوری دولت کے حساب سے کم تھی۔ ایک نادار نے ایک چھوٹی رقم دی لیکن اُس کے پاس جو سرمایہ تھا اس کے مقابلے میں اُس نے بڑی رقم دے دی۔کم دینے والا زیادہ دینے والے سے آگے بڑھ گیا۔
(۱۴) صدقہ کرنے میں مقابلہ آرائی:
حضرت عبداللہؓابن عمرؓ کہتے ہیں اصحاب رسول میں سے ایک صاحب کو بکری کا سر بطور ہدیہ پیش کیا گیا،انہوں نے کہا میرا فلاں ساتھی مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہے،چنانچہ انہوں نے اسے ان کے پاس بھجوا دیا،ان صاحب نے ایک دوسرے ساتھی کے بارے میں بتایا کہ انہیں دے آؤ وہ زیادہ ضرورت مند ہے، اس طرح وہ بکری کا سر سات آدمیوںتک پہنچنے کے بعد پہلے صاحب کے پاس لوٹ آیا۔(صحیفۃ الحق)……نبیﷺ کے زمانے میں صحابہ اتنے بڑے دل والے ، خود دار اور غیرت مند تھے کہ اپنی ذات پر اپنے دوسرے تحریکی بھائی کو ترجیح دیتے تھے۔
(۱۵) صدقہ کرنے کاشوق اور دلچسپی:
حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ مکہ سے ہجرت کر کے آنے والے جو محتاج اور نادار تھے رسول اللہ ﷺکے پاس آئے اور کہا کہ ہمیشہ باقی رہنے والی خوش حالی اور بلند مراتب تو مالداروں کو ملے (اور ہم محروم رہ گئے)۔حضورﷺنے پوچھا یہ کیسے ؟ انہوں نے کہا ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ بھی نماز پڑھتے ہیں،ہم روزے رکھتے ہیں، وہ بھی روزے رکھتے ہیں،(نیکی کے ان کاموں میں وہ ہمار ے برابر کے شریک ہیں)لیکن وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور ہم اس سے محروم ہیں،وہ غلاموں کو آزاد کرتے ہیںاور ہم اس سے بھی محروم ہیں۔حضورﷺنے ان کی بات سن کر یہ فرمایا:کیا میں تمہیں ایک ایسی بات نہ بتاؤں جس کی بدولت تم نیکی کی راہ میں آگے بڑھ جانے والوں کو پا لو گے، اور جس کی بدولت تم اپنے پیچھے آنے والوں سے آگے رہو گے، اور تم سے صرف وہی لوگ افضل ہو ںگے جو تمہارے جیسا کام کریں گے۔ان لوگوں نے کہا ضرور وہ کام بتائیے اے اللہ کے رسولؐ! حضورﷺنے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد ۳۳مرتبہ سبحان اللہ، ۳۳ مرتبہ ،۳۳مرتبہ اللہ اکبر اور ۳۳ الحمدللہ کہہ لیا کرو۔چنانچہ یہ لوگ یہ تسبیح پڑھنے لگے۔جب خوش حال لوگوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے بھی اسے پڑھنا شروع کر دیا۔وہ لوگ پھر حضور ﷺکے پاس آئے اور فریاد کی کہ ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی اس تسبیح کا ورد شروع کر دیا ہے۔ حضورﷺنے فرمایا:یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔(مسلم)……ایک وہ لوگ تھے جو نیکیوں میں مقابلہ کرتے تھے اور ایک آج کے لوگ ہیں جو صرف دنیا داری میں مقابلہ کر رہے ہیں۔
(۱۶) صدقہ کا کرشمہ:کاش کوئی اسے سمجھے!
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺنے فرمایا :ایک آدمی جنگل میں جا رہا تھا کہ اچانک اس نے اوپر سے آواز سنی ، کوئی کہہ رہا تھا اے بادلو فلاں شخص کے باغ پر برسو، اسے سیراب کرو۔چنانچہ وہ بادل ایک طرف کو گئے اور اپنا پانی وہاں انڈیل دیا۔وہاں ایک نالہ تھا اس نے سارا پانی اپنے اندر سمیٹ لیا اور بہہ نکلا تو یہ مسافر اس پانی کے ساتھ چلا۔آگے کیا دیکھتا ہے کہ ایک آدمی باغ میں کھڑا بیلچے سے پانی کو اپنے باغ کی طرف موڑ رہا ہے تا کہ اسے سینچے۔ باغ والے سے اس مسافر نے پوچھا ا ے اللہ کے بندے تیرا کیا نام ہے ؟ تو اس نے وہی نام بتایا جو اس نے فضا سے سنا تھا۔باغ والے نے سوال کیا تم نے میرا نام کیوں پوچھا ؟ مسافر نے کہا میں نے فضا سے یہ آوازسنی کوئی کہہ رہا تھا اے بادلوجاؤ اور فلاں کے باغ کو سیراب کرو، تو بتاؤ تم اپنے باغ کی پیداوار میں کیا کرتے ہو کہ خدا نے تم پر یہ خصوصی کرم فرمایا ؟ باغ والے نے کہا جب تم پوچھ رہے ہو اور صورت حال سے واقف بھی ہو چکے ہو تو سنو میںبتاتا ہوں۔اس باغ سے مجھے جو کچھ حاصل ہوتا ہے اس کے تین حصے کرتا ہوں۔ایک حصہ خدا کی راہ میں د ے دیتا ہوں۔ ایک حصہ میرے اہل و عیال کھاتے ہیں۔اور ایک حصہ باغ پر خرچ کرتا ہوں۔(مسلم)……آج کے مسلمان اپنی آمدنی اور خوش حالی بڑھانا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آمدنی بڑھ جائے گی تو سارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔حالانکہ آمدنی بڑھنے کے بعد پریشانیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔کاش یہ سمجھتے کہ دولت جمع کرنے سے برکت نہیں ہوتی ہے صدقہ کرنے سے برکت ہوتی ہے۔
(۱۷) صدقہ کرنے والے پر اللہ خرچ کرتا ہے:
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو میرے محتاج بندوں پر اور دین کے کاموں پر خرچ کر تو میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ (بخاری /مسلم) ……دنیا والے اگر کوئی وعدہ کر تے ہیں تو ہر مسلمان بلا جھجھک یقین کر لیتا ہے۔اور نبیﷺ فرما رہے ہیں کہ جو بندہ اللہ کے محتاج بندوںپر خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اُس پر خرچ کرے گا اس بات کسی بد نصیب مسلمان کا ایمان نہیں ہے۔یعنی دنیا والوں کے وعدے پر ایمان و یقین ہے لیکن اللہ کے وعدے پر ایمان و یقین نہیں ہے۔
(۱۸) صدقہ نہ کرنا ایمان کھو دینا ہے:
حضرت کعبؓ بن عیاض روایت کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ہر امت کے لئے ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال و دولت ہے۔ (ترمذی) ……فتنہ اُس کو کہتے جو ایمان کو خطرے میں ڈال دے۔نبیﷺ دولت کو ایمان کے لئے فتنہ اورخطرہ بتا رہے ہیں، لیکن کوئی مسلمان رسول کی بات ماننے کو تیار نہیں ہے، سب اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کیسے دولت زیادہ سے زیادہ ہو جائے اور اس کوشش میں حلال حرام کی بھی کوئی قیدنہیں ہے۔کیا ایسے لوگ مسلمان کہلانے کے لائق ہیں؟
یا اللہ اس مضمون کے پڑھنے والوں کو زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنے کی توفیق عطا فرما تاکہ اُن کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائے اوروہ جنت الفردوس کے حقدار بنیں!!
٭٭٭٭٭

Related posts

زوالِ حیدرآباد ۔ ایک عبرت

Paigam Madre Watan

اردو کا تحفظ کیوں اور کیسے کیا جائے؟

Paigam Madre Watan

مشرقی علوم ومعارف کے علمبردار: علامہ اقبال

Paigam Madre Watan

Leave a Comment