ڈپارٹمنٹ جاکر بے جادھونس جمانے والوں کو پھٹکار کر بھگایا
نئی دہلی (خصوصی رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) – یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ غلط کبھی پھلدار نہیں ہو سکتا، اسی طرح سے سود سے پاک تجارت کو سازش کاروں اور سیاسی وحشیوں کے اشاروں پر ایف آئی آر کرا کے بند کرانے والے اور ہیرا گروپ آف کمپنیز کی سی ای او کو دردر کی ٹھوکر کھلانے کا دعوی کرنے والے شکایت کنندگان اور ایف آئی آر کرنے والے خود دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں، حالیہ اطلاع کے مطابق ہیرا گروپ آف کمپنیز پر ایف آئی آر کرانے والوں کی دس سے بارہ لوگوں کی ممبئی میں ایک ٹکڑی اور اسی تعداد کی حیدر آباد کی ایک ٹیم نے ڈپارٹمنٹ کے دفتر کا اس مقصد سے دورہ کیا تاکہ وہاں زور دے کر دھونس جمایا جائے کہ ہیرا گروپ اور اس کے اہلکاروں پر سختی کی جائے، لیکن انہیں شکایت کنندگان اور ایف آئی آر کنندہ کی حیدرآباد سے نصیر احمد نامی شخص اور ممبئی سے طاہرہ خاتون نامی ایف آئی آر کنندہ نے بتایا کہ ڈپارٹمنٹ کے آفیسران نے سخت الفاظ سناتے ہوئے واپس چلے جانے کو کہا اور متنبہ کرتے ہوئے آفیسر نے کہا کہ محکمہ کو ان کے حساب سے کام کرنے دیا جائے، ہر کام قانونی اور عدالتی احکام کی بنیاد پر ہوتا ہے، کسی کی جلدبازی یا دباﺅ کی کارروائی سے سرکاری دفتر یا عملہ کام نہیں کرتے۔ آج برسہا برس سے میری یعنی مطیع الرحمن عزیز کی جانب سے یہی بات کہی جا رہی تھی کہ ایف آئی آر معاملے کا حل نہیں ہے، سرکاری دفاتر میں جانے سے معاملہ اور پیچیدہ ہو جائے گا، عدالت میں معاملات اکثر التوا کا شکار ہو جاتے ہیں، تو یہ سن کر شرانگیز افراد کہتے تھے کہ ”ہم کمپنی اور اس کی سی ای او کو سبق سکھا کر رہیں گے“ آج حالت یہ ہو گئی ہے کہ آپسی مفاہمت کا راستہ چھوڑ کر ڈپارٹمنٹ اور عدالت و کورٹ کچہریوں کا راستہ اختیار کرنے والے خود در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور سرکاری عملہ کی سخت وسست اور بے تکی باتیں و پھٹکار سننی پڑ رہی ہے۔
روزنامہ پیغام مادر وطن اخبار کا گروپ ایڈیٹر، مالک اور صحافی ہونے کی حیثیت سے ہیراگروپ کا تجزیاتی جائزہ لیتے ہوئے میں نے ہمیشہ یہ بات لوگوں کے سامنے رکھی کہ جن لوگوں نے ایف آئی آر کیا ہے انہیں ٹرائل کے دور سے گزرنا ہو گا، اور جب ٹرائل فیس کرتے ہوئے کمپنی کو غلط ٹھہرا لے جائیں گے اور اپنے الزامات کو ثبوتوں کی مدد سے ثابت کر لے جائیں گے تب شکایت کنندگان اور ایف آئی آر کنندہ کے حق میں کوئی توقع کی جا سکتی ہے، حالانکہ ہیرا گروپ کو کوئی غلط ثابت کر سکے، اس کارروائی میں برسوں کے وقت درکار ہوں گے، ابھی تک کے ریکارڈ کے مطابق کسی عدالت، پولس یا ایجنسی نے ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے ہیرا گروپ غلط ثابت ہو سکے، ہیرا گروپ کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں حیدر آباد کا ممبر پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی ذلت آمیز شکست سے دو چار ہو چکا ہے، جب ایک بیرسٹر ہیرا گروپ کو عدالت میں آنچ نا پہنچا سکا تو عام انسان یا شکایت کنندہ سرمایہ کار کن ثبوتوں کی بنیاد پر کمپنی کو غلط ثابت کر کے اپنے الزام کو ثابت کریں گے؟ لیکن جب تک ٹرائل شروع ہو کر ختم نہیں ہو جاتا عدالت اور ڈپارٹمنٹ کا راستہ اختیار کرنے والے جلدبازی کا ثبوت نا دیں، اس کے برعکس جنہوں نے سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ پر بھروسہ کیا ان لوگوں کے لئے کسی عدالت یا ڈپارٹمنٹ کے احکام کی کوئی قید نہیں ہے، آج بھی سہولت مہیا ہو تو ڈاکٹر نوہیرا شیخ لوگوں کو آج سے ہی پیسے دینے کی شروعات کر سکتی ہیں، انہیں کوئی روک نہیں سکتا، جیسا کہ سابقہ دنوں میں اپنی وسعت اور سہولت کے بقدر صبر کرنے والے سرمایہ کاروں کو ہیرا گروپ اور اس کی سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے پیسوں کی ادائیگی سیکڑوں کروڑ روپئے کی تعداد میں کرچکی ہیں۔
اسی موضوع پر ایک ویڈیو میری جانب سے سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم پر پیش کردی گئی ہے، جس میں خلاصہ کلام کے طور پر بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ہیرا گروپ کے خلاف دھوکہ دہی، پیسے نہ لوٹانے وغیرہ کے الزام میں مقدمہ / ایف آئی آر کر چکے تھے، اب وہ خود انتہائی پریشان، خوفزدہ اور تناؤ کا شکار ہیں۔ متعلقہ محکمہ جات (ڈپارٹمنٹ، جیسے پولیس، ایڈمنسٹریشن، یادیگر) نے انہیں "باہر کا راستہ دکھا دیا” ہے۔تیجہ یہ نکل رہا ہے کہ الٹا ایف آئی آر کرنے والے اب دباؤ اور خوف میں ہیں، جبکہ ہیرا گروپ پر بھروسہ دکھانے والے اور اپنی کمپنی کی سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ پر ہوئی سازش پر کان نا دھرنے والے بہتر حالت میں دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ جنہوں نے کورٹ کچہری کا راستہ اختیار کیا ہے ان کے لئے ابھی راستہ بہت طویل ہے، لیکن جن لوگوں نے کمپنی کے ٹرم اور کنڈیشن پر عمل کیا اوراپنے کئے گئے معاہدے کو یاد رکھا وہ پرسکون اور مطمئن ہیں، کمپنی کے حق میں رہنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ” ہم نے اسلامی تجارت کے اصولوں پر کمپنی میں سرمایہ کاری کی تھی، جس میں خاص نقطہ یہ ہے کہ نفع ہوا تو نفع اور نقصان ہوا تو نقصان دونوں میں طرفین کی شراکت ہو گی“۔ اور یہی طریقہ جائز اور اصولوں کے مطابق ہے، صرف کمپنی کو نقصان کا ذمہ دار ماننا سودی کاروبار کے ماڈل کو پیش کرتا ہے، اور اسلام میں سود حرام ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سازش کار اپنے سودی کاروبار میں ہیرا گروپ کے ہونے سے نقصان اٹھاتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ سازش کاروں نے سازش کے جال پھینکے۔

