Delhi دہلی

ادارۂ ادب اسلامی ہند، دہلی کے زیرِ اہتمام کل ہند نعتیہ طرحی مشاعرے کا انعقاد

نئی دہلی, ادارۂ ادب اسلامی ہند، دہلی کے زیر اہتمام کل ہند نعتیہ طرحی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ یہ مشاعرہ اپنے وقار و معیار کے اعتبار سے نہایت شاندار اور یادگار رہا۔ مشاعرے کی صدارت کے فرائض ممتاز ادیب و شاعر پروفیسر خالد محمود نے انجام دیے۔ مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے راجستھان سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر سرفراز بزمی نے شرکت کی۔ بطور مہمان ذی وقار ادارۂ ادب اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری حسنین سائر شامل ہوئے۔ اس نعتیہ مشاعرے میں چار مصرع طرح کے تحت تقریباً تیس شعرا نے اپنے عقیدت و محبت سے مامور نعتیہ کلام سے سامعین کے روح و دل کو منور کیا۔ طرحی مصرعوں میں اقبال کے مصرع ’’لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب‘‘، مولانا احمد رضا خاں کے مصرع ’’خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا‘‘، کلیم عاجز کے مصرع ’’ہانپتے کانپتے یا شاہِ امم آئے ہیں‘‘ اور حفیظ میرٹھی کے مصرع ’’مدح خواں ہے خدا مصطفی آپ کا‘‘پر شعرائے اکرام نے عشق رسول سے سرشار ایمان افروز نعتیہ کلام پیش کیا۔ نظامت کا فریضہ نوجوان شاعر آصف بلال نے بحسن و خوبی ادا کیا۔ صدارتی کلمات میں پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ نعتیہ کلام میں صرف شرعی اصول و ضوابط ہی نہیں، بلکہ زبان و تہذیب کی نزاکتوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ کچھ الفاظ و ضمائر کا استعمال ممکن ہے شرعی نقطۂ نظر سے ممنوع نہ ہو، لیکن زبان و تہذیب کی نظر میں معیوب ہوتا ہے۔ ادارۂ ادب اسلامی ہند، دہلی کا یہ یک روزہ پروگرام نعتیہ شاعری کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت کا حامل تھا۔ اس پروگرام کے معیار اور جدت و انفرادیت کا پہلو نہایت روشن اور قابل تقلید ہے۔ مہمانِ اعزازی سرفراز بزمی نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں سینکڑوں مشاعروںمیں شرکت کی ہے، لیکن مجھے یہ اعتراف ہے کہ ایسے سخن شناس سامعین شاذ و نادر ہی ملتے ہیں۔ یقیناً یہ مشاعرہ ادارۂ ادب اسلامی ہند کی تاریخ میں ایک مثالی نمونہ بنے گا۔ اس کل ہند نعتیہ طرحی مشاعرے میں عراق رضا زیدی، راشد جمال فاروقی، سہیل احمد فاروقی، شاذ دہلوی، عرفان اعظمی، ماجد دیوبندی، واحد نظیر، عادل حیات، خالد مبشر، اسرار رازی، رنگ نگینوی، راجیو ریاض پرتاپ گڑھی، انس نبیل، طارق عثمانی، عامر ندوی، منصور ذکی، ناصر مصباحی، سفیر صدیقی، سفر نقوی، عامر اظہر، شاہ رخ عبیر، جمیل سرور، مصدق مبین، علی ساجد، حامد حسین اور محمد ارحم نے اپنی طرحی نعتوں سے سامعین کو نوازا۔ صفِ سامعین میں سینکڑوں باذوق اور اہلِ نظر موجود تھے۔

Related posts

میں بھی کیجریوال مہم میں عوام نے کہا، اروند کیجریوال ہی ان کے وزیراعلیٰ ہیں، وہ جہاں بھی رہیں، وہیں سے دہلی حکومت چلائیں: عمران حسین

Paigam Madre Watan

ہم نصابی وثقافتی سرگرمیاں طلبہ کی ہمہ گیر شخصیت کے ارتقاء میں ممدودومعاون/پروفیسر اقتدار محمد خان

Paigam Madre Watan

Those who write and speak in support of Dr. Nowhera Shaikh Facing threats of imprisonment and death: Muti Aziz

Paigam Madre Watan

Leave a Comment