Articles مضامین Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

اویسی سے اتحاد موہن بھاگوت سے قربت؟

اویسی سے اتحاد موہن بھاگوت سے قربت؟

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

اتر پردیش کے ضلع غازی پور سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری نے ایک انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں ایسا تبصرہ کیا جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا۔ افضال انصاری کا کہنا تھا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے ساتھ اتحاد درحقیقت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ساتھ اتحاد کے مترادف ہے۔
افضال انصاری کے مطابق 2014 کے بعد کے سیاسی منظرنامے کا جائزہ لیا جائے تو متعدد حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ جہاں براہ راست بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا، وہاں اسد الدین اویسی اور ان کی جماعت ایم آئی ایم کی سرگرمیاں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق اسی بنیاد پر بعض سیاسی حلقے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی سیکولر جماعت کو ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد ہی کرنا ہے تو پھر وہ براہ راست بی جے پی، آر ایس ایس، موہن بھاگوت، نریندر مودی یا امت شاہ سے اتحاد کیوں نہ کر لے، کیونکہ نظریاتی اعتبار سے سیکولر اور فرقہ وارانہ سیاست کے درمیان واضح اختلاف موجود ہے۔
افضال انصاری کا موقف ہے کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ نظریات، اقدار اور تاریخی وراثت کا بھی معاملہ ہے۔ ان کے مطابق سیکولر جماعتوں کی بنیاد مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر تمام طبقات کی نمائندگی پر قائم ہے، جبکہ دوسری طرف آر ایس ایس ہندو راشٹر کے نظریے کی علمبردار سمجھی جاتی ہے اور ایم آئی ایم مسلمانوں کے حقوق اور ان کے سیاسی اتحاد کی وکالت کرتی ہے۔ ان کے مطابق دونوں کی سیاست مذہبی شناخت کے گرد گھومتی ہے، اگرچہ دونوں کے اہداف اور ترجیحات مختلف ہیں۔
بھارت اپنی آزادی کے بعد سے جمہوری، تکثیری اور کثرت میں وحدت کے تصور کے سبب دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا آیا ہے۔ مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے باوجود جمہوری اداروں اور آئینی اصولوں نے ملک کی شناخت کو مضبوط بنایا ہے۔ اسی تناظر میں افضال انصاری کا کہنا ہے کہ اگر نظریاتی اختلافات کو پس پشت ڈالنا ہی مقصود ہو تو پھر چھوٹی سیاسی قوتوں کے ساتھ اتحاد کے بجائے براہ راست ان طاقتوں سے مفاہمت کر لی جائے جو قومی سطح پر زیادہ اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔
دوسری جانب بعض سیاسی تجزیہ کار اور ناقدین یہ رائے رکھتے ہیں کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی سیاسی حکمت عملی میں ایم آئی ایم کا کردار بالواسطہ طور پر فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ان کے مطابق مسلم ووٹوں کی تقسیم سیکولر جماعتوں کو نقصان پہنچاتی ہے، جبکہ ہندو ووٹوں کا ایک بڑا حصہ بی جے پی کے حق میں مجتمع ہو جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اسی وجہ سے ایم آئی ایم کو مختلف ریاستوں میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لیے نسبتاً زیادہ گنجائش حاصل رہی ہے۔
بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کی تقریباً 80 فیصد ہندو اکثریتی آبادی اور تقریباً 20 فیصد مسلم آبادی کے تناظر میں ووٹوں کی تقسیم اور اتحاد کی سیاست حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق اگر مسلم ووٹ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو جائیں اور ہندو ووٹ بڑی حد تک ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہو جائیں تو اس کا فائدہ بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں اور بعض ناقدین کی جانب سے وقتاً فوقتاً یہ الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ انتخابی عمل میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم)، الیکشن کمیشن اور دیگر آئینی اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے جانے چاہئیں۔ تاہم ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور متعلقہ ادارے مسلسل یہ مو¿قف اختیار کرتے رہے ہیں کہ انتخابی عمل شفاف، آزاد اور آئینی تقاضوں کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔
بہرحال، ہندوستانی سیاست میں اتحاد، نظریات، مذہبی شناخت اور ووٹوں کی تقسیم جیسے موضوعات بدستور بحث و مباحثے کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ افضال انصاری کا حالیہ بیان بھی اسی طویل سیاسی بحث کا حصہ ہے، جس پر مختلف جماعتیں، سیاسی مبصرین اور عوام اپنی اپنی آراءرکھتے ہیں۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ نظریاتی سیاست، اتحادوں کی نئی صف بندی اور ووٹروں کا رجحان ہندوستان کی سیاست کو کس سمت لے جاتا ہے۔
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جہاں مختلف نظریات، مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ ایک آئینی نظام کے تحت زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہی تنوع ہندوستانی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔آج بھی ملک میں سیکولرزم، قوم پرستی، مذہبی شناخت، سماجی انصاف اور آئینی اقدار کے درمیان نظریاتی مباحث جاری ہیں۔ افضال انصاری کا حالیہ بیان اسی وسیع تر سیاسی اور نظریاتی بحث کا حصہ ہے، جس میں ہر سیاسی جماعت، ہر رہنما اور ہر ووٹر اپنی اپنی سوچ اور ترجیحات کے مطابق رائے قائم کرتا ہے۔یہ بحث آئندہ انتخابات اور مستقبل کی سیاسی صف بندیوں میں کس شکل میں سامنے آئے گی، اس کا فیصلہ بالآخر ہندوستان کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے کریں گے۔ یہی جمہوریت کا حسن اور اس کی اصل طاقت ہے۔

Related posts

دنیا کا ہر انسان اصلاً معزز و محترم ہے

Paigam Madre Watan

 ”مسلم شکل شبیہ والا شخص اویسی غدار“

Paigam Madre Watan

قربانی کے احکام قرآن و سنت کی روشنی میں

Paigam Madre Watan