Articles مضامین

قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

عبد القدوس نذیر احمد صاحب کی بات سولہ آنے درست ہے، آج سے 70 سال پہلے بھی مولانا آزاد رحمہ اللہ نے یہی بات فرمائی تھی کہ ہندوستان میں کوئی مسلم سیاسی پارٹی پنپ نہیں سکتی،اگر کہیں دو چار سیٹیں حاصل بھی کرلے وہ سوائے کسی بڑی پارٹی کا دم چھلا بنے رہنے کے کچھ کر بھی نہیں سکتی، یہی حشر ہم آل انڈیا مسلم لیگ کا کیرلا میں، مجلس کا آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں، پیس پارٹی کا یوپی میں دیکھ چکے ہیں. بہار کے الیکشن میں 5 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر کے مجلس نے کونسا بڑا تیر مار لیا؟ البتہ اس سے بہار کے مسلمانوں اور وہاں کی عوام کو مزید پانچ سال کے لئے ایک متعصب، ظالم و جابر پارٹی کے ظلم و ستم کے حوالے کردیا جو اگلے چند سالوں میں ہندوستان کو ایک ہندو ریاست ڈیکلیر کرکے اس ملک کو برما بنانے پر تلی ہوئی ہے .
ہم نے دیکھا ہے کہ اعظم خان سانس بھی لے تو جیل بھیج دیا جاتا ہے، اور اویسی کہیں مودی کو گالیاں بھی دیں تو کوئی نوٹس نہیں، اس لئے کہ جہاں یہ صاحب شیروانی اور ٹوپی پہن کر جاتے ہیں، اس جگہ پر بی جے پی کی سیٹ پکی . حکمران جماعت اپنے سیاسی مخالفین پر CBI IT کے کتنے دھاوے ڈلوارہی ہے ، لیکن 15 ہزار کروڑ کے مالک جناب اویسی پر آج تک کوئی چھاپہ پڑا؟؟؟ .
تاریخی طور پر مجلس نے ہمیشہ مسلمانوں کی غلط رہنمائی کی ہے ،1947 کے بعد حیدر آباد کے نظام میر عثمان علی خان مرحوم، ہندوستان سے ایک باعزت صلح کرکے تخت سے دست بردار ہونا چاہ رہے تھے، لیکن اسد الدین کے دادا عبد الواحد اویسی صاحب نے انکے خلاف یہ کہہ کر عوام کو بھڑکایا کہ یہ ہندوؤں کے سامنے جھک جانا چاہتے ہیں، پھر اپنے رضاکاروں سے غیر مسلموں پر حملے شروع کروائے، جس کی وجہ سے انڈیا کو حیدر آباد پر لشکر کشی کا موقع مل گیا، 30 ستمبر 1948میں جنرل کری اپّا کی فوج نے پولیس ایکشن کیا اور مسلمانوں کی وہ درگت بنائی کہ جس پر خوں کے آنسو بھی بہائے جائیں تو کم ہں . نتیجہ یہ نکلا کہ تقریبا سو سال کے لئے مسلمان پیچھے ہوگئے .
6 دسمبر 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد پی وی نرسمہا راؤ نے اسد الدین اویسی کے والد صلاح الدین اویسی کو فون کرکے خاموش رہنے کی تلقین کی تو مرحوم اویسی صاحب نے بالکل خاموشی اختیار کر لی ،پھر مارچ 1993میں اس غداری کا صلہ اویسی مرحوم کو دکن میڈیکل کالج حیدرآباد کی شکل میں ملا . غرض کہ :
ہمہ خاندان آفتاب است
اب دونوں اویسی برادران کے کیا کہنے:
بڑے میاں بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ
یہ بات حق الیقین کی حد کو پہنچ چکی ہے کہ مجلس پارٹی ایک کفن چوروں کا گروہ ہے ،جنہوں نے،اپنی ذاتی فوائد کے لئے ” اتحاد المسلمین” کے مقدس نام پر افتراق بین المسلمین کا کام نہایت شرمناک طریقے سے انجام دیا اور دے رہے ہیں .
می نمی گویم کہ الّا دزدان چند
بہر جمع اکفان انجمنے ساختہ اند
ترجمہ: یہ کفن چوروں کا ایک گروہ ہے جنہوں نے کفن جمع کرنے کے لئے ایک پارٹی بنالی ہے
اللہ ان کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے . آمین

Related posts

देश की इतनी चिंता करने वाला संगठन फासिस्ट नहीं हो सकता

Paigam Madre Watan

کون تھے شیخ شاہد جنید صاحب سلفی؟

Paigam Madre Watan

Obaidullah Khan Azmi’s eye-catching statement on the traitors of the nation

Paigam Madre Watan

Leave a Comment