بیدر۔ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز، بیدر کو اس وقت ایک باوقار اعزاز حاصل ہوا جب ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندہ آیت اللہ پروفیسر عبدالمجید حکیمی الٰہی نے پیر کے روز شاہین نالج سٹی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر عبدلقدیر نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔استقبالیہ تقریب کے دوران ڈاکٹر عبدالقدیر نے ہندوستان اور ایران کے مابین صدیوں پر محیط تہذیبی و علمی روابط پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، تعلیمی اور علمی تبادلوں کی ایک مضبوط روایت رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علم، زبان اور سائنسی روایات کے میدان میں دونوں اقوام کے گہرے تعلقات آج بھی باہمی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔اپنے دورے کے دوران آیت اللہ حکیم الٰہی نے شاہین پی یو کالج میں طلبہ اور اساتذہ کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام کی حقیقی ترقی تحقیق، اختراع اور مضبوط تعلیمی اداروں سے وابستہ ہوتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ بایوٹیکنالوجی، خلائی سائنس، سائبر ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی جیسے جدید شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اس موقع پر ہندوستانی تعلیمی اداروں اور ایران کی ممتاز جامعات کے درمیان مستقبل میں علمی و تحقیقی اشتراک کے امکانات پر بھی تبادلہ? خیال کیا گیا، بالخصوص سائنسی و تکنیکی میدانوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔معزز مہمان نے شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ خصوصاً پسماندہ اور مدارس سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا رہا ہے اور انہیں معیاری تعلیم کے ذریعے پیشہ ورانہ میدانوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔اپنے دورے کے دوران انہوں نے تاریخی مدرسہ محمود گاون کا بھی معائنہ کیا اور اسے علم و دانش کا ایک عظیم مرکز قرار دیتے ہوئے اس کے شاندار علمی ورثے کی بھرپور تحسین کی۔

