Articles مضامین

اسرائیل پر ایران کے حملہ کے بعد تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے

مشرق وسطیٰ کی جنگ طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دے گی

عبدالغفارصدیقی

ایران نے اسرائیل پر حملہ کردیا ہے ۔اس حملہ کے ساتھ ہی فلسطین اسرائیل جنگ اک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے ۔ایران نے یہ حملہ اسرائیل کے ان حملوں کے جواب میں کیا ہے جو اس نے شام میں ایران کے قونصل خانہ پر کیا تھا اور اس میں ایران کے کئی اہم فوجی کمانڈر شہید ہوگئے تھے ۔اس سے پہلے بھی اسرائیل کے غیر اعلانیہ حملوں میں جنرل قاسم سلیمانی شہید کیے گئے تھے ۔اس طرح ایران وہ پہلا ملک ہے جو بطور ریاست اس جنگ میں شریک ہوا ہے ۔اس سے قبل ایران نواز تنظیمیں اسرائیل پر حملہ آور تھیں اور اب بھی ہیں ۔اس حملہ کے بعد خلیجی ممالک میں خوف و ہراس کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے ،بھارت سمیت کئی اہم ممالک نے اپنے شہریوں کو اسرائیل ،فلسطین اور ایران کے سفر سے دور رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں ۔حالانکہ اسی ماہ بھارت سے6000 مزدور اسرائیل بھیجے گئے ہیں ۔ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اک جنگ زدہ ملک میں اپنے لوگ کیوں بھیجے گئے؟کیا یہ اسرائیل کے ساتھ خیر خواہی کی گئی ہے اور اپنے لوگوں کو وہاں قربان ہونے کے لیے بھیجا گیا ہے ؟یا یہ ملک میں بے روزگاری کی ناگفتہ بہ صورت حال کا نتیجہ ہے کہ صرف دو روٹی کمانے کے لیے ملک کے معصوموں نے جان ہتھیلی پر رکھی ہے ۔اسرائیل اپنے شہریوں کو تو بنکروں اور شیلٹروں میں رہنے کی تاکید کررہا ہے اور بھارت کے مزدوروں سے سڑک کا ملبہ صاف کروارہا ہے ۔
راقم نے یہ بات اپنے ایک مضمون میں جو جنگ کے ابتدائی دنوں میں شائع ہوا تھا عرض کی تھی کہ یہ جنگ اسرائیل کے لیے تباہی لائے گی اور فلسطین کوان شاء اللہ فتح حاصل ہوگی ،دنیا میں طاقت کا توازن بدلے گا ،طاقت ور خاک میں مل جائیں گے اور کمزور طاقت پائیں گے ۔میرا یہ بھی یقین تھا اور اب بھی ہے کہ یہ جنگ غزہ حکومت نے شروع کی ہے بھلے ہی اس کو ایسا کرنے پر اسرائیل کے مظالم نے مجبور کیا ہو ،اس لیے اس میں فتح بھی اہل غزہ کی ہی ہوگی ۔چنانچہ 192دنوں پر مشتمل اس جنگ میں اب تک فلسطین اور ان کی حمایت کرنے والے ہی سرخ رو ہوئے ہیں ۔اسرائیل نے بے دریغ بمباری کی ،بے پناہ تباہی مچائی اور ساٹھ ہزار انسانوں کو شہید کرڈالا،نیز لاکھوں لوگوں کو زخمی کردیامگر اس کے بعد بھی کوئی ہدف حاصل نہیں کیا ہے ،اس نے غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے لیکن اپنے قیدیوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے ،ابھی تک غزہ سے اس پر راکٹ فائر ہورہے ہیں ،اس کو اپنی زمینی فوج وہاں سے نکالنی پڑی ہے ۔اس کے بیس ہزار سے زائد فوجی زخمی ہیں ،دوہزار سے زیادہ ٹینک اور سو سے زیادہ طیارے تباہ ہوچکے ہیں اور سای دنیا کے دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ اسرائیل یہ جنگ ہار چکا ہے ۔اس کے باوجود بھی صیہونیت اپنے مذموم مقاصد کو بروئے کار لانے پر مصر ہے اور جنگ کے نئے نئے محاذ کھول رہی ہے ۔
اس جنگ نے اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کے نام نہاد علمبراداروں کی قلعی کھول دی ہے ۔جنگ بندی کی تجویز پاس ہوجانے کے بعد بھی اسرائیل نے جنگ نہیں روکی ،یہ اس کی بے شرمی کی انتہا ہے اور اقوام متحدہ کو ٹھینگا دکھانے کے مترادف ہے ۔تعجب اس بات پر ہے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک جو خود کو عالمی امن کا علمبرادر کہتے ہیں اور دوسروں کو امن کے نوبل انعام بانٹتے ہیں وہ اسرائیل کے مظالم میں اس کے ساتھ ہیں ۔ایران کے حملہ کے بعد رشی سونک یہ کہتے ہیں کہ ایران ایک دہشت گرد ملک ہے ،مگرانھیں اسرائیل کی دہشت گردی نظر نہیں آتی ،نہتے لوگوں،اسپتالوں ،اسکولوں،عبادت گاہوں اورمعصوموں یہاں تک کہ عالمی ادارے کے ریلیف ورکروں پر بمباری دکھائی نہیں دیتی ۔انھیں ایرانی سفارت خانہ پر اسرائیل کا حملہ دہشت گردانہ کارروائی نہیں لگتا لیکن ایران کی جانب سے انتقامی کارروائی دہشت گردی لگتی ہے ۔عالمی طاقتوں کایہ وہ دہرا معیار ہے جو گزشتہ ایک صدی سے دنیا دیکھ رہی ہے اور جس کے نتیجے میں ساری دنیا میں فساد برپا ہے ۔اگر اقوام متحدہ کا ادارہ انصاف کرتا ،اور تمام ممبر ملکوں کو یکساں نظر سے دیکھتا تو کسی جنگ کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ناانصافی خواہ ملکوں کے ساتھ ہو یا قوموں کے ساتھ ایک نہ ایک دن تباہی لاتی ہے۔
فلسطین کی جنگ نے عربوں کو بھی بے نقاب کردیا ہے ۔کسی بھی عرب ملک نے غزہ جنگ میں فلسطین کا ساتھ نہیں دیا ہے ۔بلکہ کئی عرب ممالک نے اس جنگ میں اسرائیل کا ساتھ دیا ہے ۔ایرانی حملہ کے موقع پر اردن نے اسرائیل کے تحفظ کے لیے ایرانی میزائل اور ڈرونز گرائے ہیں ، اسلامی دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھنے والے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے متعلق بھی یہ افسوسناک خبر سننے کو ملی ہے کہ آنجناب بھی درپردہ اسرائیل کو مدد پہنچارہے تھے جس کا خمیازہ انھیں بلدیاتی الیکش میں بھگتنا پڑا ہے ،اپنی شکست کے بعد موصوف شاید ہاتھ کھینچ رہے ہیں۔ہم مسلمان اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ دنیا میں ستاون اسلامی ملک ہیں ،لیکن افسوس یہ ہے کہ ایران کو چھوڑ کر باقی ممالک اپنی خارجہ پالیسی میںامریکہ کے غلام ہیں۔بیشتر ممالک میں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں ۔کسی ملک کے پاس فضائیہ نہیں ہے ،انھیں امریکہ نے اس لیے اپنا دست نگر رکھا ہے کہ اسرائیل کا تحفظ ہوسکے اور کوئی اس کو آنکھ نہ دکھا سکے ۔لیکن سب کچھ انسانوں کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا ۔کائنات کی حکمرانی جس کے ہاتھوں میں ہے وہ بھی اپنی زمین کو فساد سے بچانے کے لیے طاقت کا توازن بدلتا رہتا ہے ۔شاید یہ وہی وقت ہے جب طاقت کا توازن بدلنے والا ہے ۔اللہ نے کمزور فلسطیینوں کو ایک سپر پاور سے ٹکرادیا ہے ،اور وہ بھی اللہ پر توکل کرکے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں ۔انھیں ان کے بیٹوں اور پوتوں کی شہادت کی خبر دی جاتی ہے تواس پربھی فَلِلّٰہِ الْحَمْدکا نعرہ لگاتے ہیں ،ان کے چہرے پر کسی طرح کا اضمحلال نظرنہیں آتا ،باطل ان کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہیں کرتا ،اس کے برعکس ان کی ثابت قدمی باطل کے ایوانوں میں لرزہ پیدا کردیتی ہے ۔سلام ہے اللہ کے ان جانبازوں کو ۔
اس جنگ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا میں عوام کی اکثریت انصاف پسند ہے ،جن کے دل معصوموں کی شہادت پر تڑپتے ہیں اور ان کی آنکھیں بے گناہوں کی موت پر روتی ہیں ۔عرب ممالک نے ڈنڈے کے زور پر عوام کو اپنے جذبات کے اظہار سے بھلے ہی روک رکھا ہے ،لیکن مغربی اور یوروپی ممالک کی عوام سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے ،جہاں کی حکومتیں اسرائیل کی ہمنوا ہیں اور اسے ہتھیار دے رہی ہیں وہاں کی عوام بھی فلسطین کی آزادی کے نعرے لگارہی ہے ۔عرب ممالک کے حکمرانوں کو بھی اپنی عوام کے جذبات کا احساس ہے اسی لیے وہ بہت کھل کر اپنے آقا امریکہ کی حمایت کرنے سے گھبرارہے ہیں ۔مجھے امید ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں عرب بہاریہ پھر سے آئے گی اور اس مرتبہ ظالم اور عیاش حکمرانوں کو فرعون کی طرح غرقاب کردے گی ۔
اس جنگ میں سب سے زیادہ خاموشی بھارت میں ہے ۔بھارتی حکومت نے اگرچہ کھل کر اسرائیل کا ساتھ نہیں دیا ہے ،لیکن حالیہ دنوں میں اسرائیل کو مزدوروں کی سپلائی اس کی مدد کرنے کے مترادف ہی ہے ۔سوشل میڈیا پر بعض برادران وطن کے کمینٹ بھی اسرائیل کی حمایت میں ہوتے ہیں جن کی زبان بعض اوقات مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب ہوتی ہے،گودی میڈیا اسرائیل کو فاتح قرار دینے کی کوششیں کرتا ہوا نظر آتا ہے ،یک طرفہ رپورٹنگ کرکے تصویر کا ایک ہی رخ دکھاتا ہے ۔ لیکن حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی ۔جبکہ فلسطین کی حمایت کرنے والوں پر شکنجہ کسا جاتا ہے ۔فلسطینی جس عظیم مقصد یعنی قبلہ اول بیت المقدس کے لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں وہ سارے مسلمانوں کا مسئلہ ہے ۔کسی ملک کے مسلمانوں کا ان کی حمایت کرنے کا مطلب قطعا ً یہ نہیں ہے کہ وہاں کے مسلمان اپنے ملک کے خلاف ہیں ۔اپنے ملک سے محبت کرنا ،اس کی سالمیت کے لیے جان دینے کی آرزو رکھنا ایک مسلمان ایمان کا حصہ سمجھتا ہے ۔لیکن ایک بین الاقوامی امت ہونے ناطے اپنے مظلوم بھائیوں کی حمایت کرنا ،ان پر ہورہے مظالم کے خلاف آواز اٹھانا ان کا دینی فریضہ ہے ۔ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے ۔یہاں کے انصاف پسندوں کا یہ دستوری حق ہے کہ وہ دنیا میں جہاں بھی ظلم ہو اس کے خلاف آواز اٹھائیں ۔ہم وسودیو کٹمبھکم کے علم دار ہیں ،اگر کسی ملک میں ہمارے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ بھی ظلم ہوتا ہے تو ہمارے دل تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔مگر ہمارے ملک میں زعمائے ملت اور بڑی بڑی ملی تنظیمیں نہ معلوم کیوں کوئی آواز بلند نہیں کررہی ہیں ؟انھیں اپنے دفاتر اور خانقاہوں سے نکل کر جنتر منتر پر پہنچنا چاہئے اورپرامن طریقے پر فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنا چاہئے تاکہ مظلوم کے دلوں کو تسلی و اطمینان حاصل ہو اور ظالم کے حوصلے پست ہوں ۔
نہیں معلوم یہ مضمون جب آپ پڑھ رہے ہوں جنگ کیارخ اختیار کرچکی ہو۔اس لیے کہ اب ہر پل اس میں نئی تبدیلی آرہی ہے ۔ایران نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیل سے اپنا انتقام لے لیا ہے اگر اسرائیل مزید کوئی غلطی نہیں کرے گا تو وہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گا ۔پہلے یہ دوملکوں کی جنگ تھی ۔لیکن ایرانی حملہ کے بعد اس نے علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرلی ہے ،ہوسکتا ہے یہ تیسری عالمی جنگ بن جائے ۔کل کی خبر تو کسی کو نہیں معلوم ۔امن و انصاف پسند لوگ تو یہی چاہتے ہیں کہ جنگ کی آگ بجھے اور ظالم اپنے ظلم سے باز آئے ۔جنگ کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہومگر ہمارا اپنا کردار منصفانہ ہونا چاہئے۔

Related posts

کتاب ’ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور‘ پر ایک نظر

Paigam Madre Watan

کیاشکست خوردہ پارٹیاںہار سے کچھ سبق حاصل کریںگی؟

Paigam Madre Watan

 روٹی کے ٹکڑے کئے تو بیٹا بھی جاگ اٹھا !!

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar