نئی دہلی، امریکی کپاس پر لگنے والی امپورٹ ڈیوٹی کو 31 دسمبر تک ملتوی کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کی عام آدمی پارٹی نے سخت مخالفت کی ہے۔ آپ کے سینئر رہنما اور پنجاب کے انچارج منیش سسودیا سمیت دیگر رہنماؤں نے کسان مخالف اس فیصلے پر وزیراعظم مودی پر سخت تنقید کی ہے۔ منیش سسودیا نے کہا کہ مودی حکومت کسانوں اور صنعتوں کو برباد کر کے امریکہ کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ پہلے کالے قوانین لا کر منڈیوں کو ختم کرنے کی سازش رچی گئی اور اب امریکی کپاس سے امپورٹ ڈیوٹی ہٹا کر کسانوں کی روزی روٹی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ صرف روزگار اور صنعت کا نہیں بلکہ بھارت کے 140 کروڑ عوام کے وقار کا مسئلہ ہے۔عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور پنجاب کے انچارج منیش سسودیا نے ایکس پر کہا کہ بھارت کے کسانوں اور صنعتوں کو برباد کر کے امریکہ کے مفاد پورے کرنے کی یہ کون سی مجبوری ہے؟ ایجنڈا کیا ہے؟ یہ صرف کسانوں کا نہیں بلکہ بھارت کے 140 کروڑ عوام کی عزت کا سوال ہے۔ پہلے امریکہ سے آنے والی کپاس پر 11 فیصد ٹیکس لگتا تھا، لیکن اب وہ ٹیکس ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ امریکہ کی سستی کپاس بڑی تعداد میں بھارت آئے گی اور ہمارے کسانوں کی کپاس کھیتوں میں ہی سڑ جائے گی۔اکتوبر میں جب ہمارے کسان اپنی کپاس لے کر منڈی پہنچیں گے تو ان کے لیے کوئی خریدار نہیں بچے گا۔ گجرات ہو یا ودربھ، پنجاب ہو یا تلنگانہ… ہر جگہ کا کسان برباد ہوگا۔ ان کی سال بھر کی محنت مٹی میں مل جائے گی۔ منیش سسودیا نے کہا کہ سیدھا سوال یہ ہے کہ جب امریکہ ہمارے مال پر 25 فیصد سے 50 فیصد تک ٹیرِف لگاتا ہے تو مودی حکومت امریکی کپاس پر زیرو ٹیرِف کیوں کر رہی ہے؟ کیوں ہمارے کسان اور صنعت کو برباد کر کے امریکہ کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کسان دشمن پارٹی ہے۔ کبھی کالے قوانین لا کر منڈیوں کو ختم کرنے کا کھیل اور اب امریکی کپاس سے کسانوں کی روزی روٹی چھیننے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ادھر، آپ کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے ایکس پر کہا کہ مودی جی نے صرف اپنے دوست اڈانی کو بچانے کے لیے ٹرمپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ یہ ملک کے کروڑوں کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ ٹرمپ کے دباؤ میں امریکہ سے آنے والی کپاس پر 11 فیصد امپورٹ ڈیوٹی ہٹا دی گئی ہے۔ اب جب تک بھارت کے کسانوں کی کپاس منڈی میں پہنچے گی، تب تک تاجر امریکہ کی سستی کپاس خرید چکے ہوں گے۔ جس سے بھارت کے کسانوں کو بھاری نقصان ہوگا۔ جس ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے تھا، اسے امپورٹ ڈیوٹی میں چھوٹ دے کر تحفہ دیا جا رہا ہے۔وہیں، دہلی پردیش کنوینر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ امریکہ بھارت پر ٹیرِف ایسے لگا رہا ہے جیسے وہ کوئی بادشاہ ہو اور ہم کوئی مجرم، اور ہم پر سزا نافذ کی جا رہی ہو۔ امریکہ نے اب تک جن ملکوں پر بھی ٹیرِف لگایا، ان سب نے ٹرمپ کو جواب دیا۔ مثلاً چین پر 125 فیصد ٹیرِف لگایا تو چین نے بھی جواب میں امریکہ پر ٹیرِف لگا دیا۔ امریکہ نے یورپ کے کچھ ممالک پر ٹیرِف لگایا تو یورپی ممالک نے سخت جواب دیتے ہوئے امریکہ پر ٹیرِف لگا دیا اور ٹرمپ نیچے آ گیا۔ لیکن ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے؟امریکہ نے ہم پر 50 فیصد ٹیرِف لگا دیا اور ہم امریکہ کے سامنے خاموش بیٹھے ڈرے ہوئے ہیں۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ہم وزیراعظم مودی سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ پورے ملک کے وقار کو کچل رہے ہیں، ختم کر رہے ہیں۔ مودی جی ذرا ہمت اور مضبوطی دکھائیں، ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر امریکہ پر بھی اتنا ہی ٹیرِف لگائیں جتنا امریکہ نے بھارت پر لگایا ہے۔ تب ہی امریکہ کو سمجھ آئے گا۔
Related posts
Click to comment